وراثت اور باغی بیٹی


حاشر بیٹا آپ جاؤ نماز کو دیر ہو رہی ہے۔ میں ماریا کو سمجھاتی ہوں۔ اور ہاں ولید سے کہو کہ مولوی صاحب کے گھر بھی قربانی کا گوشت دے آئے۔ دیکھو ماریا بیٹی، تمہارے بھائی بالکل ٹھیک کہہ رہے ہیں۔ تم اپنے باپ کی وراثت سے دست بردار ہو جاؤ۔ اسی میں تمہاری بھلائی ہے۔ مگر امی جان، یہ تو میرا شرعی حق ہے۔ میرے اللہ اور رسولؐ کا حکم ہے۔ بالکل اسی طرح جیسے نماز روزہ زکات حج اور قربانی کا حکم ہے۔ تو پھر آخر کیوں بیٹیوں کو ان کے جائز اور شرعی حق سے محروم کر دیا جاتا ہے۔

سنو ماریا، ہمارے آبا و اجداد میں کبھی کوئی بیٹی اپنا حصہ نہیں لے کر گئی۔ تم کیا چاہتی ہو خاندان والے حاشر اور ولید پر ہنسیں کہ ان کی بہن جائیداد میں سے اپنا حصہ لے گئی ہے۔ ہم نے تمہیں پڑھایا لکھایا دھوم دھام سے تمہاری شادی کی لاکھوں کا جہیز دیا اب بھی کوئی کسر باقی ہے کیا؟ مگر امی جان بھائیوں کو بھی تو اعلیٰ تعلیم دلوائی گئی ہے ان کی شادیوں پر بھی تو لاکھوں لگائے گئے تھے۔ یہ اگر مگر چھوڑو اور ان کاغذات پر جائیداد سے دست بردار ہونے کے دستخط کر دو۔ دوسری صورت میں ہم تم سے قطع تعلق ہو جائیں گے اور زندگی بھر تمہاری شکل نہیں دیکھیں گے۔

ماں کی یہ دھمکی کام کر گئی اور صدیوں سے بیٹیوں کا حق کھانے والوں میں ماریا کے بھائی بھی شامل ہو گئے۔ کیونکہ مرزا صاحب کی بیٹی نے عدالت کے ذریعے سے جائیداد میں سے اپنا حصہ تو لے لیا تھا مگر میکہ ہمیشہ کے لئے چھوٹ گیا۔ اسے اپنی سہیلی حرا بھی یاد آرہی تھی جس کے والد نے تینوں بہنوں سے دستخط کروا لئے تھے تاکہ والد کی وفات کے بعد وہ دعویدار نہ بن جائیں۔

یہ صرف ماریا کی ہی کہانی نہیں۔ تقریباً ہر گھر کی کہانی ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں ایسی نا انصافی کہیں محبت کے نام پر کہیں عزت کے نام پر تو کہیں دھمکی کی صورت میں عرصہ دراز سے ہوتی آ رہی ہے۔ چاہے وہ گھرانہ لبرل ہو آزاد خیال ہو انتہائی مذہبی ہو مذہبی ہو امیر ہو غریب ہو ان پڑھ ہو تعلیم یافتہ ہو اعلیٰ تعلیم یافتہ ہو۔ بیٹیوں اور بہنوں کو جائیداد میں سے ان کا شرعی حق دینے والے ” انصاف پسند“ لوگ آٹے میں نمک کے برابر ہیں۔

زیادہ تر گھروں میں تو بچپن ہی سے یہ بات گھول کر بیٹیوں کے ذہنوں میں ڈال دی جاتی ہے کہ وہ بھی اپنا شرعی حق مانگنے کو گناہِ کبیرہ سمجھنے لگتی ہیں۔ مجھے مولانا طارق جمیل صاحب کا ایک بیان یاد آرہا ہے۔ جس میں وہ بتا رہے تھے کہ ایک مرتبہ ان کے استاد محترم کسی گھر مہمان ٹھہرے۔ جب انہوں نے کھانے کے لئے کچھ پیش کیا تو انہوں نے پوچھا۔ پہلے مجھے بتایا جائے کہ اس گھر کی بیٹیوں کو جائیداد میں سے حصہ دیا گیا ہے تو یہ کھانا حلال ہے ورنہ حرام۔

بلاشبہ دین اسلام سچا اور فطری ہے۔ ”عورت“ کو جتنا تحفظ، اعتماد، عزت اور مقام دین اسلام نے دیا ہے دنیا کے کسی اور مذہب نے نہیں دیا۔ مگر افسوس ہم لوگوں نے دین اسلام کے مطابق اپنی زندگیوں کو ڈھالنے کی بجائے اپنی مرضی سے عمل کرنا چاہتے ہیں۔ افسوس تو اس وقت مذید بڑھ جاتا ہے جب ایسے والدین بھی نا انصافی اور حق تلفی کا ”گناہ“ کربیٹھتے ہیں۔ جو بیٹیوں کو بہترین تعلیم اور تربیت اور پرآسائش زندگی کی سہولتیں بھی دیتے ہیں۔ مگر جائیداد کے بٹوارے کے وقت وہ بھی بیٹیوں کو بھائیوں کے حق میں دست برداری پر منا رہے ہوتے ہیں۔

کاش لوگ اللہ کے اس حکم کو بھی اتنا ہی اہم سمجھیں جتنا اہم نماز، روزہ، زکات اور حج کو سمجھتے ہیں۔ اول تو بیٹیوں کو جائیداد میں سے حصہ دیا ہی نہیں جاتا اور اگر کوئی بیٹی یا بہن ہمت کر کے عدالت کے ذریعے اپنا حق لے لیتی ہے تو اس کو ”باغی“ ”گناہ گار“ قرار دے کر عمر بھر کے لئے اس سے تمام رشتے ناتے ختم کر لیے جاتے ہیں۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

نشیمن آرزو کی دیگر تحریریں
نشیمن آرزو کی دیگر تحریریں

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں