درخت لگاؤ ماحول بچاؤ



درخت کسی بھی جگہ کے ماحول کو بہتر بنانے میں بُہت اہم کردار ادا کرتے ہیں ہرے بھرے سرسبز و شاداب درخت ماحول کو خُوبصورتی بخش کے دیکھنے والوں کے تسکینِ ذوق کا ساماں بھی مُہیّا کرتے ہیں۔

اور درختوں کا سایہ گرم موسم میں ہمیں دُھوپ کی شِدّت سے بھی محفُوظ رکھتا ہے۔ گرمیوں کی تپتی دوپہر میں کسی گھنے پیڑ کی چھاٶں، گرمی اور تپش کے مارے ہوٶں کے لئے جنّت سے کم راحت ِجاں نہیں ہوتی۔ درختوں کے فوائید بے شُمار ہیں یہ نہ صِرف موسم کو بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں بلکہ زمین کی زرخیزی میں بھی ان کی بدولت اِضافہ ہوتا ہے۔ یہ زمین کے کٹاٶ کو روکنے میں بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں زمین کا کٹاٶ بہت خطرناک ہوتا ہے کیوں کہ یہ زمین کی زرخیزی ختم کرکے اسے رفتہ رفتہ بنجر بناتا ہے جس کے باعث درختوں اور فصلوں کی کاشت مشکل بلکہ قریب قریب ناممکن ہوجاتی ہے اور اس کے علاوہ آبی ذخائیرکے ضایع ہونے کا امکان بہت حد تک بڑھ جاتا ہے۔

درختوں سے پھل تو مِلتے ہی ملتے ہیں ان کی چھال، پُھول بلکہ اکثر درختوں کے تو پتّے تک بہت کاآمد ہوتے ہیں کئی کھانوں اور دوائییوں میں استعمال ہوتے ہیں اِس کے علاوہ درختوں سے لکڑی دستیاب ہوتی ہے جس کے بے شُمار استعمالات ہیں تعمیراتی مقاصد کے علاوہ فرنیچر کے لئے بھی لکڑی ناگُزیر ہے اور سب سے بڑی بات یہ کہ درخت بارش کا سبب بنتے ہیں اور بارش سے میٹھے پانی کے ذخائیر میں اِضافہ ہوتا ہے۔

درختوں کا ایک اور اِنتہائی اہم فائدہ ہے وہ یہ کہ یہ ہماری زمین کے اردگرد پھیلے ہوا کے غلاف کی صفائی کا واحد ذریعہ ہیں ہماری زندگی آکسیجن سے وابستہ ہے کیوں کہ اس کے بغیر ہم زندہ نہیں رہ سکتے ہم سانس کے ذریعے آکسیجن جذب کرتے ہیں اور کاربن ڈائی آکسائییڈ خارج کرتے ہیں ہماری زندگی کا دارومدار اس عمل پر ہے اگر ہوا میں کاربن ڈائی آکسائییڈ کا تناسُب زیادہ اور آکسیجن کا کم ہو تو ہوا خالص اور صحت کے لئے زیادہ مُفید ہوگی۔ درختوں کا کردار اس عمل میں یہ ہے کہ وہ کاربن ڈائی آکسائییڈ جذب کرتے اور آکسیجن خارج کرتے ہیں جس سے ہوا میں مضرِصحت گیس کم ہوتی ہیں اور ہوا خالص اور بہتر ہوتی ہے جس کے باعث سانس، پھیپڑوں، ہوا کی نالی اور حلق کے امراض سے بہت حد تک بچاجاسکتا ہے۔

درخت موسم کو بہتر بناتے اور ماحول دوست ہوتے ہیں یہ موسم پر کس طرح اثرانداز ہوتے ہیں اس کا اندازہ کراچی کے موجودہ اور چند عشرے قبل کے موسم کے فرق کو دیکھ کر بخوبی لگایا جاسکتا ہے ساحلی شہر ہونے کی وجہ سے کراچی کا موسم ہمیشہ سے معتدل اور خوشگوار رہا ہے ملک بھر سے جو بھی لوگ کراچی آتے تھے یہاں کے اچھے موسم کی تعریف کِیئے بغیر نہیں رہتے تھے یہاں کسی وقت میں گرمیاں بھی قابلِ برداشت ہوا کرتی تھیں اور سردیاں بھی مُناسب حد تک اپنے جلو میں خُنکی اوربرفیلی سی ٹھنڈک لئے ہوئے ہوتی تھیں برسات بھی شہر کو سیراب کرتی تھی اور بہار سکون بخش لطیف ہوا اور رنگوں بھرے نظاروں کے ساتھ اپنی چھب دکھلاتی اور دیکھنے والی ہر نظر کو آسُودہ اور خُوش کرتی تھی یعنی یہاں کے باسی ہر موسم کے مزے سے لُطف اندوز ہوتے تھے آج کی طرح نہ تو گرمیاں آگ برساتی ہوئی ہوتی تھیں نہ ہی سردی کا موسم گرم ہوتا تھا اور نہ ہی برسات خشک ہوتی تھی تو پھر کچھ ہی عرصے میں کیا ماجرہ ہوگیا کہ ایسی خوشگوار آب و ہوا والا شہر دہکتا ہوا تنور بن کے رہ گیا اور گرم موسم کی تیزی اور حِدّت تکلیف دہ حد تک بڑھ گئی؟

کراچی ملک کا سب سے بڑا تجارتی اور صنعتی شہر ہونے کے سبب صنعتی یونٹوں کی روز افزوں بڑھتی ہوئی کثیر تعداد اور ریفریجریٹرز، ڈیپ فریزرز، ایئیر کنڈیشنز اور بےتحاشہ گاڑیوں کے سبب درجہ6حرارت میں اضافے نے یہاں گرمی کو ناقابلِ برداشت حد تک پہنچا دیا اور پچھلے چند سالوں میں تو گزشتہ کئی عشروں کے درجہ حرارت کے ریکارڈز ٹوٹے ہیں مزید برآں زیادہ نہیں، قریب دو ڈھائی عشرے قبل تک کراچی اس بے تحاشا انداز میں پھیلا ہوا نہیں تھا۔ ملیر، کورنگی، بلدیہ جیسی مضافاتی بستیوں میں اور سعدی ٹاٶن وغیرہ جیسی نئی رہائشی اسکیموں کی جگہ کھیت، باغات اور درخت ہوا کرتے تھے۔ کبھی ملیر کی مرچ اور امرود اپنے ذائقے کے باعث مشہور تھے آج یہ ڈھونڈے سے بھی نہیں ملتے کیوں ان کے کھیت اور باغات اُجاڑ دیے گیئے اور یہ ظالمانہ کارروائیاں محض کھیتوں یا باغوں تک ہی محدُود نہیں رہی ہیں

پارکس جو رہائشی آبادی کے درمیان ہوتے تھے اس لئے کہ لوگوں کو کُچھ دیر بیٹھنے، لطف اندوز ہونے کے لئے اور خاص طور پر بچّوں کو کھیلنے کودنے کے لئے بھی وسیع اور پُرفضا جگہ ملے، وہ بھی رہائشی عمارات کی تعمیر کی زد میں آگئے اور بلڈر مافیا نے اکثر کھیل کے گھاس والے میدانوں اور پارکوں کا صفایا کرکے وہاں بھی فلیٹس وغیرہ تعمیر کرڈالے یہ بات تو ٹھیک ہے کہ اِس تیزی سے پھیلتے ہوئے شہر کی بڑھتی ہوئی آبادی کے شدید دباٶ نے شہر کو وسیع سے وسیع کردیا اور رہائشی مکانات کی قلّت نے نئے مکانات اور فلیٹس کی تعمیر کو ناگُزیر کردیا لیکن اس کا یہ مطلب تو نہیں کہ کھیت، باغات، سرسبز میدان اور پرفضا پارکس تاراج اور برباد کرکے وہاں عمارتیں بناڈالی جائییں؟ یہ رہائشی عمارات کی تیزی سے بڑھتی ہوئی ضرورت ہی ہے کہ پہلے جہاں سبزہ ہوتا تھا اب وہاں بُلندوبالا فلیٹس اور شاپنگ مالز سر اٹھائے کھڑے ہیں۔ اس کا نتیجہ؟ ماحول کی تباہی اور حد درجہ گرم موسم۔ یہ سب ہوا کیسے؟ درخت اور سبزے کو ختم کیے جانے کی وجہ سے ایسا ہوا۔

اس ناقابلِ برداشت گرمی کو صرف ایک چیز کم کرسکتی تھی اور وہ تھی درختوں کی معقول تعداد جو کہ فضا کی گرمی پر قابو پاکے اسے کم کرتے اور گرم موسم کی تیزی قابلِ براشت حد میں ہوتی لیکن افسوس مرے پہ سو دُرّے والی بات تو یہ ہوئی کہ نہ صرف ٹمبر مافیا اور بلڈر مافیا ہاتھوں بلکہ اکثر تو حکومتی سطح پر بھی تعمیرات اور سڑکوں وغیرہ کی توسیع کے نام پر درختوں کا صفایا ہوتا رہا نتیجہ یہ کہ اب کراچی میں سارا سال بس دو موسم ہوتے ہیں ایک تو گرمی اور دوسرے شدید گرمی۔ یوں لگتا ہے کہ جیسے گرمی نے یہاں مستقل ڈیرے ڈال لئے ہیں اور باقی سارے موسم کراچی سے رُوٹھ گئے ہیں۔

کُچھ ایسا ہی احوال کم و بیش لاہور کا بھی ہے وہاں بھی مضافات میں نئی بستیاں بسانے کی خاطر سبزے اور کھیتوں کو ختم کردیا گیا لیکن وہاں صورتِ حال کراچی جیسی خوفناک پھر بھی نہیں ہے البتہ وہاں اور قریب کے شہروں میں قائم کارخانوں اور فصلوں کے بُھوسے وغیرہ کو آگ لگاتے رہنے کے نتیجے میں کاربن ڈائی آکسائییڈ سمیت زہریلی گیسیں اور مادّے ہوا میں جمع ہوکے اسے زہریلا بناتے ہیں اور آنکھوں، سانس اور جِلد کی متعدّد خوفناک بیماریوں کا باعث بنتے ہیں اگر وہاں بھی درخت زیادہ سے زیادہ لگائے جائییں تو اس مسئلے پر قابو پایا جاسکتا ہے کیوں کہ چند عشرے قبل ایسی صُورتِ حال نہیں تھی۔

خیبر پختونخوا میں سبزہ اور درخت وافر ہیں لہٰذا وہاں ماحولیات اور موسم کی صورتِ حال باقی ملک کے مقابلے میں بہت بہتر ہے لیکن وہاں بھی درختوں کی کٹائی جس رفتار سے جاری ہے تو اس کے نتیجے میں باقی مُلک کی طرح وہاں بھی موسموں کا نظام قدرے درہم برہم ہوا ہے اور اب ہم دیکھتے ہیں کہ درختوں کی بےدریغ کٹائی کے سبب شُمالی علاقہ جات میں لینڈ سلائییڈنگز زیادہ ہوگئی ہیں نیز بارشوں کا سلسلہ بھی بگڑ گیا ہے کبھی تو بارشیں معمول سے کم ہوتی ہیں جن کے باعث فصلیں کم پانی ملنے کے باعث جل جاتی ہیں یعنی خراب ہوجاتی ہیں اور کبھی معمول سے زیادہ بارشیں ہونے کے سبب سیلاب آجاتے ہیں اور عموماً دریاٶں کے قریب کے علاقوں کے کھیت پانی میں ڈُوب جاتے ہیں نتیجتاً فصلیں تباہ ہوجاتی ہیں مزید یہ کہ درختوں کی کٹائی کی وجہ سے موسمِ گرما کی حِدّت اور طوالت میں اِضافہ ہوتا ہے اور پہاڑوں پر جمی برف پگھلنے لگتی ہے یہ برف اور گلیشئیر میٹھے یعنی تازہ پانی کا بہت بڑا ذریعہ ہیں اور دریاٶں کی روانی کا ایک سبب بھی ہیں پھر ان کے پگھلنے سے بھی لینڈ سلائڈنگ کے امکانات بڑھ جاتے ہیں اور میٹھے پانی کے ضیاع کے امکانات بھی، یعنی یہ سارے مسئلے مسائل محض درخت نہ ہونے یاکم ہونے کی وجہ سے جنم لیتے ہیں۔

اس لئے درختوں کے فوائد دیکھتے ہوئے یہ بآسانی کہا جاسکتا ہے کہ کسی بھی ملک کی ترقی اور خوشحالی کے ضامن درخت ہیں اقوامِ متحدہ کے مطابق کسی بھی ملک کی پچّیس فیصد زمین پر درخت ہونے چاہئییں جبکہ یُو این او کی رپورٹ کے مُطابق ہمارے یہاں جنگلات 2۔ 2 رقبے پر ہیں یہ جنگلی حیات کے حوالے سے بھی یہ بات بہت خطرناک ہے کیوں کہ جنگلوں کے کم یا ختم ہونے سے جنگلی حیات کو شدید نقصان پہنچتا ہے اور متعدد جانوروں کی نسلیں معدوم ہونے کا خطرہ ہوتا ہے کیوں کہ ان کے رہنے کا قدرتی ماحول تباہ ہوجاتا ہے ان تمام مسائیل کا جو ماحولیات سے متعلق ہیں ان کا واحد حل درختوں کی زیادہ تعداد ہے دوسرے لفظوں میں شجر کاری۔

بدقسمتی سے ہمارے مُلک میں شجرکاری کو نہ تو کبھی اہمیت دی گئی ہے اور نہ ہی اس باب میں کوئی سنجیدہ اور ٹھوس بُنیادوں پر کبھی کوئی اِقدامات کِیئے گئے شاید اس لیے کہ کسی بھی حکومت کو کبھی یہ احساس نہیں رہا درخت ماحول کی بہتری اور بقا کے لیے کس قدر اہم ہیں اس میں بہت بڑا ہاتھ ٹمبر مافیا کا بھی ہے چند روپوں کی خاطر جس بےدردی سے جنگلات کو تاراج کِیا گیا ہے اس کی مِثال نہیں ملتی اور ٹمبر مافیا کے خلاف بڑے پیمانے پر کوئی کاروائی یوں نہیں ہوسکتی کہ اس کاروبار میں سرکردہ لوگ اور اربابِ اختیار بھی شریک ہیں اکثر تو لکڑی کی خاطر نادر ونایاب اور بہت قدیم درختوں والے جنگلوں کا صفایا کِیا گیا اسے جہالت کہا جائے یا بے حسی، دونوں ہی باتیں درست ہیں۔

اگر حقیقی معنوں میں شجرکاری کی جاتی تو آج نہ ہمارے موسم گرم ہوتے نہ موسموں کا قدرتی نظام بگڑا ہوا ہوتا اور نہ ہم موسم کی خُشکی کا شکار ہوتے کہ جیسے آج بارشوں کی تناسب پہلے کی نسبت بہت کم ہوگیا ہے خصوصاً مون سون کی روایتی بارشیں کم ہوگئی ہیں۔ اگر مزید کچھ عرصہ یہ ہی صورتِ حال رہی تو ہمیں جس تباہی کا سامنا کرنا پڑے گا اس کا اندازہ بھی نہیں کیا جاسکتا اب بھی وقت ہے کہ اگر سرکاری اور نجی سطح پہ اس حوالے سے سنجیدگی سے کام کیا جائے شجرکاری صرف کاغذوں پر نہیں بلکہ حقیقت میں۔ اس کے علاوہ یہ کہنا بہت ضروری ہے کہ بے شک حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ لوگوں کی بہتری اور ترقی کے لئے کام کرے لیکن کیا بحیثیت ایک اچھے اور ذمہ دار شہری ہم پر کُچھ فرائض عائد نہیں ہوتے؟

شجرکاری کے لئے درخت لگانا اگر حکومت کا کام ہے تو ہم بھی انفرادی سطح پہ ہم بھی پودے لگا کے حکومت کا ہاتھ بٹاسکتے ہیں جبکہ اس عمل میں حکومت سے زیادہ ہمارا اپنا ہی فائدہ ہے۔ ایک چینی مقولہ ہے اگر نسلوں کی بہتری چاہتے ہو تو درخت لگاٶ اس کا مطلب یہ ہے کہ درخت نسل در نسل انسانوں کے کام آتے ہیں کاش ہمارے لوگ اس بات کو سمجھ لیں کہ درختوں کی کیا اہمیت ہے اور وہ ہمارے لئے کس درجہ مفید ہیں تو یقیناً ہر شخص اس بارے میں اپنا کردار ادا کرے گا ہم اکثر دیکھتے ہیں کہ لوگ باگ پودوں کو جڑ سے اُکھاڑ پھینکتے ہیں یا ہرے بھرے درختوں کی سرسبز شاخیں بےدردی سے توڑ ڈالتے ہیں اب ذرا کوئی ایسے لوگوں سے یہ تو پوچھے کہ اس عمل سے انھیں کیا فائدہ ہوا؟ اگر ان میں شعور ہو تو انھیں یہ معلوم ہو کہ درخت ہماری بہتری کا بہت بڑا ذریعہ ہیں پھر یقیناً وہ سبزہ اس طرح برباد نہیں کریں گے ہمارا ملک سرسبز و شاداب ہوگا تو ماحول بہتر ہوگا۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

کرن صدیقی کی دیگر تحریریں
کرن صدیقی کی دیگر تحریریں

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں