ٹی وی والو، ڈیم کے لیے چندہ مانگو


پاکستان الیکٹرونک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی یعنی پیمرا نے تمام سیٹلائٹ ٹی وی چینلوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ نئے ڈیموں کی تعمیر کے لیے فنڈ جمع کرنے کی خاطر مفت اشتہارات چلائیں اور طویل دورانیے کی خصوصی نشریات کا اہتمام کریں۔

اپنی نوعیت کی اس انوکھی اور غیر معمولی ہدایت کے بارے میں پیمرا کا کہنا ہے کہ اسے سپریم کورٹ آف پاکستان کے حکم اور اٹارنی جنرل کا خط ملنے کے بعد جاری کیا جا رہا ہے۔

آٹھ اگست کو اس ہدایت میں کہا گیا کہ مارننگ شو کے ہر گھنٹے اور پرائم ٹائم میں شام سات سے نصف شب کو بارہ بجے تک ہر گھنٹے میں ایک منٹ ڈیموں کی خاطر چندہ مانگنے کے لیے وقف کیا جائے۔

ٹی وی چینلوں کو یہ ہدایت بھی کی گئی ہے کہ ٹیلی تھون یعنی طویل دورانیے کی نشریات کا اہتمام کریں اور اس میں مشہور شخصیات کو بلائیں جو عوام سے دل کھول کر چندہ دینے کی اپیلیں کریں۔

اگلے وزیر اعظم قرار دیے جانے والے عمران خان ماضی میں کئی کامیاب ٹیلے تھون میں شریک رہے ہیں۔ جیو ٹی وی پر 2010 میں سیلاب زدگان کے لیے ٹیلے تھون پکار میں تین کوششوں میں ایک ارب دس کروڑ جمع ہوئے تھے۔ پشاور میں شوکت خانم میموریل اسپتال کی تعمیر کے لیے اے آر وائی پر 2015 میں ون بلین ٹیلی تھون چیلنج کا اہتمام کیا گیا تھا۔

پاکستان کے چیف جسٹس دیامیربھاشا اور مہمند ڈیموں کی تعمیر کے لیے فکرمند ہیں۔ ان کے حکم پر اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے دس جولائی کو ڈیموں کے لیے چندہ اکاؤنٹ کھولا جس میں آٹھ اگست تک 72 کروڑ 48 لاکھ روپے جمع کروائے جا چکے تھے۔

پاکستانی میڈیا ماضی میں اس بارے میں بہت حساس رہا ہے کہ کوئی اسے ایڈوائس نہ دے۔ وائس آف امریکہ نے سینئر صحافی امتیاز عالم سے سوال کیا کہ پیمرا کی ہدایت پر کسی کو اعتراض تو نہیں ہوگا؟ امتیاز عالم نے کہا کہ ’’پاکستانی میڈیا کے ہاتھ پاؤں بندھے ہوئے ہیں، ناک کان بند ہیں اور زبانیں کٹی ہوئی ہیں‘‘۔

پاکستان میں چیف جسٹس کا سکہ چلتا ہے۔ وہ قوم کا مستقبل اور اپنی آخرت سنوارنا چاہتے ہیں تو کسی کو کیا تکلیف ہے؟ حکومت کا سارا کام ہی سپریم کورٹ کو تفویض کردینا چاہیے کیونکہ سیاست دان تو سب کرپٹ ہیں۔

بزرگ صحافی ضیا الدین نے وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ تمام ٹی وی چینل اپنی نشریات کا کچھ حصہ پبلک سروس یعنی عوامی خدمت کے لیے مختص کرنے کے پابند ہیں۔ عام طور پر پاکستانی میڈیا ایسا نہیں کرتا۔ اگر پیمرا نے اس کی ہدایت کی ہے تو کوئی ہرج نہیں۔ لیکن یہ سوال اپنی جگہ ہے کہ کیا چندہ مانگ کر ڈیم تعمیر کیا جاسکتا ہے۔ میرا خیال ہے کہ نہیں۔

ایک اندازے کے مطابق صرف بھاشا ڈیم کی تعمیر کے لیے کم از کم 14 ارب ڈالر یعنی تقریبا 1700 ارب روپے درکار ہیں۔ عالمی مالیاتی ادارے اس ڈیم کے لیے قرضہ دینے سے انکار کرچکے ہیں، کیونکہ اس کے لیے مختص کی گئی زمین گلگت بلتستان کے متنازعہ علاقے میں ہے۔ پاکستان نے اس ڈیم کو سی پیک میں شامل کرنا چاہا؛ لیکن چین نے بھی انکار کردیا۔

ماہرین کہتے ہیں کہ ہر ماہ ایک ارب روپے کا خطیر چندہ ملتا رہے تو بھی ایک ڈیم کے لیے رقم جمع ہونے میں ڈیڑھ سو سال لگ جائیں گے۔ تجزیہ کار حیران ہیں کہ چیف جسٹس کو ڈیم کی لاگت کا اندازہ نہیں یا کوئی شخص انھیں درست صورتحال سے آگاہ کرنے کی ہمت نہیں کر پارہا۔
بشکریہ وائس آف امریکہ

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

مبشر علی زیدی

مبشر علی زیدی جدید اردو نثر میں مختصر نویسی کے امام ہیں ۔ کتاب دوستی اور دوست نوازی کے لئے جانے جاتے ہیں۔ تحریر میں سلاست اور لہجے میں شائستگی۔۔۔ مبشر علی زیدی نے نعرے کے عہد میں صحافت کی آبرو بڑھانے کا بیڑا اٹھایا ہے۔

mubashar-zaidi has 110 posts and counting.See all posts by mubashar-zaidi