تارڑ صاحب کی کتاب یاک سرائے پر ایک مختصر تبصرہ


ﻣﯿﺮﮮ ﺭﯾﮏ ﻣﯿﮟ ﺗﺎﺭﮌ ﺻﺎﺣﺐ ﮐﯽ ﭘﮩﻠﯽ ﮐﺘﺎﺏ ‘یاک سرائے’ تھی ۔ میں نے یہ کتاب پچھلے سال ہی پڑھی ہے ۔ عرصےبعد پڑھے جانے والا یہ پہلا سفرنامہ ہے ۔ اس سے قبل سفرنامہ کب پڑھا اور کس کا پڑھا ، ٹھیک سے یاد نہیں ۔۔۔ شاید ابنِ انشاء کا ‘چلتے ہو تو چین کو چلیے’ یا شاید ایک مصنفہ کا سفرنامہ جس کا نام فی الوقت یاداشت میں نہیں ۔۔۔ بہرحال، اس سفرنامے میں ‘ہونو لولو’ کے ایرپورٹ کا تذکرہ تھا ۔ یہ ان سفرنامہ ان دونوں سفرناموں سے اس لیے مخلتف تھا کہ اس میں پہاڑوں کا ذکر تھا اور بے پناہ تھا اور جہاں مستنصر صاحب کی معیت میں چند مہم جو ایک ان دیکھی جھیل کو ‘دریافت’ کرنے نکل کھڑے ہوتے ہیں ۔

شروع شروع میں مجھ جیسے انسان کے لیے جو رات اپنے گھر کے اپنے بستر میں ہی بسر کرنے اور اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ ایک خوشگوار ماحول میں کیے جانے والے ناشتے سے صبح کا آغاز کرنے کا خواہاں ہو اسے محض مہم جوئی کی خاطر برف پوش یا بیانباں پہاڑوں پر جان جوکھوں میں ڈالنے اور ہر رات ایک اجنبی جگہ پر گزارنے کا خیال کچھ نامقعول سا لگا ۔ لیکن پڑھنا تو تھا اس کتاب کو ، سو پڑھنا جاری رکھا ۔ اور باوجود نامقعولیت کے اس خیال کے ، ورگوتھ کے جنگلوں میں پائے جانے والے ان پرندوں کو جن کی دمیں سیاحوں کی ناکوں کو چھو کر گزرتی ہیں کو وہاں موجود ایڈوینچررز کی نگاہوں سے دیکھنے کی آرزؤ کی اور نہ دیکھ سکنے پر کسی حد تک مایوسی کا احساس بھی جاگا ۔۔۔ پھر اس رات جب ایک گائیڈ کی بےسروپاء سی ضد کے باعث ایڈوینچررز کو گھوڑوں کی لید سے ‘مہکتی’ فضا میں رات بسر کرنا پڑی تو چشمِ تصور میں اپنے آپ کو ایسی کسی صورتحال میں گھرا دیکھ کر جی بھر کر ہنسی آئی ۔۔۔

اور وہ دن جب راقم کتاب گھوڑے پر اور ان کے ساتھی پیدل ہی ایک ایسے سبزہ ذار کے مسافر بنتے ہیں جہاں گھاس میں چھوٹے چھوٹے سفید اور نیلے یا شاید جامنی پھول ہی پھول ہیں ۔۔۔ ایسا محسوس ہوا گویا ہم بھی ان کے ساتھ اس خوبصورت منظر میں محوِ سفر ہیں ۔۔۔ اور وہ شام جب بالآخر جھیل کرومبر کے کنارے مہم جو لشکر لنگر انداز ہوتا ہے لیکن مصنف اس نظارے سے مطمئن نہیں تو دل کچھ اداس سا ہوتا ہے کہ کیا واقعی ان ایڈوینچررز کی محنت رائیگاں چلی گئی ۔ لیکن جب اگلے ہی دن کاتبِ سفر ان دیکھی ، ان چھوئی جھیل کو ایک نئے ذاوئیے سے دیکھ کر شاد ہو جاتا ہے تو لگتا ہے کہ تمام محنت کا خراج وصول ہو گیا ۔

جہاں جہاں راستے میں ایسے مقامات آئے کہ جہاں لگتا تھا کہ ابھی کوئی گرا کہ گرا وہاں وہاں دل ایک انجانے خوف کی گرفت میں آیا اور جیسے ہی سب بخیریت و عافیت اس مقام کو سر کر آئے ، ہم نے بھی سکھ کا سانس لیا ۔

اور آخر میں ایڈوینچررز کی یاکس پر سواری اور ان کے ساتھ تصاویر کی خواہش ۔۔۔ یاکس کی عدم دستیابی پر ہمیں بھی یوں محسوس ہوا کہ ہمارا سفر بھی تشنہ ہی رہ جانے والا ہے ۔ سو شدید خواہش کی کہ کوئی یاک مل ہی جائے تاکہ یادگار رہ سکے لیکن اس یادگار کو نہ رہنا تھا سو نہ ہو کے رہی ۔ اور ہم نے ایک نئے جذبے سے ‘اندلس’ کی سیر کرنے کو اپنا رخت سفر باندھ لیا ۔۔۔

یہ تبصرہ مستنصر حسین تارڑ ریڈرز ورلڈ ( فیسبک گروپ) کے لیے لکھا
گیا تھا ۔

عروج احمد ۔۔۔ ینگ ویمن رائٹرز فورم اسلام آباد چیپٹر سے بحیثیت میڈیا ہیڈ وابستہ ہیں ۔ کرکٹ ، کمپیوٹر ، سیاست ، فوٹوگرافی اور سیاحت سے شغف ہے ۔ کتابوں سے رشتہ بہت پرانا ہے ۔ لکھنا شوق ہے اور فلیش فکشن میں طبع آزمائی کر رہی ہیں ۔ اس کے علاوہ گاہے بہ گاہے بلاگ بھی لکھتی رہتی ہیں ۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں