مٹھی بھر مٹی


“اماں بی! اک تو مجھے یہ سمجھ نہیں آتی کہ اتنے چھوٹے سے گھر میں یہ پودے کیوں لگا رکھ دیے ہیں۔ نا جانے اس مٹی میں کیا کھوجتی رہتی ہیں آپ؟ “
اپنی بہو کی آواز پر میں لمحہ بھر کو چونکی اور نگاہ اٹھتے ہی پہلی نظر قائد اعظم کے مزار پر پڑی جو کہ چوتھی منزل کی بالکونی سے دکھائی دے رہا تھا جہاں روشنی کے قمقمے اب بھی جگمگا رہے تھے۔

میرے جھریوں والے ہاتھوں میں اب بھی مٹی تھی اور یہ دیکھ کر میری بہو نے حقارت سے مجھ پر نظر ڈالی اور میرے پوتے کو نہلانے لے گئی۔
“اماں جی ہم کہاں جا رہے ہیں؟ “
9 سال کی زینب نے جب اپنی ماں کو سامان لپیٹتے دیکھا تو پوچھا۔
“آپ کو معلوم نہیں بٹیا!پاکستان جا رہے ہیں ہم اپنے پاکستان!“۔
اماں جی گو کہ بہت پریشان معلوم ہو رہی تھیں مگر پھر بھی ان کی آنکھیں ہیرے کی مانند چمک رہی تھیں کہ کہیں سے بھولا بھاگتا ہوا آیا۔
“اماں!بس ایک ہی گھٹری لینا وہاں تو اپنا سب کچھ موجود ہوگا نا!“۔

یہ ہمارا چھوٹا سا گھر تھا جہاں آم کے درخت کے سائے میں ہم 13 افراد رہتے تھے۔ اماں، ابا، دادا، دادی، چاچا، چاچی اور ان کے بچے اور ہم 5 بہن بھائی اور اب ہم اپنے نئے ملک اور گھر کو جا رہے تھے۔

سامان باندھتے باندھتے میں نے اپنی مٹی کی گڑیا بھی ڈال لی۔ رات ہی ریڈیو پہ اعلان ہوا تھا اور لوگ پاکستان کا رخ کر رہے تھے۔ میں چھوٹی تھی اس لیے اتنی سمجھ تو نہ تھی۔ ہاں ابا، دادا اور محلے کے لوگوں کو ہاتھ میں ریڈیو تھامے کچھ سنتے اور جشن مناتے دیکھا تھا۔

ہم اپنے گھر کو خیر باد کہہ کر ریلوے اسٹیشن کی طرف نکل پڑے۔ گھر سے سٹیشن تک کا سفر بڑا دشوار گزار تھا۔ ہم چھوٹے سے گاؤں سے تعلق رکھتے تھے۔ جب گاوءں سے نکلے تو باہرعجب عالم پایا۔ لوگوں کا جم غفیر ہجرت کو نکل پڑا تھا۔
ابھی کچھ دور ہی چلے تو پتہ لگا کہ ہندوو نے ہمارے گاؤں پر حملہ کردیا ہے اور مسلمانوں کا قتل عام کر رہے ہیں۔

“یہ قتل کیا ہوتا ہے اماں؟ “میں نے پوچھا۔
“تو آنکھ بند کر کے سوجا بیٹا۔ بس دعا کر ہمیں ٹرین مل جائے۔ “ اماں نے گھبراتے ہوئے کہا۔
اندھیرا ہو چلا تھا۔ بیل گاڑی کا شور دماغ کو جکڑ رہا تھا کہ کچھ فاصلے پر لوگ ڈنڈے اور بھالے پکڑے نظر آئے۔
“یا اللہ!یہ کیا غضب ہورہا ہے؟ “۔

نورالدین چاچا یہ کہتے ہوئے اترا۔ پر نور چاچا تو جیسے ان ہندوں کے ہتھے چڑھ گیا۔ بیل گاڑی میں موجود سب لوگ سہم گئے۔ نور چاچا نے کوچوان کو نا رکنے کا اشارہ کیا اور بیل گاڑی تیز رفتاری سے آگے بڑھتی چلی گئی۔ میری آنکھوں کے سامنے چاچا کو مار ڈالا۔
“ہم کہاں جا رہے ہیں اماں؟ ”میں نے پوچھا۔
“پاکستان! “۔ اماں بولی۔

سٹیشن کا منظر دیکھکر دل حلق کو آگیا۔ افراتفری کا عالم تھا۔ نہ جانے کہاں کہاں سے لوگ آئے ٹرین کے انتظار میں بیٹھے تھے۔ کوئی زخمی پڑا تھا کوئی بوڑھا اپنی سانسیں سنبھال رہاتھا تو کوئی عورت اپنے پلو سے لپٹے بیمار بچے کو حسرت سے دیکھ رہی تھی۔ اتنے شور اور ہنگامہ میں بھی سب کے زبانوں پر بس ایک ہی بات تھی۔
”پاکستان! قائد اعظم کا پاکستان! جناح کا پاکستان! “۔

لال ٹین کی روشنی میں نے مٹی پہ سوکھی ٹہنی سے آڑی ترچھی لکیریں بناتے ہوئے ایک مٹھی مٹی لے کر سونگھا تو اماں جی کی آواز کانوں میں پڑی۔
“اب دیکھ اس مٹی میں وہ بو نہیں رہی جو ہمیں اپنا پکارتی تھی۔ ہمیں بلاتی تھی اب تو یہاں سے جانا ہی ہوگا۔ “

بڑے انتظار کے بعد ٹرین کی سیٹی نے جگادیا۔ صرف اندھیرا ہی دکھا۔ یہ نہیں معلوم کہ ہم کیسے آور کس ڈبے میں گھس پائے۔ بس یہ یاد ہے کہ ٹرین نہ جانے کتنے گھنٹوں شور مچاتی چلتی چلے گئی۔ چڑیوں کی چہچہاہٹ اور ٹرین کی آواز سے جب آنکھ کھلی تو میرے ارد گرد لوگ لٹے پٹے زخموں میں پڑے تھے۔ کوئی آخری سانس گن رہاتھا تو کوئی لاش کے پاس بیٹھا ماتم کر رہا تھا۔ کھڑکی سے جھانک کر باہر دیکھا توکتنی بستیوں اور گاوں سے اب بھی دھواں اٹھ رہا تھا۔ نہ جانے کتنے لوگوں کی ذبح شدہ لاشیں کسی ٹرین کے انتظار میں اب بھی پاکستان جانے کی خواہاں تھی مگر ہماری ٹرین بنا کہیں رکے چلتی چلے گئی۔ چھک چھک چھک چھک! ۔

اماں نے مجھے اٹھایا۔
“زینب اٹھو! آگیا ہمارا پاکستان! اترو جلدی اترو۔ “
“اب سب ٹھیک ہو جائے گا۔ “ ابا نے اماں کو سمجھایا۔
دادا جی نے آخری بار آنکھیں اٹھاتے ہوئے پوچھا۔
“کیا آگیا جناح کا پاکستان؟ “۔ اور ہمیشہ کے لیے آنکھیں موند لیں۔

ہم سب ٹرین سے اترے اور ابا نے اترتے ہی سجدہ شکر کیا اور مٹی کو چوما۔
اماں جی نے مٹھی بھر مٹی ہاتھ میں بھر کر مجھے دیتے ہوئے کہا۔
“دیکھ زینب کیسی سوندھی مہکتی ہے؟ کتنا پیار اور خلوص کی بو آتی ہے۔ کتنی پاک ہے یہ مٹی! ہمارے پاکستان کی مٹی۔ دیکھ زینب آگیا ہمارا پاکستان! “

اماں جی کے آنسو بند توڑ کے بہہ نکلے اور مٹی میں جذب ہو گئے۔
“اماں بی آپ اب بھی یہیں کھڑی ہیں۔ اب تو سورج بھی طلوع ہوگیا ہے۔ “

میرے پوتے وارث کی آواز پر میں نے چونک کر ماضی کو پیچھے چھوڑ کر نظر اٹھا کر دیکھا تو واقعی سورج طلوع ہو چکا تھا۔ 14 اگست کا سورج اور سورج کی کرنیں قائداعظم کے مزار پر پڑ رہی تھی۔
توپوں کی سلامی کی آوازین آرہی تھی۔ جب میں نے مٹھی بھر مٹی کو سونگھا تو آج بھی بڑی سوندھی اور وفا کی خوشبو آ رہی تھی۔ آج بھی شہیدوں کے لہو کی مہک تھی۔ آج بھی مہک رہی تھی جذبہ ایمانی سے‘ مٹھی بھر مٹی!‘۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں