مکی آرتھر، کیا گُل کھلائیں گے


 شاہ محمود خان مہمند
shah mahmoodمکی آرتھر! کو پاکستان کرکٹ کوچ بنا کر پی سی بی نے سکھ کا سانس لیا۔ ورلڈ کپ میں شکست کے بعد وقار یونس اور آفریدی اس شکست کا ذمہ دار قرار دے دئے گئے اور دونوں کو فارغ کر دیا گیا۔ ایک طرف کوچنگ پوسٹ خالی ہوگئی تو کئی سابق پلیئرز اور پی سی بی کے چہیتے کوچنگ کا خواب دیکھنے لگے۔ جن میں محسن حسن خان سب سے اہم اور کامیاب امیدوار تھے۔ جب ان کی بات شروع ہو گئی تو ہر طرف سے آوازیں آنے لگیں کہ اگر محسن حسن خان میں اتنی صلاحیت تھی تو پہلے کیوں فارغ کر دیا گیا تھا۔ جب یہ بات پی سی بی کے ذہن میں بیٹھ گئی تب انھوں نے محسن کے احسانوں کو بھلا دیا اور اسے ’’سلیکشن کمیٹی ‘‘ کی آفر کی۔ عاقب جاوید کو یو اے ای میں کافی عزت اور پیسے ملتے ہیں، امن اور سکون سے اپنی زندگی گزارتے ہیں انھیں شاید یہ پاکستانی روپے پسند نہیں تھے یا ان لوگوں کی تنقیدی تیروں سے بچنے کے لیے کوچنگ جیسی اہم، آسان اور بھاری تنخواہ والے عہدے کو ٹھکرا دیا۔ سٹورٹ لا آسٹریلین ٹیم کے ساتھ بطور بیٹنگ کوچ ہے اور ان کا یہ معاہدہ ستمبر کے آخر تک کےلیے ہے اس لیے ان کی خاموشی کو بھی انکار ہی سمجھ لیا گیا۔

مورس، سٹورٹ لا، عاقب جاوید کے انکار کے بعد پی سی بی کو کوچنگ سلیکشن میں کافی مسئلہ درپیش تھا۔ وقت گزرتا جاتا اور پی سی بی کے لیے پریشانی بڑھتی جارہی تھی مگر آخر کار یہ چڑیا مکی آرتھر کے سر پر بیٹھ گئی۔ 110فرسٹ کلاس میچز کھیلنے والے جنوبی افریقہ کے مکی آرتھر 5سال تک جنوبی افریقہ کی کوچنگ کر چکے ہیں اور ان کی کوچنگ میں جنوبی افریقہ نے تمام فارمیٹ کے رینکنگ میں پہلی پوزیشن حاصل کی تھی نیز وہ آسٹریلیا کی کوچنگ بھی کر چکے ہیں۔ یہاں ان کی کامیابیوں کے ساتھ ساتھ ناکامیوں کا ذکر بھی آتا ہے۔ 0052 سے 2010 تک جنوبی افریقہ کی ٹیم کو رینکنگ میں پہلی نمبر پر لانے والے مکی نے 2010 میں آسٹریلیا کی کوچنگ شروع کی تو ناکامیاں سمیٹنے لگے اور آخر کار 2013 میں ایشز میں شکست پر اسے کوچنگ سے فارغ کر دیا گیا۔ اس کے علاوہ گریم سمتھ کے ساتھ اختلافات کی وجہ سے جنوبی افریقہ کی کوچنگ سے فارغ کیا گیا تھا۔ نہ صرف یہ بلکہ انھوں نے کئی دفعہ امپائرز پر جانبداری کے الزامات بھی لگائے ہیں۔ متنازعہ شخصیت کے مالک مکی ہر وقت کسی نہ کسی گروپ بندی، الزام تراشی اور لڑائی جھگڑوں میں ملوث رہے ہیں۔ پاکستان سپر لیگ میں کراچی کنگ کی کوچنگ بھی انہیں ہی سونپی گئی مگر ان کی ٹیم پلے آف تک بھی نہ پہنچ پائی۔یہ وہی مکی آرتھر ہے جس نے پاکستانی ٹیم پر بغیر ثبوت کے فکسنگ کا الزام لگایا تھا۔ پتہ نہیں مکی زخمی ٹیم، جو ہر وقت گروپ بندی، فکسنگ، مشکوک باؤلنگ ایکشن، ڈوپ ٹیسٹ جیسے مسائل کا شکار رہتی ہے اس ٹیم کو ہی ختم کرنے میں کتنا وقت لے گاکیونکہ اس سے تو اچھائی کی امید ہی بی وقوفانہ سوچ لگتی ہے۔

ان تمام باتوں سے با آسانی پتہ چلتا ہے کہ کرکٹ میں کوچنگ کی کوئی خاص اہمیت نہیں ہوتی۔ بقول جاوید میاں داد کے انٹر نیشنل کرکٹ میں کوچنگ کی ضرورت ہی نہیں، اگر کوچز اچھے پلیئرز پیدا کرتے تو میرے سارے بچے پاکستان کے بہترین بیٹسمین ہوتے۔ انھوں نے مزید کہا کہ غیر ملکی کوچ کی باتیں کرنے والے کرکٹ بورڈ کو بھی غیر ملکی ٹھیکے پر دے دیں۔ عبدالقادر نے بھی جاوید میاں داد کی بات کی حمایت کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ کوچ ملکی ہو یا غیر ملکی محض پیسے کا ضیاع ہے۔ جاوید میاں داد اور عبدالقادر کوچ کے حق میں ہی نہیں ہیں اور ان کی بات بھی ٹھیک ہے کہ کپتان کو کوچنگ کے فرائض بھی دیے جائے جس طرح ایک وقت میں نیوزیلینڈ نے فلیمنگ کو ایسے فرائض دیے تھے۔

پی سی بی سے مکی آرتھر کو ماہانہ 18لاکھ روپے تنخواہ ملے گی۔ ٹریول الاؤنس کے علاوہ انہیں سال میں 30دن کی چھٹی بھی ملے گی اور دیگر الاؤنسز بھی جس سے پی سی بی کو تقریباً 25سے30لاکھ روپے ماہانہ نقصان اٹھانا پڑے گا۔ مکی فی الحال این سی اے میں رہائش پزیر ہوں گے لیکن اگر وہ چاہے تو پی سی بھی انھیں گھر بھی فراہم کرے گا۔ جبکہ وقار یونس کو 15لاکھ تنخوا ملتی تھی اور ہر سیریز کے بعد وہ اپنے سسرال آسٹریلیا جاتا جس پر انہیں کافی تنقید کا نشانہ بنایا جاتا تھا۔ اب سوچنے کی بات یہ ہے کہ مکی آرتھر کتنی دفعہ جائے گا اور کتنے پیسے بٹورے گا؟
ساری باتیں سمجھ سے بالا تر ہیں، ہم نے میچز خراب بیٹنگ کی وجہ سے ہارے اور ہم نے باؤلنگ کوچ کو ہٹایا اور گرانٹ فلاور ابھی بھی ٹیم کے ساتھ ہے، اس سے پہلے بھی ہم نے یہ تجربہ کیا تھا جب مشتاق احمد کو ہٹایا تو اظہر محمود کو لایا گیا۔ حالانکہ سپنر کی جگہ فاسٹ باؤلر لانا کہا کا انصاف ہے۔ ورلڈ کپ اور ایشیاء کپ میں شکت پر شاہد آفریدی اور وقار یونس کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا اور رپورٹ جمع کرانے اور ان سے وضاحت طلب کرنے لگ گئے حالانکہ ہم نے میچز کمزور بیٹنگ کی بنیاد پر ہارے تھے مگر کسی میں یہ جرأت ہی نہیں تھی کہ گرانٹ فلاور سے وضاحت طلب کرتے۔
ان سب باتوں کو چھوڑ کر یہ سمجھ لیا جائے کہ واقعی کوچ ٹیم کے لیے ضروری ہوتا ہے تو پھر آخر غیر ملکی کیوں؟ ملکی کوچ کا انتخاب ہی کیوں نہ کیا جائے۔ جیسے کہ ماضی میں کئی دفعہ ایسا ہوا ہے کہ کسی بھی کھلاڑی کو سمجھ نہیں آتا کہ کوچ کیا بول رہا ہے جس کی وجہ سے ارتباطی خلاء پیدا ہوجاتا ہے۔ محسن حسن خان کی کوچنگ کے بارے میں آپ کو علم ہوگا کہ اس نے پاکستان ٹیم کو دنیا کے کس مقام پر پہنچایا۔ پورے سال اس کی کوچنگ میں ٹیم نے ٹیسٹ میں شکست نہیں کھائی تھی اور سب سے زیادہ سیریز جیتنے کا ریکارڈ بھی بنایا تھا۔ اس کے بعد اور اس سے پہلے کبھی گرین ٹیم کا ایسا کوچ نہیں آیا تھا اور نہ آئے گا۔ اب بھی اگر کوشش کی جائے تو ملکی کوچ ٹیم کو آسمان پر پہنچا سکتا ہے مگر جس کے ہاتھوں میں طاقت ہیں وہ اس بات پر توجہ ہی نہیں دیتے۔ پاکستان ٹیم کو جیت کے ٹریک پر لانے کا علاج صرف ملکی کوچز کے ہاتھوں میں ہے بشرطیکہ انہیں موقع دیا جائے۔ اب پانی سر سے گزر چکا ہے اس لیے مکی آرتھر کو جو چیلنجز درپیش ہیں ان میں سب سے اہم اور ضروری مشن یہ ہے کہ قومی ٹیم کی رینکنگ کو بہتر بنایا جائے تاکہ ورلڈ کپ کھیلنے کے لیے کوالیفائنگ راؤنڈ سے بچا جا سکے، انھیں ٹیم کو وننگ ٹریک پر لانا ہوگا۔ اب دیکھتے ہیں ہیں کہ مکی ارتھر کیا گل کھلاتے ہیں۔ ہماری دعائیں گرین ٹیم کے ساتھ ہے۔


Comments

FB Login Required - comments