گلگت میں پولیس چوکی پر حملہ اور بلوچستان میں چینی انجینیئرز کی بس پر ’خودکش حملہ‘


گاڑی دالبندین شہر کے قریب پہنچی تو اس کے قریب ایک زوردار دھماکہ ہوا

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے ضلع چاغی کے ہیڈ کوارٹر دالبندین کے قریب ایک خود کش حملے میں سائندک پراجیکٹ پرکام کرنے والے دو چینی انجینیئروں سمیت پانچ افراد زخمی ہو گئے۔

دالبندین میں انتظامیہ سے تعلق رکھنے والے ایک سینیئر اہلکار نے فون پر بتایا کہ سنیچر کو یہ دھماکہ دالبندین شہر کے قریب ہوا۔

اہلکار کے مطابق چینی انجینیئرز ایک خصوصی بس میں سائیندک پراجیکٹ سے دالبندین آ رہے تھے اور یہاں سے وہ جہاز کے ذریعے کراچی جانا چاہتے تھے۔

نامہ نگار محمد کاظم کے مطابق اہلکار کا کہنا تھا کہ جب ان کی گاڑی دالبندین شہر کے قریب پہنچی تو اس کے قریب ایک زوردار دھماکہ ہوا۔

یہ دھماکہ ایک پک اپ میں ہوا جسے ایک خودکش حملہ آور نے اس بس سے ٹکرانے کی کوشش کی جس میں چینی انجینیئرز سفر کر رہے تھے۔

دالبندین شہر کے قریب کسی خود کش حملے کا یہ پہلا واقعہ تھا

اہلکار کے مطابق دھماکہ بس سے کچھ فاصلے پر ہوا جس کے باعث بس دھماکے کی مکمل زد میں نہیں آیا تاہم دھماکے کے باعث باعث میں سوار پانچ افراد معمولی زخمی ہو گئے۔

زخمیوں میں دو چینی انجینیئروں کے علاوہ دو سکیورٹی اہلکار اور بس کا ڈرائیور شامل ہیں۔ زخمیوں کو فوری طور پر طبی امداد کے لیے ہسپتال منتقل کیا گیا۔

دالبندین شہر کے قریب کسی خود کش حملے کا یہ پہلا واقعہ تھا۔ دالبندین ایران اور اٖفغانستان سے متصل بلوچستان کے سرحدی ضلع چاغی کا ہیڈ کوارٹر ہے۔

چاغی میں تانبے اور سونے کے دو بڑے منصوبے ہیں جن میں سے سائندک پراجیکٹ پر چینی انجینیئرز اور دیگر عملہ طویل عرصے سے کام کر رہے ہیں۔

چینی انجینیئر

سائیندک کے علاوہ چینی انجینیئرز اور دیگر عملہ بلوچستان میں گوادر پورٹ کے علاوہ کراچی سے متصل بلوچستان کے ضلع لسبیلہ میں دودڑھ کے علاقے میں بھی ایک معدنی منصوبے پر کام کر رہے ہیں۔

اس سے قبل چینی انجینیئروں کو گوادر اور لسبیلہ کے علاقے حب میں بھی حملوں کا نشانہ بنایا گیا تھا۔

ماضی میں گوادر اور حب میں چینی انجنیئروں اور کارکنوں پر حملوں کی ذمہ داریاں کالعدم بلوچ عسکریت پسند تنظیم بلوچ لبریشن آرمی قبول کرتی رہی ہیں۔

گلگت بلتستان میں سکولوں پر حملوں کے بعد پولیس نشانے پر

پاکستان کے شمالی علاقے گلگت بلتستان میں حکام کا کہنا ہےکہ سنیچر کے صبح کار گاہ نالا میں پولیس چوکی پر ہونے والے شدت پسند حملے میں تین پولیس اہلکار ہلاک جبکہ دو زخمی ہو گئے ہیں۔

گلگت کے پولیس کنٹرول روم کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ واقعہ صبح چار بجے کے قریب پیش آیا ہے جس کے بعد پولیس کے اعلیٰ اہلکار اور بھاری نفری علاقے کی طرف روانہ کی گئی۔

صحافی انور شاہ کے مطابق پولیس کی جوابی کارروائی میں ایک شدت پسند کی ہلاکت اور ایک کی زخمی ہونے کی اطلاعات بھی موصول ہو رہی ہیں تاہم علاقہ دور افتادہ ہونے اور موبائل نیٹ ورک نہ ہونے کی وجہ سے معلومات کے حصول میں مشکلات کا سامنا ہے۔

پولیس حکام کا کہنا ہےکہ کارگاہ نالا ضلع دیامر سے ملتا ہے جہاں چند دن قبل شدت پسندوں نے متعدد تعلیمی اداروں میں تھوڑ پوڑ کر کے انہیں آگ لگائی تھی جس کے بعد ہونے والےجھڑپوں میں ایک پولیس اہلکار اور ایک شدت پسند کمانڈر ہلاک ہوئے تھے

مقامی لوگوں کا کہنا ہےکہ ضلع دیامر میں جمعے کی رات کو ڈی سی یعنی ڈپٹی کمشنر کے گھر پر بھی فائرنگ ہوئی ہے تاہم اس میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا ہے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 4858 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp