30 انسانوں کو کھانے والی آدم خور لڑکی جس کی میز پر پھلوں کے درمیان انسانی سرموجود تھا


30 انسانوں کو کھانے والی آدم خور لڑکی، یہ کام کیسے اور کیوں کرتی تھی؟ تفصیلات جان کر آپ کے واقعی رونگٹے کھڑے ہوجائیں گے

کسی ذی ہوش انسان کے لئے یہ تصور ہی کتنا بھیانک ہے کہ وہ کسی دوسرے انسان کی زندگی ختم کر ڈالے لیکن جیتے جاگتے انسانوں کے ٹکڑے کر کے ان کا گوشت کھانا، کیا واقعی کوئی انسان ایسی درندگی کا تصور بھی کر سکتا ہے؟ روس میں حال ہی میں گرفتار کی جانے والی ایک خاتون اور اس کے خاوند کے بارے میں پولیس نے جو انکشافات کئے ہیں انہیں جان کر واقعی انسان یہ سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ کیا کوئی انسان اتنا سفاک بھی ہو سکتا ہے؟

روسی میڈیا کے مطابق خاتون نتالیا باکشیوا اور اس کے خاوند دمتری باکشیوا نے کم از کم 30 خواتین کو قتل کرکے ان کا گوشت کھانے کا اعتراف کرلیا ہے۔ گزشتہ سال جنوب مغربی شہر کراسنو ڈار کے علاقے کرائی میں ایک خاتون کے قتل کے بعد انہیں گرفتار کیا گیا تھا لیکن اس وقت کسی کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ یہ جوڑا ناصرف اس قتل کا ذمہ دار ہے بلکہ اس سے پہلے بھی دو درجن سے زائد خواتین کو قتل کرکے کھاچکا ہے۔

سربسکی نیشنل میڈیکل ریسرچ سنٹر فار سائکیٹری اینڈ ایڈکشن کے ماہرین نے اس سفاک جوڑے کا طبی و نفسیاتی معائنہ کیا اور انہیں صحت مند قرار دیا۔ یعنی یہ نفسیاتی مریض نہیں ہیں بلکہ مکمل ہوش و حواس میں رہتے ہوئے انسانوں کو قتل کر کے کھا رہے تھے۔

اس وحشی جوڑے کی گرفتاری محض اتفاقاً ہو گئی ورنہ نجانے یہ اور کتنے انسانوں کو نشانہ بناتے۔ کرائی کے علاقے میں جب 35 سالہ خاتون الینا واشرو شیفا کی اچانک گمشدگی کا واقعہ پیش آیا تو اس کے چند دن بعد ایک جگہ کام کرنے والے مزدوروں کو ایک موبائل فون ملا تھا۔ اس میں ایک وحشتناک تصویر تھی جس میں ایک شخص کٹا ہوا انسانی ہاتھ اپنے دانتوں سے چباتا نظر آ رہا تھا۔ پولیس نے اس موبائل فون کے مالک کا سراغ لگا کر ایک گھر پر چھاپہ مارا تو وہاں سے چند دن پہلے لاپتہ ہونے والی خاتون الینا کا کٹا ہوا سر اور دیگر باقیات برآمد ہوگئیں۔ یہ نتالیا اور اس کے شوہر دمتری کا گھر تھا، جس کی مزید تلاشی لی گئی تو ایسے خوفناک انکشافات سامنے آئے کہ جن کی مثال کسی ڈراﺅنی فلم میں بھی نہیں مل سکتی۔

پولیس کا کہنا ہے کہ اس گھر میں ایک فریزر میں کٹے ہوئے انسانی اعضاءبھاری مقدار میں موجود تھے۔ باورچی خانے میں پکا ہوا انسانی گوشت موجود تھا جبکہ شیشے کے مرتبانوں میں انسانی گوشت کے ٹکڑے اس حالت میں موجود تھے گویا ان کا اچار ڈال کر بعد میں استعمال کے لئے محفوظ کیا گیا ہو۔ ایک میز پر پڑے تھال میں مالٹے رکھے تھے جن کے درمیان کٹا ہوا انسانی سر پڑا تھا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ اس سفاک جوڑے کا آخری شکار بدقسمت خاتون الینا واشرو شیفا بنی تھی لیکن وہ دونوں تقریباً 18 سال سے انسانوں کا گوشت کھارہے تھے۔ وہ خود مانتے ہیں کہ اس تمام عرصے کے دوران وہ 30 سے زائد خواتین کو قتل کرکے انہیں کھا چکے ہیں۔ دوسری جانب پولیس کا کہنا ہے کہ اس کیس کی تفتیش ابھی جاری ہے اور یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ اس جوڑے نے صرف 30 خواتین کو قتل کر کے کھایا، ہو سکتا ہے کہ یہ تعداد اس سے زیادہ ہو۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں