برہمن واد مخالف عقلیت پسند تحریک کا خاتمہ: ایم کروناندھی انتقال کر گئے

شکیل اختر - بی بی سی اردو ڈاٹ کام، نئی دہلی


کروناندھی
کروناندھی کا کہنا تھا وہ ہندو دیوتاؤں کے خلاف نہیں ہیں لیکن ان کا خدا ان کا ضمیر ہے

انڈیا کی جنوبی ریاست تمل ناڈو کے سابق وزیر اعلیٰ اور ڈی ایم کے سربراہ ایم کروناندھی کا گذشتہ منگل 94 برس کی عمر میں انتقال ہو گیا۔ وہ ریاست کے پانچ بار وزیر اعلیٰ رہے اور ریاستی اسمبلی کے 13 بار رکن منتخب ہوئے۔

انھوں نے انتخاب میں کبھی شکست نہیں کھائی۔ ان کے انتقال کے ساتھ ہی جنوبی ریاست تمل ناڈو میں برہمنواد اور ذات پات مخالف تحریک کے طویل دور کا خاتمہ ہو گیا۔ وہ انڈیا کے انتہائی بااثر سیاسی رہنما تھے اور سات عشروں تک تمل ناڈو اور ملک کی سیاست میں سرگرم رہے۔

کروناندھی نے بچپن میں غربت اور افلاس کا سامنا کیا تھا اور ذات پات کی تفریق کو بہت قریب سے دیکھا تھا۔ وہ معاشرے میں برہمن واد کی اجارہ داری ختم کرنے کے لیے دراوڑین تحریک میں شامل ہوئے اور انھوں نے مذہبی تصورات کے برعکس عقلیت پسندی کو فروغ دیا۔ وہ دہریت سے قریب تھے اور یہ ان کی جماعت ڈی ایم کے نظریے کا ایک اہم پہلو تھا۔ دراوڑین تحریک کا بنیادی مقصد ذات پات کی بنیاد پر عدم مساوات کو ختم کرنا تھا۔

کروناندھی اور ان کی جماعت سے ٹوٹ کر وجود میں آنے والی جماعت اے آئی ڈی ایم کے نے برہمن غلبے والی کانگریس کو ریاست میں ٹکنے نہیں دیا۔ گذشتہ کئی عشروں سے یہی دونوں جماعتیں تمل ناڈو کی سیاست پر حاوی رہی ہیں۔

کروناندھی نے اپنے دور اقتدار میں کمزور طبقوں اور خواتین کے لیے بہت سے فلاحی پروگرام شروع کیے۔ ان کی پیروی کرتے ہوئے بعد میں ملک کی دوسری ریاستوں اور مرکزی حکومتوں نے فلاحی سکیموں اور مراعات دینے کا سلسلہ شروع کیا۔

تمل ناڈو کا شمارملک کی غریب ریاستوں میں ہوتا تھا۔ 25 برس قبل تک ریاست میں غربت کی سطح قومی سطح سے بھی زیادہ نیچے تھی لیکن کروناندھی کی قیادت میں ریاست نے غیر معمولی ترقی کی۔ پانچ برس قبل مختلف سماجی اور اقتصادی پیمانے پر کیے گئے ایک جائزے کے مطابق تمل ناڈو ملک کی تیسری سب سے ترقی یافتہ ریاست بن چکی تھی وہ گجرات اور مہاراشٹر سے بھی آگے تھی۔

کروناندھی
تمل ناڈو کے سابق وزیر اعلیٰ اور ڈی ایم کے سربراہ ایم کروناندھی

لیکن کروناندھی کی سب سے بڑی کامیابی تمل ناڈو کو ذات پات کے عدم مساوات سے باہر نکالنا ہے۔ انھوں نے نہ صرف برہمن واد کی اجارہ داری کو توڑا بلکہ سیاست میں مذہب کی آمیزش پر بھی روک لگائی۔ انھوں نے ریاست میں عقلیت پسندی کو فروغ دیا اوراسے اپنی پارٹی کا نظریہ بنایا۔

کروناندھی کا کہنا تھا وہ ہندو دیوتاؤں کے خلاف نہیں ہیں لیکن ان کا خدا ان کا ضمیر ہے۔ وہ اپنے اس تصور پر اپنی آخری سانس تک قائم رہے۔ انھوں نے جس نوعیت کی سیاست کی وہ انڈیا کی شمالی ریاستوں میں آج بھی قابل قبول نہیں ہو گی۔

تمل ناڈو میں چند مہینے پہلے ان کی دیرینہ حریف جے للتا کا بھی انتقال ہو گیا تھا جس کی وجہ سے ریاست میں سیاسی خلا پیدا ہو گیا ہے اور اسے پر کرنے کے لیے دو انتہائی مقبول تمل فلم اداکار رجنی کانت اور کمل ہاسن پرانے سیاسی نظام کو ہٹانے کی تیاریاں کر رہے ہیں۔

کروناندھی کی ذات پات مخالف اور عقلیت پسندی کی سیاست نے تمل ناڈو میں چھ عشروں تک شمالی انڈیا کی سیاست کو اثر انداز نہیں ہونے دیا۔ ان کی موت کے ساتھ ہی دراوڑین اور تمل قوم پرستی کی طویل تحریک کا خاتمہ ہو گیا۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 4854 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp