اقلیتوں کا قومی دن اور پاکستان کے نظر انداز شدہ مذہبی طبقات


ہر سال گیارہ اگست کو پاکستان میں اقلیتوں کا قومی دن منایا جاتا ہے۔ اس دن پاکستان کی ترقی و تعمیر اور تحریک پاکستان میں اقلیتوں کے کردار کے حوالے سے مختلف پروگراموں کا انعقاد کیا جاتا ہے جن میں اقلیتوں کی خدمات پر روشنی ڈالی جاتی ہے۔ اقلیتوں کا قومی دن 11 اگست کو اس لئے منایا جاتا ہے کیونکہ اس دن قائد اعظم نے اقلیتوں کے حقوق کے حوالے سے پاکستان کی آئین ساز اسمبلی میں ایک تاریخی تقریر کی تھی جس میں انھوں نے اقلیتوں کے لئے مکمل مذہبی آزادی کا اعلان کیا تھا۔ حکومت پاکستان قائد اعظم کے اقلیتوں کے بارے میں ویژن کی پیروی کرتے ہوئے اس دن ایک روشن، لبرل، ترقی پسند اور تحمل پسند پاکستان کا تشخص اجاگر کرنے کے عزم کا اظہارکرتی ہے۔

بدقسمتی سے پاکستانی معاشرے میں عرصہ دراز سے صرف مذہبی اقلیتوں کے افراد کو ہی دیوار سے نہیں لگایا جارہا بلکہ سُنّی اور شیعہ مسلک کے علاوہ اسلام کے ماننے والے چھوٹے مذہبی گروہوں کوبھی یہ محسوس ہوتا ہے کہ معاشرے مین ان کے لئے جگہ تنگ ہو رہی ہے۔ نہ صرف یہ بلکہ پاکستان کی تخلیق اور ترقی میں انھوں نے اور ان کے بزرگوں نے جو مثبت کردار ادا کیا ہے وہ بھی تاریخ کے حوالوں میں سرکاری سطح پر نظر نہیں آتا۔ اس لئے اس دن کو منانے کے تناظر میں یہ انتہائی اہم ہے کہ سب کو یہ بتایا جائے، یہ کون لوگ تھے اور اس تاریخی غلطی کو درست کرنے کا عمل شروع کیا جائے۔ پاکستان میں اقلیتی طبقات سے تعلق رکھنے والی نمایاں شخصیات کی پاکستان کے لئے خدمات کے حوالے سے بہت کم علمی کام ہوا ہے تاہم کچھ لوگوں نے اس پر کام کیا بھی ہے جن میں محترمہ بشریٰ سلطانہ کی ایک علمی کاوش۔ ”رہبر روشنیاں“ تحقیقی اعتبار سے اہمیت کی حامل ہے۔

اس کتاب میں مختلف اقلیتی طبقات بشمول سکھ، ہندو، پارسی، احمدی، بوہرا، بدھ، مسیحی اور اسماعیلی کمیونٹی کی منتخب شخصیات کی پاکستان کے لئے خدمات کا احاطہ کیا گیا ہے۔ ان شخصیات کا تعلق دفاع، سول سروس، ادبیات، آرٹ، عدلیہ، کھیل، طب، سیاست، صنعت، تعلیم، سائنس و ٹیکنالوجی اور تحریک پاکستان سے ہے۔ اس کتاب کی خوبصورتی یہ ہے کہ اس میں قارئین کے لئے ان شخصیات کی زندگیوں کی ایک ہمہ جہت تصویر پیش کی گئی ہے، جس میں ان کا بچپن، تعلیم، گھریلو زندگی، پیشہ ورانہ جدوجہد، کامیابیاں اور تکالیف سب کی جھلک موجود ہے۔ مصنّفہ کے بقول کتاب کی تدوین کے دوران اقلیتی برادری سے تعلق رکھنے والی ایسی شخصیات بھی تھیں جو اپنے مذہبی عقائد کو سب کے سامنے بیان نہیں کرنا چاہتے تھے۔ ان کے لئے اپنا اور اپنے گھر والوں کا تحفظ، ایک بڑا سوالیہ نشان تھا۔

اس بات سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ تمام تر آئینی تحفظ کے باوجود تنگ نظر اور متشدد مذہبی معاشرے کی وجہ سے اقلیتیں پاکستان میں خود کو کتنا محفوظ سمجھتی ہیں۔ تقسیم کے بعد پہلی چند دہائیاں ایسی تھیں جب ان شخصیات کو اپنی پیشہ ورانہ زندگی میں بھرپور کاکردگی دکھانے کا موقعہ ملا، جیسا کہ ہمیں ظفراللہ خان، حاتم علوی، ڈاکٹر عبدالسلام، دراب پٹیل، ایم ایم احمداور دیگر کے حالات میں نظر آتا ہے کہ جس ملک اور معاشرے کا وہ حصہ تھے اس کے لئے کارہائے نمایاں انجام دے گئے۔ بدقسمتی سے وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ محمد علی جناح کا روشن خیال نظریہ معدوم ہوتا گیا اور متعصبانہ قسم کے افکار پھیلتے چلے گئے۔ پاکستانی معاشرے میں بڑھتی ہوئی عدم برداشت نے ان کمیونٹیز کی نئی نسلوں کے لئے، اپنے بزرگوں کی طرح کارہائے نمایاں انجام دینا مشکل بنا دیا۔ ایک طرف بعض واقعات میں، سرکاری اداروں کے سفاکانہ امتیازی سلوک کے باعث ان افراد کے لئے ملک چھوڑ کر چلے جانے کے علاوہ کوئی چارہ نہ رہا تو دوسری طرف سیسل چودھری جیسی شخصیات نے اپنے لئے ایک نیا راستہ ڈھونڈا اور اپنی زندگی کو اپنے تصور سے زیادہ بھرپور بنا لیا۔ لیکن یہ تصویر ابھی بھی مکمل نہیں ادھوری ہے۔

آج بھی زیادہ تو نہیں مگر مٹھی بھر نوجوان ایسے موجود ہیں جو معاشرے میں اپنا کردار ادا کرنے اور اس سفر میں ایک سنگ میل بننے کا پختہ ارداہ رکھتے ہیں۔ وہ آج بھی کھیل کے میدان، کوہ پیمائی، صحافت، سیاست اور فنون لطیفہ کے میدان میں نمایاں نظر آتے ہیں اور ان میں سے چند سرپھرے ہر مشکل کو جھیلنے اور ہر رکاوٹ کو توڑنے پر تیار ہیں۔ ایسے افراد میں سے ہرچرن سنگھ نمایاں ہیں، جو پاکستان آرمی کے پہلے سکھ افسر ہیں۔ لیکن یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ اقلیتوں سے تعلق رکھنے والی اکثر شخصیات کو ان کے عقائد کی بنا پر احسن طریقے سے پزیرائی نہیں دی گئی جس کے وہ مستحق تھے۔ یہ ان کا حق ہے کہ ان کی کوششوں کو تسلیم کیا جائے، اور ہم پر لازم ہے کہ ہم اپنے نوجوانوں کو ان کے بارے میں تفصیل سے بتائیں۔ یہ ایک قرض ہے جو ہمیں چکانا ہی ہو گا۔

پاکستان کی احمدی اقلیتی برادری سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر عبدالسلام واحدپاکستانی ہیں جنھوں نے فزکس میں نوبل پرائز حاصل کیالیکن اس کے باوجود حکومت پاکستان نے سلام کو سرکاری اعزاز کے ساتھ تدفین کے لئے منع کر دیا۔ ان کے لوح مزار پر لکھا گیا، پہلا مسلمان نوبل انعام یافتہ، لیکن کیونکہ پاکستانی قانون کے مطابق احمدی اپنے آپ کو مسلمان نہیں کہہ سکتے اس لئے سلام کی قبر پر لگے کتبے سے مسلمان کا لفظ مٹا دیا گیا۔ اب لوح مزار پر لکھی ہوئی عبارت ہے ”پہلا۔ نوبل انعام یافتہ“۔ یہ عبارت اور قائد اعظم یونیورسٹی میں فزکس ڈیپارٹمنٹ کا نام ڈاکٹر عبدالسلام سے منسوب کرنے پر شور شرابا اس بات کی شہادت ہے کہ سلام کو اس کے ہم وطنوں نے پہلے زندگی میں اور پھر مرنے کے بعد بھی قبول نہ کیا۔

متعدد قابلِ بھروسا ذرائع یہ کہتے ہیں کہ مشہور قرارداد لاہور یا قرار داد پاکستان ظفراللہ خان نے لکھی تھی مگر ان کے مذہبی عقائد کی وجہ سے اس بات کی کبھی تشہیر نہیں کی گئی۔ پاکستان کے بہت سے پنچ سالہ منصوبوں کی کامیابی اور منگلا اور تربیلا ڈیم کی تعمیر کا سہرا ایک اور احمدی سول سرونٹ ایم ایم احمد کو جاتاہے جن پر ان کے مذہبی عقائد کی وجہ سے 15 ستمبر 1971 کو وزارت خزانہ میں واقع ان کے دفتر میں اس وقت قاتلانہ حملہ کیا گیاجب وہ ملک کے قائمقام صدربھی تھے۔ کچھ عرصے کے بعد ان کے لے پالک بیٹے کو اغوا کرنے کی بھی کوشش کی گئی جو لارنس کالج گھوڑا گلی نویں کلاس میں پڑھ رہا تھا۔

ان کے علاوہ معروف صنعتکار چودھری شاہنواز، ماہر امراض قلب میجر جنرل (ریٹائرڈ)ڈاکٹر مسعود الحسن نوری، پنجاب میں نہری نظام کو بہتر بنانے والے پہلے جی ایم واپڈا اور پاکستان کے پہلے انسٹی ٹیوٹ آف الیکٹریکل انجینئرنگ کے بانی چودھری عبدالحمید، میجر جنرل اختر ملک، لیفٹیننٹ جنرل عبدالعلی ملک، صحافی، فرہنگ نویس اور مصنف قلندر مومند نمایاں احمدی شخصیات ہیں جنھوں نے تعصب، تنگ نظری اور نفرت انگیز رویوں کے باوجود پاکستان کے لئے شاندار خدمات انجام دیں۔ جبکہ بدھ مت سے تعلق رکھنے والے راجہ تری دیو رائے سفارت اور سیاست کے میدانوں میں ایک عرصہ تک چھائے رہے۔ اگرچہ وہ بنگالی تھے لیکن جب بنگلہ دیش مغربی پاکستان سے الگ ہوا تب انھوں نے راجہ کے خطاب اور ذمہ داریوں سے دستبرداری اختیار کی، راج پاٹ اپنے بیٹے کو سونپا اور خود پاکستان زندگی گزارنے چلے آئے۔

پاکستان کی پارسی برادری نے بھی پاکستان کی تعمیر و ترقی میں اپنا بھرپور حصہ ڈالا ہے۔ ان نمایاں پارسی شخصیات میں جج اور انسانی حقوق کے علمبردار دراب پٹیل، صنعتکار ڈنشا ء آواری، بہرام ڈی آواری اور منوچہر بھنڈارا، مصنفہ اور ماہر تعلیم دی برائیڈ اور کرو ایٹرز (the bride، crow eaters) جیسے شہرہ آفاق ناولوں کی مصنفہ بیپسی سدھوا، کالم نگار، سماجی کارکن، مخیر، انسان دوست اردشیر کاوس جی، مشہور سفارت کار جمشید مارکر، معروف موسیکار رتی کوپر، ماہر تعلیم، تھیٹر ایکٹر اور ڈائریکٹر پیرن کوپر بوگا، ماہر تعلیم دینا مستری، مصور اور سماجی کارکن جمی انجینئر، معروف بین الاقوامی ماہر قانون رستم ایس سدھوا، ماہر معیشت جمشید نصر وانجی مہتا، بین الاقوامی شہرت یافتہ ماہر حیاتیات ابان کابراجی شامل ہیں۔

اسی طرح پاکستان کی مسیحی برادری کے درخشاں ستارروں میں گروپ کیپٹن، ماہر تعلیم اور انسانی حقوق کے علمبردار سیسل چودھری، جسٹس اے آر کارنیلئس، انسانی حقوق کے علمبردار اور سیاست دان شہباز بھٹی، پاکستان ایئر فورس کے فائٹر پائلٹ، سول ایوی ایشن اتھارٹی کے ڈی جی اورایک وقت میں پاکستان میں ایٹمی ہتھیاروں کی تحقیق کی سربراہی کرنے والے ایرک گورڈن ہال، ایک پاکستانی فوجی افسر میجر جنرل (ر)ابوبکرمٹھا کی محبت میں گرفتار ہوکر ہندوستان سے پاکستان آنے والی کلاسیکل ڈانسر اور فلسفے کی استاد محترمہ اندومٹھا، نامور مصور کولن ڈیوڈ، تاریخ دان، مصنف اور سول سرونٹ ایس ایم برق، سیاست دان اور سماجی راہنما جے سالک، ماہر تعلیم میرا فیلبوس اور پرم روز میتھیونمایاں ہیں۔

جبکہ نامور اسماعیلی شخصیات میں مصور اور انجینئر اسمٰعیل گل جی، مصور اور مجسمہ ساز امین گل جی، صنعت کاراور سماجی شخصیت صدرالدین ہاشوانی، کوہ پیما اشرف امان، حوالدار لالک جان شہید (نشان حیدر)، کوہ پیما، ماہر ماحولیات اور تاجر نذیر صابر شامل ہیں۔ پاکستان کی بوہرہ برادری سے سیاست دان اور تحریک پاکستان کے کارکن حاتم اے علوی، قانون دان، ایسوسی ایٹ جج سپریم کورٹ اور الیکشن کمیشن کے سابق سربراہ فخرالدین جی ابراہیم، وکیل جج اور سندھ کے عبوری وزیراعلیٰ رہنے والے زاہد علوی اور مشہور مصور، مجسمہ ساز اور ڈیزائنر صغراربابی نمایاں شخصیات ہیں۔

اسی طرح پاکستان کی نامور ہندوشخصیات میں سے پاکستان کے پہلے وزیر قانون جوگندر ناتھ منڈل، معروف سیاست دان رانا چندرسنگھ، قومی کرکٹ ٹیم سے تعلق رکھنے والے انیل دلپت، دانش کنیریا، کمیونسٹ لیڈر، سماجی راہنما اور مصنف سوبھوگیان چندانی، عالمی سطح پر معروف فیشن ڈیزائنر دیپک پروانی، سنوکر کے عالمی شہرت یافتہ کھلاڑی نوین پروانی، معروف اداکارہ شبنم، اور سیاست دان، بزنس مین، تجزیہ نگار، کالم نگاراور سوشل ورکر ڈاکٹر رمیش کماروانکوانی سمیت پاکستان سے تعلق رکھنے والی بہت سی دیگر ہندوشخصیات نے وطن عزیز کے لئے کارہائے نمایاں انجام دیے ہیں۔ یہ ایک افسوسناک امر ہے کہ اقلیتوں سے تعلق رکھنے والے بہت سی نامور شخصیات اور گھرانے جو ہمارے لئے بہت کار آمد تھے پاکستان میں مذہبی تعصب اور عدم رواداری کی بھینٹ چڑھ کر بیرون ملک منتقل ہوچکے ہیں۔ آج اقلیتوں کے قومی دن کے موقع پر پاکستان پر اقلیتوں کا اعتماد بحال کرنے اور اسے اقلیتوں کے لئے مواقع سے بھرپور ملک بنانے کی شدید ضرورت ہے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں