پرانے پاکستان سے نئے پاکستان تک


1-yasir-pirzadaیہ سن ستّر کی دہائی کا واقعہ  ہے ۔ایک اردو اخبار نے اپنے راولپنڈی ایڈیشن میں ایک شخص کے خلاف تین سطروں کی سنگل کالمی خبر شائع کی ، جس شخص کے خلاف خبر شائع ہوئی اُ س نے اخبار کے چیف ایڈیٹر(جو اُس دور میں بھی بزرگ صحافی تھے )، ریزیڈنٹ ایڈیٹر راولپنڈی اور خبر دینے والے مقامی  رپورٹر  کے خلاف عدالت میں درخواست دائر کر دی کہ مذکورہ خبر کی اشاعت سے اس کی بدنامی ہوئی ہے ۔اُس زمانے میں عدلیہ انتظامیہ سے علیحدہ نہیں ہوا کرتی تھی سو مجسٹریٹ کی عدالت میں  ابتدائی سماعت کے دوران خبر کا تراشا بطور ثبوت پیش کیا گیا جس کے بعد عدالت نے ان تینوں حضرات کے سمن  جاری کر دیئےلیکن ان کی تعمیل نہ ہو سکی ۔ اس ناکامی کے بعد عدالت نے انہی افراد کے  قابل  ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کئے مگر ان کی بھی تعمیل نہ ہو سکی ،وجہ اس کی یہ تھی کہ لاہور پولیس کی ہمت نہیں تھی کہ چیف ایڈیٹر صاحب پر وارنٹ کی تعمیل کروا سکیں ۔ قانون کے مطابق عدالت نے عدم تعمیل کی شہادت قلمبند کی اور ’’ملزمان ‘ ‘ کے نا قابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر دیئے اور ساتھ ہی ایس ایچ او مری کو حکم دیا  کہ ذاتی طور پر ان کی تعمیل کو یقینی بنائی جائے اور اس ضمن میں ایس ایچ او سول لائنز تھانہ لاہور ،جس کی حدود میں اخبار کا دفتر واقع تھا ،کو پابند کیا گیا کہ وہ ایس ایچ او مری کی معاونت کرے ۔ اب یہ معاملہ  اہمیت اختیار کر گیا تھا اور اس میں عوام کی دلچسپی بھی بڑھ گئی تھی کیونکہ عدالت اس ’’ہائی پروفائل ‘ ‘ کیس کو معمول کے مطابق  مگر بالکل قانونی انداز میں آگے بڑھا رہی تھی ۔ ایس ایچ او مری جب چیف ایڈیٹر صاحب کی خدمت  میں وارنٹ کی تعمیل کروانے پہنچا تو ایڈیٹر صاحب ایک نوجوان اور مودب تھانیدار کو اپنے دفتر میں موجود پا کر خاصے حیران ہوئے اور انہوں نے اس سے پہلے جاری کئے گئے عدالتی سمن  کے متعلق بھی لا علمی کا اظہار کیا تاہم جب انہوں پتہ چلا کہ پہلے دو موقعوں پر عدالتی نوٹسز ان کے سٹاف نے ہی ان تک نہیں پہنچائے تو انہوں نے فیصلہ کیا کہ وہ مری کی عدالت میں پیش ہوں گے البتہ مری تک کا سفر وہ اپنی کار میں کریں گے ، ایس ایچ او ان کے ساتھ آنا چاہے تو آسکتا ہے ۔مری میں اگلے روز شدید برف باری تھی ، مگر عدالت کی کاروائی اپنے وقت پر شروع ہوئی اور چیف ایڈیٹر ٹھیک نو بجے عدالت میں حاضر تھے ، انہوں نے عدالت میں اپنی بار ی کا انتظار کیا ، عدالت میں ذاتی ضمانت کے کاغذات جمع کروائے ، اپنے نالائق ریزیڈنٹ ایڈیٹر اور رپورٹر کی گوشمالی کی مگر ساتھ ہی بطور چیف ایڈیٹر اور پبلشر  اپنی ذمہ داری بھی قبول کی ۔ شروع میں چیف ایڈیٹراس سارے معاملے کو کچھ شک کی نگاہ سے دیکھ رہے تھے مگر  جب عدالت سے باہر ان کی ملاقات بار کے کچھ ممبران سے ہوئی اور مقامی لوگوں نے انہیں علاقے میں قانون کی عملداری کے متعلق بتایا تو وہ  مطمئن ہو گئے ، دوپہر تک عدالت نے کاروائی نمٹا دی ، اس دوران چیف ایڈیٹر سہ پہر تین بجے تک  عدالت کے احاطے میں موجود رہے ، جب کیس ختم ہو گیا تو مجسٹریٹ نے انہیں گرما گرم کافی کی پیشکش کی جو اس شرط کے ساتھ قبول کر کی گئی کہ وہ اس نوجوان مجسٹریٹ کا ماتھا چومیں گے جنہوں نے انہیں اس معمولی کیس کے ذریعے یہ موقع فراہم کیا کہ وہ اپنے سٹاف کی اصلاح کر سکیں ۔

یہ پرانے پاکستان کی ایک جھلک ہے ، اس پاکستان کی جہاں قانون کی عملداری ایک مجسٹریٹ بھی کرواسکتا تھا چاہے اس کے لئے ملک کے سب سے بڑے اخبار کے طاقتور ترین ایڈیٹر کو ہی کیوں نہ طلب کرنا پڑے ۔ لیکن قانون کی عملداری محض ریاستی اداروں کے ذریعے ہی ممکن نہیں ہوتی ، اس کے لئے معاشرے کے سرکردہ افراد کو بھی  اعلی اخلاقی روایات قائم کرنی پڑتی ہیں جیسے کہ چیف ایڈیٹر نے کیں ۔ یہ نہیں ہو سکتا کہ روزانہ صبح شام قانون اور اخلاقیات کا بھاشن دینے والے خود تو اخلاقیات کی دھجیاں اڑاتے پھریں اور پھر اس بات کا نوحہ پڑھیں کہ ملک میں قانون کی عملداری ہی نہیں ہے ۔۲۰۱۶ کے پاکستان کا مسئلہ ہی قانون کی عملدار ی ہے ، المیہ ہمارے معاشرے کا یہ ہے کہ ہم کسی بھی معاملے کو قانون کے مطابق حل کرنے پر یقین ہی نہیں رکھتے۔ مثلا  ًایک شخص تحصیلدار کے خلاف درخواست دیتا ہے کہ اس نے فلاں کام کے عوض پیسے مانگے ہیں ، کاروائی شروع کی جاتی ہے ، شکایت کرنے والا حلفیہ بیان جمع کرواتا ہے اور پھر ایک دن اچانک وہ یہ کہہ کر اپنی شکایت واپس لے لیتا ہے کہ یہ سب ’’غلط فہمی ‘ ‘ کی بنا پر ہوا تھا، شکایت داخل دفتر کر دی جاتی ہے ، کوئی نہیں پوچھتا کہ اگر یہ شکایت درست تھی تو تحصیلدار کے خلاف قانون کے مطابق کاروائی کیوں نہیں ہوئی  اور اگر شکایت کرنے والے نے جھوٹی شکایت کی تھی تو اس کے خلاف پرچہ درج کیوں نہیں ہوا؟

یہ درست ہے کہ ریاست کی عملداری اب اُس طرح ممکن نہیں رہی جیسے پرانے میں پاکستان میں تھی مگر اس کا یہ مطلب بھی نہیں کہ ریاستی ادارے بالکل  بے دست و پا ہوچکے ہیں  ،دراصل  ان اداروں کے ناکارہ پن کی ایک  وجہ بد نیتی ہے ، قانون کی عملداری کے لئے ضروری ہے کہ آپ کی نیت صاف ہو اور آپ کسی کو ذاتی عناد کا نشانہ بنانے کی بجائے قانون کا یکساں اطلاق کریں ، کسی  ناتواں ادارے کا سربراہ بھی اگر ان دو اصولوں کو پلے سے باندھ کر چلے گا تو  قانون کی طاقت اس کے پیچھے ہوگی اور وہ خاطر خواہ تبدیلی لانے میں کامیاب ہو سکے گا  ۔دوسری وجہ ہمارے قانون اور مروجہ اخلاقیات (value system) میں فرق  ہے ، یہ وجہ خاصی دلچسپ ہے اور کسی حد تک پیچیدہ بھی ۔ اس کی مثال یوں ہے کہ ہمارااینگلو سیکسن قانون ایک شخص کے جرم کو اُسی فرد کا جرم سمجھتا ہے نہ کہ پورے خاندان کاجرم، جبکہ ہمارے دیہات میں بات اس کے بالکل الٹ ہے ، اگر دیہات میں کوئی شخص قتل ہو جائے تو مدعی ایف آئی آر یوں لکھواتا ہے کہ اس میں ملز م کے خالو سے لے کر تایا تک پورے خاندان کا نام آ جائے اور پھر اسی ایف آئی آر میں اپنے خاندان والوں کی ’’چشم دید ‘ ‘گواہیاں بھی ڈالی جاتی ہیں ۔سو مروجہ قانون اور ویلیو سسٹم کا جو فرق ہے وہ قانون کی عملداری میں رکاوٹ کا باعث بنتا ہے ، اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ قانون یوں تبدیل کردیا جائے کہ اس میں کسی شخص کے ذاتی جرم کا ذمہ دار اس کے خاندان کو ٹھہرایا جائے ، مقصد صرف اس وجہ کی نشاندہی کرناہے جس وجہ سے ہمارے ملک میں قانون کی عملداری ایک کٹھن کام ہے ۔

یہ کالم خاصا خشک ہو گیا ہے اور مجھے یوں لگ رہا ہے  جیسے  میں وہ وکیل ہوں جس کا کام روزانہ دس بارہ کیسوں میں اپنے  ملزمان کی ضمانت کروانا ہوتا ہے ، ایسے ہی ایک وکیل کے پاس قتل کا مقدمہ آیا تو اس نے پچاس ہزار فیس طلب کی ، ملزم پارٹی کو لگا کہ اتنی تھوڑی فیس لینے والا وکیل قابل نہیں ہو سکتا ، سو انہوں نے ٹی او آر ڈرافٹ کرنے والا ایک تگڑا سا وکیل کیا اور اسے پچاس لاکھ فیس کی مگر ملزم کو پھر بھی پھانسی کی سزاہو گئی ، جب یہ پارٹی عدالت سے فیصلہ سن کر باہر آ رہی تھی تو انہیں پہلے والا وکیل ملا اور اس نے پوچھا کہ مقدمے کا کیا بنا ، ملزم کے بھائی نے مایوسی سے جواب دیا ، پھانسی کی سزا ہوئی ہے ، یہ سن کر وکیل بولا ’’جس کام کے لئے آپ نے پچاس لاکھ خرچ کئے وہی کام میں نے پچاس ہزار میں کروا دینا تھا ! ‘ ‘وما علینا الل بلاغ۔


Comments

FB Login Required - comments