کیا واقعی بیٹیاں بھی بیٹوں کے برابر ہیں؟


رزلٹ آ چکا تھا۔ میں اپنی دکان میں بیٹھا اس موقع سے فائدہ اٹھا رہا تھا۔ اور ہر ایک سے 30 روپے پہلے لیتا اور بعد میں رول نمبر پوچھ کر رزلٹ بتاتا۔ میرے ارگرد ایک ہجوم لگا تھا۔ کچھ انتظار میں کھڑے تھے کہ کب ان کو رزلٹ بتایا جائے۔ کچھ جو کامیاب تھے وہ خوشی سے پھولے نہ سما رہے تھے۔ اور جیسے ہی کسی کو پتہ چلتا کہ وہ کامیاب ہوا ہے تو فوراً اپنے عزیزوں کو اطلاع دیتا۔ ناکام ہونے والے گم سم اور سہمے سہمے نظر آتے۔ ایسے میں مجھے ایک آواز نے متوجہ کیا۔ بھائی! میرے رزلٹ کا کیا بنا؟

اس آواز کو میں اچھی طرح پہچانتا تھا۔ میں جانتا تھا کہ جب اس نے کالج میں قدم رکھنا چاہا تو اس کے پورے گھر نے مخالفت کی۔ اس نے اپنے والد سے کہا کہ وہ آگے پڑھنا چاہتی ہے تو اس کے والد کے ہاں یا نہیں کرنے سے پہلے ہی بھائی بول پڑا کہ کوئی ضرورت نہیں آگے پڑھنے کی پہلے کون سا میٹرک میں تیر مار لیا ہے۔ وہ اک لمحہ اداس سی ہو گئی مگر نجانے کیوں اسے ایسا لگتا تھا کہ اگر وہ کوشش کرے تو اسے کالج جانے کی اجازت مل سکتی ہے۔ وہ اس دن تو خاموش رہی مگر پھر جب کالجز میں داخلے ہونا شروع ہوئے تو اس نے اپنے والد سے دوبارہ کہا کہ میں کالج میں پڑھنا چاہتی ہوں۔

والد نے ایک لمبا سانس لیا اور کہا کہ میٹرک میں اپنے نمبر دیکھے تم نے۔
مگر اس نے کہا کہ میں گھر کے تمام کام کاج بھی ساتھ کرتی ہوں اس لئے اتنی توجہ پڑھائی پر کیسے دی سکتی تھی کہ اچھے نمبر حاصل کر لیتی۔
والد نے پھر کہا کہ اچھا! پھر گھر کے کام کاج میں نے کرنے ہیں کیا؟
ایک لمحہ وہ ڈر گئی مگر پھر بھی اس نے ہمت کر کے کہا کہ نہیں میں گھر کے کام کاج بھی کر لوں گئی اور ساتھ پڑھائی بھی۔ آپ مجھے کالج میں پڑھنے کی اجازت دے دیں۔
اچھا! تمھیں اجازت دے دوں پہلے ہمارے خاندان میں کون ہے جو کالجز میں گیا ہے؟ خاندان والے کیا کہے گئے کہ جوان بیٹی بسوں میں دھکے کھا رہی ہے اور باپ کو شرم وحیا ہی نہیں۔
یہ شرم وحیا نجانے کیسا لفظ ہے جو معاشرے کی بہیودہ روایات کی ہمیشہ سے حفاظت کرتا آرہا ہے۔

خیر! وہ کہاں ہار ماننے والی تھی۔ اس نے روتے ہوئے کہنا شروع کر دیا کہ بابا! بیٹیاں کبھی بیٹوں کے برابر نہیں ہو سکتی۔ آپ مجھ سے ہمیشہ جھوٹ کہتے ہو کہ تم میری بیٹی نہیں بلکہ بیٹا ہو۔
والد نے یہ بات سننی اور اس کے آنسوؤں کو دیکھا تو ہاں کر دی مگر اس کے ساتھ ہی کہا گیا کہ تمھارا بھائی تمھیں خود کالج چھوڑ کر بھی آئے گا اور لے کر بھی۔

خیر اللہ اللہ کر کے اس کا داخلہ کالج میں ہو گیا۔ اب وہ صبح سویرے اٹھتی۔ گھر کا سارا کام خود کرتی۔ اور پھر بہت ہی کوشش سے ٹائم پر کالج پہنچتی بلکہ اکثر کالج سے لیٹ ہو جایا کرتی۔
سال اول کا رزلٹ آیا تو وہ کامیاب ٹھہری۔ گھر آکر بتایا کہ وہ کامیاب ہو گئی ہے تو جیسے گھر والوں کو مایوسی ہوئی ہو!
بھائی سے کہا کہ میں سال اول میں پاس ہوئی ہوں تو بھائی نے کوئی جواب نہ دیا۔
والد کو بتایا تو انہوں نے بھی اچھا کہہ کر ٹال دیا۔

دوسرا سال تھا اسے کالج جاتے ہوئے۔ قدرت کی ستم ظریفی دیکھیں کہ اس بار وہ شدید بیمار ہوئی جس کی وجہ سے تقریباً دو ماہ کالج بھی نہ جا سکی۔ پھر بھی اس نے ہمت نہ ہاری اور دو ماہ بعد پڑھنا پھر شروع کر دیا۔ امتحانات ہوئے۔ گھر کے طعنے ساتھ ساتھ چلتے رہے کبھی کہا جاتا کہ تم پڑھ کر آفیسر لگنے لگی ہو۔ کبھی کہا جاتا کہ تمھاری پڑھائی نے تمھیں کیا دینا ہے الگے گھر جا کر بھی تم نے گھر ہی سنھبالنا ہے۔ خیر اس نے یہ سب برداشت کیا۔ آج جب اس نے مجھ سے رزلٹ پوچھا تو اس کا رزلٹ دیکھنے کے لیے میں بھی اس سے زیادہ بے تاب ہو رہا تھا۔ یہ تجس ہی تو تھا جس نے مجھے ساری بھیڑ کو چھوڑ کر اس کا رزلٹ دیکھنے پر مجبور کیا۔

رزلٹ دیکھا تو یہ کیا۔ وہ بیچاری ایک مضمون میں صرف 2 نمبروں سے ناکام تھی۔ جب میں نے اسے رزلٹ بتایا تو اچانک ایسا لگا جیسے اس کے جسم سے جان ہی نکل گئی ہو! اس نے اگرچہ بہت ہی کوشش سے اپنے آنسوؤں کو روکا ہوا تھا مگر جیسے ہی میں نے اس سے کہا کوئی بات نہیں صرف 2 نمبروں کی تو بات ہے تو اس کی آنکھوں سے آنسوؤں بہہ نکلے۔

پھر وہ اسی طرح دکان سے چلی گئی۔ پورا دن میں دکان پر رہا شام کو واپس آیا تو پتہ چلا کہ جب اس کے گھر والوں کو رزلٹ کا پتہ چلا تو انھوں نے کہا ہم نے پہلے ہی منع کیا تھا اب دیکھ لو خود۔ گھر سنبھالنا سیکھو اور اب کالج کا نام بھی نام بھی نہ لینا۔ اس نے بہت کہا کہ صرف دو نمبر ہی کم ہیں مگر کسی کو اس بات سے کوئی غرض نہ تھی۔ بھائی الگ سے بولا پورے دو سال تم نے مجھے ذلیل کر دیا۔ کتنی مشکل سے تمھیں روز کالج چھوڑ کر آتا تھا۔ والد نے بھی اس کی بات سے منہ موڑ لیا۔

سچ ہی تو کہا تھا اس نے بیٹاں کہاں بیٹوں کے برابر ہوتی ہیں۔ بیٹے تو ناکام بھی ہو جائیں تب بھی انہیں کہا جاتا ہے کہ دوبارہ کوشش کرو!
جبکہ اس سے کوشش کا حق بھی چھین لیا گیا۔ وہ بہت روئی۔ اس نے التجا بھی کی کہ صرف ایک بار اسے امتحان میں بیٹھنے دیا جائے مگر اب اس کے آنسوؤں کی کوئی قیمت نہ تھی۔
معاشرہ پھر سے جیت چکا تھا اور وہ ہار گئی تھی!

کبھی شرم وحیا نے اسے ہارا دیا کبھی رسم و رواج نے۔ کبھی عورت ہونے کے احساس نے! مگر در حقیقت اس کے ہارنے کی وجہ معاشرے کی بے ہودہ سوچ تھی۔ وہ سوچ جو آج بھی عورت کو اس کا مقام دینے سے قاصر ہے۔
صرف الفاظ میں ہی یہ کہا جاتا ہے۔
عورت مردوں کے شانہ بشانہ کام کرے گئی تو یہ ملک ترقی کی راہ پر گامزن ہو گا۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں