عمران خان! یہ قوم آپ کو دوبارہ موقع نہیں دے گی



بطور ایک صحافی کسی سیاسی لیڈر کی تعریف کرنا مہنگا پڑ جاتا ہے۔ اور جانب دار ہونے کے طعنے ملنے لگ جاتے ہیں۔ لیکن آخری آٹھ سالوں کے دوران میں نے پاکستان میں غربت کا ایک پہاڑ دیکھا ہے۔ شاید میرے ہوش سنبھالنے سے پہلے اس ملک میں اس سے بھی زیادہ غربت ہو۔ البتہ جب سے میں نے ہوش سنبھالا میرے لیے یہ بات حیران کن تھی کہ ایک طرف ایک طبقہ ایسا ہے، جو ایک وقت کے کھانے پر ہزاروں روپے خرچ کر دیتا ہے، تو دوسری طرف ایک طبقہ ایسا ہے جس کو دو وقت کے کھانے کے لیے روٹی میسر نہیں۔

میں نے سوچنا شروع کردیا کہ آخر اس تمام صورت احوال میں قصور کس کا ہے؟ اور میرے خیال سے ملک میں ان حالات کا ذمہ دار وہ نظام ہے، جو سالوں سے اس ملک پر حکمرانی کرنے والے سیاست دانوں نے بنا رکھا ہے۔ ایک ایسا نظام جس میں امیر، امیر ترین جب کہ غریب غریب تر ہوتا گیا۔ ایک ایسا نظام جس میں تعلیم مشکل اور رشوت دینا آسان ہو گیا۔ ایسا نظام جس میں جرم عام ہو گیا، اور انصاف برائے نام ہونے لگ گیا۔ ایسا نظام جس میں انسان کی جان سستی اور مال کی حفاظت مشکل ہونے لگ گئی۔ لیکن یہ کیا ایسے میں یہ قوم انھی سیاست دانوں کو کیوں آزماتی ہے۔ کیا اس پورے ملک میں ایک بھی ایسا انسان نہیں جو آگے بڑھے اور اس نظام کو بدل دے؟

میری نظر ایک ایسے انسان پر پڑی جو خود اس نظام کو تبدیل کرنے کے لیے کئی سالوں سے کوشاں تھا۔ ہمیں نہیں معلوم تھا کہ وہ شخص اس نظام کو تبدیل کر سکے گا یا نہیں، لیکن بہر حال ان کو ایک موقع دینا ہمارا فرض تھا، اور اس قوم نے اس نظام کو بدلنے کی خاطر عامر لیاقت کو بھی آنکھیں بند کر کے ووٹ دیا۔ اس قوم نے عمران خان کو اس نظام کی تبدیلی کے لیے ایک موقع دیا۔ یہ سوچے سمجھے بغیر کے اس کے اردگرد موجود ٹولے میں نظام تبدیل کرنے کی صلاحیت موجود ہے بھی یا نہیں۔ اس بار پاکستان نے ووٹ دیتے ہوئے یہ نہیں سوچا کہ وہ پی ٹی آئی کے امیدوار کو ووٹ دے رہا ہے، بلکہ آنکھیں بند کر کے اس امید پر ٹھپا لگایا، جو اس نظام کی تبدیلی کے لیے لگا رکھی تھی۔

جس ا مید اور یقین کے ساتھ پاکستانی عوام نے عمران خان کو ووٹ دیا، اس کے بعد عمران خان کے پاس کام کرنے کا آپشن ہی موجود نہیں ہے۔ بصورت دیگر لوگوں کی امیدیں کچھ اس طرح سے ٹوٹیں گی کہ وہ آیندہ کسی اور کو آزمانے کی بجائے وہی پرانی شکلیں اپنے اوپر اقتدار کی صورت میں لے آئیں گے۔ عمران خان صاحب یہ قوم نواز شریف اور آصف علی زرداری کو اربوں روپے کرپشن کرنے کے بعد بھی ایک موقع اور دے سکتی ہے لیکن آپ کو نہیں دے سکتی۔ آپ کے کام نہ کرنے کی صورت میں صادق اور امین کا سرٹیفیکٹ بھی کسی کام نہیں آئے گا۔ اس قوم نے یہ نظام بدلنے کے لیے آپ کو جو پہلا موقع دیا اسے آخری موقع نہ بننے دیں۔ ورنہ یہ قوم پھر کبھی کسی نئے چہرے پر بھروسا نہیں کر سکے گی۔ پھر یونھی کئی سالوں تک وہی خاندان حکومت کریں گے اور وہی نظام چلتا رہے گا۔ اس لیے عمران خان صاحب کروڑوں پاکستانیوں کی امیدوں پر اپنے غلط اور جذباتی فیصلے مسلط مت کیجئے گا۔

پاکستان کی حالت اور پاکستانیوں کی قسمت بدلنے کی وہ آس جو آپ سے لگا رکھی ہے، اسے اپنے انا کے آڑے مت آنے دیجئے گا ورنہ یہ قوم آپ کو کبھی کسی کا پیٹ پھاڑ کر کرپشن کے پیسے نکالنے یا کسی کرپٹ سیاست دان کو سڑکوں پر گھسیٹنے کا دوسرا موقع نہیں دے گی۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں