میرے ابو میرے رول ماڈل تھے


ہر انسان کو اپنے ماں باپ سے بہت پیار ہوتا ہے خاص کر بیٹیوں کو۔ لیکن ان کا دنیا سے چلے جانا کتنا اذیت ناک ہوتا ہے اس کا اندازہ مجھے اب ہوا ہے۔ میں انگلینڈ میں ہوں اور میرے ابو جی پاکستان میں فوت ہو گئے ہیں۔ یہاں کچھ امیگریشن کا مسئلہ تھا اور میں نہیں جا سکی۔ میرے ابو ایک اصُول پرست اور خودار انسان تھے۔ ہماری امی فوت ہو چکی تھیں ہمارے ابو نے اکیلے ہی ہماری تعلیم و تربیت کی تھی۔ اور ہماری خاطر دُوسری شادی نہیں کی تھی۔

حلانکہ کھاتے پیتے اور کافی زمینوں کے مالک تھے۔ ساری زندگی اولاد کی خاطر تنہا گزار دی تھی جب میں روٹی بنانا سیکھتی تھی تو روٹی ٹیڑھی اور جلی ہوئی بنتی تو مییرے بھائی مذاق اڑاتے کہ یہ کون کھائے گا۔ میرے ابو دفتر سے آتے ہی مجھے بلاتے اور کہتے وہی روٹی لے آؤ جو آپ نے بنائی ہے۔ میں ڈرتے شرماتے وہ روٹی لے جاتی تو میرا ماتھا چُوم کے کہتے بہت اچھی بنی ہے میں آج سے یہی کھایا کروں گا۔ سالن بناتے ہوئے بھی بھائی کہتے بوٹی تو سوئمنگ کرنے گئی ہے۔ لیکن ابو کہتے کتنے مزے کا سالن ہے مجھے اور دو۔ دفتر سے اور زمینوں سے جو بھی پیسے آتے تھے مجھے ہی دیتے تھے کہ اپ گھر چلاؤ۔

میری شادی کرنے لگے تو میری سہیلیوں سے پُوچھتے کہ میری بیٹی کو کیا کیا پسند ہے ہو سکتا ہے وہ مجھے کھل کر نہ بتا سکے کیونک میری بیٹی کی ماں نہیں ہے جبکہ بییٹیاں ماں سے تو کھل کر بات کر سکتی ہیں۔ رخصتی کے وقت مجھے گلے لگایا اور کہا کبھی بھی پیسوں یا کسی بھی چیز کی ضرورت ہو تو مجھے آکے بتانا اور یہاں سے لے جانا لیکن اپنا گھر خراب مت کرنا۔

شادی کے کچھ عرصہ بعد میں پاکستان میں رہی دوسرے بہن بھائیوں کی شادیاں ہو گئیں۔ میرے شوہر باہر رہتے تھے۔ میرے نہ چاہتے ہوئے بھی مجھے باہر بھیج دیا۔ اور کہا کہ آپ ضرور جاؤ۔ بچوں کو وہاں تعلیم کا موقع مل رہا ہے اور میری وجہ سے ضائع نہ کرو میری فکر مت کرنا آپ کے دوسرے بہن بھائی ہیں میرا خیال رکھنے کے لئے۔ مجھے باہر بھیج دیا میں صرف ایک بار ہی اُن سے ملنے جا سکی بس پھر فون پہ ہی بات ہوتی تھی۔ ہر بار میں جانے کے لئے کہتی تو کہتے میں ٹھیک ہوں اپ بچوں کی تعلیم مکمل کرو اور ان کو اکیلا چھوڑ کے مت آنا کیونکہ ماں کے بغیر زندگی کیا ہوتی ہے یہ آپ سے اور مجھ سے بہتر کون جان سکتا ہے۔

فون پہ بات ہوتی تھی مری گئے ہوئے تھے اکثر گرمیوں میں مری جاتے تھے۔ جمعہ والے دن فجر کی نماز پڑھ کے فوت ہو گئے۔ یہاں تو ابھی رات تھی کہ اچانک ہی سب فون بجنے لگے ہم سو رہے تھے میں نے اچانک ہی فون اُٹھایا تو روتے ہوئے میری بہن کہنے لگی باجی ابو فوت ہو گئے۔ یہ سُن کے میری تو جیسے دُنیا ہی اُجڑ گئی ہو۔ ہوم آفس فون کیا پاسپورٹ اُدھر تھا بہت کوششش کی لیکن جانا نصیب نہ ہوا۔

اب ہر رات بستر پہ آتی ہوں تو ان کی باتیں ان کی ساری یادیں ان کی آواز کانوں میں گونجتی ہے تکیہ گیلا کرکے خود ہی چُپ کر جاتی ہوں۔ پاکستان گئی تھی تو دروازے پہ کھڑے تھے اور میرے واپس آتے ہوئے جب تک گاڑی اوجھل نہیں ہوئی پیچھے ہی کھڑے تھے۔ مجھے یقین نہی ہوتا کہ میرے ابو چلے گئے ہیں۔ جانے کا ارادہ کروں تو ابو کے بجائے قبر سامنے آجاتی ہے دل کانپ جاتا ہے۔ جن کے لئے جاتی تھی وہ نہیں ہوں گے تو کیا ہوگا۔ اور اس گلے سڑے پاکستانی نظام میں دو بار حج کی درخواست دی تھی پچھلی بار بھی نہیں نام آیا تھا اور اس بار تو ان کو اُمید تھی لیکن اس بار بھی نہیں آیا تھا۔ اللہ ان کو جنت میں اعلی مقام عطا فرمائے۔
پیلیز میرے ابو کے لئے دعا کریں۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں