اندر کی کہانیاں


سات اگست کی صبح نگران وزیر داخلہ اعظم خان سے رابطے کا خیال آیا۔ سوچا پتا کیا جائے کہ وزیراعظم کے بعد بظاہر سب سے طاقت ور عہدے پر براجمان شخص کیا جانتا ہے۔ فون پر رابطہ کیا اور کچھ دیر بعد ہم آمنے سامنے بیٹھے تھے۔
اعظم خان سابق بیورو کریٹ ہیں جنھوں نے اپنا کیریئر ایوب خان کے دور میں شروع کیا تھا۔ الزامات سے دور نیک نامی کی نوکری کی اور رٹائر ہوئے۔ اپنی بات کر جاتے ہیں اور اپنے دائرہ کار اور دائرہ اختیاردونوں کو بھولتے بھی نہیں۔

باتیں جاری تھیں کہ میں نے پوچھا خان صاحب بتائیں کہ اپوزیشن جماعتوں نے انتخابی نتائج سے متعلق فارم پینتالیس پر جو اعتراضات کیے ہیں۔ آپ کے پاس اس کی کیا حقیقت ہے؟َ اعظم خان بولے کہ انھیں نگران وزیر داخلہ مقرر کیا گیا تھا، جس کا کام سیکورٹی امور کی نگرانی ہی تھا۔ انتخابات کے روز انھوں نے اسلام آباد کے چھہ پولنگ اسٹیشنز کا دورہ کیا تھا، جن میں سے تین کے پریزائیڈنگ افسروں  نے ان سے فارم پینتالیس کے رجسٹر کم ہونے کی شکایت کی تھی۔ اعظم خان بولے کہ میرا کام تو صرف سیکورٹی ہی کا تھا مگر پھر بھی میں نے واپس آ کر الیکشن کمیشن کے متعلقہ حکام کو فوری طور پر رابطہ کر کے اس مسئلے سے آگاہ کیا اور اپنے کام میں لگ گیا۔

بولے “مجھے ذاتی طور پر لگتا ہے کہ اپوزیشن جماعتوں کا اعتراض کوئی اتنا غلط بھی نہیں بظاہر اس معاملے میں کچھ نہ کچھ غلطی ہے”۔

نگران وزیر داخلہ کی یہ باتیں میرے لییے حیران کن تھیں اس لیے بھی کہ عام طور پر اقتدار میں بیٹھے لوگ ایسے نازک امور پر بات کرنے سے گریزاں رہتے ہیں اور اگر کہیں کچھ غلط بھی ہو تو اس پر پردہ ہی ڈالتے ہیں۔ اعظم خان ایک رٹائرڈ بیورو کریٹ ہیں، اس لیے جو بات کرتے ہیں بڑی ناپ تول کر کرتے ہیں۔ میرا اعظم خان سے کوئی پرانا واسطہ نہیں اتفاق کی بات ہے کہ جس روز وہ اس عہدے پر فائز ہوئے تھے، میری اسی روز وزارت داخلہ ہی میں ان سے پہلی ملاقات ہوئی تھی جہاں میں نے ان کا جیو نیوز کے لیے انٹرویو کیا تھا۔

اس رٹائرڈ بیورو کریٹ کے انتخابات سے قبل میرے سامنے بیان کیے گئے تمام تحفظات اس دن سچ ثابت ہوِئے کہ جب اپوزیشن کی تمام جماعتیں الیکشن کمیشن کے سامنے احتجاج کر رہی تھیں اور شاہ راہ دستور ایسے نعروں سے گونج رہی تھی، جو کبھی فاٹا یا بلوچستان ہی میں لگائے جاتے تھے۔ مگر کسی کو اس بات کی پروا ہی کیا۔

میں حیران تھا کہ ملک میں عام انتخابات کے حوالے سے اتنی بڑی سرگرمی رکھی گئی مگر دھاندلی جیسے الزامات سے بچنے کی کوئی تدبیر بھی نہ کی گئی۔ اس ملاقا ت سے قبل مجھے کسی نے بتایا کہ ملک کی سب سے بڑی سویلین انٹیلی جنس ایجنسی آئی بی نے بھی الیکشن میں غلطیوں کی روک تھام کے بارے میں کچھ کیا نہ کوئی رپورٹ تیار کی۔ میرے لیے یہ سب حیران کن تھا کہ ایسا کون اور کیوں کر رہا ہے۔

اس وقت انٹیلی جنس بیورو کے سربراہ احسان غنی تھے جنھیں نگران وزیر اعظم نے حال ہی میں تعینات کیا تھا۔ میری احسان غنی سے ان کے نیکٹا کے دنوں سے یاد اللہ رہی ہے اس لیے میں نے انھیں تین اگست کو فون کیا۔ اتفاق سے وہ ان کا سرکاری ملازمت کا آخری دن تھا۔ اگلے دن سرکاری چھٹی تھی اور ان کی رٹائرمنٹ بھی۔

میری تین اگست ہی کو ان کے دفتر میں ملاقات ہوئی۔ ادھر ادھر کی باتوں کے ساتھ میں نے ان سے پوچھا کہ، “کیا آئی بی نے انتخابات میں غلطیوں کے بارے میں کچھ رپورٹ کیا”؟ احسان غنی بولے، “ہمارا فرض انتخابات میں سیکورٹی کو یقینی بنانا تھا ہماری ذمہ داری تھی کہ ملک میں دہشت گردی کا کوئی واقعہ ہو نہ کسی سیاسی رہنما پر حملہ۔ جو ہمارا فرض تھا ہم نے وہی نبھایا۔ احسان غنی نے مجھے کہا کہ اگر ہمیں اس کے علاوہ کوئی قانونی ہدایت ملتی تو ہم وہ بھی سرانجام دیتے۔ میں نے سلام دعا کی اور واپس آ گیا۔

مجھے خیال آیا کہ کابینہ ہو یا آئی بی دونوں کا اصل باس تو نگران وزیر اعظم ہی ہے۔ ساری سیاسی جماعتیں ملک میں شور مچارہی ہیں، یہ نگران وزیر اعظم کہاں سویا پڑا ہے۔ میں نے ادھر ادھر فون گھمائے تو پتا چلا کہ ہم تو کیا وزرا بھی عام انتخابات کے بعد سے نگران وزیر اعظم کی تلاش میں ہیں، جب کہ نگران وزیر اعظم سرکاری دوروں میں مصروف ہیں۔

ادھر اپوزیشن جماعتیں بھی کسی سنجیدہ احتجاج پر متفق نہیں۔ مجھے کسی ذمہ دار نے بتایا کہ مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف نے بلاول بھٹو کو پیغام بھجوایا تھا کہ اپوزیشن کے ارکان قومی اسمبلی کا حلف نہیں لیں گے، اگر پیپلز پارٹی کے ارکان بھی قومی اسمبلی کا حلف نہ اٹھائیں تو اپوزیشن مل کر تحریک انصاف کی حکومت کے لیے مسائل پیدا کرسکتی ہے۔ بلاول نے یہ تجویز مسترد کردی۔ کرتے بھی کیوں نہ والد آصف علی زرداری اور پھوپھی فریال کو مزید مصیبت میں کیسے ڈالتے۔ وہ پہلے ہی جعلی اکاونٹس کے کیس میں بری طرح پھنسے ہوئے ہیں۔ کیس میں خود بلاول کا نام بھی موجود ہے کیوں کہ کیس میں زیر تفتیش ایک کمپنی کے مبینہ سربراہ وہ خود بھی ہیں۔

اس سارے معاملے کے بعد جب مولانا فضل الرحمان کی کوششوں سے اپوزیشن جماعتیں آٹھ اگست کو شاہ راہ دستور پر اکٹھی ہوئیں تو حسب توقع، موقع پر مسلم لیگ ن کے سربراہ شہباز شریف بھی غائب تھے اور آصف علی زرداری بھی کہیں نظر نہ آئے۔

دراصل اس ساری تحریک کے اصل روح رواں مولانا فضل الرحمان ہیں، جو اپوزیشن جماعتوں کو دھاندلی کے ایجنڈے پر متفق کرنا چاہتے ہیں۔ عوامی نیشنل پارٹی اور پشتون خوا ملی عوامی پارٹی جیسی جماعتیں بھی ان کے ساتھ شامل ہیں، مگر بڑی جماعتوں کے بڑے مسائل ہیں اور فی الحال اپوزیشن کا اتحاد بنتا نظر نہیں آرہا۔

(بشکریہ روزنامہ جنگ)

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں