چاند کی چوری


وہ سب کچھ نظر کے سامنے ہوا۔ چاندنی رات، سمندر کا کنارہ اورسمندر کی بے تاب پُرشور لہریں تھیں جو باربار ساحل کو چومنے کے لیے شدت کے ساتھ چیختی چنگھاڑتی زور و شور کے ساتھ حملہ آورہورہی تھیں۔ لق و دق بے قرار سمندر سے بے نیاز چاند اپنی جگہ پر کھڑا خاموشی سے مسکرا رہا تھا۔ پراسرار چاند نہ جانے کتنے اربوں سال سے اسی طرح اپنی جگہ سے دنیا والوں کو دیکھے جارہا تھا۔ چاند جو جسے دیکھ کر ہر بچہ ہمکتا ہے۔ زمین پر رہنے والوں سے چاند کا رشتہ اتنا ہی پرانا ہے جتنی پرانی یہ زمین ہے۔ رات کی تنہائی میں چودھویں کے چاند کی رعنائی دیکھنے کے قابل ہوتی ہے۔ چاند ہماری تہذیب، ہمارے سماج، ہمارے ادب، ہماری تاریخ اور انسانوں کے کئی مذاہب کا ایک اہم جز ہے۔

پھر جو کچھ ہوا شاید وہ نظر کا دھوکہ تھا۔ چاند کے چاروں طرف چنگاریاں سی کوندی تھیں پھر دیکھتے دیکھتے چاند تیزی سے حرکت کرتا ہوا دُور ہوتا گیا اور منٹوں میں نظر سے اوجھل ہوگیا۔ چاندنی بڑی تیزی سے اندھیرے میں بدل گئی تھی، ساتھ ہی ایک ہلکا سا جھٹکا لگا جیسے دُور کہیں پر کوئی زلزلہ آیا ہو اور موجیں مارتا ہوا سمندر کسی جھیل کی طرح سے ساکت سا ہوگیا تھا۔ موجوں کی وہ شدت ختم ہوچکی تھی، سمندر بہت دُور تک اُتر گیا تھا اورچھوٹی چھوٹی لہریں نئے ساحل سے اٹھکلیاں کررہی تھیں۔ نہ اُن میں جوش تھا، نہ شدت، نہ طاقت تھی نہ غصہ۔ ایسا لگتا تھا جیسے سمندر کسی پالتو جانورکی طرح سے مالک کے قریب آگیا ہے۔

پھر عجیب بات یہ ہوئی کہ آسمان پر ستارے آہستہ آہستہ چمکنا شروع ہوگئے، ایسا آسمان تو کسی نے پہلے کبھی دیکھا ہی نہیں تھا۔ حدِنظر تک ستارے ہی ستارے تھے، اتنے قریب اتنے نزدیک، اتنے چمکدار ایسا تو پہلے کبھی بھی نہیں ہوا تھا، نہ کسی نے دیکھا تھا، نہ سنا تھا اور نہ ہی پڑھا تھا کہ آسمان پر ستارے اتنی شدت سے چمکتے ہوں گے۔ بغیر چاند کے کھلے آسمان پر حدِّنظر تک ستاروں کی بارات تھی، جس کا کوئی سِرا نہیں تھا۔ چاند کا دُور دُور تک پتہ نہیں تھا۔
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

یہ سب کچھ ایک دن میں نہیں ہوا تھا، نظام شمسی سے باہر اسی کہکشاں میں زمین سے دُور بہت دُور دھرتی ہی کی طرح ایک زمین اورہے جو زمین سے تقریباً تین گنا بڑی ہے جہاں کے رہنے والے اپنی زمین کو نیمز کے نام سے پکارتے ہیں۔ نیمز کے لوگ بہت ترقی یافتہ ہیں اور ان کی اپنی تاریخ کے مطابق یہ لوگ زمین سے ہی کروڑوں سال پہلے ہجرت کرکے اس بے آباد سیارے پر رہنے کے لیے چلے گئے تھے۔ انہیں اس لیے نکلنا پڑا تھا کہ زمین کے اوپر ایک بہت بڑا دُم دار ستارہ اپنے ہزار سے زیادہ چھوٹے بڑے سیاروں کے ساتھ آکر ٹکرا گیا تھا۔ نیمز کے رہنے والوں کے آباؤ اجداد کو تقریباً اکتیس سال پہلے پتہ لگ گیا تھا کہ اس دُم دار ستارے سے زمین بچ نہیں سکے گی۔ یہ ٹکراؤ زمین کو اپنے مدار سے ہلا تو نہیں سکے گی مگر تابڑ توڑ سیاروں کے ٹکراؤ سے زمین پرجوتباہی آئے گی اس سے خشکی پر رہنے والی تمام مخلوقات کا خاتمہ ہوجائے گا۔ اس ٹکراؤ سے ہونے والی آب و ہوا کی تبدیلی کئی سو سالوں تک زمین کے ماحول کو بدل دے گی۔ پہاڑ سمندر میں ڈوب جائیں گے، نئے جنگل اور نئے صحرا بنیں گے اور ترقی یافتہ تہذیب و تمدن کا مکمل طور پر خاتمہ ہوجائے گا۔

ٹکراؤ سے کئی سال پہلے زمین کی محدود آبادی کو آہستہ آہستہ کرکے نیمز پہنچادیا گیا تھا۔ نیمز کو زمین کی طرح بنانے میں کئی سو سال لگ گئے تھے۔ نیمز کا سورج زمینی سورج سے نو گنا زیادہ بڑا ہے۔ وہاں کا سال وہاں کے لحاظ سے چودہ مہینوں کا ہوتا ہے جب کہ ان کا مہینہ اکتالیس دنوں کا اورایک رات دن تیس گھنٹوں کے ہوتے ہیں۔ نیمز کا کوئی چاند نہیں تھا۔ نیمز کے باشندوں کو زمین اور چاند کی کہانیاں یاد تھیں۔ چاند کو انہوں نے فلموں میں دیکھا تھا جو ہزاروں سال پہلے ان کے آباؤاجداد زمین سے لے کر آئے تھے۔

کچھ سالوں سے نیمز کے ماہر سائنس دانوں کا خیال تھا کہ مستقبل میں ہونے والی خطرناک موسمیاتی تبدیلیوں سے بچنے کے لیے نیمز کے سمندر کو نیمز کے ایک بہت بڑے غیرآباد اور صحرا میں منتقل کرنے کی ضرورت تھی۔ نیمز کی حکومت کی سائنسی اورسماجی کمیٹی نے بہت سارے اجلاس کے بعد تجویز دی تھی اگر زمین کے چاند کو نیمز کے خاص مدار میں گھمایا جائے تو تقریباً سولہ زمینی سالوں میں نیمز کا سمندر ان علاقوں میں چلا جائے گا جہاں جانے سے نیمز کی ایک بڑی آبادی آنے والے موسمی اثرات سے بچ سکے گی۔

سائنس کمیٹی کی اس تجویز کے بعد نیمز کے رہنے والوں میں ایک بحث کا آغاز ہوگیا تھا کہ کیا چاند کی چوری اخلاقی طورپر درست ہوگی۔ چاند کی چوری سے زمین پر ہونے والی تباہی اورہلاکتیں کتنی جائز ہوں گی اوراُن کا کوئی اخلاقی جواز ہوگا۔ کیا ہمیں حق ہے کہ اپنے آبا و اجداد کی زمین کا چاند چرا لیں۔ کیا ہمیں اپنی ضروریات اور اپنے فائدے کے لیے زمین سے اس کا چاند اغوا کرنے کا حق ہے۔

نیمز کے رہنے والے عملی لوگ ہیں، بہت جلد لوگوں نے سائنس دانوں کی باتوں سے اتفاق کرلیا کہ کائنات میں زندگیوں کا اخلاقیات سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ عظیم اور لافانی کائنات میں زندگیاں اتفاقاتی بنیادوں پروجود میں آتی رہی ہیں اور اتفاقی حادثات سے ہی نیست و نابود بھی ہوگئی ہیں۔ نیمز کے لوگوں کو کروڑوں سال پہلے زمین سے ہجرت کرنی پڑی کیونکہ دُم دار ستاروں کا ٹکراؤ ناگزیر تھا اگر اس وقت زمین پر رہنے والے سائنسی آگہی کی بنیادوں پر اس صورت حال سے آگاہ نہیں ہوتے تو ان کا وجود ختم ہوچکا ہوتا۔ وہ صرف اس لیے بچ گئے تھے کہ ان کے سائنس دان اس ٹکراؤ سے زمین کو بچا نہیں سکتے تھے لیکن انہوں نے زمین کی طرح کا سیارہ دریافت کرکے آبادی کو وہاں منتقل کرلیا تھا اور مصنوعی طریقوں سے ایسے حالات پیدا کردیے تھے کہ زندگی کا چکر چل نکلا تھا اور نیمز کے رہنے والے سائنسی طورپر بہت آگے جاچکے تھے۔ زمین پر موجود انسان نما مخلوق کئی لاکھ سال پہلے وجود میں آئی تھی اور ارتقائی مرحلوں سے گزرتی ہوئی اب تھوڑی بہت ترقی یافتہ ضرور ہوگئی تھی مگر ان کی ترقی ان کی زندگی اورا ن کا پورا وجود کسی خاص اہمیت کا حامل نہیں تھا۔

نیمز کے رہنے والوں کو زمینی آبادی سے کوئی خاص ہمدردی نہیں تھی کیونکہ زمین اورزمین کے رہنے والوں کے بارے میں جو رپورٹس تیار کی گئی تھیں ان کے مطابق یہاں کے ترقی یافتہ ترین لوگ جو آدمی کہلاتے ہیں وہ انتہائی خود غرض ہیں۔ انہیں نہ تو اپنے ہی جیسے آدمیوں کا خیال ہے اوروہ نہ ہی زمین پررہنے بسنے والی دوسری مخلوقات، چرند پرند، درخت، گھاس، پھول، پتے، جنگل، دریا، ندی، نالے، پہاڑ، سمندر، صحرا، وادی اور یہاں تک کہ چھوٹے چھوٹے پرندوں اور تتلی جیسی زندگیوں تک کو خاطر میں نہیں لاتے ہیں۔ انہیں اپنے ہی جیسے آدمیوں کی زندگی سے بھی کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ دنیا کی دو تہائی سے زیادہ آبادی دنیا کے اپنے معیار کے مطابق انتہائی خراب زندگی گزار رہی تھی۔

نیمز کے سائنس دانوں کے حساب کے مطابق دنیا کو آئندہ ایک کروڑ سال تک کائنات میں حرکت کرنے والے کسی ستارے، سیارے سے کوئی خطرہ نہیں تھا۔ مگر دنیا کو دنیا میں ہی رہنے والوں سے شدید خطرات لاحق ہوگئے تھے۔ خود غرض انسانوں کی سرگرمیوں نے ایسی موسمیاتی تبدیلیاں پیدا کردی تھیں جو عنقریب دنیا میں بہت ساری بربادیاں لانے والی تھیں، جن سے دنیا کی بڑی آبادی کا خاتمہ ہونے والا تھا جوچاند کی منتقلی سے زیادہ خطرناک تھا۔ نیمز والوں نے زمین سے آتے وقت اس وقت کے کئی زندگیوں کو اپنے ساتھ نیمز لے کر آئے تھے مگرآج کے زمینی انسانوں کو اس بات کی فکر نہیں ہے۔ پچھلے کچھ عرصے میں زمین والوں کی خودغرضی سے حیاتیات کی کئی قسمیں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ختم ہوگئی تھیں۔

نیمز کے عوام کی مشاورتی کمیٹی نے ہی فیصلہ کیا تھا کہ کم از کم پچیس سالوں کے لیے دنیا کے چاند کو نیمز کے مخصوص مدار میں منتقل کردیا جائے جس کے بعد اگر ضروری سمجھا گیا تو چاند کو واپس زمینی مدار میں بھیجا جاسکتا ہے۔ سائنس دانوں نے چاند منتقلی کی کارروائی کو تین حصوں میں کامیاب کیا تھا۔

پہلے ایک انتہائی طاقتور کروٹونیم بم کے دھماکے سے چاند کو زمینی مدار سے نکال لیا گیا تھا، اس طرح سے منصوبہ بندی کی گئی کہ زمینی مدار سے نکلنے میں چاند کی موجودہ تقریباً نو ہزار میل فی گھنٹے کی رفتار کو محفوظ رکھا گیا تھا۔ شمسی نظام کے ثقلی انتہا پر ایک اور کروٹونومی دھماکہ کیا گیا تھا جس سے زمین کی رفتار ایک منٹ میں نوہزار میل سے بڑھ کر اڑتالیس ہزار میل فی گھنٹہ ہوگئی تھی جب چاند نیمز کے کم از کم قوت ثقل کے دائرۂ اثر کے پاس سے گزرنے والا تھا تو تیسرے کامیاب کروٹونک دھماکے کے ذریعے چاند کو نیمزکے مدار میں داخل کردیا گیا تھا اوراس نے وہی رفتار حاصل کرلی تھی جس رفتار سے نیمز اپنے سورج کے ساتھ کہکشاں میں حرکت کررہی تھی۔

نیمز والوں نے چاندکا گرم جوشی سے استقبال کیا اور ایک نئی بحث کا آغاز ہوگیا کہ کیا چاند کوزمین پر واپس بھیجنے کی ضرورت بھی ہے کہ نہیں۔
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
مزید پڑھنے کے لئے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں