کچھ گالی کی شان میں


گالی ایک ایسا لفظ ہے جو اپنے آپ میں معنی کی ایک کائنات لیے ہوئے ہوتا ہے۔ یہ غصہ کے اظہار کا مختصر ترین اور جامع انداز ہے۔ اس کے معنی کی وسعت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ یہ محض ایک لفظ میں تخلیقی عمل سے لے کر خاندانی حسب و نصب، ذاتی خصائص اور اعمال تک کو بیان کر سکتا ہے۔ اس کی طاقت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ گالی دینے والا اپنے جملہ احساسات، جذبات اور خیالات کو ایک لفظ میں سمو کر بیان کر سکتا ہے اور سننے والے کو یہ اتنی شدت سے اکساتاہے کہ نیوٹن کے تیسرے قانون حرکت کاردعمل دوگنی شدت اختیارکرلیتا ہے۔

گالی غصے کے اظہار کو موثر ذریعہ ہے جس سے اندر کا دبا غصہ جو فشار خون کو بلند کرنے کا باعث بن رہا ہوتا ہے گالی کی صورت منہ سے بہتا ہے تو گالی دینے والے انسان کو یک گونہ سکون محسوس ہوتا ہے۔ دل کی بھڑاس نکل جاتی ہے جسے عظیم فلاسفر کتھارسس کا نام دے گئے ہیں۔ بھڑاس نکلتے ہی چہرے پہ رونق اور سکون آجاتا ہے اور جلد بغیر فیشل کے گلو کرنے لگتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مرد خواتین کی نسبت اس کا استعمال زیادہ کھلے دل سے کرتے ہیں تاکہ وہ سیلون کا خرچہ بچا سکیں۔

لیکن سننے والے پہ اس کا اثر اس کے بالکل الٹ ہوتا ہے کان سے ٹکراتے ہی کان کے ریسپٹر دماغ کو سرعت سے پیغام پہنچاتے ہیں کہ غیر معمولی واقعہ ہو چکا ہے جس کے نتیجے میں دماغ گڑبڑا جاتا ہے اور خون کی گردش یکدم تیز ہوجاتی ہے۔ ساتھ اس کے معنی پہ غور و فکر زبان کو جوابی کارووائی کی تحریک دیتے ہیں اور بعض صورتوں میں ہاتھ پاوں کو حکم بھی دے دیتے ہیں کہ گھونسے کی صورت میں بدلہ لیا جائے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ہر عمل کا محض ردعمل نہیں ہوتا بلکہ بعض صورتوں میں شدید ردعمل بھی ہوتا ہے۔

ہر سماج میں گالی کو اپنا الگ مقام حاصل ہے۔ لیکن شاذ ہی کوئی اہسا سماج ہو جہاں اسے غصے کے اظہار کا موثر ذریعہ نہ سمجھا جاتا ہو۔ کچھ لوگ اسے اپنا تکیہ کلام بنا لیتے ہیں اس پیے معنی پہ غور بھی کم ہی کرتے ہیں۔ کچھ لوگوں کے منہ سے جھڑنے والے یہ پھول اتنے مشہور ہو جاتے ہیں کہ باقاعدہ لغت میں نئے الفاظ کے اضافے کا باعث بنتے ہیں۔ اس کے خوائض ایک طرف لیکن اس کا سماج میں رائج ہونا ایک طرف۔ ہر کوئی چاہتا ہے کہ اسے گالی نہ دی جائے۔

والدین کی خواہش ہوتی ہے کہ اولاد یہ مغلظات نہ سیکھے لیکن یہ زبان سیکھنے کے خود کار عمل کی طرح ہر ایک کی لغت کا حصہ بنتی ہے۔ لیکن یہ سیکھنا اتنتہائی لازم ہے کہ اس کا استعمال کہاں کب اور کیسے کیا جائے ورنہ یہ دانت کیا سارے جسم کی ہڈیاں تڑوانے کا سبب ہو سکتی ہے۔ اگر اس کا بے خیالی میں کسی ناصح کے سامنے کیا گیا استعمال گھنٹوں کی سماع خراشی باعث بن سکتا ہے۔ اور اس دوران دل مغلظات بکنے میں مصروف رہتا ہے۔ ایک بات اور آپ کے لب غالب کے محبوب کے لب نہیں ہیں کہ گالیاں کھا کے رقیب بے مزا نہ ہو۔ غالب بھی کیسی بات کہہ گئے اور ہمارے معصوم لوگ اسی چکر میں دانت تڑوا بیٹھتے ہیں۔

گالی ایک ایسی پراڈکٹ ہے جس پہ سرخ رنگ سے واضح لکھا ہوتا ہے کہ اپنی ذمہ داری پہ استعمال کریں۔ ایسے ہی باتیں بلاگنگ سائیٹس پی بھی لکھی ہوتی ہیں کہ کہنے والا اپنی گالیوں او معاف کیجیے گا الفاظ کا خود ذمہ دار ہو گا۔ اس کا ادارے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ اب دیکھ لیجیے یہ کہاں تک ہمارے سماج، رواج، زبان کا حصہ بن چکی ہے۔ لیکن پھر بھی حصہ ڈالنے سے گریز کیجیے۔ ورنہ دانت ٹوٹنے پہ کوئی دوسرا ذمہ دار نہ ہوگا۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں