ادب اور لذتوں کا پرخلوص اظہار


Firaq-Gorakhpuriفراق گورکھپوری

حضرت نیاز!

مئی 46 ءکا نگار مجھے اب تک نہیں ملا تھا۔ آج آپ کا بھیجا ہوا تراشا ملا۔ جناب ایس ۔ایم۔ اصطفیٰ نے میرے ان اشعار

یہ بھیگی مسیں، روپ کی جگمگاہٹ

یہ مہکی ہوئی رسمسی مسکراہٹ

تجھے بھینچتے وقت نازک بدن پر

وہ کچھ جامہ نرم کی سرسراہٹ

پس خواب پہلوئے عاشق سے اٹھنا

دھلے سادہ جوڑے کی وہ ملگجاہٹ

پر یہ اعتراض کیے ہیں کہ فراق شاعری میں معصومی، نرمی و پاکیزگی کا اپنا مسلک مانتے ہوئے اور چلاتے ہوئے جذبات کے اظہار اٹھاتے ہوئے مندرجہ بالا قسم کے اشعار لکھ کر کیا اپنی تردید آپ کر رہے ہیں اور کیا یہ اشعار گندے اور مخرب الاخلاق نہیں ہیں ؟

جواب میں مجھے یہ کہنا ہے بلکہ دعویٰ کرنا ہے کہ جن لوگوں نے گذشتہ کی برسوں سے میری غزلیں یا میری نظمیں یا میرے دو چار سو اشعار بھی دیکھے ہیں، ان پر یہ بے اختیارانہ اثر پڑا ہو گا کہ معصومی، نرمی وپاکیزگی کے جو عناصر میرے یہاں نظر آتے ہیں ، وہ اچھی اور کامیاب اردو شاعری میں بھی قریب قریب مفقود ہیں اور اگر کہیں ہیں تو اردو شاعری کے اس بہت تھوڑے حصے میں ہیں جسے ہم پاکیزہ ترین شاعری کہہ سکتے ہیں۔ میری شاعری کے اس مجموعی اثر سے کوئی ایسا شخص انکار نہیں کر سکے گا جس نے معمولی طور پر بھی میرا کلام دیکھا ہو گا

تو یاد آئے مگر جور وستم تیرے نہ یاد آئیں

تصور میں یہ معصومی بڑی مشکل سے آتی ہے

تیرے خیال میں تیری جفا شریک نہیں

بہت بھلا کے تجھے کر سکا ہوں یاد تجھے

شاعری کی بحث میں اور اردو تنقید میں “معصومی” کا لفظ غالباً میں نے سب سے پہلے استعمال کر کے رائج کیا۔

اب رہی یہ بات مندرجہ بالا اشعار کی۔ تو ان کے بارے میں پہلے یہ کہہ دوں کہ میں انھیں معصوم ترین اشعار تو نہیں سمجھتا لیکن اخلاقی طور پر گرے ہوئے اشعار میں انھیں نہیں مانتا۔ جنسیت، شہوانیت اور امرد پرستانہ جذبات و محرکات کے اظہار میں ایک نرم اور مترنم وضاحت، لمسیاتی احساسات کا واضح، نازک، متوازن اور لطیف اظہار، لذتیت کے عناصر کو اشعار میں سمو دینا، مباشرت و انزال تک کی لذتوں کا نازک و پرخلوص اظہار، اخلاقیات و جمالیات کے خلاف ہرگز نہیں۔ ان کیفیات و جذبات میں والہانہ بلکہ پرستانہ عناصر ہوتے ہیں۔ شہوانیت کا خلوص، شہوانیت کی معصومی و پاکیزگی کا تنہا ضامن ہے۔ گندگی اور خرابی اخلاق کے مرتکب وہ لوگ ہیں جو مجرد بھی نہیں رہتے اور شہوانیت کو پاک اور معصوم چیز بھی نہیں سمجھتے۔ ان حضرات کے دلوں میں چور ہوتا ہے۔ یہ لوگ خباثت نفس اور جذباتی غلاضت و کثافت کے شکار ہوتے ہیں۔ ان مردان خدا سے کوئی پوچھے کہ آخر آپ چاہتے کیا ہیں ؟ کیا مباشرت کی لذتوں کا نغمہ سرمدی بنا دینے کو گناہ، گندگی اور رذالت سمجھا جائے ؟

بندہ نواز! شہوانی جذبات قبیح نہیں ہوتے، نہ شہوانی حرکات شنیع ہوتی ہیں ورنہ یہ ماننا پڑے گا کہ ہر اولاد اپنے والدین کے ” قبیح سے قبیح جذبات اور شنیع سے شنیع حرکات “کا پھل ہے۔ حضرت! مباشرت اور بوس وکنار کے پاک عمل اور معصوم شہوانی جذبات کے تصور سے فوراً سجدے میں گر جائیے کہ انھیں سے آپ کی ہستی عبارت ہے۔ آپ کے دل کا چور یہ ہے کہ شہوت و مباشرت سے دنیا بنی ہے اور قائم ہے، شہوت و مباشرت ناگزیر شرط حیات ہیں ، لیکن ہیں یہ گندی چیزیں۔ یہ چیزیں گندی نہیں ہیں، گندے ہیں آپ۔ ایسا آدمی اگر بدقسمتی سے شاعر ہو جاتا ہے تو وہ اپنے عشقیہ اشعار میں جذبات عشق کا، معشوق کا، شہوانیت و جنسیت کا منھ چڑاتا ہے، فحش اشعار کہنے لگتا ہے اور فحش شعر کہنے سے بھی ایک زیادہ گندی حرکت کرتا ہے، یعنی چھچھورے اشعار کہنے لگتا ہے۔

فحاشی، عریانی کا نام نہیں ہے۔ عریانی کو اجنتا کے صناعوں نے، یونان اور روما کے بت گردوں نے، مشہور عالم شعرا اور فن کاروں نے، بہت لطیف، نازک، پاکیزہ جمالیاتی چیز بنا کے رکھ دیا ہے۔ عریانی فحاشی نہیں ہے۔ ہمارا جسم فحش چیز نہیں ہے۔ فحاشی نتیجہ ہے ، دوغلے پن کا یعنی اس حالت کا جب ہم اپنے اندر جنسی محرکات بھی پائیں اور اس غیبی تحریک پر اپنی ملامت بھی کریں ، جب ہم جنسیت سے ہم آہنگ نہ ہو سکیں اور جب ہم جنسیت کو ایک لعنت سمجھیں۔ اسی داخلی تصادم کی پیداوار فحاشی ہے۔ اور اگر ایسی صورت حال میں کھلی کھلی فحاشی بھی نہ ہو سکی تو لوگ چھچھورے اور کثیف لہجے میں ہوس ناک اشعار کہنے لگتے ہیں۔ فحاشی نام ہے، جنسی جذبات و محرکات میں عدم خلوص کا۔ اب میں اپنے ہی کچھ اشعار پیش کر کے چند نتائج کی طرف اشارہ کروں گا

یہ وصل کا ہے کرشمہ کہ حسن جاگ اٹھا

ترے بدن کی کوئی اب خود آگہی دیکھے

پر خلوص مباشرت کے بعد، جو طمانیت معشوق کے چہرے پر جھلک اٹھی ہے، اور اس کے جسم میں جو خود آگہی آ گئی ہے، لذت مباشرت کے اسی اثر کی طرف اشارہ کیا گیا ہے مگر کتنا لطیف، نازک اور سنگھار رس میں ڈوبا ہوا

ذرا وصال کے بعد آئینہ تو دیکھ اے دوست

تیرے جمال کی دوشیزگی نکھر آئی

اس شعر میں بھی لذت مباشرت کے ایک بہت نازک اور لطیف اثر کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ اب ان اشعار سے بھی عریاں اشعار لیجیے جو میری اس رباعی میں ملیں گے

نکھری سحر اپنی لہلہاہٹ بھولے

بیخود روح نمو کہ سینہ چھولے

ہنگام وصال وہ سرکتا ملبوس

زرین کمر اور جگمگاتے کولے

کتنی عریاں رباعی ہے مگر کتنی نازک اور لطیف۔ اس پر کثافت کی پرچھائیں بھی نہیں پڑی لیکن جو کوئی بھی اس رباعی سے ڈر جائے اور اسے کثیف یا فحش بتائے، اس کی جنسی زندگی وحشی اور جنگلی رہی ہے۔ ایسا آدمی اپنے آپ سے ڈرا ہوا ہے

پہلو کی وہ کہکشاں وہ سینے کا ابھار

ہر عضو کی نرم لو میں مدھم جھنکار

ہنگام وصال پینگ لیتا ہوا جسم

سانسوں کی شمیم اور چہرہ گلنار

پھر یہ مصرعے بھی ملاحظہ ہوں

تا کمر جسم کچھ رہیں ڈھیلے

اور پیڑو سے یوں بھینچے پیڑو

سر کو سر سے ملا کے دو ار نے

جس طرح زور آزماتے ہوں

پھر وہ جسموں کا مل کے لہرانا

کرشن کا رقص ناگ کے پھن پر

آپ نے آخری مصرع کی جادوگری دیکھی۔ کثافت، کس طرح لطافت کی زبان بن گئی۔ جو شخص اندھا بنا دینے والی مباشرت کے عالم میں بھی، حسن کے اتنے پہلو وو ¿ں کا رنگین اور لطیف احساس کر سکے، اس کی شخصیت بہت بلند ہو گی۔ لیکن میرا عشقیہ کلام تمام تر لمسیاتی نہیں ہے۔ پھر بھی جس طرح میں نے لمسیات کو رنگین لطیف اور بھرپور بنا دیا ہے، میں اسے پست اور گندی چیز ماننے کو تیار نہیں ہوں۔ جس کی شہوانیت معصوم و پرخلوص ہو گی، وہ میرے اشعار میں صرف طہارت پائے گا۔ طہارت نام ہے زندگی میں ڈوب جانے کا، اور زندگی کی لذتوں میں، جنسی اور شہوانی لذتوں کا وہ مقام بہت بڑا ہے۔ ہاں تو شہوت بری چیز نہیں ہے، البتہ شہوت چھچھلی ہوتی ہے یا جب شہوانی جذبات میں شعور کی گہرائی نہیں ہوتی، گندگی اسی وقت پیدا ہوتی ہے۔ شہوت میں شدت اور نرمی کا اتصال اسے عشق میں تبدیل کر دیتا ہے۔

جناب اصطفیٰ پوچھتے ہیں، “کیا ایسے اشعار کا منظر عام پر لایا یوں کہیے کہ اس جذبے کا پرچار، قوم کے نو نہالوں میں کرنا؛ قوم، ملک یا سوسائٹی کے لیے مفید ہے ؟” جواب میں عرض ہے کہ ادب کا ایک حصہ اور صرف ایک حصہ رچائی ہوئی اور سنواری ہوئی شہوانیت کے جذبات، تجربات اور احساسات و کیفیات کے جمالیاتی اظہار کا ہوا کرتا ہے۔ اس سے کہیں زیادہ مقدار میں بلند ادب کا وہ حصہ ہوتا ہے جس کا تعلق دوسرے اہم انفرادی اور سماجی مسائل سے ہوتا ہے۔ قوم، ملک اور سوسائٹی کا فرض ہے کہ بلند ادب ہر طرح کے کارناموں سے متاثر و ہم آہنگ ہو۔ اگر ہمارا ملک قوم کے نونہالوں میں صحت بخش محرکات اور بہتر سماجی زندگی کی فضا پیدا کر سکے تو جیسے جنسی اشعار میں نے کہے ہیں ، ان کا اثر ان کی جنسی تربیت و تعلیم پر ہو گی۔ لمسیاتی اشعار، کچی جنسی بھوک کے مارے نونہالوں کے لیے اتنے خطرناک نہیں ہوتے جتنے پتلی رقت والے “مہذب ” عشقیہ اشعار ہوا کرتے ہیں۔

میں نے اپنی جو رباعیاں یا اشعار پیش کیے ہیں یا میرے وہ اشعار جو جناب اصطفیٰ نے پیش کیے ہیں، وہ نوجوانوں میں کمینے جنسی جذبات پیدا نہیں کریں گے۔ انسانی حسن، اس دنیا اور زندگی کے معموں میں سے ایک ہے اور ہمارے لیے اتنا بڑا چیلنج کہ اگر ہم نے اس سے آنکھ پھیری تو بچنے کی بجائے مٹنے کا احتمال ہے۔ ضرورت ہے کہ جنسیت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال دی جائیں۔ یہ سطور میں نے اس لیے نہیں لکھیں کہ وہ لوگ جو کمزور اور پھوہڑفحاشی یا گھٹیا اور ناکامیاب عریانی کا پروپیگنڈا کرتے ہیں، وہ میرے بیانات کا حوالہ دے کر اپنی گلی سڑی شاعری کا جواز پیش کریں۔ جیسی جنسی شاعری میں نے کی ہے، ویسی شاعری کرنے کا حق اسی کو ہے جس کا جسم اور جس کے دل و دماغ پچاس برس تک جنسی تاثرات کو ہضم کرتے رہے ہوں۔

[“نگار”، لکھنو، ستمبر 1946]

 


Comments

FB Login Required - comments