پاکستانیوں کی چند حیران کن خوبیاں


* پاکستانی نوجوان زندہ دل ہیں، ہزار کمیوں کوتاہیوں کے باوجود جب فلاحی کام کرنے پر آتے ہیں تو محدود وسائل کے باوجود دن رات ایک کر دیتے ہیں، خلوص اور دل سے کام کرتے ہیں۔
اس کی تازہ مثال اگست میں ”درخت لگاؤ مہم“ کی ہے۔

یہ مہم حیران کن طور پر کامیاب جا رہی ہے۔ اگر میں اپنے دوستوں کا ہی اندازہ لگاؤں تو تقریبا بیس فیصد نے پودے لگائے ہیں۔ اس مہم میں زیادہ تر نوجوان شامل ہیں۔ چند روز پہلے جرمنی میں شدید گرمی تھی۔ سوشل میڈیا پر درختوں کو پانی دینے کی مہم چلائی گئی لیکن یہ مہم بڑی حد تک ناکام ہوئی۔ اس کے برعکس پاکستانی سوشل میڈیا پر درخت لگاؤ مہم کامیابی سے جاری ہے۔

  • پاکستانیوں میں کسی کی مدد کرنے کا جذبہ قابل تحسین ہے۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ جب زلزلہ اور سیلاب آیا تھا تو پنجاب کی ایک ایک تحصیل سے امدادی سامان کے کئی کئی ٹرک جمع ہو گئے تھے۔ انفرادی سطح یا اپنی مدد آپ کی یہ مثال مجھے ابھی تک یورپ کے کسی ملک میں نظر نہیں آئی۔

پنجاب کے دیہات میں ہر دوسرے یا تیسرے دن کسی نہ کسی گلی میں آپ کو مدرسوں، مساجد یا یتیم بچیوں کی شادی کے لیے چندہ مانگنے والے نظر آئیں گے۔ ان میں سے زیادہ تر فراڈیے ہوتے ہیں لیکن اس کے باوجود سادہ لوح پاکستانی انہیں کھل کر چندہ، گندم اور چاول دیتے ہیں۔ اگر پاکستانی فراخ دل نہ ہوتے تو یہ کاروبار اتنے بڑے پیمانے پر کبھی نہ چل رہا ہوتا۔ پاکستانیوں کا شمار بڑھ کر خیرات کرنے والی اقوام میں ہوتا ہے۔

* سیاحوں کے لیے پاکستانی دیگر اقوام کی نسبت حیران کن حد تک مہمان نواز ہیں۔ میں خود شوق سے سفر کرتا ہوں، متعدد ممالک گھوم چکا ہوں، جرمنوں سمیت درجنوں غیر ملکی سیاحوں سے مل چکا ہوں۔ جو جو بھی پاکستان گیا ہے، اس نے مہمان نوازی کی تعریف ضرور کی ہے۔

ترکی سے لے کر سری لنکا تک اور سوئٹزرلینڈ سے لے کر تھائی لینڈ تک کوئی بھی کسی سیاح کو پانی کی ایک بوتل تک بھی فری میں نہیں دیتا۔ اس کے برعکس پاکستان میں غیر ملکی سیاحوں سے مہمان نوازی کے چکر میں ہر دوسری جگہ کھانے تک کے پیسے لینے سے انکار کر دیا جاتا ہے۔

* ایک اور بات جو میں نے جرمنی میں مشاہدہ کی ہے۔ یہاں تحقیق کے لے آنے والے زیادہ تر پاکستانی طلبہ کے پاس پریکٹیکل کا واجبی سا تجربہ ہوتا ہے۔ جو لوگ پی ایچ ڈی کے لیے آتے ہیں، تو وہ عملی دنیا میں جرمنی کے ماسٹر یا بیچلر اسٹوڈنٹ کا بمشکل مقابلہ کرنے کے قابل ہوتے ہیں۔

لیکن حیران کن طور پر یہ پاکستانی ریسرچر بہت جلد یہاں کے ماحول میں کامیابی حاصل کر لیتے ہیں، بہت جلد بہت کچھ سیکھ جاتے ہیں۔ یہ ان کے سیکھنے کی لگن ہوتی ہے یا پاکستان میں یہ اس قدر مشکل حالات سے گزر چکے ہوتے ہیں کہ یورپ کی مشکل چکی انہیں مشکل ہی نہیں لگتی۔

* ہم اس کے فائدوں اور نقصان پر فی الحال بات نہیں کرتے لیکن حقیقت میں پاکستان کا خاندانی نظام یورپ کے مقابلے میں بہت مضبوط ہے۔ مجموعی طور پر خاندان کے افراد ایک دوسرے کے لیے قربانی کا جذبہ زیادہ رکھتے ہیں۔ ایک ایک شخص پورے کے پورے خاندان کا بوجھ اٹھائے ہوئے ہے۔ بعض اوقات ایک باپ، ایک بھائی یا ایک بہن تک ایک مکمل گھرانے کو چلا رہی ہوتی ہے۔ اصل میں ریاست کا کام ان افراد نے اپنے سر لیا ہوا ہے اور ترقی یافتہ ممالک میں اس کی مثال نہیں ملتی۔

میں مغربی ماہرین سے سن دو ہزار آٹھ سے سن رہا ہوں کہ پاکستان ایک ناکام ریاست ہے یا بننے والا ہے۔ ان کے تمام تر اندازے ریاستی کارکردگی کے ساتھ ساتھ کام کرنے والوں کی شرح پر مبنی ہیں۔ لیکن پاکستان کے ناکام ریاست بننے میں سب سے بڑی رکاوٹ وہ پاکستانی شہری ہیں، جو دوسروں کے حصے کا بھی کام کر رہے ہیں۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں