پاکستانی چاند، ناروے کی سرزمین اور پانچ اصولوں کی روشنی


 mah rukhآج ہم اپنے وطن ناروے کا دن منا رہے ہیں۔ یہ ہمارا قومی دن ہے۔ ہم اس روز ان اقدار کی تحسین کرتے ہیں جن پر ہمارے ملک کی بنیادیں استوار ہیں۔ ہم ان اقدار پر یقین رکھتے ہیں۔ یہ نارویجئن اقدار ہیں اور یہ عالمگیر قدریں بھی ہیں۔ یہ اقدار ان سب لوگوں کو اکٹھا کرتی ہیں جو ناروے میں آج کا دن منا رہے ہیں۔

میں آج کے دن کے حوالے سے پانچ اقدار کا ذکر کروں گی۔

ہم آزادی اور خود مختاری کے اصول کو مانتے ہیں۔ اسی احساس آزادی کی وجہ سے 1814 میں ایک خود مختار ناروے کا آئین تیار کیا گیا۔ ایک ایسا آئین جس نے بنیادی طور پر ہم سب کو ایک پرچم تلے اکٹھا کیا۔ جس طرح آج ہم کرسٹائن ماگنوس فالسن (ناروے کا آئین لکھنے والوں میں نمایاں نام) کی قبر پر اکٹھے ہوئے ہیں۔

 

ہم مساوات اور سب کے لئے مساوی احترام کے اصول کا احترام کرتے ہیں۔ اس ملک میں اس تخصیص کے بغیر کہ ہم کون ہیں، کہاں رہتے ہیں، ہمارا نام کیا ہے اور ہماری آمدنی کیا ہے …. ہم سب ایک سے قابل قدر ہیں۔ ہم مرد یا عورت ہو سکتے ہیں لیکن سماج میں ہمارا کردار یکساں ہے۔ اس طرح ناروے اس وقت دنیا بھر میں مساوات کے حوالے سے نمایاں ترین ملکوں میں شامل ہے۔ ہمیں اس پر فخر ہونا چاہئے۔

ہم آزادئ اظہار کے اصول کو تسلیم کرتے ہیں۔ اس ملک میں ہم پوری آزادی سے اپنے خیالات کا اظہار کر سکتے ہیں۔ ہم اپنی رائے رکھنے اور اسے سامنے لانے میں آزاد ہیں۔ اظہار کی آزادی ہمارے لئے بنیادی قدر کی حیثیت رکھتی ہے۔ ہم دوسروں کا احترام کرتے ہیں۔ لیکن ہم آزادی اظہار کا بھی احترام کرتے ہیں۔ ہم اختلاف رائے کا احترام کرتے ہیں۔ لفظ ایک طاقتور ہتھیار ہیں۔ ہمارا ماننا ہے کہ ہر شخص کے پاس یہ ہتھیار ہونا چاہئے۔

mah rukh 02ہم برداشت کے اصول کو مانتے ہیں۔ یہ تسلیم کرتے ہیں کہ لوگ ہماری دل شکنی کر سکتے ہیں لیکن اس کے باوجود ہم اسے برداشت کریں گے۔

ہم یکجہتی اور اشتراک باہمی پر یقین رکھتے ہیں۔ ہمارے دوست ، خاندان اور وہ سب ہمارے ساتھی ہیں جو ان بنیادی اقدار پر یقین رکھتے ہیں۔

لیکن آج ہم ایک ایسے دور سے گزر رہے ہیں جبکہ ہماری اقدار کو خطرہ لاحق ہے۔ انہیں عالمی دہشت گرد تنظیموں مثلاً دولت اسلامیہ ، القاعدہ یا بوکو حرام سے خطرہ ہے۔ لیکن ہماری اقدار کو ہماری اپنی صفوں میں موجود عناصر سے بھی خطرہ ہے۔ وہ جو آج کا دن نہیں مناتے۔ وہ سارے جو ہمارے اصولوں کو مسترد کرتے ہیں۔

ہمارے ان اصولوں کو ڈونلڈ ٹرمپ سے خطرہ ہے۔ وہ امریکہ کا صدر بننا چاہتے ہیں لیکن امریکہ میں مسلمانوں کا داخلہ بند کرنا چاہتے ہیں۔ وہ دیواریں کھڑی کرنا چاہتے ہیں اور ان عورتوں کو سزا دیں گے جو اسقاط کروانا چاہتی ہیں۔

ہماری اقدار کو یورپ میں ابھرنے والی دائیں بازو کی قوم پرست تحریکوں سے بھی اتنا ہی خطرہ ہے جتنا انتہا پسند اسلامسٹوں سے لاحق ہے۔

یہ سب لوگ انتہا پسندی کی علامتیں ہیں۔

ہمارے عہد کا سب سے بڑا خطرہ دہشت گردی ہے۔ دہشت گردی صرف خوفزدہ کرنے یا ہلاک کرنے کا ہی نام نہیں ہے بلکہ دہشت گرد اور انتہا پسندی ہماری اقدار پر حملہ آور ہیں۔ یہ ان اصولوں کو نہیں مانتے جنہیں ہم مقدم سمجھتے ہیں۔

اس خطرے کا مقابلہ صرف اس صورت میں کیا جا سکتا ہے کہ ہم اپنی اقدار پر قائم رہیں۔ یہی اقدار آج کے دن ہمیں اکٹھا کرتی ہیں۔ انہی اقدار کی وجہ سے میں آج اپنے آباﺅ اجداد میں سے ایک کی قبر پر کھڑی ہو کر یہ بات کر رہی ہوں۔ حالانکہ سب یہ دیکھ سکتے ہیں کہ میری رنگت کا تعلق کسی دوسرے خطے سے ہے۔

دو سو برس بعد ہماری آنے والی نسل یہاں جمع ہو گی۔ وہ اس دن کو اسی جوش و خروش سے منائے گی۔ تب وہ یہ بتائیں گے کہ کس طرح ہم نے اپنے عہد کے سب سے بڑے خطرے کا مقابلہ کیا اور اسے شکست دی۔

آپ سب کو قومی دن مبارک ہو۔

(پاکستانی نژاد ماہ رخ علی ایک تجربہ کار صحافی ہیں اور ناروے کے ٹی وی ۔2 کے ساتھ بطور اینکر منسلک ہیں۔ ناروے کے قومی دن کی ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے یہ الفاظ کہے جو قارئین کی دلچسپی کے لئے شائع کئے جا رہے ہیں۔ اس مختصر تقریر میں ان اصولوں کی نشاندہی کی گئی ہے جو ایک فلاحی اور ترقی یافتہ معاشرہ کی بنیاد کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ان ملکوں میں جہاں انتہا پسندانہ نظریات کا پرچار کرتے ہوئے مساوات ، احترام ، اظہار رائے کی آزادی جیسے بنیادی اصولوں کو متنازعہ بنا دیا گیا ہے، خاص طور سے ان باتوں کو سمجھنے اور اپنانے کی ضرورت ہے۔ اس نارویجئن تقریر کا اردو ترجمہ کاروان کی مجلس ادارت نے کیا ہے: مدیر)

 


Comments

FB Login Required - comments