ویت نام کی امریکہ دشمنی، ایک ٹینک اور جَل پریاں


ویت نام دریائے سرخ کی سرزمین تھی۔ یعنی سرخ سلطنت کا دریا بھی سرخ تھا۔ ہنوئی کے بہت ہی عالی شان ایئر پورٹ کے باہر سمیر کی سیاہ لینڈ کروزر کے اندر ہم دونوں کی آمد کے منتظر دو پیارے پیارے پانڈے لوٹ پوٹ ہو رہے تھے۔ یاشار اور طلحہ اپنے دادا اور دادی کو دیکھ دیکھ کر لوٹ پوٹ ہو رہے تھے اور جب ہم نے ایک مدت کے بعد اپنے پوتوں کو دیکھا تو ہم بھی مسرت سے مغلوب ہو کر دو بوڑھے پانڈے ہو گئے۔ ایک دادا پانڈا اور دوسری سفید بالوں والی دادی پانڈی۔ ابا جی کہا کرتے تھے کہ مول سے بیاج زیادہ پیارا ہوتا ہے۔ تو سمیر مول تھا اور یہ دونوں بیاج تھے‘ اس سے زیادہ پیارے تھے۔

میرا خیال تھا کہ ہنوئی برلن کے مانند ایک تباہ حال نیم کھنڈر شہر ہو گا کہ امریکیوں نے دوسری جنگ عظیم کے دوران جرمن شہروں پر اتنی بم باری نہیں کی جتنی صرف ہنوئی پر کی لیکن وہاں کوئی آثار نہ تھے کہ صرف چالیس برس پیش تر اس کے درو دیوار سے موت کا دھواں اٹھتا تھا۔ یہ ایک ہنستا بستا دل کش اور دوست شہر تھا۔ میرا یہ بھی خیال تھا کہ پورے شہر میں امریکی جنگ کی فاتحانہ یادگاریں ہر چوک میں ایستادہ ہوں گی۔ وہ بہت کم ‘نہ ہونے کے برابر تھیں۔

البتہ ایک خوش نما جھیل کے کنارے ایک چھوٹی سی یادگار قائم تھی کہ اوباما کے خلاف امریکی صدارتی انتخاب لڑنے والے جان مکین جنھوں نے جنگ ویت نام میں پائلٹ کے طور پر حصہ لیا تھا ان کا بم بار طیارہ ویت نامیوں کی توپوں کی زد پر آ کر اس جھیل میں کریش کر گیا تھا اور مکین صاحب ہاتھ کھڑے کر کے ویت نامیوں کے جنگی قیدی ہو گئے تھے۔

آپ جب ویت نامیوں سے پوچھتے ہیں کہ امریکا کے ساتھ ہوانک جنگ کے دوران آپ کے سولہ لاکھ لوگ مارے گئے۔ پورا ملک تباہ ہو گیا، اگرچہ آپ نے بھی چھیاسٹھ ہزار امریکی فوجیوں کو تابوتوں میں واپس بھیجا۔ نیپام اور ایجنٹ اورنج ایسے کیمیکل ہتھیاروں کے اثرات اب بھی چلے آتے ہیں۔ بہت سے بچے اپاہج پیدا ہو رہے ہیں تو کیا آپ یہ سب کچھ بھول گئے۔ آج امریکا اور ویت نام بہترین دوست ہیں۔ تجارتی ساتھی ہیں اور سب سے زیادہ ٹورسٹ امریکا سے آتے ہیں تو وہ کہتے ہیں، ’’وہ جنگ ہمارے باپ دادا نے امریکا سے لڑی اور جیت گئے۔ کیا ہم اب بھی اس دشمنی کو برقرار رکھیں۔ یہ بے وقوفی ہو گی۔

آج ہم نے اپنے ملک کو پھر سے عظیم بنانا ہے۔ ہم آج کی حقیقتوں کا سامنا کر رہے ہیں اور امریکا کھلے دل سے ہماری مدد کر رہا ہے۔ معاشی طور پر مددگار ہے اس لیے کل کا دشمن آج کا بہترین دوست ہے‘۔ مجھے ایک اور خیال آیا کہ ہم تو ازمنہ قدیم میں جیتی ہوئی جنگوں کے طبل اب تک بجا رہے ہیں۔

کتابوں میں نصابوں میں ابھی تک ماضی کی ان فتوحات کے بھونپو بجا رہے ہیں اور انسانی تاریخ میں شاید ہی کوئی اتنا مختصر اور پس ماندہ ملک ہو جس نے اپنے عہد کی دو سپر پاورز کو شکست دی ہو تو یہ لوگ سب کچھ بھول کر ماضی کے دشمنوں کے ساتھ حال کی حقیقتوں کا سامنا کر رہے ہیں۔ جب کہ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان جتنی بھی’’مِنی جنگیں‘‘ہوئیں ان میں دونوں جانب سے کتنے لوگ مارے گئے ہوں گے شاید پندرہ ہزار سے بھی کم تو ہم کیوں نہیں بھول سکتے۔

اس الجھن کو میری اہلیہ نے سلجھایا۔ میمونہ کہنے لگی’’امریکی اور ویت نامی مختلف نسلوں اور اقدار کے لوگ تھے چناں چہ وہ سمجھوتا کر سکتے تھے۔ جب کہ انڈیا اور پاکستان میں دونوں جانب نسل تو ایک ہی ہے۔ ہندوستان بھی ہم کو حقیر جانتا ہے اور ہم بھی ہندو دشمنی کے نعرے لگاتے ہیں۔جیسا کہ ہمارے پیارے حال مقیم اڈیالہ جیل مسترد شدہ لیڈر نے کہا تھا کہ وہ بھی آلو شوربا وغیرہ کھاتے ہیں اور ہم بھی آلو مٹر وغیرہ کھاتے ہیں تو ایک دوسرے کے ساتھ مل بیٹھنے والے نہیں ہیں۔ دو اصیل مرغ ہیں یہ آپس میں جھگڑتے دھول اڑاتے رہیں گے۔

ایسا نہیں ہے کہ ویت نامیوں نے مکمل طور پر امریکی جنگ کو فراموش کر دیا ہے۔ انھوں نے اسے فراموش نہیں کیا، محفوظ کر لیا ہے اور یہ جنگ نہ صرف ہوچی منہ ہٹی بلکہ ہنوئی کے درجنوں جنگی عجائب گھروں میں محفوظ ہے۔ آرمی میوزیم۔ ہوچی منہ ٹریل میوزیم بی 52 بم بار طیاروں کا میوزیم ‘ہوچی منہ میوزیم وغیرہ اور وہاں ہنوئی پر گرائے گئے امریکی طیاروں کے ملبے کے ڈھیر ہیں۔ امریکی ٹینکوں‘ ہتھیاروں اور توپوں کی نمایش ہے جو ان سے چھینے گئے۔

سب سے زیادہ متاثر کرنے والا آرمی میوزیم ہے جس میں اس جنگ کی تصویری کہانیاں ہیں۔ وہ مشہور تصویر آویزاں ہے جس میں ایک دراز قامت تنومند امریکی پائلٹ کو اپنی قید میں لا کر ایک چھوٹی سی ویت نامی گوریلا لڑکی بندوق تانے اسے آگے لگائے ہوئے ہے۔ یا پھر امریکی طیاروں کے ملبے کا ایک تخلیقی ڈھیر ہے جس میں ایک بم بار طیارے کی دم زمین میں اوندھی پڑی ہے اور وہاں ایک حیرت انگیز تصویر ہے، ایک نوجوان مینڈھیوں والی لڑکی کاندھے پر بندوق ڈالے ایک امریکی طیارے کے ملبے کو رسی سے باندھ کر اپنے گھر  لے جا رہی ہے کہ یہ اس کا مشغلہ تھا۔

آرمی میوزیم کی وسعت میں حیران گھومتے میں ایک خاموش کمرے میں داخل ہوا اور وہاں اور کچھ نہ تھا، اسٹیج پر ایک ٹینک نمایش پر تھا اور یقین کیجیے میں نے اس ٹینک کو دیکھا ہوا تھا ‘اخباروں میں ٹیلی ویژن پر اور خبروں میں۔ سائیگان شہر سے امریکی ہیلی کاپٹروں میں فرار ہو رہے ہیں۔ ویت کانگ گوریلے شہر میں داخل ہو چکے ہیں۔ بھاری ٹینک امریکا کے کٹھ پتلی ویت نامی صدر کے محل کے آہنی دروازے توڑ کر اندر داخل ہو رہا ہے اور یہ ویت نام جنگ کے اختتام کا آخری منظر تھا۔

میری آنکھوں کے سامنے وہی روسی ساخت کا ٹینک اپنی توپ کی نالی اٹھائے آرمی میوزیم کے ایک کمرے میں تن تنہا کھڑا تھا۔ جب ویت نام کے امریکی جنگ کے ہیروز کی فہرست مرتب کی گئی، تو اس میں سب کے سب جرّی اور جان دینے والے لوگ تھے لیکن ان میں اس ٹینک کا نام بھی شامل تھا، کہ یہ بھی ایک ہیرو تھا۔

میں اس ٹینک کو دیکھ کر قدرے جذباتی ہو گیا اور اس کے سامنے کھڑے ہو کر زندگی میں پہلی بار نہایت فخر سے انگلیوں سے ’’وکٹری‘‘ کا وی بنا کر ایک تصویر اتروائی کہ ویت نام کی جنگ امریکا کے خلاف ان سب محکوم اور پس ماندہ اقوام کی جنگ بھی تھی، جو امریکی قہر کی تاب نہ لا سکتی تھیں۔ ہم سب خاک نشیں سرخ رُو ہوئے کہ صرف ویت نام نے نہیں بلکہ ہم سب نے تاج اچھال دیے تھے۔ تخت گرا دیے تھے اور راج کرے گی خلق خدا۔

سمیر نے اپنی اقامت کے لیے کوئی شان دار ولا منتخب نہ کیا بلکہ ہنوئی کے مشہور فائیو اسٹارہوٹل ڈائیوو کے ایک فلیٹ میں منتقل ہو گیا۔ تیرہویں منزل پر واقع اس فلیٹ کی بالکونی میں بیٹھ کر صبح کا پہلا سیگرٹ پیتا اور عین سامنے اسٹور کی عمارت پر آویزاں ایک ویت نامی ماڈل کی تصویر دیکھتا رہتا کہ کبھی تو آنکھ ملائے گی۔

ایک روز میرے پوتے پانڈے مجھے مجبور کر کے ہوٹل کے سوئمنگ پول پر لے گئے۔ میں نے میامی میں خریدا ہوا اپنا واہیات سرخ رنگ کا سوئمنگ کاسٹیوم زیب تن کیا بلکہ یہ کہنا مناسب ہو گا کہ زیبِ توند کیا اور میں اس میں جزیرہ ہوائی کا کوئی موٹا سردار لگ رہا تھا۔ سوئمنگ پول کے کناروں پر پہنچے تو میرے پانڈے اس کے پانیوں میں کود گئے۔ میں بھی بمشکل پانیوں میں اترا۔ لیکن ایک عجیب سانحہ ہو گیا۔ میں اترا تو پول میں تیرتی جتنی بھی جل پریاں تھیں۔ وہ میری توندلی ہئیت سے ہراساں ہو کر فرار ہو گئیں اور مجھے ان جل پریوں سے کچھ شکایت نہیں کہ بعدازاں میں نے اپنے آپ کو سوئمنگ پول کے کنارے پر آویزاں ایک آئنے میں دیکھا تو دیکھا نہ گیا۔

وہ زمانے ہوا ہوئے جب ہم آئنہ دیکھتے ہی رہتے تھے اور جل پریاں ہمیں دیکھتی رہتی تھیں: انشا جی اٹھو اب کوچ کرو اس شہر میں جی کو لگانا کیا، لیکن یہ شہر ہنوئی تھا۔ ہم نے اس کو جی سے لگا لیا۔

(بشکریہ روزنامہ 92)

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

مستنصر حسین تارڑ

بشکریہ: روزنامہ 92 نیوز

mustansar-hussain-tarar has 109 posts and counting.See all posts by mustansar-hussain-tarar