امریکہ اور سعودی عرب تصادم کے راستے پر


editسعودی عرب کے انتباہ کے باوجود امریکی سینیٹ نے متفقہ ووٹ سے ایک قانون منظور کیا ہے جو9 ستمبر 2001 کو امریکہ پر دہشت گرد حملوں میں ہلاک ہونے والوں کے پسماندگان کو امریکی عدالتوں کے ذریعے ان ملکوں سے معاوضہ لینے کے لئے اقدام کرنے کا حق دے گا، جو مبینہ طور پر اس میں ملوث ہوں گے۔ امریکہ میں یہ قیاس آرائیاں کی جاتی رہی ہیں کہ سعودی عرب کے شاہی خاندان اور حکومت کے بعض عناصر ان حملوں میں معاونت کرنے والوں میں شامل تھے۔

اس وقت امریکہ میں ایک قانون کے ذریعے بیرونی ملکوں کو امریکی عدالتوں میں جوابدہی کے لئے طلب نہیں کیا جا سکتا۔ تاہم تازہ قانون منظور ہونے کی صورت میں یہ استثنیٰ ختم ہو جائے گا ۔ اس کے بعد امریکی شہری ایسے کسی بھی ملک یا حکومت کے خلاف عدالتی کارروائی کرسکیں گے جو امریکی سرزمین پر امریکی شہریوں کی ہلاکت کی کسی کارروائی میں ملوث ہؤا ہو۔ اب یہ بل امریکی ایوان نمائیندگان میں منظوری کے لئے جائے گا جہاں خیال ہے کہ ری پبلیکن اکثریت اسے منظور کرلے گی۔ تاہم صدر باراک اوباما کی حکومت اس بل کی مخالف ہے اور انہوں نے اسے ویٹو کرنے کا اعلان بھی کیا ہے۔ اس دوران سعودی عرب نے امریکہ کو پیغام دیا ہے کہ اگر یہ قانون منظور ہؤا تو وہ 750 ارب ڈالر کے لگ بھگ اپنے اثاثے امریکہ سے نکال لے گا۔ ایسے سعودی اقدام سے امریکی معیشت کے علاوہ عالمی مالیاتی منڈیوں پر بھی منفی اور تباہ کن اثرات مرتب ہونے کا امکان ہے ۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ سعودی عرب کے لئے یہ انتہائی اقدام کرنا آسان نہیں ہوگا۔ اس قسم کے کسی فیصلہ سے سعودی معیشت بھی بری طرح متاثر ہو سکتی ہے۔

سینیٹ میں یہ بل پیش کرنے والے سینیٹرز چک شمر اور جان کورنن نے بل منظور ہونے کے بعد ان اندیشوں کو قبل از وقت اور بے بنیاد قرار دیا ہے کہ یہ بل سعودی عرب کے خلاف ہے اور اس کے منظور ہونے سے امریکی شہری امریکی عدالتوں میں سعودی عرب کے خلاف مقدمات دائر کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ غلط فہمی ان 28 صفحات کو خفیہ رکھنے سے پیدا ہو رہی ہے جو 9/11 کی پارلیمانی تحقیقاتی رپورٹ کا حصہ ہیں۔ یہ صفحات سامنے آنے سے یہ غلط فہمیاں دور ہو سکتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ بل دہشت گردی کے خلاف امریکی شہریوں کو تحفظ دینے کے نقطہ نظر سے پیش کیا گیا تھا۔ یہ اندیشے غلط ہیں کہ اس کے نتیجے میں دوسرے ملک بھی امریکہ کے خلاف ایسے ہی قانون منظور کر سکتے ہیں۔ کیوں کہ اس بل میں صرف امریکہ میں کارروائی کا ذکر ہے۔ تاہم دیگر سیاسی اور قانونی مبصرین اس رائے سے متفق نہیں ہیں ۔ ان کا خیال ہے کہ خود مختار اور مطلق العنان ملکوں کے خلاف امریکی عدالتوں میں مقدمے قائم کرکے ایک خطرناک مثال قائم کی جائے گی۔ اس کے بعد دنیا بھر میں مختلف کارروائیوں میں مصروف امریکی فوجیوں کو پیچیدہ قانونی صورت حال کا سامنا ہو سکتا ہے۔

تاہم یہ بل منظور ہونے کی صورت میں اس کے قانونی اثرات سے زیادہ اس کے سیاسی اثرات مہلک اور خطرناک ہو سکتے ہیں۔ امریکہ اور سعودی حکومت کے درمیان ستر برس سے باہمی اعتماد پر مبنی تعلقات استوار ہیں۔ امریکہ سعودی عرب کو مشرق وسطیٰ میں اپنے مفادات کا سب سے بڑا محافظ سمجھتا ہے جبکہ سعودی عرب کی پالیسی کی بنیاد بھی یہی ہے کہ ایران کی طرف سے کسی خطرہ کی صورت میں امریکہ اس کی مدد کرے گا۔ نیا قانون منظور ہونے سے اس اعتماد کو ٹھیس پہنچے گی۔ اس کے نتیجے میں مشرق وسطیٰ نئے اندیشوں اور خطرات کا سامنا کر سکتا ہے۔

اگرچہ فوری طور پر صدر اوباما اس بل کو ویٹو کرنے کا ارادہ ظاہر کرچکے ہیں لیکن صدارتی دوڑ میں شریک ڈیموکریٹک پارٹی کے دونوں امیدوار ہلری کلنٹن اوربرنی سینڈرز یہ کہہ چکے ہیں کہ وہ 9/11 کے متاثرین کو معاوضہ کا حق دلوانے والے اس قانون کی حمایت کرتے ہیں۔ ری پبلیکن پارٹی کے امید وار ڈونلڈ ٹرمپ تو مشرق وسطیٰ اور مسلم دنیا کے ساتھ تعلقات کی نوعیت بدل دینے کی بات کرتے ہیں۔ اس لئے اس حوالے سے نومبر میں امریکی صدارتی انتخابات کے بعد ہی صورت حال واضح ہو سکے گی کہ نیا امریکی صدر مشرق وسطیٰ کے معاملات کو کس طرح طے کرنا چاہتا ہے۔ سینیٹ کی تجویز کردہ پالیسی اختیار کرنے کی صورت میں امریکہ ا ور سعودی عرب دونوں کو نئے دوست تلاش کرنا پڑیں گے۔


Comments

FB Login Required - comments

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 418 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali