پی آئی اے کا جہاز افریقی ائیرپورٹ پر کئی گھنٹوں سے خالی کیوں کھڑا ہے؟


قومی ایئرلائن کی انتظامیہ کی ناقص حکمت عملی اور مجرمانہ غفلت اور کوتاہی کےسبب ایک بڑا طیارہ تکنیکی خرابی کے باعث افریقہ کے ایک ایئرپورٹ پر 55گھنٹے سے کھڑا ہے اور اس وجہ سے قومی خزانے کو لاکھوں روپے فی گھنٹہ کا نقصان ہورہا ہے۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ مذکورہ طیارہ چارٹرڈ فلائٹ پر تھا اور اس کی خرابی اس کو چارٹر کرنے والا ادارہ ہی ٹھیک کرے گا اور اُمید ہے کہ ایک دو دن میں جہاز اُڑان کے قابل ہوجائے گا، میرے علم میں نہیں کہ جہاز کی خرابی کی لاگ بک میں انٹریاں ہوئیں تھیں اور اگر ہوئی بھی تھیں تو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا اور اوران کے وقت جہاز ایئر وورتھی تھا۔ ’جنگ‘ کو موصول ہونے والی تفصیلات کے مطابق پی آئی اے کا طیارہ بوئنگ 777 جس کا رجسٹریشن نمبر APBHWتھا اس کو 6اگست کو تقریباً 400حاجیوں کو لے کر جدہ جانا تھا مگر جدہ سے اس فلائٹ کو عسکری ایوی ایشن نے فوجیوں کو جس میں اعلیٰ عہدیدار بھی شامل تھے لے کر سیالکوٹ آنا تھا۔ کراچی سے یہ فلائٹ ٖPK761حاجیوں کے ساتھ روانہ ہونے لگی تو جدہ سے برونڈی (Burundi)کی چارٹر فلائٹ سو پی کریو (جس نے چارٹر فلائٹ پاکستان لانی تھی) کیلئے نشستیں مختص نہیں کی گئی تھیں اور بحث و مباحثہ کے بعد مذکورہ فلائٹ نے چار گھنٹے کی تاخیر سے کراچی سے اُڑان بھری۔ اس کے بعد 9اگست کو یہ فیری

فلائٹ (خالی جہاز) PK-8001کے طور پر افریقہ کے شہر برونڈی کے بوجم بورہ(Bujum Bura)ایئرپورٹ پر اُتری۔ جہاز کے کپتان بشارت تھے۔ جہاں سے اس کو وہاں تعینات فوجیوں کو لے کر سیالکوٹ کیلئے اُڑان بھرنی تھی۔ مذکورہ ایئرپورٹ پر جب جہاز میں تمام فوجی سوار ہوگئے تو جہاز کے اے پی یو، یہ متبادل انجن ہوتا ہے جو گراؤنڈ پر کھڑے جہاز کو بجلی فراہم کرتا ہے اور ٹیکسی کرنے تک کام کرتا ہے) اور اس کے بعد جب جہاز اُڑان کیلئے تیار ہوجاتا ہے تو مین انجن کام شروع کردیتا ہے، مگر اُڑان سے پہلے ہر صورت اے پی یو کو پوری طرح درست ہونا ہی فلائٹ کو اُڑان بھرنے کی اجازت دیتا ہے جب مذکورہ جہاز کے اے پی یو نے کام نہیں کیا تو مجبوراً تمام فوجیوں کو جہاز سے اُتار کر پی آئی اے کے خرچے پر وہاں کے ایک فائیو اسٹار ہوٹل کلب ڈولیک ٹنگا نائکا میں ٹھہرایا گیا ہے کیونکہ وہ چھوٹا ایئرپورٹ ہے تو وہاں بڑے جہاز کیلئے متبادل زمینی اے پی یو کے مساوی آلات (اسٹار ٹرو این) موجود نہیں تھے اور اگر پاکستان سے بھیجا جائے تو کسی اور بڑے جہاز یا پھر C-130پر اس اے پی یو کو بھجوانا پڑے گا۔ اب تک 50گھنٹے سے زائد ہوچکے ہیں اور پی آئی اے کے ہوٹل، پارکنگ اور دیگر مد میں لاکھوں روپے فی گھنٹہ اب تک خرچ ہوچکے ہیں۔ یہاں سب سے اہم بات یہ ہے کہ مذکورہ جہاز کا اے پی یو پہلے سے خراب تھا جس کی متعدد بار لاگ بک میں انٹری کی گئی۔ یہاں ایک اور بات قابل ذکر ہے کہ رواں ہفتے پی آئی اے سے متعلق جو ویڈیو وائرل ہوئی جس میں پیرس میں جہاز میں ایک نومولود بچے کی حالت غیر ہوگئی تھی، اس جہاز کا اے پی یو بھی خراب ہوگیا تھا، جب جہاز میں مسافر بیٹھے چکے تھے۔ اس بڑی خرابی کے باوجود پی آئی اے انتظامیہ اور انجینئرنگ ڈپارٹمنٹ نے کمال غفلت اور کوتاہی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس کو فیری فلائٹ اور پھر چارٹر فلائٹ ایک چھوٹے ایئرپورٹ لے جانے کی اجازت دے دی۔ اس جہاز کے کھڑے ہونے سے پی آئی اے کا فلائٹ شیڈول بری طرح متاثر ہورہا ہے اور نہیں معلوم کہ یہ خرابی کب تک دور ہوسکے گی کیونکہ انتظامیہ کو کچھ سمجھ میں ہی نہیں آرہا۔ اس حوالے سے پی آئی اے کے ترجمان مشہود تاجور کا کہنا تھا کہ مذکورہ فلائٹ کو عسکری ایوی ایشن ڈیل کررہی تھی، اس سے پہلے بھی اس نے دو فلائٹس ڈیل کی ہیں۔ جہاں کا اے پی یو عسکری ایوی ایشن ہی افریقہ کے شہر کانگو سے روانہ کرنے کے انتظامات کررہی ہے اور اُمید ہے کہ پیر کی شام تک یہ مسئلہ حل ہوجائے گا۔مشہود تاجور نے مزید کہا کہ ان کے علم میں نہیں کہ جہاز کی خرابی کی لاگ بک میں انٹریاں ہوئیں تھیں اور اگر ہوئی بھی تھیں تو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا اور اوران کے وقت جہاز ایئر وورتھی تھا۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں