بچے ، پرندے و پودے فطری توانائی کا محور ہیں ۔


یہ دور بہت ظالم ہے۔ اس کی درندگی اور وحشتوں نے اذیت پسندی کو پروان چڑھایا ہے۔ سرد مہری اور بے حسی کو جس میں اولیت حاصل رہی ہے۔ ظلم کو راستہ ملا ہے، جبر کو موقع اورغیر انسانی رویوں کو شہرت!

بچے بھی حالات کا عکس ہوتے ہیں۔ جبر و تشددد کے مناظر میں پروان چڑھتے ہیں تو زندگی کے فطری پن سے دور ہوجاتے ہیں۔ لاشعور کے قیدی بن کے جیتے ہیں۔ وجود میں غیر موجود رہتے ہیں اور پھر زندگی کے حادثے جنہیں دریافت کرتے ہیں۔ آپ اگر دنیا میں کچھ اچھا کرنے کی خواہش رکھتے ہیں تو بچوں کے بچپن کو تحفظ فراہم کرنے کی کوشش کریں۔ ان کی عزت نفس کو مجروح ہونے سے بچائیں۔

زندگی ماضی، حال اور مستقبل میں بٹی ہوئی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ہم عمر کے اعتبار سے وقت کے مختلف خانوں میں قید ہوجاتے ہیں۔ مثال کے طور ہر بچے، حال میں مگن رہتے ہیں۔ نوجوان مستقبل میں اور معمر افراد ماضی میں۔ ہر دور کا اپنا الگ رویہ ہے۔ جیسے ماضی ایک ٹھنڈی آہ میں سانس لیتا ہے جبکہ حال رواں دواں و متحرک دکھائی دیتا ہے۔ مستقبل ایک جوش اور ولولہ ہے۔ مگرمستقبل، میں رہنے والے حال سے غافل رہتے ہیں۔ معصومیت و تجرپے کی دنیا کے درمیان یہ بہت بڑا تضاد پایا جاتا ہے۔

بچے، پرندے اور پودے فطری توانائی کا محور ہیں۔ روزمرہ کی خوبصورتی، معصومیت و سادگی ان کے اردگرد رقص کرتی ہے۔ فطری پن زندگی کی مصنوعیت کو توازن عطا کرتا ہے۔ مصنوعیت زندگی کو تھکا دیتی ہے۔ مگر بچوں کی زندگی میں تھکن کا نام و نشان نہیں ملتا۔ کیونکہ بچے حال میں موجود ہوتے ہیں۔ وہ بڑوں کی طرح ماضی و حال میں تقسیم نہیں ہوتے۔ لمحہ حاضر سے تحرک لیتے ہیں۔

انگریزی کے معروف شاعرولیم ورڈز ورتھ کے مطابق ’بچے جب دنیا میں آتے ہیں تو آسمانی روشنی کے عکس سے ان کے ذہن منور ہوتے ہیں۔ پھر وقت اور تجربہ ان سے معصومیت اور فطری خوشی چھین لیتا ہے اور بڑے ہوکر وہ ایک عام زندگی کا حصہ بن جاتے ہیں۔ ‘ بچپن کے خوبصورت دن انسان کی زندگی کا قیمتی سرمایہ ہوتے ہیں۔ یہ بچپن بڑوں کی دنیا سے محبت، توجہ اور سچائی کا مضبوط حصار مانگتا ہے۔ جو اگر نہ ملے تو بچپن کے دن بے یقینی ومایوسی کا شکار ہوجاتے ہیں۔

ماہر نفسیات کہتے ہیں کہ بچے کی 54 فیصد شخصیت تین سال کی عمر میں تشکیل پاتی ہے۔ اور 11 سال کی عمر میں 86 فیصد شخصیت کا حصہ مکمل ہوجاتا ہے۔ بچے کی سمجھ اور محسوس کرنے کا عمل پیدائش کے پہلے دن سے شروع ہوجاتا ہے اور تین سال کی عمر تک وہ ماں باپ کے مزاج و ماحول سے آشنا ہوجاتا ہے۔ یہی مشاہدہ اس کی شخصیت کی تعمیر میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ بچے والدین کے رویے نقل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ جدید تحقیق کے مطابق مائیں دودھ پلاتے وقت جو بات سوچ رہی ہوتی ہیں یا کسی بھی کیفیت سے گزرتی ہیں تو وہ سوچ بچے کے مزاج کا حصہ بن جاتی ہے۔

لہٰذا ماؤں سے کہا جاتا ہے کہ وہ اس عمل کے دوران اپنے ذہن کو پرسکون رکھیں۔ ماحول میں موجود رویوں کی امواج بھی بچے کے مزاج پر اثرانداز ہوتی ہیں۔ بچہ زندگی کا خاموش نقاد ہے۔ بچے کی ابتدائی تربیت میں ماں کی قربت کا اہم حصہ ہوتا ہے۔ جو بچے کی ذہنی صلاحیتوں کو ابھارنے اور اس کی شخصیت کو اعتماد عطا کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ والدین کے موجود ہوتے بھی اچھے احساس محروم بچے جسم کا مدافعتی نظام کمزور ہونے کے باعث آئے دن بیماریوں کا شکار رہتے ہیں۔ اس دور جدید میں ملازمت پیشہ مائیں بچوں کو آیاؤں کے حوالے کردیتی ہیں۔

یہ وہ دور ہے جب ماں بچے کو اپنے ہاتھ سے کھانا کھلاتی ہے تو محبت کا رشتہ اور بھی مضبوط ہونے لگتا ہے اور بچہ خود کو محفوظ سمجھنے لگتا ہے۔ والدین بچوں کو اپنی سوچ کے زاویے سے پرکھتے ہیں لیکن ان کے اپنے وقت اور موجودہ دور میں واضح فرق ہوتا ہے۔ اگر وہ اپنے دور سے باہر نکل کر دیکھیں تو دنیا بدل چکی ہے۔ والدین کو بھی وقت کے ساتھ تبدیل ہونے کی کوشش کرنی چاہیے۔ بڑے مثال قائم کرتے ہیں اور بچے تقلید کرتے ہیں۔ اچھے والدین بننا ایک فن ہے۔ اچھے والدین بچوں کی ذہنی سطح کے برابر آکر بات کرتے ہیں۔ بچوں کے مسائل کو سمجھتے اور انھیں مثبت انداز سے حل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

جدید تحقیق نے یہ بات ثابت کردی ہے کہ ماحول اور پرورش کا انداز انسان کے اخلاقی و جذباتی اقدار کا تعین کرتا ہے قطع نظر وراثت کے۔
بہت سے رویے و عادات بچے کو ورثے میں منتقل ہوتی ہیں۔ یہ ورثہ لاشعوری طور پر اس کے مزاج کو ترتیب دیتا ہے۔ ذہن کی یہ پروگرامنگ والدین کی عطا کردہ ہے۔ اگر دس سال کی عمر تک بچے کے ساتھ والدین کا رویہ پریشان کن رہا ہے اور اس کی شخصیت میں ٹوٹ پھوٹ ہوتی رہی ہے تو ماہر نفسیات کا خیال ہے کہ گیارہ سال سے اٹھارہ سال تک والدین مثبت رویے کے ذریعے اپنی غلطیوں کا ازالہ کرسکتے ہیں۔ اگر وہ یہ چند سال بچے کی شخصیت پر مکمل توجہ دیں تو بچوں کے رویوں میں بہتری آسکتی ہے۔

بصورت دیگر والدین کو ناقابل تلافی نقصانات اٹھانے پڑتے ہیں۔ اس عرصے میں باپ کو اپنا کردار ادا کرنا ہے۔ بچے والد سے عملی سوچ اور حقیقت پسندانہ لہجہ لیتے ہیں۔ اسی عرصے میں لڑکیاں جب باپ کے قریب ہوتی ہیں تو وہ شادی کے بعد شوہر کو اچھی طرح سے سمجھ سکتی ہیں۔ اسی دوران ذمے داری ماں سے باپ کی طرف منتقل ہونی چاہیے۔ دیکھا یہ گیا ہے کہ ان سات آٹھ سالوں میں والدین کی توجہ اور بچوں کے ساتھ ان کے دوستانہ مراسم نئی نسل کی کامیابی کے لیے کئی راستے کھول دیتا ہے۔ بچے ماں سے زیادہ کھل کر بات کرسکتے ہیں۔ وہ باپ اور بچوں کے درمیان مصالحت آمیزکردار ادا کرتی ہے۔ لیکن اگر یہ باتیں براہ راست بچے والد سے کریں گے تو ان کی خود اعتمادی میں اضافہ ہوگا۔ دوسری طرف والدین کے جھگڑوں میں کمی آئے گی جو بچوں کی وجہ سے ہوتے ہیں۔

ماں کی جذباتی سوچ بچے کو تحفظ فراہم کرنے کی کوشش کرتی ہے جب کہ والد حقیقت پسندانہ انداز میں بچوں کو لے کر چلنے کی کوشش کرتے ہیں۔ والد چونکہ باہر کی دنیا میں زیادہ تر رہتے ہیں لہٰذا اگر وہ بچے کی سرگرمیوں پر نظر رکھیں تو کافی مسائل کا حل ڈھونڈ سکتے ہین۔ جب تک بچہ ماں کے اثر میں ہے وہ محفوظ ہوتا ہے لیکن جیسے وہ باہر کی دنیا میں اٹھنا بیٹھنا شروع کرتا ہے وہاں والد کی ذمے داری شروع ہوجاتی ہے۔ ماں کی ذمے داری یہ ہے کہ وہ گھر اور خاندان میں مصالحتی رویہ اختیار کرتے ہوئے بچوں کی بہتر ماحول میں تربیت کرنے کی کوشش کرے۔ زیادہ تر بچے کی خوشی ازدواجی جھگڑوں و خاندانی تضادات کی نذر ہوجاتی ہے۔ ماں کو اگر جائز حقوق حاصل نہیں ہیں اور وہ دکھی اور نا آسودہ ہے تو بچوں کی شخصیت کی تعمیر کا سلسلہ ذہنی طور پر رک جاتا ہے۔ گھر ایک اہم ادارہ ہے جو بچے کی پہلی پناہ گاہ ہے۔

منتشر گھر باغی خیالات کی ترویج کرتے ہیں۔ ایک مضبوط گھر سے ہی منظم معاشرہ تشکیل پاتا ہے۔ پیسے کی لاگت سے فقط خوبصورت گھر بنائے جاسکتے ہیں مگر ذہن نہیں۔ خوبصورت و فعال ذہنوں کی تعمیر کے لیے جذباتی سرمایہ چاہیے۔ جو والدین اپنے بچوں کی زندگی میں وقت کی انویسٹمنٹ نہیں کرتے وہ کسی بھی قسم کے منافعے کا خیال ترک کردیں۔ Third Law of Motion کی رو سے چیزیں ری باؤنڈ ہوتی ہیں۔ جس طرح کا احساس بچوں کو دیں گے وہ واپس لوٹ کر آپ کے پاس آئے گا۔

بچہ نو عمری سے لے کر جوانی تک مختلف ذہنی، جسمانی و جذباتی مراحل سے گزرتا ہے۔ آغاز جوانی میں ان کے رویے غیر متوازی ہوجاتے ہیں اس دور کو عفوان شباب کہا جاتا ہے۔ چڑچڑا پن، غصہ، ضد، پڑھائی میں عدم دلچسپی اور آئے دن کی شکایات والدین کو زچ کرکے رکھ دیتی ہیں۔ اس نازک مرحلے میں اگر والدین سمجھ داری سے کام نہیں لیتے تو بچوں کے رویوں میں مزید بگاڑ پیدا ہوجاتا ہے۔ سخت سزاؤں کے بعد وہ مزید جھوٹ بولنے لگتے ہیں اور باغی ہوجاتے ہیں۔ بچوں کی عمر کے اس نازک دور کو والدین و اساتذہ نے انتہائی احتیاط و سوجھ بوجھ سے حل کرنا ہے۔

ایرکسن کے مطابق ’بچپن سے عفوان شباب اور جوانی تک بچے مختلف کیفیتوں کے زیر اثر رہتے ہیں۔ جن میں بے یقینی، خوف، شک، احساس کمتری، نقل، احساس جرم و ندامت وغیرہ شامل ہیں۔ نوجوانی کے آغاز میں ان بچوں کو ذات کی شناخت کے مسائل درپیش رہتے ہیں۔ ان بچوں کو محبت، یقین و توجہ کی ضرورت ہے۔ ‘

آجکل سوشل میڈیا پر اکثر والدین و اساتذہ کو بچوں و نوجوانوں پر تشدد کرتے ہوئے دکھایا جاتا ہے۔ یہ غیر انسانی منظر دیکھتے ہوئے بہت تکلیف ہوتی ہے۔ آج معلوم نہیں کتنے بچے اساتذہ کے تشدد کے باعث اسکول کو خیر آباد کہ دیتے ہیں۔ نہ جانے کتنے بچے جنسی تشدد کا شکار ہوکے ذہنی مریض بن جاتے ہیں۔ یہ پرتشدد رویے جرائم کو فروغ دیتے ہیں۔

کافی عرصہ پہلے کی بات ہے میں نے ایک اسکول کے باہر ایک عجیب منظر دیکھا بہت ہی غصے کے عالم میں والد ایک پانچ سالہ بچی کو گاڑی سے اتارنے کی کوشش کر رہے تھے، مگر وہ بچی زور سے چلائے جارہی تھی۔ اسں نے جیسے ہی گاڑی کا دروازہ کھولا بچی زمین پر آن گری۔ اس شخص نے بچی کو بے دردی سے اٹھاکر دوبارہ گاڑی کی سیٹ پر پٹخا۔ قریب کھڑی ایک خاتون نے مداخلت کی اور ان سے کہا کہ آپ کیسے ظالم انسان ہیں کہ ایک چھوٹی بچی کو اتنی بے دردی سے مار رہے ہیں۔ یہ سن کر وہ شخص گاڑی اسٹارٹ کرکے وہاں سے چلا گیا۔ خاتون کہنے لگیں یہ شہر کا امیرترین آدمی ہے اس کی حالت دیکھیے! یہ سن کر مجھے بھی حیرت ہوئی کہ شہر کا امیر ترین آدمی اور چہرے پر کہیں سکون و آسودگی کا نام و نشان نہیں!
ایسے اذیت پسند والدین اکثر اپنا غصہ معصوم بچوں پر اتارتے ہیں۔ بچپن کے زخم جوانی میں ان کے ذہن و روح پر بدنما داغ بن کر انھیں بدترین ماضی کی یاد دلاتے رہتے ہیں۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں