بجلی سے متعلقہ کام کرنے والے حادثات سے کیسے بچیں؟


اس دینا میں کوئی مستقل رہنے کے لئے نہیں آیا۔ چلا چلی کا میلہ ہے۔ پیدا ہونے کی تو ایک ترتیب ہے لیکن موت ایسی تمام پابندیوں سے آذاد ہے۔ یہ سب باتیں بچپن سے سنتے آئے ہیں لیکن ان کی کڑواہٹ کا جو احساس واپڈا/گیپکو میں ملازمت کے بعد ہوا اس سے شاید پہلے انجان تھے۔ ہنستے کھیلتے لوگوں کو موت کی وادیوں میں گمنام ہوتے دیکھا۔ ایسے ایسے زندہ دل جوان جن کا اپنے کام میں طوطی بولتا تھا، برقی تاروں پہ جھولتے ہوئے ملے۔ موت برحق ہے لیکن ایسے موت کسی کو نہ آئے کہ ہڈیاں تک جل کے راکھ بنی ہوں۔ حادثاتی موت انسان کو نہ صرف رنجیدہ کرتی ہے بلکہ اس کو حواس باختہ کرڈالتی ہے۔ انمٹ زخم روح تک کو زخمیدہ کردیتے ہیں۔

کیوں؟ آخر ایسا کیوں ہوتا ہے۔ ہو سکتا ہے اس میں خود اعتمادی کا عنصر شامل ہو لیکن یہی تو ایک قیمتی جان کے ضیاع کی واحد وجہ نہیں ہوسکتی۔ کجا یہ ایک جان کا نہیں بلکہ ایک خاندان کا نقصان ہوتا۔ ایک ایسا نقصان جس کی تلافی نا ممکن ہے۔ ایک ماں، جو دن رات بلائیں لیتی ہو اپنے گبھرو جوان کی، اس کیممتا کا نقصان۔ ایک جواں سال دلہن کی پیشانی پر لکھ دیا گیا بیوگی کا کرب ناک احساس اور معصوم بچوں کا پاکیزہ بچپن جسے خوشیاں چاہیے تھیں، باپ کی انگلی پکڑ کر چاند کو مسخر کرنے کے حسیں خواب بننا تھے، کو لاچارگی، ہمدردی اور محرومی کا لبادہ پہنادیا جاتا ہے۔

لواحقین کو مالی فوائد بلاشبہ محکمے کی طرف سے مل جاتے ہیں لیکن کیا ان کی زندگیاں بچانے کے لئے کوئی تدبیر کی جاتی ہے۔ کیا ان عوامل کا ادراک کرنے کی جستجو حقیقی بنیادوں پر کی جاتی ہے جو پل بھر میں روشن زندگیوں کو تاریک کر ڈالتے ہیں۔ اگر نہیں تو پھر کون ہیں جو اس سب کے ذمہ دار ہیں۔ کیا ان ذمہ داروں کے خلاف کوئی تادیبی کارروائی کی جاتی ہے۔ اگر نہیں کی جاتی تو کیوں۔

محکمہ برقیات کا ایک حفاظتی ضابطۂ کار ہوتا ہے۔ اس کا منشور ہی یہ ہے کہ کسی بھی قسم کے ہنگامی حالات انسانی جان سے قیمتی نہیں ہوسکتے۔ محکمے کی املاک و تنصیبات بھی اگر جل رہی ہوں اور اس سے انسانی جان کو خطرہ ہو تو انسان کو مقدم رکھا گیا ہے۔ سیفٹی فرسٹ کے قاعدے پر ہر حال میں عمل پیرا رہنا ہے۔ جب کسی جگہ برقی ترسیل کو بحال رکھنے یا نئی تنصیبات پر کام کرنا ہو تو اس کے لئے بھی ابتدائی حفاظتی اقدامات کا ایک باقاعدہ اور مسلسل عمل ہے۔ جس پر عمل کر کے نا صرف حادثات سے بچا جاسکتا ہے بلکہ کام کا معیار بھی بلند رہتا ہے۔ درج ذیل اقدامات کو اپنانا کسی بھی لائن مین کے لئے انتہائی ضروری ہے۔ ان سے صرف نظر کرنے کا مطلب خود کشی کے علاوہ کچھ نہیں۔

Permit to work [ptw] کام کرنے کا اجازت نامہ:
کسی بھی جگہ برقی تنصیبات پر کام کرنے کے لئے سب سے پہلے گرڈ سٹیشن سے اجازت نامہ حاصل کرنا انتہائی ضروری ہے۔ یہ اجازت نامہ متعلقہ سربراہ کی درخواست پر ڈسٹری بیوشن کنٹرول سینٹر سے منظورشدہ ہو تاکہ کسی قسم کی غلطی کا ابہام نہ رہے۔ Ptw کا انتباہی بورڈ کام کرنے والا خود اپنے ہاتھ سے لگائے اور بریکر کو بذات خود اوپن کرے۔

ٹولز اینڈ پلانٹس T&P:
ٹولز اینڈ پلانٹس کا باقاعدہ استعمال حادثات کی روک تھام میں انتہائی مؤثر کردار ادا کرتا ہے۔

تربیت training:
محکمہ برقیات کا واحد کیڈر لائن مین ہے جہاں براہ راست بھرتی نہیں ہوتی۔ یہ خالصتاً تجربہ اور تربیت کے بعد حاصل ہوتا ہے۔ تنصیبات پر کام کرنے کی اجازت بھی انہیں تربیت یافتہ لوگوں کو حاصل ہوتی ہے۔ حادثات کی ایک اہم وجہ اسٹنٹ لائن مین سے کام کروانا ہے۔ لہذا لائن مین کو ہی کام کرنا چاہیے اور وقتا فوقتا ان کی تربیت کا بندوبست ہونا چاہیے۔

Earthing۔
گرڈ سٹیشن کی حدود میں واقع ٹرمینل پول کو محکمہ سے منظور شدہ ارتھ لگائی جائے۔ جس جگہ یہ ایکویپمنٹ پر کام کرنا مقصود ہو اسے بھی دوطرفہ ارتھ کرنا انتہائی ضروری ہے۔

اسسٹنٹ لائن مین :
کام کی جگہ پر اسسٹنٹ لائن مین کا ہونا انتہائی اہم اور لازم و ملزوم ہے۔ اسسٹنٹ لائن مین کی ذمہ داری ہے کہ وہ لائن مین کو پرسنل پروٹیکٹو ایکویپمنٹ جیسا کہ تمام قسم کے دستانے، حفاظتی بیلٹ، سیفٹی ہیلمٹ وغیرہ کو یقینی بنائے اور دوران کام درکار t&p مہیا کرے۔

سپروائزر:
جب تک لائن سپروائزر اپنی نگرانی میں کام نہیں کروائے گا حادثات پر قابو پانا ناممکن ہے۔ سپروائزر کا ورک پلیس پہ ہونا ناگریز ہے۔

افسران کا کردار:
متعلقہ سب ڈیویژنل افسر اپنا کردار ادا کرکے حادثات کی روک تھام میں کلیدی کردار ادا کرسکتا ہے۔ گاہے بہ گاہے سیفٹی سیمینارز کا انعقاد اور سیفٹی لیکچرز سے مثبت نتائج حاصل کیے جاسکتے ہیں۔
کچھ تجاویز ایسی ہیں جو انتہائی سخت ہیں۔ لیکن ان پر عمل کیے بنا متوقع نتائج کا حصول دیوانے کے خواب سے بڑھ کر کچھ بھی نہیں۔

اس ضمن میں سب سے مقدم جزا و سزا کا نفاذ ہے۔ یونین کی کچھ پالیسیز جو بظاہر تو لیبر فرینڈلی ہیں لیکن حقیقت میں وہی زہر قاتل ثابت ہورہی ہیں۔ حادثے electrocution کی صورت میں وفات پانے والے ملازم کے پسماندگان کو امداد کی مد میں بہترین پیکیج مہیا کیا جاتا ہے۔ لیکن وہ ایک انسان کا نعمل البدل نہیں ہوسکتا۔ لہذا وقت کی ضرورت ہے کہ حادثات کی وجوہات کا تعین کیا جائے اور ذمہ داران کو کیفرکردار تک پہنچایا جائے۔ لیکن ہوتا اس کے برعکس ہے۔ متاثرین کو فائدہ تو پہنچادیا جاتا ہے لیکن اس اسسٹنٹ لائن مین یا سپروائزر کو بچا لیا جاتا ہے جس کی غلطی یہ سانحہ رونما ہوا ہوتا ہے۔

معیاری مٹیریل کا استعمال بریکڈاؤنز کی فریکوینسی کو معدوم کرسکتا ہے جس سے کام کا بوجھ کم ہوجانا ہے۔ ورک لوڈ بھی حادثات کی ایک اہم وجہ ہے۔ اسے سٹاف کی کمی کو پورا کرکے بھی کم کیا جاسکتا ہے۔ سالہا سال سے بھرتیوں کا عمل رکا ہوا ہے جبکہ یارڈ سٹک کے مطابق لوڈ ہر گزرتے دن بڑھ رہا ہے۔ کنزیومرز کی تعداد بڑھ رہی ہے ہے جس سے نہ صرف سسٹم کی استعداد پر بوجھ پڑ رہا بلکہ ورکرز بھی جسمانی و نفسیاتی مسائل کا شکار ہیں۔ ایسا جب تک جاری رہے گا حاثات قیمتی اور تجربہ کار انسانوں کو نگلتے رہیں گے۔ ایسا ہی جاری رہا تو بہت جلد واپڈا اپنی ریڑھ کی ہڈی یعنی تجربہ کار اور محنتی لائن مینوں کو بجلی کی بھینٹ چڑھا کر اپاہج ہوجائے گا۔ اور وہ وقت دور نہیں کہ کمپلینٹ سینٹر تک آؤٹ سورس نہ کرنے پڑجائیں۔ آج ان اداروں کے خریدار تو ہیں کل کلاں کسی نے انہیں بے مول بھی نہیں خریدنا۔

بسا اوقات مالی فوائد کے حصول کی خاطر لائن مین حفاظتی اقدامات اور باقاعدہ اجازت نامے کو پس پشت رکھتے ہوئے کام کرتا ہے۔ ایسا وہ اپنی مرضی سے کرتا ہے یا اسے ایسا کرنے کے لئے مجبور کیا جاتا ہے۔ اس کی باقاعدہ تحقیق ہو اور ذمہ داران کو محکمہ سے نہ صرف نکال دیا جائے بلکہ ان کے خلاف کریمنل ایکٹ کے تحت کارروائی کی جائے۔ لیبر یونین اور آفیسرز ایسوسی ایشنز مل بیٹھ کر اس امر کا اعادہ کریں کہ ایسے کسی قبیح فعل یا اس کے کسی مؤجب کی قطعی حمایت نہ کی جاوے گی جو انسان سوز ہوں۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں