حلقہ عام۔۔۔ فارم 14 سے فارم 45 تک


پاکستان کی انتخابی تاریخ میں پہلی مرتبہ الیکشن کمیشن آف پاکستان نے عام انتخابات کے دوران استعمال ہونے والے پانچ اہم ترین انتخابی فارمز، الیکشن کمیشن کی ویب سائٹ پر عوام کے لئے جاری کردیئے ہیں۔

ملک بھر میں قومی اور چاروں صوبائی اسمبلیوں کے انتخابی حلقوں کی تعداد 849 ہے مگر 25 جولائی 2018 کو ان میں سے 840 انتخابی حلقوں پر پولنگ کا عمل مکمل ہوا۔ پولنگ ڈے کے صرف 15 روز کے اندر سینکڑوں انتخابی حلقوں کے ایک لاکھ کے قریب پولنگ اسٹیشنز سے متعلقہ انتخابی فارمز، اسکین کرکے، ویب سائٹ پر ڈالنا یقینا قابل ذکر بات ہے۔

انتخابی فارمز کا اجرا ایسی صورت میں تو مزید قابل تعریف ہے کہ ان کو عوام کے لئے جاری کرنے کا وعدہ 2013 کے گزشتہ عام انتخابات سے قبل بھی الیکشن کمیشن کی جانب سے کیا گیا تھا۔ میں بذات خود، سابق چیف الیکشن کمشنر فخرالدین جی ابراہیم کی اس نیوز کانفرنس میں موجود تھا جس میں فخرو بھائی نے یہ فخریہ اعلان کیا تھا کہ مئی 2013 کے عام انتخابات میں استعمال ہونےو الے انتخابی فارمز پولنگ ڈے 11 مئی کے صرف 30 روز کے اندر یعنی 10 جون 2013 تک ہر صورت پبلک کردیئے جائیں گے۔

مگر پھر یوں ہوا کہ چراغوں میں روشنی نہ رہی اور ایک ماہ تو کیا ایک برس بعد بھی انتخابی فارمز کا کوئی ”کھرا“ نہ مل سکا۔ یہاں تک کہ گزشتہ عام انتخابات کے ایک برس بعد مئی 2014 کو میں نے سماء ٹی وی کے لئے خبر فائل کی کہ عام انتخابات 2013 میں 50 سے زائد حلقوں کے فارم 14 اور فارم 15 الیکشن کمیشن کے ریکارڈ سے ” غائب ” ہیں۔ اسی دوران پاکستان میں انتخابات کو مانیٹر کرنے والے ادارے فافن نے بھی رپورٹ جاری کردی کہ ملک میں درجنوں انتخابی حلقوں کے انتخابی فارمز، ریٹرننگ افسران کی جانب سے صوبائی الیکشن کمیشن کے دفاتر میں بھجوائے ہی نہیں گئے۔

قارئین کی سہولت کے لئے بتانا مناسب رہے گا کہ 2013 کے عام انتخابات میں، برسوں سے استعمال ہونے والے انتخابی فارمز میں اہم ترین چار فارمز تھے جن کے نام فارم 14، 15، 16 اور 17 تھے۔ فارم 14 ہر حلقے میں موجود پولنگ اسٹیشن کی سطح پر تیار کیا جاتا ہے، اس فارم کو پریذائدںگ آفیسر تیار کرتا ہے اور اس میں متعقلہ پولنگ اسٹیشن کا انتخابی نتیجہ درج کیا جاتا ہے۔ یوں سمجھ لیجیے کہ کسی حلقے میں اگر 310 پولنگ اسٹیشنز ہیں تو اس حلقے کے فارم 14 بھی 310 ہوں گے جوکہ اس حلقے کے 310 پریذائیڈنگ آفیسرز کی جانب سے تیارکیے جائیں گے۔ یہ فارم اس متعلقہ حلقے کے ریٹرننگ آفیسر کو بھجوایا جاتا ہے۔

فارم 15 بھی پولنگ اسٹیشن کی سطح پر تیار ہوتا ہے اور اسے بھی متعلقہ پریذائیڈنگ آفیسر تیار کرتا ہے۔ اس فارم میں متعلقہ پولنگ اسٹیشن پر استعمال ہونے والے بیلٹ پیپرز کا حساب کتاب درج کیا جاتا ہے۔ یعنی اس پولنگ اسٹیشن پر کل کتنے بیلٹ پیپرز الیکشن کمیشن کی جانب سے بھجوائے گئے، کتنے بیلٹ پیپرز استعمال ہوئے اور کتنے بیلٹ پیپرز بچ گئے۔ بچ جانے والے بیلٹ پیرز کی تعداد خصوصی احتیاط سے درج کی جاتی ہے کیونکہ استعمال نہ ہونےو الے بیلٹ پیپرز صوبائی الیکشن کمیشن کے مال خانے میں واپس جمع کروانے ہوتے ہیں۔

گزشتہ عام انتخابات کے ایک برس بعد پہلے میری سماء ٹی وی پر خبر، پھر ندیم ملک صاحب کے پروگرام میں یہ معاملہ اٹھایا گیا تو ہر طرف گویا ایک شور مچ گیا۔ فافن کی تصدیقی رپورٹ نے گویا جلتی پر تیل کا کام کیا اور یوں پورے پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا میں اس حوالے سے خبریں چلنے لگیں۔

اس وقت کی اپوزیشن جماعت تحریک انصاف کے سربراہ، عمران خان جو پہلے ہی ان انتخابات کو آراوز کے انتخابات اور دھاندلی ذدہ قرار دے چکے تھے، نے انہی خبروں اور رپورٹس کو بنیاد بناکر تحریک چلانے کا اعلان کردیا۔ بعد میں یہ تحریک شہر شہر جلسوں سے ہوتی 126 روزہ دھرنے تک پہنچی۔ بعد میں اس وقت کے چیف جسٹس اور موجودہ نگران وزیراعظم ناصر الملک کی سربراہی میں جوڈیشل کمیشن بنا۔ کمیشن کے سامنے بھی الیکشن کمیشن اپنی تمام طرف کوششوں کے باوجود ملک کے 70 ہزار کے قریب پولنگ اسٹیشنز میں سے تقریبا 60 ہزار پولنگ اسٹیشنز کے فارم 14 اور فارم 15 جوڈیشل کمیشن میں پیش کرسکا اور یوں کئی انتخابی حلقوں کے 10 ہزار کے قریب پولنگ اسٹیشنز کے فارم 14 اور فارم 15 کا کوئی ”کھرا“ نہ مل سکا۔ تاہم جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ میں اسے منظم دھاندلی ہرگز نہیں کہا گیا۔

فارم 16 کہلایا جانےو الا انتخابی فارم ریٹرننگ آفیسر تیار کرتا ہے۔ فارم 16 کو اس حلقے کے فارم 14 کی مدد سے تیار کیا جاتا ہے اور اس میں حلقے کے تمام پولنگ اسٹیشن کے نتائج یعنی ہر امیدوار کو ملنے والے ووٹوں کی تفصیلات کو اس ایک ہی فارم پر درج کیا جاتا ہے۔ یوں سمجھ لیں کہ کسی بھی انتخابی حلقے کے 310 فارم 14) یعنی 310 پولنگ اسٹیشنز کا نتیجہ ( ایک ہی فارم 16 پر درج ہوتا ہے یعنی فارم 16 آسانی سے 10 سے 20 صفحات پر مشتمل ہوسکتا ہے۔

فارم 17 انتخابی حلقے کا مکمل نتیجہ ہوتا ہے جس میں تمام امیدواروں کو ڈلنے والے ووٹوں کے مجمموعے کو درج کیا جاتا ہے۔ اسی فارم سے اندزاہ ہوتا ہے کہ اس انتخابی حلقے میں کون سا امیدوار کامیاب ہوا۔ یہ انتخابی فارم اس حلقے کے ریٹرننگ آفیسر کی جانب سے تیار کرکے مرکزی الیکشن کمیشن کو بھجوایا جاتا ہے۔ جس کو الیکشن کمیشن غیر حتمی نتیجے کی صورت میڈیا کو جاری کرتا ہے۔

2013 کے عام انتخابات کے نتائج پر سوالات اٹھنے اور انتخابی فارمز بڑی تعداد میں غائب ہونے کے بعد انتخابی اصلاحات ایکٹ 2017 میں ان انتخابی فارمز میں کچھ تبدیلیاں کی گئیں اور ان کے نام اور نمبر بھی بدل دیے گئے۔ ہمارا پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا، سیاسی جماعتیں اور سیاست دان کچھ دیگر ” ضروری“ ایشوز میں گم ہونے کے باعث ان ” معمولی“ تبدیلیوں کو نوٹ اور رپورٹ نہیں کرسکے۔ اگرچہ میں نے اپنے تئیں ڈان نیوز کے ایک ٹی وی پروگرام میں اس ایشو پر بحث کی کوشش کی مگر صدائے رپورٹر، صدا بصحرا ثابت ہوئی۔

نئے انتخابی ایکٹ 2017 میں فارم 14 کو فارم 45، فارم 15 کو فارم 46، فارم 16 کو فارم 48 سے بدل دیا گیا جبکہ فارم 17 کو فارم 47 اور اور فارم 49 میں تقسیم کردیا گیا اور جولائی 2018 کے حالیہ عام انتخابات میں ان نئے انتخابی فارمز کا پہلا بار بھرپور استعمال کیا گیا۔

ایسے حالات میں کہ جب 2013 کے گزشتہ عام انتخابات میں انتخابی فارمز 14، 15 اور 16 کے ایک برس بعد بھی جاری نہ ہونے اور پھر ان فارمز کے گم جانے نے انتخابی عمل پر کئی سوالات کھڑے کردیئے تھے، حالیہ انتخابات کے انتخابی فارم 47 کو 2 دنوں میں اور فارمز 45، 46، 48 اور 49 کو دو ہفتوں میں عوام کے لئے ویب سائٹ پر جاری کردینا بلاشبہ الیکشن کمیشن کا ایک بڑا کارنامہ ہے۔

حالیہ انتخابات 2018 میں انتخابی فارمز میں کس نوعیت کی بنیادی تبدیلہاں کی گئیں۔ پریذائڈنگ اور ریٹرننگ افسران نے ان کی تیاری میں کن ضابطوں پر عمل کیا اور ان فارمز کے حوالے سے کون سی کمزوریاں اور شکایات سامنے آئیں، اس پر بحث کسی اگلی نشست تک اٹھا رکھتے ہیں۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں