جناح کا پاکستان یا دیوانے کا خواب


کل یونیورسٹی سے گھر جاتے ہوئے بس میں میری ایک خاتون سے بات ہوئی۔ بات باتوں باتوں سے نکل کر 14اگست پر چلی گئی تو وہ عورت غصیلے انداز میں کہنے لگی ارے بیٹا کہاں کی 14اگست، کیسی 14 اگست پاکستان کی آزادی اور میرے خاندان کی برسی کا دن ایک ہی ہے سمجھ نہیں آتا کہ خوشی مناؤ یا غم؟ تو میں نے ان سے کہا کہ آنٹی پاکستان کو حاصل کرنے میں آپ کے، میرے، ہم سب کے آباؤ اجداد بھی شہید ہوئے ہیں اور شہیدوں کا سوگ نہیں منایا جاتا تو کہنے لگی ہاں بیٹا یہ تو صحیح کہا تم نے۔ مگر ان کی باتوں نے مجھے اپنے حصار میں لے لیا میں راستے بھر یہی سوچتی رہی کہ اور کتنے خاندان ہوں گے جن کی سوچ کا زاویہ بھی اس خاتون سے ملتا جلتا ہوگا تو سوچا کیوں نہ ایسی تحریر لکھوں کہ ایک ایک شہید کے خون کا رنگ اس میں نظر آئے اور اس خاتون کی طرح اور خاندانوں کو بھی بتاؤ کہ صرف ایک دو مسلمان نہی بلکہ پاکستان کو حاصل کرنے میں لاکھوں کروڑوں مسلمانوں کا خون شامل ہے جن کے گھر کے گھر اجڑ گئے۔

پاکستان جس کا مطلب ہے پاک سر زمین جو اس نعرے کے ساتھ حاصل کیا گیاکہ پاکستان کا مطلب کیا لا الہ الا اللہ۔ پاکستان جس کے لئے آج سے 70 سال پہلے لاکھوں کروڑوں انسانوں نے اپنی جان کی قربانی دی اس لئے کہ ان کی آنے والی نسلیں آزادی اورخوشحالی سے اپنی زندگی بسر کریں گی تشکیل پاکستان سے پہلے بھی مسلمانوں نے اپنی جانوں کا نظرانہ پیش کیا۔ اور پاکستان کے قیام کے بعداور ہجرت کے موقع پر بھی مسلمانوں کو خون میں نہلا دیا گیا، عورتوں کی عصمت دری کی گئی، بچوں کو نیزے پر اچھالا گیا، نوجوانوں اور بزرگوں کو بے دردی سے قتل کیا گیا، ہزاروں مسلمان خواتین کو اغوا کیا گیا۔

یہ تاریخ کی سب سے بڑی ہجرت تھی پہلی اور دوسری عالمی جنگ میں اس قدر جان و مال کا ضیاع نہیں ہو ا جتنا قیام پاکستان کے وقت ہوا۔ قا ئد اعظم محمد علی جناح نے جب پاکستان بنانے کا خواب دیکھا تو ہندؤں اور انگریزوں نے آپ کا مذاق اڑایا ہندو آپ کو دیوانے کا خواب سے پکارنے لگے یہاں تک کے کچھ مسلمانوں کو بھی یہی لگتا تھا کہ جو قائد اعظم ؒ دیکھ رہے ہیں اس کی کوئی تعبیر نہیں یہاں تک کے مولانا ابو الکلام آزاد نے بھی آپ پر سخت تنقید کی۔ ہندؤں نے بھر پور کوشش کی کہ بھارت ماتا کے دو ٹکڑے نہ ہو۔ جب کہ امریکہ نے 1776ء میں برطانیہ سے آزادی حاصل کی تو کسی نے کوئی سوال نہیں اٹھایا جبکہ دونوں فریقین کا مذہب ایک ثقافت ایک اور زبان ایک ہے تو آزادی کا کیا جواز؟ مگر انگریزوں اور ہندؤں کی لاکھ تنقید کے باوجودمسلمانوں کی لا تعداد قربانیوں، بے مثال جدوجہداور لاتعداد قر بانیوں کے نتیجے میں معرض وجود میں آنے والا یہ ملک بلاشبہ اللہ پاک کی طرف سے ایک عظیم تحفے سے کم نہیں آج ہم ایک آزاد مملکت میں زندگی بسر کر رہے ہیں آزادی ایک نعمت ہے اور اس کی قدر وہی قوم جانتی ہے جس نے غلامی تلے زندگی گزاری ہو۔

آج ہم کشمیر، فلسطین، قبرص اور برما وغیرہ حالت دیکھتے ہیں تو احساس ہوتا ہے کہ ہمارے آباؤ اجداد اور رہنماؤں کی مہربانی، قربانی، انتھک محنت اور رب العزت کی رضا سے پاک سر زمین ہمارے حصے میں آئی۔ پاکستان جو اسلام کے نام پر حاصل کیا گیا ہے اللہ کے رازوں میں سے ایک راز ہے جب جب پاکستان پر کسی نے میلی آنکھ ڈالی اسے قدرت نے نست و نابود کردیا اور عبرت کا نشان بنا ڈالا۔ میثاق مدینہ کی طرح قائد اعظمؒ نے تمام مسلمانوں کو یکجا کیا اور ارض وطن حاصل کیامسلم لیگ جو 1940ء سے جدوجہد پاکستان میں مصروف تھی اس کی جدوجہد کا محور صرف دو الفاظ اسلام اور پاکسان تھے پاکستان کو حاصل کرنے کا ایک مقصد یہ بھی تھا کہ برصغیر کے سادہ لوح مسلمان 20سے 25 سال پہلے خلافت عثمانیہ کا المیہ دیکھ چکے تھے اور ذہنی طورپر یہ سمجھ بیٹھے تھے کہ یہ نیا ملک خلافت عثمانیہ کا متبادل ہوگا۔ ان کی آنکھوں میں قرون اولی کے مسلمانوں کی عظمت کا خواب پھر سے زندہ ہوگیا۔

مسلم لیگ کے قائدین نے جو نئی ریاست کا نقشہ کھینچا وہ نہایت ہی دلفریب تھا۔ آزادی ملنے کے بعدمسلمانوں کو بے شمار مسائل کا سامنا کرنا پڑالیکن ان لوگوں نے ثابت قدمی سے ان تمام مسائل کا سامنا کیا آج پاکستان آزادی کی 71بہاریں دیکھ چکا ہے اس عرصے میں کافی اتار چڑھاؤ آئے۔ جناح کا پاکستان واقعی جناح کا پاکستان بنتا اگر قائد اعظمؒ کچھ عرصہ اور زندہ رہتے۔ مگر پاکستان کو حاصل کرنے کے بعد آپ کی حالت دن بدن مزید خراب ہوتی گئی اس مرد مجاہدؒ نے اپنے خون کے آخری قطرے تک صرف پاکستان اور قوم کے متعلق سوچا۔ ٹی بی جیسی مہلک بیماری ہونے کے باوجود قائد اعظم ؒ نے ہار نہیں مانی اس دور میں یہ بیماری کینسر سے کم نہ تھی۔ آپ ؒ دن رات پاکستان سے متعلق ہی سوچتے رہے یہاں تک کہ 15اپریل 1948ء کو جب Sir Francis Modie نے قائد اعظم ؒ سے جب ملاقات کی تو لکھتے ہیں کہ جناح زیارت ریزیڈنسی میں 70روزمقیم رہے آپ ؒ اپنی موت سے 4روز پہلے تک کام کرتے رہے۔ بیماری کی وجہ سے آپ ؒ کا وزن 13 کلو گرام رہ گیا تھا۔ 27 اگست 1948ء کوجناح ؒنے اپنا آخری پیغام اپنی آواز میں ریکارڈ کرایا۔ 11 ستمبر 1948 ء کو آپ ؒ اس جہاں فانی سے کوچ کرگئے۔

اگر آج آپ زندہ ہوتے تو پاکستان بھی کوریا، ترکی، چائنا، سنگاپور اور ملائشیا دنیا کی صف اول اور ترقی یافتہ قوموں میں شامل ہوتا۔ سنگاپور کے لی کوان یو نے اپنے ملک کو جنت نظیر ریاست بنا دیا۔ تعلیم، اقتصادی لحاظ سے صف اول ممالک میں لے آئے۔ آج میرے لیڈر زندہ ہوتے تو پاکستان بھی ان ممالک کی طرح ترقی کرتا مگر اللہ پاک نے آپ ؒ کو اپنے پاس بلا کر ٹھیک ہی کیا؟ کیوں کہ آپؒ کو اپنے ہی وطن کے لوگوں نے غدار، ایجنٹ اور جاسوس کے نام سے پکارا۔ وہ قومیں کبھی ترقی نہیں کر سکتی جو اپنے ہیروز کو بدنام کریں، انہیں ذلیل و رسوا کرے۔

میرے پیارے لیڈر کو بُرا کہنے والوں کو یاد دلا دوں کہ اگر آج قائد اعظم ؒ نہ ہوتے تو! آج یہی لوگ انگریزوں اور ہندوؤں کی غلامی میں ہوتے۔ کشمیر، فلسطین، برما اور اندرونی انڈیا کے مسلمانوں کی طرح اپنے بنیادی حقوق اور آزادی کے لئے ترس رہے ہوتے۔ مگر پاکستان ان لوگوں کا نہیں! بلکہ جناح ؒ کا خواب تھا جو انھوں نے پورا کردکھایا اور جناح کے خواب کو دیوانے کا خواب کہنے والے آج منہ کی کھا چکے ہیں اور پاکستان 71سال کا ہوچکا ہے۔ میرے وطن کو اللہ پاک نے بنایا ہے اور رب ہی چلا رہا ہے آخر میں کہوں گی کہ اے وطن تجھے میری عمر بھی لگ جائے اور اللہ تجھے ہر بُری نظر سے بچائے اور تجھے تباہ و برباد کرنے والوں کو اللہ ذلیل و رسوا کرے۔
ہے جرم اگر وطن کی مٹی سے محبت
جرم سزا میرے حسابوں میں رہے گا
تمام اہل وطن اور عالم اسلام کو دل کی گہرائیوں سے پاکستان کی71 سالہ سالگرہ مبارک ہو۔ جگُ جگُ جئے میرا پیارا وطن۔ لب پہ دعا ہے دل میں امنگ۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں