دارالحکومت کی گول گول چکر کھاتی بس


ilyas danishدارالحکومت کے وسط میں چلنے والی بس عوام کیلئے ہی بنی ہے مگر عوام کی کبھی ہو نہیں سکی۔ یہ بس بڑے عرصے سے چل رہی ہے ، چلتی رہتی ہے اور چلتی رہے گی ۔ چکر پہ چکر لگاتی رہتی ہے ، گول گول چکر اور ہم سب اسے چکر لگاتے ہوئے دیکھتے رہتے ہیں ۔ ہم سب یعنی سارے عوام ،جن کی یہ بس ہے مگر کبھی ہو نہیں سکی ۔

گول گول چکر

ہر دن جو گزر گیا

جو بیت رہا ہے اور جو آنے والا ہے

بس چکر پہ چکر لگاتی رہتی ہے

کسی بھی معاملے میں جب ہم اسے دیکھتے ہیں

بس گول گول چکر لگاتی رہتی ہے

بس کے شیشے دھندلے ہوتے جارہے ہیں ، وائپر چلتا رہتا ہے ۔ دھند بڑھتی جاتی ہے اور دھول اڑتی رہتی ہے

بس چکر پہ چکر لگاتی رہتی ہے

ہارن بجانے والا ہارن بجاتا ہے، شور بڑھتا ہے، سنی ان سنی کی جاتی ہے۔ ہم چیختے رہتے ہیں

بس چکر پہ چکر لگاتی رہتی ہے

دروازے کھلتے ہیں ، بند ہوتے ہیں ، لوگ آتے ہیں ، جاتے ہیں، کبھی نکلتے ہیں ،کبھی نکالے جاتے ہیں۔ ہمار بوجھ بڑھتا جارہا ہے۔

بس چکر پہ چکر لگاتی رہتی ہے

 باوردی ڈرائیور اپنی ٹوپی ترچھی کرتا ہے، اشارے ملتے ہیں ۔

آگے بڑھو !

پیچھے ہٹو!

دائیں ، بائیں ، نہیں بائیں دائیں

چکر لگائو ، چکر کھائو!

بس چکر پہ چکر لگاتی رہتی ہے

بس کے ایک طرف بیٹھے بچے شور مچاتے ہیں، کرسیاں اکھاڑتے ہیں، دھمکاتے ہیں

دوسری طرف باری والے بچے ہنستے کھیلتے ہیں

ٹافی کھاتے ہیں ، بسکٹ اڑاتے ہیں

واہ واہ کرتے ہیں

بس چکر پہ چکر لگاتی رہتی ہے

ہمپٹی ڈمپٹی بس کے اندر کم ہی آتا ہے

بس کے اوپر ٹانگ پر ٹانگ پسارے بیٹھا رہتا ہے ۔

سمندر پار سے آنے والے سنگریزے زلزلہ بپا کردیتے ہیں

بس کے شیشے ٹوٹ جاتےہیں

اندر بیٹھے کئی لوگوں کے سر چٹخ جاتے ہیں

ہمپٹی ڈمپٹی بھی لڑکھڑا کر بس سے گر جاتاہے

زمین پر گرتے ہی ٹکڑوں میں بٹ جاتا ہے

شاہ کے سبھی گھوڑے

شاہ کے سبھی غلام

سارے جتن کرتے ہیں

ہر مرہم ، ہر کام

مگر سب مل کر بھی اسے دوبارہ نہیں جوڑ پاتے

جڑواں شہر کی جوڑ توڑوالی سیمنٹ فیکٹری سے

نیا میجک بھیجا جاتا ہے

اور پھر جسے جڑنا ہے جڑ جاتاہے، باقی ٹوٹا پھوٹا رہتا ہے

بس کے شیشے لگ جاتے ہیں

لوگ پھر سے آجاتے ہیں

نیا ہمپٹی ڈمپٹی چڑھ جاتا ہے

بس چکر پہ چکر لگاتی رہتی ہے

اورہم سب دیکھتے رہتے ہیں

ہم سب یعنی ہم عوام ۔۔۔


Comments

FB Login Required - comments