بابا رحمتے کے نام دوسرا مراسلہ


بنام محترم جناب عالی قدر چیف جسٹس آف پاکستان جناب ثاقب نثار صاحب،

بعد از سلام عرض یہ ہے کہ آپ کے حضور دوسرا خط لکھنے کی جسارت کر رہی ہوں، اس امید پر کہ سرکاری اس بار ہم عام لوگوں کی بات کو تھوڑی سی توجہ دیں تو بڑی ہی عنایت ہوگی۔ مسئلہ یہ ہے کہ جب تک میں کہانی نہ سناؤں بات شروع نہیں کر پاتی، اب آپ کیونکہ فنون لطیفہ کے دلدادہ ہیں تو اسی مناسبت سے اس بار ایک فلم کی کہانی کا تھوڑا سا خلاصہ سنانا چاہتی ہوں۔

فلم کا نام ہے سائلنس آف دی لیمبزThe Silence of the Lambs
یہ کہانی ایک خاص قسم کے نفسیاتی مریض ”بفلو بلز“ کی ہے۔ جو کہ ایک سریل کلر ہے اور اسے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وہ غلطی سے مرد کے جسم کے ساتھ اس دنیا میں آگیا ہے دراصل وہ ایک عورت ہے اور اب عورت بننے کے لیے بفلو بلز اپنے لیے ایک خصوصی لباس بنا رہا ہے، جو نوجوان لڑکیوں کی کھال سے تیار ہو گا، وہ اس مقصد کے لیے مسلسل شکار کرنے میں لگا ہوا ہے اور اسے اس بات کا کامل یقین ہے کہ جس دن اس نے وہ لباس مکمل کر کے پہن لیا وہ تتلی کی طرح تکمیل کے منازل طے کرتا ایک عورت میں تبدیل ہو جائے گا۔ لباس بنانے کا خیال اسے اس وقت آیا جب ڈاکٹر نے اسے اس بات کا یقین دلا دیا کہ سرجری کے بعد بھی وہ مکمل عورت نہیں بن سکتا۔ لیکن اس کا یہ خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو پاتا، اور وہ ایف بی آئی کے ہتھے چڑھ جاتا ہے۔

سرکار اس کہانی سنانے کی وجہ بھی بتا ہی دیتی ہوں۔
کچھ دنوں سے مختلف دوستوں کی جانب سے ایک ہی میسج آ رہا تھا کہ قربانی کی کھالیں چیف جسٹس آف پاکستان کے ڈیم فنڈ میں دی جائیں اور یہ میسج صدقہ سمجھ کہ آگے بڑھائیں، پھر ایک محسن نے ایک فتویٰ بھیجا کہ قربانی کی کھالیں ڈیم فنڈ میں نہ دی جائیں، یہ کھالیں صرف زکوات کے مستحق افراد کو ہی دی جا سکتی ہیں۔ دو روز قبل عالی قدر جناب کی تصویر نظر سے گزری جس میں اپنی پوتی کے جیب خرچ سے ڈیم فنڈ میں آنے والی رقم کیمرے کو دکھا رکھے تھے، بچی کے معصوم جذبات کے لیے آنکھوں میں پانی آگیا کلیجہ منہ کو آ گیا۔

سرکار چھوٹا منہ بڑی والا حساب ہے لیکن کچھ ہوم ورک میں نے بھی کیا صرف آپ کی محبت میں ذیل میں پیش کر رہی ہوں۔ سال 2016 میں زیر التوا کیسز کی تعداد 1954868 تھی، صرف سندھ میں 121180 کیس زیرِ التوا ہیں۔ اگر صرف کراچی سینٹرل جیل کی بات کی جائے تو وہاں 7000 قیدی ہیں جن میں سے تقریباً 50٪ وہ ملزمان ہیں جن کے مقدمات زیرِ التوا ہیں۔ وہ اپنی تاریخ پہ جیل سے کورٹ لے جائے جاتے ہیں وہاں دو ہفتے اور کبھی بیس دن کی تاریخ لگوا کے جیل واپس لائے جاتے ہیں، اس روز صرف ایک بات کام کی ہوتی ہے وہ ہے گھر والوں سے ملاقات۔

سرکاری یہ کہاں کا انصاف ہے؟
صفائی تو گھر سے شروع ہوتی ہے ںا؟
اب آگر قربانی کی کھالیں بھی آپ لیں گے تو ایم کیو ایم اور الخدمت والے کیا لیں گے؟

ناچیز پھر ایک جسارت کر رہی ہے ایک چھوٹی سی گزارش ہے کہ بیشک آپ قربانی کی کھالیں کیا ملزمان کے گھر والوں کی کھالوں کا نظرانہ وصول کرلیں لیکن اپنے ادارے کی جانب توجہ کریں تو عین نوازش ہوگی۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ بجلی اور پانی پاکستان کا بہت بڑا مسئلہ ہیں لیکن اس مسلئے کو حل کرنا آپ کا سر درد تو ہو سکتا ہے لیکن یہ آپ کا علاقہ نہیں، محض ایک جیل میں ساڑھے تین ہزار انڈر ٹرائل قیدی تو پورے پاکستان میں کتنے ہوں گے یہ آپ ہم سے بہتر جانتے ہیں، مائی باپ عالی مقام ایک ملزم کے پیچھے پورا خاندان آپ کی توجہ کا طالب ہے۔

آخر میں چھوٹی سی بات کہنا چاہتی ہوں کہ بفلو بلز کی طرح کھال کا لباس پہنے سے جنس تبدیل نہیں ہوتی۔ وہ بھی غلط فہمی کا شکار تھا۔ میری اتنی مجال کہاں کہ خدا نخواستہ میں کسی بھی منصب دار کو نفسیاتی مریض کہوں میرے منہ میں خاک۔

فقط،
آپ کی فرماں بردار،
ایک ملزم کی عزیزہ۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں