ترقی پسند تحریک اور قیام پاکستان


‘گو کہ یہ درست ہے کہ ہم سب (ہندو اور مسلمان) انگریزوں کے مشترکہ غلام ہیں لیکن آج ہمارے اور مسلمانوں کے درمیان برابری کی بنیاد پر برادرانہ رشتہ قائم نہیں بلکہ یہ اپنی نوعیت میں توانا اور کم زور لوگوں کے بیچ میں رشتے جیسا ہے۔ اگر سوچنے کی زحمت کریں تو آپ کو علم ہونا چاہیے کہ آج کے جدید دور میں ہمارے دیس میں زندگی پر سرمایہ اور جدید صنعتوں کا غلبہ ہے اور یہ قوت آج زیادہ تر ہندؤوں کے ہاتھ میں ہے۔ بنگال اور پنجاب کی معیشت پر بھی ہندو زمینداروں اور سود خوروں کا غلبہ ہے۔ انھی حالات کی وجہ سے آج مسلمان نہ صرف انگریزوں سے بلکہ اپنے طاقتور بھائیوں کے غلبے سے بھی آزادی کا نعرہ بلند کرنے پر مجبور ہیں۔ یہ آزادی کی یہی لگن ہے جس کی وجہ سے آج مسلمان پاکستان کے حق میں والہانہ نعرے بلند کرتے ہیں اور مسلم لیگ میں جوق در جوق شامل ہو رہے ہیں’۔

کمیونسٹ پارٹی کے جریدے پیپلز وار میں این کے کرشنن کے مضمون سے اقتباس ، نومبر1945ء

برصغیر میں بیسویں صدی کے آغاز میں متعدد قومی سیاسی تحریکیں برپا ہوئیں، جن میں عوام اور بالخصوص نوجوانوں اور طالب علموں نے بھرپور حصہ لیا۔ ہم یہ بھی دیکھتے ہیں کہ برصغیر کےمسلمان بشمول نوجوان اور طلبا تمام قومی سیاسی تحریکوں میں پیش پیش تھے، چاہے وہ تقسیم بنگال سے متعلق تحریک ہو یا ہجرت اور خلافت کی تحریکیں، رولٹ ایکٹ کے خلاف جلسے جلوس ہوں یا عدم تعاون اور ستیہ گرہ کی تحریکیں ہمیں برصغیر کے مسلمان بالخصوص نوجوان طلبا ان کی پہلی صفوں میں نظر آتے ہیں۔ ہمیں بالکل یہی منظر نئی طلبا تنظیموں کے قیام کے سلسلے میں نظر آتا ہے۔ یعنی ہم یہ بات اعتماد سے کہہ سکتے ہیں کہ برصغیر کے مسلمان عوام بحیثیت مجموعی وطن دوستی اور سامراج دشمنی کے جذبے سے سرشار تھے، جس کا مظاہرہ انھوں نے تاریخ کے ہر دور میں بھرپور انداز میں کیا۔

اکتوبر ۱۹۱۷ء میں جب روس کے محنت کشوں نے بالشویک پارٹی کی قیادت میں بادشاہت کے خلاف علم بغاوت اٹھا کر پرانے زار روس کے استحصالی نظام کا خاتمہ کیا تو پوری دنیا کے نو آبادیاتی یا شہنشاہی نظام میں جکڑے ہوئے مظلوم اور محکوم عوام میں امید کی ایک نئی لہر پیدا ہوئی اور ان میں ترقی پسند نظریات تیزی سے مقبول ہوئے۔ انقلاب روس کے صرف تین سال بعد ہی تاشقند میں مقیم متعدد ہندوستانی سیاسی کارکنان نے جن میں مسلمان بھی شامل تھے، ہندوستانی کمیونسٹ پارٹی کی بنیاد رکھی۔ پارٹی کے بانی ارکان میں متعدد وہ مسلمان طلبا بھی شامل تھے، جو سامراجی حکمرانوں کے خلاف بغاوت کے جذبے سے سرشار تھے اور جو تحریک ہجرت کے دوران غیر ملکی حکمرانوں کے خلاف جدوجہد کی غرض سے ترکی کی جانب روانہ ہوئے تھے۔

ہندوستانی کمیونسٹ پارٹی کی ایما ہی پر قوم پرست طلبا کے اشتراک سے ۱۹۳۶ء میں آل انڈیا اسٹوڈنٹس فیڈریشن کی بنیاد رکھی گئی اور مسلمان طلبا کی ایک بڑی تعداد اس کے بانی ارکان میں شامل تھی۔ ترقی پسند سیاسی کارکنان بالخصوص ہندوستانی کمیونسٹ پارٹی اور اس کے زیر اثر طلبا مکمل طور غیر فرقہ وارانہ سوچ رکھتے تھے اور اقلیتوں کے حقوق کے پرجوش حامی تھے۔ اس کے باوجود ترقی پسند فکر کے حامی انیس سو تیس کی دہائی کے آغاز تک مسلم لیگ کے بارے میں سنجیدہ تحفظات رکھتے تھے جس کی بڑی وجہ مسلم لیگ کی وہ قیادت تھی جس کا تعلق ہندوستانی مسلمانوں کی اشرافیہ سے تھا اور بہ حیثیت ایک جماعت مسلم لیگ مسلمان عوام میں اپنی جڑیں پیدا نہیں کرسکی تھی۔ نوابوں، جاگیرداروں اور سرمایہ داروں پر مشتمل مسلم لیگ کی یہ قیادت جو تاج برطانیہ سے وفاداری کی دعوے دار تھی، اپنی سرشت میں وطن پرست اور مظلوم دوست مسلمان عوام کے دلوں میں گھر کرنے میں قطعی طور پر ناکام رہی تھی۔ یہ صورت احوال سن تیس کی دہائی میں قائد اعظم کے مسلم لیگ کا صدر بننے کے بعد بتدریج تبدیل ہوئی۔

قائد اعظم نے جہاں ایک جانب مسلم لیگ کا رشتہ قومی سیاسی تحریکوں سے جوڑا وہاں انہوں نے مسلم لیگ کو عام مسلمانوں کی نمایندہ جماعت بنانے کی بھی کوششیں شروع کیں۔ ساتھ ہی ساتھ انھوں نے مسلمانوں کے ان اندیشوں کی بھی بھرپور نمایندگی کی جو وہ غیر ملکی حکمرانی کے اختتام پر اکثریتی آبادی کے رویوں کے بارے میں رکھتے تھے۔ مسلم لیگ کو ایک عوامی سیاسی قوت بنانے کی یہ کوششیں ۱۹۳۷ء کے انتخابات کے مایوس کن نتائج اور کانگریس کے منفی رویے کے بعد مزید تیز ہوئیں۔ ۱۹۳۷ء ہی میں مسلم اسٹوڈنٹس فیڈریشن کی بنیاد رکھی گئی اور ایم ایس ایف کے نوجوان کارکنوں نے مسلم لیگ کے سیاسی پروگرام کو مسلمان عوام میں مقبول کرنے میں ایک نمایاں کردار ادا کیا۔ ان کوششوں کے نتیجے میں ۱۹۳۷ء کے انتخابات کے بعد مسلم لیگ بہت تیزی سے مسلمان عوام میں مقبول ہوئی۔

اس بدلتی ہوئی حقیقت کو پنڈت نہرو بھی اپنی سوانح حیات میں تسلیم کرتے ہوئے نظر آئے جب انھوں نے کہا کہ ‘تاریخ میں پہلی دفعہ مسلم لیگ کو عام مسلمانوں کی بھرپور حمایت حاصل ہوئی اور یہ ایک عوامی جماعت کا روپ دھارنے لگی ہے۔’

Danial Latifi

کمیونسٹ پارٹی کی حمایت

مسلم لیگ کی بڑھتی ہوئی مقبولیت اور کانگریس کے مسلمانوں کے خدشات کی مکمل تکذیب کے نتیجے میں ہندوستان کی کمیونسٹ پارٹی نے بھی مسلم لیگ کے بارے میں اپنے رویے پر نظر ثانی کی۔ دوسری جنگ عظیم کے دوران ایک متحدہ قومی موقف کی خواہش بھی کمیونسٹ پارٹی کے اس بدلتے ہوئے رویے کا باعث تھی۔ کمیونسٹ پارٹی نے اس ضرورت کو محسوس کیا کہ مسلمانوں کے جائز خدشات پر توجہ دی جانی چاہیے۔ کمیونسٹ پارٹی کے کارکنوں میں یہ احساس پیدا ہوا کہ ایک سامراج دشمن پارٹی ہونے کے باوجود کانگریس مسلمانوں کو قومی جدوجہد میں پورا حصہ دار بنانے میں ناکام رہی ہے اور ان کے جائز خدشات کا ازالہ کرنے میں بھی ناکام رہی ہے۔ مثلاً بنگال، سندھ اور پنجاب کے مسلمان اکثریتی صوبوں میں غیر مسلم زمینداروں اور ساہوکاروں کے ہاتھوں مسلمان کاشت کاروں کے استحصال کے بارے میں کانگریس نے کوئی واضح موقف نہیں اپنایا، جس نے کانگریس کی جانب مسلمانوں میں مخالف جذبات نے جنم لیا، بلکہ ان صوبوں میں کانگریس کی حمایت میں یہی زمیندار اور ساہو کار پیش پیش تھے۔ آزادی کی جدوجہد میں کانگریس کی جانب سے ہندو مذہبی علامات کے بڑے پیمانے کے استعمال نے بھی مسلمانوں میں کانگریس کے لیے اجنبی پن کا احساس پیدا کیا اور ان میں یہ احساس بہت شدت سے پیدا ہوا کہ کانگریس ایک قومی جماعت کے برعکس ایک ہندو جماعت ہے۔

مارچ سن چالیس میں قرارداد پاکستان کی لاہور میں منظوری کے بعد کمیونسٹ پارٹی میں بڑے پیمانے پر یہ بحث ہوئی کہ مسلمانوں کے خود مختار ریاستوں کے مطالبے کو ترقی پسند نظریات کی روشنی میں کس نظر سے دیکھنا چاہیے۔ اس بحث کے نتیجے میں کمیونسٹ پارٹی کے لیڈر ڈاکٹر گنگا دھر ادھیکاری نے اپنا وہ مقالہ پیش کیا جس کی روشنی میں پارٹی نے ستمبر ۱۹۴۲ء میں ‘پاکستان اور قومی اتحاد کے بارے’ نامی قرارداد منظور کی جس میں مسلمانوں کے حق خود ارادیت کی حمایت کرتے ہوئے، قیام پاکستان کی حمایت کی گئی۔ کمیونسٹ پارٹی نے کانگریس کو بھی مسلم لیگ مخالف رویہ اختیار کرنے پر شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ پارٹی کے رہنما سجاد ظہیر نے (جو آزادی کے بعد کمیونسٹ پارٹی آف پاکستان کے سیکریٹری جنرل بنے) اپنے ایک مضمون میں کانگریس پر تنقید کرتے ہوئے لکھا کہ ‘کانگریسی حضرات مسلم لیگ کا سامراج دشمن اور حریت پسند کردار دیکھنے سے قاصر ہیں، وہ یہ سمجھنے سے بھی قاصر ہیں کہ مسلمانوں کا حق خود ارادیت کا مطالبہ ایک منصفانہ، ترقی پسند اور قومی مطالبہ ہے اور یہ اُسی جمہوریت اور آزادی کا ایک مثبت اظہاریہ ہے جس کے لیے خود کانگریسیوں نے بے حد جدوجہد کی ہے اور صعوبتیں برداشت کی ہیں’۔

کمیونسٹ پارٹی کی مسلم لیگ اور مطالبۂ پاکستان کی حمایت وقت کے ساتھ ساتھ مزید مضبوط ہوتی گئی اور سن پینتالیس کے انتخابات سے قبل نہ صرف کمیونسٹ پارٹی نے مسلم لیگ کے امیدواروں کی حمایت کا اعلان کیا بلکہ اس کی ہدایت کے نتیجے میں مسلمان ترقی پسند سیاسی کارکنان بڑے پیمانے پر مسلم لیگ میں شامل ہو کر اس کی سیاسی جدوجہد اور تحریک پاکستان کا حصہ بنے۔ ان نمایاں ترقی پسند رہنماؤں میں ابوالہاشم، حسرت موہانی، سبط حسن، دانیال لطیفی، عطا اللہ جہانیہ، عبداللہ ملک، چودھری رحمت اللہ، انیس ہاشمی، غلام نبی بھلڑ، شیخ رشید، فیروز الدین منصور، قصور گردیزی، میاں افتخارالدین، جی ایم سید وغیرہ جیسے نام شامل تھے۔ جو مسلمان ترقی پسند کارکن براہ راست مسلم لیگ میں شامل نہ بھی ہوئے؛ انھوں نے بھی مسلم لیگ سے قریبی تعلق رکھا اور اس کی رکنیت سازی، تنظیم سازی، سیاسی پروگرام کی تشہیر اور انتخابی مہم میں بڑھ چڑھ کر مدد کی۔

باقی تحریر پڑھنے کے لئے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیے

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں