دو نہیں ایک: مطیع اللہ جان کا مسترد کالم


جی ہاں۔ سینتالیس سال بعد ہم ایک بار پھر دو سے ایک پاکستان بننے جا رہے ہیں۔ 1970 میں بھی بڑے صاف اور شفاف انتخابات ہوئے تھے۔ ان کے نتائج کو بھی تسلیم نہ کر کے ہم نے مشرقی پاکستان اور مغربی پاکستان کے دوغلے پن سے جان چھڑا کر ایک پاکستان کی بنیاد رکھی تھی۔ آج ایک بار پھر ہم دو نہیں ایک پاکستان کا نعرہ لگا کر عوام کے اصل مینڈیٹ اور الیکشن کے نتائج کو تبدیل کر کے تبدیلی کی ایک نئی بنیاد رکھ رہے ہیں۔ ہم بطور قوم اپنے ماضی سے کچھ بھی سیکھنے کو تیار نہیں۔ آخر اقتدار اور عہدے سے ریٹائر ہونے سے پہلے کون کچھ نیا سیکھنا چاہے گا۔

کیا حالیہ سیاسی تبدیلی کے بعد اسٹیبلشمنٹ دم توڑ جائے گی؟ کیا تمام ادارے نئے وزیراعظم اور اپنے اپنے وفاقی وزراء کو جوابدہ ہو جائیں گے؟ کیا تمام خفیہ ادارے اپنی کارروائیوں اور کھاتوں کا ریکارڈ نئی حکومت کے سامنے رکھیں گے؟ کیا وزارت دفاع کو ایک ڈاکخانے سے بڑھ کر اس کی آئینی اور قانونی حیثیت دی جائے گی؟ کیا نئے وزیردفاع تینوں مسلح افواج کا اجلاس طلب کر سکیں گے؟ کیا اب وزارت دفاع پارلیمنٹ میں اٹھائے گئے تمام سوالوں کا جواب دے پائے گی؟ کیا نئے وزیراعظم ایبٹ آباد کمیشن رپورٹ منظر عام پر لا سکیں گے؟ کیا کئی سال سے لاپتہ افراد میں سے کچھ لوگ گھروں کو لوٹ آئیں گے؟ کیا لاپتہ افراد کے مقدمات میں جاری سپریم کورٹ کے احکامات پر عملدرآمد ہو جائے گا؟ خارجہ پالیسی کے محاذ پر کیا نئی حکومت بھارت کے ایک قدم کے جواب میں واقعی دو قدم اٹھا سکے گی؟ کیا عمران خان اپنی تقریروں میں کلبھوشن یادیو کا نام لیں گے یا پھر اسے اپنے دو قدموں کا حصہ بنائیں گے؟

کیا نئے پاکستان میں صحافی، صحافت اور تقریر کی آزادی محفوظ ہو گی؟ کیا عمران خان کی حکومت حامد میر کمیشن رپورٹ جاری کرے گی؟ کیا قبائلی صحافی حیات اللہ خان سے متعلق عدالتی کمیشن کی رپورٹ عمران خان قوم کے سامنے پیش کریں گے؟ کیا عمران خان وزارت اطلاعات و نشریات کو ختم کرنے کے منشوری وعدے پر عمل کرنے کے ساتھ ساتھ میڈیا کو دباؤ میں لانے والے اور بلیک میل کرنے والے ایسے ہی دوسرے ریاستی اداروں کے میڈیا وِنگ پر بھی پابندی لگائیں گے؟ میڈیا کو حکومتی اشتہارات کے اجراء واسطے شفاف پالیسی کے ساتھ ساتھ کیا خان حکومت دوسرے ریاستی اداروں کے اشتہارات کی پالیسی میں بھی شفافیت لائے گی؟

اسی طرح جب بات بڑی بڑی سرکاری عمارتوں کو عوامی بہبود کے لئے استعمال کرنے کی ہو رہی ہے تو بھی کچھ بنیادی سوالات پیدا ہوتے ہیں۔ کیا ایوان صدر، گورنر ہاؤسز، وزیراعظم و وزرائے اعلیٰ کی رہائش گاہوں کے ساتھ ساتھ دوسری تمام وزارتوں کی آرام گاہوں کو بھی عوام یا تعلیمی اداروں کے لئے کھولا جائے گا؟ تمام وفاقی وزارتوں کے ماتحت محکموں نے پاکستان بھر میں اربوں روپوں مالیت کی اراضی پر اپنی اپنی آرام گاہیں اور تفریح گاہیں بنا رکھی ہیں جہاں نام نہاد وی آئی پیز چھٹیاں گزارتے ہیں۔

کیا ایسی تمام سرکاری آرام گاہوں کو عوام کے لئے یا تعلیمی اداروں کے لئے وقف کیا جائے گا؟ اب جبکہ ریاست اور حکومت کے سربراہان جیسے صدر مملکت، وزیراعظم، وزرائے اعلیٰ، گورنر صاحبان کی رہائش گاہیں ختم یا محدود کی جائیں گی تو کیا سول اور ملٹری حکام کی اتنی یا اس سے بھی بڑی رہائش گاہیں بھی اس نئے، نیک اور ایک پاکستان میں ایسی ہی تبدیلی کی زد میں آئیں گی؟ ان تمام سوالوں کا جواب اگر ہاں میں ہے تو پھر ہم فخر سے یہ کہہ سکیں گے کہ عمران خان ملک میں تبدیلی لائیں گے وگرنہ تحریک انصاف کے تبدیلی کے نعرے کا مطلب تبدیل کرکے بات نہیں بنے گی۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ نئے وزیراعظم کے آتے ہی بڑے پیمانے پر اور بہت سے معاملات میں تبدیلی دیکھنے کو مل سکتی ہے۔ اب یہ اس لئے بھی ممکن ہے کہ جو کام اسٹیبلشمنٹ کو پریس کانفرنسیں کر کے اوران میں کچھ مطلوبہ سوالات کروا کر کرنا پڑتا تھا اب اسے اتنا تردد نہیں کرنا پڑے گا۔ اگر اپنی ہی لائی ہوئی تبدیلی کے باوجود اسٹیبلشمنٹ اپنے وجود سے دستبردار نہیں ہوتی تو پھر دوسری تمام تبدیلیوں پر بھی کوئی یقین نہیں کرے گا۔

کم از کم اب تو سول اور ملٹری تعلقات کی بحث ختم ہو جانی چاہیے اور سیاسی اور عسکری قیادت کے ایک صفحے پرہونے یا نہ ہونے کی تکرار بند ہونی چاہیے۔ کم از کم اب تو فوج کے ترجمان کی پریس کانفرنسوں میں منتخب حکومت، اپنے وزیراعظم اور اپنے وزیر دفاع کا نام لیتے ہوئے جھجھک محسوس نہیں کرنی چاہیے۔ اب تو وزیرستان، قبائلی علاقہ جات اور کراچی میں امن کی بحالی کا کریڈٹ حکومت وقت کو دینے میں کوئی عار محسوس نہیں کرنی چاہیے۔ اب تو کراچی میں دہشتگردی کی مالی معاونت اور کرپشن کے معاملات رینجرز کے ہاتھ میں نہیں دینے چاہییں۔ آج کل نیب بھی آزاد ہے اور ایف آئی اے بھی۔

امکان ہے کہ آنے والے دنوں میں نئی حکومت کی منہ دکھلائی کے طور پر کچھ لاپتہ افراد اپنے گھروں میں پہنچ جائیں گے۔ اس حوالے سے جو معاہدے بلوچستان نیشنل پارٹی مینگل اور ایم کیو ایم پاکستان نے پی ٹی آئی کے وزارت عظمیٰ کے امیدوار کی حمایت واسطے کیے ہیں، یہ معاہدے بغیر کسی یقین دہانی کے نہیں کیے جا سکتے تھے۔ یہ معاہدے سیاسی اور قانونی اعتبار سے مضحکہ خیز تو ہیں ہی مگر آئندہ حکومت کے تسلسل کی خاطر ایسا کرنا ضروری تھا۔ یہ اور بات ہے کہ ان معاہدوں میں بھی لاپتہ افراد سے متعلق کوئی ٹھوس لائحہ عمل وضع نہیں کیا گیا۔

اسی طرح کراچی میں جاری آپریشن پر نظرثانی کا مطالبہ اور معاہدہ بھی مبہم ہے۔ ہمیں یاد ہے کہ کسی زمانے میں نام نہاد ایپکس کمیٹیوں کے ذریعے وفاق اور صوبوں میں سول اور عسکری قیادت اہم فیصلے کرتی تھیں۔ صوبہ سندھ میں ایپکس کمیٹی کی توجہ کراچی آپریشن پر تھی اور اس حوالے سے سندھ حکومت رینجرز کے اختیارات اور کردار سے متعلق بہت شور شرابہ بھی ڈالتی تھی مگر پھر چاروناچار اسے ان اختیارات کی مدت میں توسیع بھی کرنا پڑتی تھی۔ ایک چیز واضح تھی کہ کراچی آپریشن کے فیصلے اور ان کے تحت ہونے والی کارروائیوں کا اختیار سویلین حکومتوں کے پاس نہیں تھا۔ آج جو معاہدہ ایم کیوایم پاکستان اور پی ٹی آئی کے درمیان ہوا ہے اس میں کراچی آپریشن پر نظرثانی کے مطالبے سے متعلق اسٹیبلشمنٹ کو بھی اعتراض نہیں ہو گا۔

کون نہیں جانتا کہ پیپلز پارٹی کی گذشتہ صوبائی حکومت کے دوران کرپشن اور دہشتگردی کے خلاف کارروائیوں میں ڈاکٹر عاصم حسین اور ان کے ساتھیوں جیسے مبینہ دہشتگرد اور بلدیہ فیکٹری میں جلائے جانے والے اڑھائی سو سے زائد ملزمان اپنے ویڈیو اعترافی بیانات سمیت آج کیفرکردار کو پہنچ چکے ہیں۔ سبحان اللہ! اور اب جبکہ اسی وجہ سے کراچی کے حالات بہتر ہو گئے ہیں تو کراچی آپریشن پر ”نظر ثانی“ پہلے ہی نظر آنا شروع ہو گئی ہے۔

ایم کیو ایم پاکستان محض اس بات پر خوش ہے کہ اسے انتخابی عمل کی واشنگ مشین سے گزار کر اپنا وجود قائم رکھنے کی اجازت مل گئی ہے۔ ایم کیو ایم پاکستان کی عجب حالت ہے کہ مار بھی کھائی اور مارنے والے کے ہاتھ چومنے کا بھی حکم ہے۔ کراچی سے پی ٹی آئی کی قومی اسمبلی کی پندرہ سیٹوں کو مکھن میں سے بال کی مانند نکال کر عمران خان کی وزارت عظمیٰ کو ایک مناسب شرح ووٹنگ کے تڑکے سے جس طرح یقینی بنایا گیا، اس کے بعد ایم کیو ایم پاکستان کی طرف سے وزارت عظمیٰ کے لئے تحریک انصاف کی حمایت کیوں نہ ہوتی۔

پاک سر زمین پارٹی کے مصطفی ٰ کمال کی ”سجی“ دکھا کر تحریک انصاف کی جو ”کھبی“ ایم کیو ایم پاکستان (بلکہ پورے پاکستان) کو ماری گئی ہے اس حوالے سے نون لیگ بھی کوئی دعویٰ کرنے کے قابل نہیں۔ ایم کیو ایم پاکستان کے ساتھ اسٹیبلشمنٹ نے وہ کیا ہے جو خود ایم کیو ایم پاکستان نے اپنے کنوینر فاروق ستار کے ساتھ کر رکھا ہے یعنی شور ڈالتے رہو، بیان دیتے رہو، احتجاج کرتے رہو مگر حد میں رہ کر۔

تو ایسے میں کراچی آپریشن پر نظر ثانی کا معاہدہ تحریک انصاف نے کیا خاک کرنا تھا۔ یہ سب تو اس تبدیلی کے لئے وہ کاغذی کارروائی ہے جس تبدیلی کا کریڈٹ کچھ انا پسند ریاستی کردار گذشتہ سیاسی حکومتوں کو نہیں دینا چاہتے۔ جو کریڈٹ افغانستان اور کشمیر پر پالیسی کی ناگزیر تبدیلی نواز شریف کی حکومت کو ملنا تھا، اب وہ کریڈٹ جو بھی لینے جا رہا ہے وہ پھر بھی عمران خان کی حکومت نہیں ہو گی۔ پاکستان ایک بن بھی گیا تو حکومتیں دو ہی رہیں گی۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں