بیل، بکرا اور میری ماں


میرے اسکول کا نام، برٹش لارڈز اسکول تھا۔ میرے گھر سے یہ اسکول پیدل کے رستے پر تھا۔ نام جتنا بھاری بھرکم تھا فیس اتنی ہی کم تھی۔ اس اسکول میں لوئر مڈل کلاس سے تعلق رکھنے والوں کے بچے پڑھا کرتے تھے۔ ان میں سے کئی گھروں میں کام کرنے والی ماسیوں کے بھی بچے تھے جن کے خیال میں یہ انگلش میڈیم اسکول بڑی بھاری فیس والا تھا۔ وہ بڑے فخر سے اپنی باجیوں کو بتایا کرتیں کہ ان کا بچہ انگلش میڈیم اسکول میں پڑھتا ہے۔

اس اسکول میں پڑھتے ہوئے مجھے چھ سال ہو چکے تھے۔ پہلے میری امی بھی اسی اسکول میں پڑھاتی تھیں۔ پھر انہیں ایک کیمبرج اسکول میں جاب مل گئی۔ میں نے خدا کا اشکر ادا کیا۔ ماں اگر استاد ہو تو بچوں کے لیے یوں بھی گھر اسکول ہی ہوتا ہے، اور اگر ماں اسکول میں بھی ٹیچر ہو تو اسکول جیل کی مانند ہوتا ہے۔

جب سے امی نئے اسکول میں جانے لگی تھیں، واپسی ذرا دیر سے ہو تی تھی اور میں اپنے دوستوں کے ساتھ اسکول سے کبھی کسی ٹھیلے پر فروٹ چاٹ کھاتا تو کبھی کسی ڈھابے پر ہم مل کر چائے پیتے۔ بڑی خوشیوں بھرے دن تھے۔ ایک بار تو ہم نے اسکول سے بھاگ کر بارہ سے تین والی فلم بھی دیکھی۔ وہ الگ بات کہ امی کو پتہ چل گیا، لیکن انہوں نے کچھ بھی نہ کہا، اور مجھ پر ایک خوف سا طاری رہا۔ ان کے رویے کبھی کبھی بڑے پر اسرار ہوا کرتے تھے۔ ان کی خاموشی ڈانٹ اور مار سے زیادہ ہولناک ہوا کرتی تھی۔ اس دن کے بعد سے میں نے سینما جانے سے توبہ کر لی۔

ایک سال بعد انہوں نے اپنے تئیں خوش خبری سنائی کہ اگلے سا ل وہ مجھے اس اس اسکول سے اٹھا لیں گی، اور میں پھر ان ہی کے اسکول میں فری تعلیم حاصل کر سکوں گا۔ وہ بہت خوش تھیں لیکن میری راتوں کی نیند حرام ہو چکی تھی۔ میں بہت اداس رہا کرتا۔ میں نے انہیں منا نے کی بہت کوشش کی، لیکن ان کا کہنا یہ ہی تھا کہ اس اسکول میں میری زبان بہت خراب ہو چکی ہے، اور یہ کہ انہوں نے میری خاطر ہی اپنا پرانا اسکول چھوڑ کر اس اسکول میں جاب کی ہے تاکہ وہ مجھے ایک بہتر ماحول میں تعلیم دلوا سکیں۔

وہ تو اس سال ہی مجھے داخلہ دلوا دیتیں اگر ان کے پاس میری آدھی فیس اور ایڈمیشن کے پیسے ہوتے۔ پالیسی کے مطابق ٹیچر کا ایک بچہ اس کی مدت ملازمت کے دو سال بعد ہی مفت تعلیم کا اہل ہوتا ہے وہ کہتیں خدا کا شکر ہے کہ تم اتنے اچھے اسکول میں پڑھو گے ورنہ میری تو اتنی حیثیت نہیں کہ تمہاری اتنی مہنگی تعلیم افورڈ کر سکوں۔ یہ تو میرا خواب تھا کہ تم او لیول کرو۔ اور اتنے اچھے اسکول میں، میں بالکل فری پڑھوگے۔ اور انشاللہ اے لیول کر کے نکلوگے۔

اورمجھے یہ ہی سوچ کر زیادہ وحشت ہو تی کہ پورے پانچ سال ہر وقت امی کی نظروں کے سامنے رہنا ہو گا۔ میں اکثر دعا کرتا تھا کہ ان کی وہ جاب چھوٹ جائے۔ امی ہر وقت میری ٹیچرز کو میری شکایت کے لیے دستیاب رہا کریں گی۔ ایک گھبراہٹ میرے دل پر طاری رہتی۔ معاشی پریشانیوں اور اپنوں کے رویوں نے ان کے مزاج میں سختی پیدا کر دی تھی۔ وہ بہت محنتی ذہین، خود دار، سلیقہ مند عورت تھیں۔ کسی سے مشکل وقت میں مدد طلب کی تھی نا کسی کی ہمدردی پسند کرتی تھیں۔ ان کے سامنے غلط بات یا جھوٹ چھپ نہیں سکتا تھا۔ جھوٹ پکڑنے کی تربیت انہیں میرے شاطر باپ کے پے درپے جھوٹ بولنے اور دوسری شادی کی حقیقت سامنے آنے پر ہوئی تھی۔ انہوں نے میرے باپ سے کچھ بھی نہ کہا بس مجھے لے کر ایک کرائے کے مکان میں چلی آئی تھیں۔

ان کی آنکھوں نے زمانے کی بڑی تلخ سچائیاں دیکھی تھیں جو ساری کی ساری ان کی آنکھوں کے ڈیلوں میں سما گئی تھیں۔ ان میں دیکھ کر شاطر سے شاطر بھی ساری چالاکی بھول کر صرف سچ اگلتا تھا۔ ۔ میرے ساتھ بھی یہ ہی مصیبت تھی۔ کبھی اگر جھوٹ بولا بھی تو وہ کہتیں۔ میری طرف دیکھو۔ اور پھر جانے میرے چہرے پر انہیں ایسی کیا نحوست نظر آتی کہ اگلا جملہ یہ ہی ہو تا، جھوٹ؟ اور ندامت سے میری نظریں زمین پر گڑ جاتیں۔ میرا آٹھویں جماعت کا نتیجہ آیا، میں اچھے نمبروں سے پاس ہوا تھا لیکن مجھے کوئی خوشی نہیں تھی۔ مجھے اب امی کے اسکول میں جو پڑھنا تھا۔

اس روز وہ بہت خوش تھیں۔ انہوں نے فون پر میری خالہ کو بتا یا کہ وہ اس خیال سے ہی بڑی مطمئن ہیں کہ اب میں ان کی نظروں کے سامنے رہوں گا۔ اس رات میں بستر پر جلد ہی لیٹ گیا۔ میں نے اب تک اپنے دوستوں کو بھی نہیں بتایا تھا کہ اگلی جماعت میں میں ان کے ساتھ نہیں ہوں گا۔ مجھے معلوم تھا کہ وہ مجھے روکیں گے، لیکن امی کے اٹل فیصلے کو بدلنا آسان نہیں تھا۔ وہ میرے کمرے میں آئیں تو میں سوتا بن گیا۔ انہوں نے میرے سر میں تیل لگا یا، میرے ماتھے پر پیار کیا اور چلی گئیں۔ امی کے اسکول میں نئے سیشن کا آغاز اگست سے ہونا تھا۔ میرے پاس چار مہینے فراغت کے تھے۔ میں ان چار مہینوں میں اپنی زندگی جی لینا چاہتا تھا۔ میں نے پلان بنا نا شروع کر دیے۔

دوسرے دن اپنے جگری دوست عباس کو اعتماد میں لے کر بتایا کہ اب میں اس اسکول میں پڑھائی جاری نہیں رکھ سکوں گا لیکن ساتھ ہی اسے خوش خبری بھی دی کہ عیاشیاں کرنے کے لیے میرے پاس پورے دو مہینے ہیں، امی اسکول ہو گی اور میں گھر پر۔ عباس نے بھی اسکول سے ٹلا مارنے کے منصوبے بنائے۔ اور دو اور لفنگے دوستوں کو اپنے ساتھ ملایا۔ اب ہو تا یہ تھا کہ امی کے اسکول جانے کے بعد میں عباس، کمیل اور یاسر آجاتے ہم کبھی گھر اور کبھی باہر موج مستی کرتے اور امی کے گھر آنے سے پہلے میں سوتا بن جا تا۔ گھر آنے کے بعد وہ مجھے بار بار آوازیں دے کر اٹھاتیں۔ لیکن اس عرصے میں وہ اکثر پریشانی کا ظہار بھی کرتیں کہ میں رات کو جلدی سونے کے باوجود دن بھر بھی سوتا رہتا ہوں۔

ایک دن میں گھر آیا تووہ پہلے سے موجود تھیں۔ میں نے اس اچانک افتاد کا پہلے سے حل سوچ رکھا تھا۔ ان کے آنکھیں دکھانے پر میں نے اسے جیب سے دانت کے درد کی ٹیبلیٹ نکال کر دکھا دی۔ اور ہائے ہائے کرتا ہوا بستر پر لیٹ گیا۔ انہوں نے مجھے پانی اور دودھ لاکر دیا۔ اور کمرے سے چلی گئیں۔ میں نے خود کو شاباش دی اور خدا کا شکر ادا کیا۔ دوسرے دن عباس کے دروازہ کھٹکھٹانے پر میری آنکھ کھلی، دروازے پر پہنچا تو امی دروازہ کھول چکی تھیں اور عباس کو حیرت سے دیکھ رہی تھیں۔ میری نظر ان پرپڑی تو الٹے قدموں بستر پر آکر لیٹ گیا۔ دروازہ بند ہونے کی آواز آئی۔ چند لمحوں بعد روشنی سے میری آنکھیں چندھیا گئیں۔ عباس ناشتا لایا ہے کرلو۔ اب ایکٹنگ کا کوئی فائدہ نہیں۔

امی نے پھر وہی پر اسرار خاموشی اختیار کی میں نے عباس، کمیل اور یاسر کو گھر آنے سے منع کر دیا۔ اور اب پھر وہ ہی بے کیف دن میری زندگی میں تھے۔ میں اکثر سوچا کرتا تھا عباس، کمیل اور یاسر کتنے خوش نصیب ہیں ان پر کوئی روک ٹوک نہیں وہ جہاں چاہیں جا سکتے ہیں۔ ان کی تو مائیں بھی کبھی ان کے اسکول ان کی کارکردگی پوچھنے نہیں آتیں ایک میری امی ہیں۔ میری ایک ایک حرکت پر ان کی نظر ہو تی ہے۔ اور اساتذہ بھی میری پڑھائی اور میرے اعمال پر کڑی نظر رکھتے تھے۔ امی ان کی کلیگ جو رہ چکی تھیں اور میں شاید اس حوالے سے ان کا رشتے دار لگتا تھا۔

ایک روز امی والے بڑے اسکول میں میرا ایڈمیشن کر دیا گیا۔ امی نے میری مہنگی کتابوں اور یونی فارم کے لیے کمیٹی ڈال لی تھی اور پہلی خود لے لی تھی میں نے دبے الفاظ میں انہیں سمجھا نے کی کوشش کی کہ بلا وجہ اتنا خرچ کرنے کی کیا ضرورت ہے اچھا خاصا پچھلے اسکول پڑھ رہا تھا۔ اب نویں میں تو ساری کتابیں بھی سندھ ٹیکسٹ بک بورڈ کی تھیں جن کی قیمت برائے نام تھی۔ مگر ان کا وہی جواب کہ میرا خواب تھا کہ تم او لیول کرو۔ یہ تو خدا کا کرم ہوا ورنہ ہماری تو اتنی حیثیت نہیں کہ اتنے مہنگے اسکول میں تمہیں پڑھا سکیں۔

اس اسکول کا عجیب مصنوعی ماحول تھا۔ بچے کینٹین سے مہنگی مہنگی چیزیں لے کر کھاتے۔ وہ سب ہی بڑی بڑی گاڑیوں میں اسکول آتے تھے۔ ٹیچرز سے سب ہی انگریزی میں بات کیاکرتے۔ ٹیچر زبھی سب سے بے تکلفانہ بات کرتے لیکن ایک احترام کا عنصر ان کی گفتگو میں نظر آتا جب کہ پچھلے اسکول میں تمام استاد ہر وقت غصے میں ہی دکھائی دیتے، لیکن اس کے باوجود ہم ان سے بالکل نہ ڈرتے۔ اور ان کی ڈانٹ ڈپٹ پر ترکی بہ ترکی کر کے ان کے غصے کو بڑھاوا دیا کرتے۔

یہاں یار اور ابے کہنے پر ٹیچر سے ڈانٹ پڑتی تھی اور بریک میں بھی آپس میں اردو میں بات کرنے پر تنبیہ کی جا تی تھی۔ جب کہ پچھلے اسکول میں بڑا کھلا ڈلا ماحول تھا۔ گالم گلوچ گندے گندے لطیفے سنا کر ہاتھ پر ہاتھ مار کر ہنسنا، اور خواتین ٹیچرز کے جسم کے مختلف اعضا ٗکے بارے میں بے ہودہ کمنٹ پاس کرنا اور خوب صورت استانیوں کو ہم سب اصل ناموں کے بجائے کاجول، ایشوریہ، اور لارا دتا کہتے۔ مرد اور خواتین اساتذہ کے ہم نے اپنے تئیں چکر مشہور کیے ہوئے تھے۔ اس تمیز تہذیب والے ماحول میں میرا دم گھٹتا۔

مزید پڑھنے کے لئے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں