ہجرتی پرندوں کی تیسری نسل اور متروکہ چابیاں


چابیاں ہمیشہ فلسطین کے ’’نکبہ‘‘ کی علامت رہیں گی، وہ آخری، انتہائی اور بھیانک موقع جب گھروں کے دروازے بند ہوئے ہوں گے جس وقت ساڑھے سات لاکھ عرب مرد، عورتیں اور بچّے یا تو جان بچا کر بھاگے یا اپنے گھروں سے نکال دیے گئے اور وہ علاقہ 1947ء اور 1948ء میں اسرائیل کی ریاست بن گیا۔

بس تھوڑے دن کے لیے، ذہن میں رکھیے، چوں کہ ان میں سے زیادہ تر کو یقین تھا – یا وہ سمجھتے تھے – کہ وہ واپس آجائیں گے، ہفتے ڈیڑھ ہفتے کے بعد اور بند تالے کھول کر ان گھروں میں دوبارہ داخل ہوں گے جو کئی نسلوں سے ان کی ملکیت رہے تھے۔ جب میں ان چابیوں کو دیکھتا ہوں مجھ پر ہمیشہ ’’صدمے اور ہیبت‘‘ کی کیفیت طاری ہو جاتی ہے۔ اور ابھی چند دن پہلے میں ایسی ہی ایک چابی اپنے ہاتھ میں اٹھائے ہوئے تھا۔

یہ بھاری بھرکم چابی تھی، ان آہنی چابیوں کی طرح جو برطانیہ اور امریکہ کے لوگ سو برس پہلے استعمال کرتے تھے، جس کا ایک لمبا اور پتلا حصّہ ہوتا تھا، دندانہ ایک اور خم اور نیچے کے حصّے میں ہلکا سا دوہرا خم تاکہ اپنے دو انگلیوں اور انگوٹھے کے ساتھ مضبوطی سے پکڑ سکیں۔

 

وہ کسان یہ چابی جس کی ملکیت تھی فلسطین کے سرحدی گائوں الخالصہ میں رہتا تھا اور سنگِ سیاہ کے بنے اپنے مکان کا دروازہ آخری بار 11 مئی 1948ء کو مقفّل کیا تھا جب یہودی مسلح تنظیم حگاتاہ نے گائوں کے لوگوں کی درخواست مسترد کردی کہ ان کو اس گائوں میں رہنے دیا جائے۔

فلسطین اور اسرائیل کے مورخین میں اس گائوں کی تاریخ کے بارے میں اتفاق رائے ہے۔ فلسطین کا سرحدی گائوں الخالصہ اب اسرائیل کا سرحدی گائوں کیریت شوما بن چکا ہے اور اس گائوں کے چند ایک پناہ گزین لبنان کی خیمہ بستیوں میں زندگی کے دن گزار رہے ہیں، اب بھی اپنی زمینوں کو دیکھ سکتے ہیں اگر وہ اس ملک کی انتہائی جنوبی سرحدوں کی طرف جائیں اور سرحد پر نصب اردار تاروں کی باڑھ کے آر پار دیکھ لیں۔

کم ہی خیمہ بستیاں اتنی پست حالت میں ہوں گی جتنی کہ شیتلا جہاں محمد عصّی خطیب اسی قدر زدہ حال ’’یادوں کا عجائب خانہ‘‘ قائم کیے بیٹھا ہے، اتنے اثاثے پر – ایک بھدی سی تعمیر میں قدیمی فلسطین کی درانتیاں، برطانوی اور عثمانی ترکوں کے دور کی میں زمین کی ملکیت کی دستاویزات 1940ء کے ریڈیو سیٹ، دھات کے قہوہ پینے کے برتن – اور چابیاں۔ ان میں سے ایک، جس کا اوپری حصّہ بھی نہیں ہے، غالباً جانوروں کے باڑے کے لیے استعمال کی جاتی تھی۔

خطیب خاندان کی اپنی چابی کھو چکی تھی (میں ہاتھ میں جو چابی لیے ہوئے تھا وہ کامل حسن نام کے ایک اور پناہ گزین کی ملکیت تھی)۔ محمد لبنان میں پیدا ہوا تھا، اپنے ماں باپ کے الخالصہ سے جاں بچا کر بھاگنے کے چند دن بعد اور اس اعلان سے چند دن پہلے جس کے مطابق اسرائیل کی ریاست کے قیام کا اعلان ہوا تھا۔

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی قرارداد 194، منظور شدہ 1948ء، کہتی ہے کہ عرب اپنے گھروں کو واپس چلے جائیں۔ اسی لیے فلسطین کی طرف سے یہ مستقل مطالبہ ہے – حق بجانب مگر اب جس کی امید نہیں رہی – کہ ان کو اپنی زمینوں پر ’’واپسی کا حق‘‘ مل جائے گا جو اب اسرائیل کی حدود میں آگئی ہیں۔

اسرائیل کا 1950ء کا ’’غیرحاضر افراد کی جائیداد کا قانون‘‘ ان تمام عربوں کی واپسی کے امکان کو مسترد کر دیتا ہے جو اسرائیل کی جنگ آزادی کے دوران اپنی جائداد چھوڑ کر فرار ہوگئے تھے۔ بہت سے اسرائیلی اس بات سے متفّق ہیں کہ عربوں کو اس ملکیت سے محروم کرنا ناانصافی تھی۔ مگر جیسا کہ بہت عمدہ اور آزاد خیال اسرائیلی عالم ایوی شلائم نے ایک مرتبہ مجھ سے کہا تھا کہ اسرائیل کو 1949ء میں اقوام متحدہ کی رکنیت مل گئی تھی۔ ’’جو چیز قانون کے مطابق ہے، لازمی نہیں کہ وہ انصاف پر مبنی بھی ہو‘‘ انھوں نے کہا۔

یہ دلیل ایسی نہیں کہ آپ محمد خطیب کے سامنے رکھ سکیں۔ وہ اس وقت تک کام کرتا رہا جب وہ دس برس پہلے اقوام متحدہ کی رلیف اور ورکس ایجنسی کے لیے ڈاکٹر کے طور پر کام کرتا رہا جو 1949ء میں ان تمام فلسطینی پناہ گزینوں کی دیکھ بھال کے لیے قائم کی گئی تھی جو پہلے پہل ’’نکبہ‘‘ میں گھروں کو چھوڑ گئے تھے اور پھر 1967ء کی جنگ میں دربدری پر مجبور ہوئے تھے۔ اس کی ذمہ داری تقریباً پانچ ملین فلسطینی ہیں جن میں بہت سے 1947-48 ء کے مہاجرین کی اولاد یا اولاد در اولاد ہیں جو جلاوطنی کے دوران پیدا ہوئے۔ ان میں سے تقریباً نصف ملین لبنان میں پیدا ہوئے۔

خطیب کے فلاکت کے عجائب خانہ میں سگریٹ کی بو پھیلی ہے – جب میں وہاں پہنچا تو سارے لوگ رمضان کی پابندی نہیں کررہے تھے جیسا کہ انھوں نے خوش دلی سے اقرار کیا، اور وہاں زنگ اور پرانے کاغذ کی بو بسی ہوئی تھی۔

یہ دستاویزات اور خاکی رنگ کے پاسپورٹ میرے دیکھے بھالے ہیں۔ گزشتہ برسوں میں، مَیں نے اس طرح کے کاغذات، زمین کی ملکیت کے حق اور پاسپورٹ دیکھ رکھے ہیں جن پر مینڈیٹ فلسطین کے برطانوی ’’حفاظت کاروں‘‘ کا طُغرہ عام طور پر موجود ہوتا ہے، وہی جانا پہچانا تاج، شیر اور ایک سینگ والا گھوڑا اور حرفِ ملامت کہ ’’جو اس کا بُرا چاہے وہ آپ ہی شرمندہ ہو۔‘‘

باقی تحریر پڑھنے کے لئے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیے

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

رابرٹ فسک کی دیگر تحریریں
رابرٹ فسک کی دیگر تحریریں

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں