ناسا کی سورج کو قریب سے جاننے کی کوشش، مصنوعی سیارہ روانہ


سورج

NASA

امریکی خلائی ایجنسی ناسا نے پہلی بار سورج کا انتہائی قریب سے مشاہدہ کرنے کے لیے ایک سٹیلائیٹ روانہ کیا ہے۔

اتوار کو فلوریڈ سے پارکر نامی خلائی تحقیقاتی سٹیلائیٹ سورج کی جانب بھیجا گیا۔

پارکر کو یہ اعزاز بھی حاصل ہو گیا ہے کہ وہ انسانی تاریخ میں سب سے تیز رفتار مصنوعی سیارہ ہے اور اس کے علاوہ ایسا پہلی بار ہوا ہے کہ کسی مصنوعی سیارہ کا نام حیات سائنسدان کے نام پر رکھا گیا ہو۔

91 سالہ ماہر فلکیات ایوجین پارکر نے پہلی بار 1958 میں شمسی ہوا کے بارے میں بتایا تھا۔

یونیورسٹی آف شکاگو کے پروفیسر ایوجین پارکر نے فلوریڈا میں مصنوعی سیارے کی روانگی کی مناظر کو دیکھتے ہوئے خوشی کا اظہار کیا اور کہا کہ آئندہ کئی برس تک ہمیں کچھ سیکھنے کو ملے گا۔

اس بارے میں مزید پڑھیے

اِن سائٹ مشن: مریخ کے اندر جھانکیں

سورج کی موت واقع ہوگی تو کیا ہوگا؟

ترقی یافتہ ملکوں کا سورج پر کمند ڈالنے کا منصوبہ

پارکر سٹیلائیٹ سورج کے گرد چکر لگاتے ہوئے معلومات ارسال کرے گا جس سے سورج کے بارے میں عرصے سے پائی جانے والی پراسرائیت اور اس کی صلاحیتوں کے بارے میں معلوم ہو گا۔

خلائی مشن کو ڈیلٹا فور راکٹ کے ذریعے مقامی وقت کے مطابق رات 3.31 منٹ پر روانہ کیا گیا۔

خلائی مشن کو ایک دن پہلے روانہ کیا جانا تھا لیکن روانگی سے پہلے کچھ تکنیکی مسائل کی وجہ سے روانہ نہیں کیا جا سکا۔

ناسا نے خلائی مشن کی روانگی کے ایک دن بعد تصدیق کی کہ خلائی جہاز کامیابی سے راکٹ سے الگ ہو گیا ہے اور اب اپنے مدار میں سفر کر رہا ہے۔

پارکر آئندہ سات برس تک سورج کے گرد 24 چکر لگائے گا اور اس دوران سورج سے اٹھنے والی شعاعوں کا مشاہدہ کرے گا جس کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ یہ زمین پر سب سے زیادہ اثر انداز ہوتی ہیں۔

مصنوعی سیارہ معلومات حاصل کرنے کے لیے سورج کی باریک فضا میں جائے گا جہاں اس کا سورج کی سطح سے فاصلہ صرف تقریباً 61 لاکھ کلومیٹر ہو گا۔

جان ہاپکنز لیبارٹری سے منسلک ڈاکٹر مکی فوکس نے کہا کہ ہو سکتا ہے کہ آپ کو لگے یہ سورج سے زیادہ نزدیک نہیں تو اس طرح سے سوچیں کہ سورج اور زمین ایک دوسرے سے ایک میٹر دور ہیں اور مصنوعی سیارہ سورج سے صرف چار سینٹی میٹر دور ہو گا۔

انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ انسانی تاریخ میں پارکر سٹیلائیٹ سب سے تیز رفتار مصنوعی سیارہ ہے جو کہ چھ لاکھ 90 ہزار کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے سفر کرے گا جس کا مطلب ہے کہ نیویارک اور ٹوکیو کے درمیان فاصلہ ایک منٹ سے بھی کم میں طے ہو گا۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 6442 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp