کیرن آرمسٹرانگ اور اسطور کی تاریخ


nasir abbas nayyarگزشتہ بیس برسوں میں یورپ کے جن مصنفین کو مذاہب کے تقابلی و تاریخی مطالعات پر مبنی تحریروں کی بنا پر عالمی شہرت ملی ہے، ان میں کیرن آرمسٹرانگ (پ: 1944) ممتاز حیثیت رکھتی ہیں۔ ہر چند یورپ میں مذاہب کے تقابلی مطالعات کی روایت صدیوں پرانی ہے اور مشرق و مغرب کے مذاہب کے امتیازات و اشتراکات پر قلم اٹھانے والے مغربی مصنفین کے کئی گروہ ہیں۔ تاہم ان میں دو گروہ خاص طور پر اہم ہیں۔ ایک گروہ میں وہ مستشرقین شامل ہیں جنھوں نے نو آبادیاتی عہد میں مشرقی مذاہب کا مطالعہ کیا۔ ان کے مطالعات کی علمی بنیاد استشراق کی وہ روایت ہے جس میں مذہبی و غیر مذہبی علم طاقت کے ڈسکورس کا حصہ بنتا ہے ۔ دوسرا گروہ سرد جنگ کے خاتمے اور گیارہ ستمبر کے واقعے کے بعد خاص طور پر امریکا میں سامنے آیا ہے۔ یہ گروہ مذہب اور خصوصاً اسلام کا مطالعہ تہذیب کے اس خاص تصور کے تحت کرتا ہے جسے برنارڈ لیوس اور ہٹنگٹن نے پیش کیا۔ گیارہ ستمبر کے بعد کے امریکا میں، بہ قول محمود ممدانی تہذیب کی گفتگواسلام اور مسلمانوں کے بارے میں کی جاتی ہے اور مجموعی طور پر مسلمانوں کو مقلد محض، تہذیب دشمن (تہذیب کے مغربی معیارات کے تحت)، دہشت گرد کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ اس تناظر میں کیرن آرمسٹرانگ کی مذہبی تحریروں کی خاص اہمیت ہے۔ ان کی شہرت کا آغاز 1993 میں ا س وقت ہو ا، جب ان کی کتاب ”خدا کی تاریخ: یہودیت، عیسائیت اور اسلام کی چار ہزار سالہ جستجو“ شایع ہوئی۔ اگرچہ وہ اپنے تصنیفی کیریر کا آغاز 1982 میں کر چکی تھیں، جب ان کی کتاب Through the Narrow Gate چھپی تھی، اور جس میں انھوں نے راہبہ کے طور پر اپنے تجربات لکھے تھے۔ ”خدا کی تاریخ“ میں انھوں نے تینوں سامی مذاہب کا تاریخی ارتقائی مطالعہ کیا تھا۔ (اسی بنا پر انھیں مذہبی مصنف بھی کہا جاتا ہے )۔ اس ضمن میں جو چیز کیرن آرمسٹرانگ کی کتاب کو اہم بناتی تھی، وہ استشراق اور سرد جنگ کے بعد کے زمانے کے’ سیاسی تہذیبی اسلام‘ کے ڈسکورس سے بیگانگیت تھی۔ اس امر کا ثبوت یہ بھی ہے کہ مذکورہ کتاب کی اشاعت سے ایک برس پہلے وہ حضرت محمدﷺ کی سوانح لکھ چکی تھیں۔

Karen Armstrong c Michael Lionstar press image from Pickering, Joe  انھوں نے 1984 میں سینٹ پال پر ٹیلی ویژن کے لیے ایک دستاویزی فلم بھی تیار کی؛ اس کے لیے انھوں نے مقدس مقامات کا سفر کیا جسے وہ اپنی زندگی کا سنگِ میل قرار دیتی ہیں۔ یہ سفر ان کی زندگی کا دوسرا اہم واقعہ تھا، جس نے ان کو روح کی گہرائیوں سے متاثر کیا۔ ایک طرح سے ان کے لیے یہ سفر” گھر واپسی “کا تجربہ بنا۔ پہلا واقعہ ’ سسٹر آف دی ہولی چائلڈ کرسٹ ‘ کا رکن بننا تھا جو رومن کیتھولک چرچ نے ۶1846 میں انگلستان میں قائم کیا تھا۔ تب ان کی عمر اٹھارہ برس کے لگ بھگ تھی اور وہ سات برس تک وہاں رہیں۔ اس واقعے نے ان کی شخصیت پر گہرے اثرات مرتب کیے ۔ اپنے ایک انٹرویو میں انھوں نے کہا کہ انھیں ان برسوں میں سخت جسمانی اور نفسیاتی اذیت سے گزرنا پڑا۔ دوسرے لفظوں میں انھوں نے بہ طور راہبہ مذہب اور مذہبی ادارے کو ایک عقوبت خانے کے طور پر تجربہ کیا۔ اس بات کا قوی امکان تھا کہ وہ مذہب ہی سے برگشتہ ہوجاتیں؛ مذہب ان کے لیے ایک ڈراﺅنے خواب کی طرح ہو جاتا اور وہ اپنے قلم کو عیسائیت پر نامختتم تنقید کے لیے استعمال کرتیں۔ انھوں نے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ ”میں نے کبھی خیال نہیں کیا تھا کہ اس تجربے کے بعد کبھی مذہب کی طرف پلٹوں گی، مگر دوسرے عقائد کی روایت کے مطالعے نے مجھے واپس مذہب کی طرف پھیر دیا۔ “وہ کیتھولک خانقاہ میں خدا کا تجربہ کرنے گئی تھیں، مگر وہاں راہبائیں تھیں جن کے پاس خدا کے نام کو اپنی ایذا پسندی کے بے لگام اظہار کے لیے استعما ل کرنے کی آزادی تھی، مگر ان کے دلوں میں وہ روشنی، دردمندی، محبت، ایثار نہیں تھا جو خدا کے نبی کے پیغام میں تھا۔ کیرن آرمسٹرانگ نے جب دیگر مذاہب کا مطالعہ کیا تو انھیں اس خدا کا تجربہ ہوا جسے وہ خانقاہ میں تلاش کرنے گئی تھیں۔ گویا انھیں خدا، خدا کے نام پر بنائے گئے ادارے میں نہیں، خدا کے پیغام پر مبنی کتابوں کے گہرے مطالعے سے ملا۔ حقیقت یہ ہے کہ خدا ان کی مذہبی فکر کی مرکزی حقیقت ہے، جسے وہ سینٹ ٹامس اکو نائیس کے مطابق ” وجود“ نہیں سمجھتیں کہ وجود ہمیشہ محدود اور زمان ومکاں کا پابند ہوتا ہے؛وہ خدا کو ایک ماوارئی تجربہ خیال کرتی ہیں۔ ایک جگہ لکھتی ہیں کہ مذہب کی زبان کو ہمیشہ خود سے بالاتر ہوتے ہوئے، ماورائیت کی خاموشی کی طرف اشارہ کرنا چاہیے ۔ بہ صورتِ دیگر مذہب بت پرستی بن جاتا ہے۔ مذہبی تجربے کا یہ ایک نہایت گہرا نکتہ ہے۔ حضرت علی ؓ سے ایک قول منسوب ہے کہ خدا کی تمام صفات خدا کی حقیقت کو بیان کرنے کے سلسلے میں گنگ ہیں۔ خدا ان صفات سے بھی ماورا ہے جو دراصل لسانی حقیقت ہیں۔ جو لوگ اس لسانی حقیقت کے پار اس پر ہیبت سکوت کا تجربہ نہیں کرسکتے، جو ماورایئت کا دوسرا نام ہے اور خود کو مذہبی زبان کی حدوں میں مقید رکھتے ہیں انھیں کے یہاں بت پرستی جنم لیتی ہے۔ وہ خدا کی عبادت نہیں کرتے، کسی ایک صفت، خواہ وہ مجسم ہو یا غیر مجسم، ایک استعارہ ہو، اس کی پرستش کرتے ہیں۔ لہٰذا انھوں نے مذہب کے صوفیانہ اور روحانی پہلو کو دریافت کیا۔ ہمدردی اور شفقت ان کی تمام تحریروں کی بنیادی اصطلاحوں کے طور پر سامنے آئے جن کی اصل حضرت عیسیٰ ؑ کی بنیادی تعلیم ہے۔ رہبانیت ترک کر کے انھوں نے سینٹ اینیز کالج، اوکسفرڈ میں انگریزی میں داخلہ لیا۔ انگریزی کے مطالعے کا انتخاب صاف طور چرچ کی دنیا کے تجربے کا ردعمل محسوس ہوتا ہے۔ کیرن آرمسٹرانگ نے ایک راہبہ کے طور پر دیگر راہباﺅں کا ایک بھیانک چہرہ دیکھا تھا۔ ایک نوجوان تجرد شعار لڑکی کے لیے یہ سمجھناخاصا فطری ہوگا کہ اس‘بھیانک چہرے‘ کو خدو خال’مذہبی زندگی‘ ہی نے دیے ہیں۔ شاید اسی لیے وہ ادب کی دنیا میں داخل ہوئی، جو حقیقتاً سیکولر دنیا ہے۔ مگر یہاں بھی ایک المیہ منتظر تھا۔ انھوں نے ٹینی سن پر پی ایچ ۔ ڈی کا مقالہ یونیورسٹی کمیٹی کی منظوری سے لکھا، مگر ا س مقالے کے خارجی ممتحن نے اس موضوع کو غیر موزوں قرار دے کر مسترد کردیا۔ یوں انھیں ایک اور طرح کی نفسیاتی اذیت کا سامنا کرنا پڑا؛ خراب صحت کی وجہ سے وہ جسمانی تکلیف پہلے ہی سہ رہی تھیں۔ اعلیٰ تعلیمی کیرئر میں ناکامی نے انھیں دل برداشتہ کیا۔ تاہم انھوں نے ہمت نہیں ہاری۔ یہ بات خارج از امکان نہیں کہ خراب صحت اور جسمانی و نفسیاتی اذیتوں ہی نے انھیں مذہب سے گہری باطنی وابستگی پر مائل کیا۔ ایسی بے شمار مثالیں ہیں کہ جسمانی معذوری، مستقل افلاس، سماجی دھتکار وغیرہ آدمی کے اندر جن خطرات، عدم تحفظ کی کیفیات اور اندیشہ ہائے دوردرازکو جنم دیتے ہیں، ان سے بچاﺅ کے لیے آدمی عموماً مذہب سے رجوع کرتا ہے۔ دیگر مذہب کے مطالعے کی جستجو کا سبب بھی ان کے ذاتی الم ناک صورت حال ہو سکتی ہیں۔ اس کے بعد وہ ایک لڑکیوں کے سکول میں پڑھاتی رہیں۔ آج کل یہودیت کے مطالعے کے لیے قائم لندن کے لیو بیک کالج میں پڑھاتی ہیں اور دی گارڈین کے لیے لکھتی ہیں۔ جیسس سیمینار کی فیلو ہیں، جس کا مقصد حضرت عیسیٰ ؑ کی زندگی اور تعلیمات پر تحقیق ہے۔

Karen 02کیرن آرمسٹرانگ کی کتابوں کی تعداد بیس تک پہنچتی ہے۔ ان میں زیادہ تر کتابوں کا موضوع چندمذاہب عالم اور مذہبی تجربے کا مطالعہ ہے۔ انھوں نے یہودیت، عیسائیت، اسلام کے علاوہ بدھ مت اور ہندو مت کو بھی موضوع بنایا ہے۔ ظاہر ہے دنیا میں ان کے علاوہ بھی مذاہب موجود ہیں۔ مثلاً سکھ مت، تاﺅ مت، کنفیوشس مت، افریقی اساطیری مذاہب وغیرہ۔ تاہم ان کے چند مذاہب ِ عالم کے مطالعات سے ایک اہم بات یہ واضح ہوتی ہے کہ وہ اپنے آبائی مذہب عیسایئت پر قائم رہتے ہوئے دیگر مذہبی روایات کا ایک ایسامطالعہ کرنے میں کامیاب ہیں جس کا مقصود نہ تواپنے آبائی مذہب کی حتمی صداقت کو باور کرانا ہے اور نہ دوسرے مذاہب یا ان کے ماننے والوں کو گم راہ ثابت کرنا ہے، بلکہ ان سب کے اندر ایک مشترک اساس کی دریافت ہے جسے وہ کبھی اخلاقی کیمیا، کبھی ہمدردی کا نام دیتی ہیں۔ اس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ ان کے یہاں مبلغانہ جوش و خروش نہیں پایا جاتا ۔ دوسری وجہ ’مذہبی تجربہ‘ ہے۔ چوں کہ خانقاہی عقوبت خانے کے جس خوف ناک تجربے نے ان کا دل مذہب سے پھیر دیا تھا، اس کے اثرات کو مٹانے کا کام دیگر مذاہب کے مطالعے نے کیا تھا، اس لیے ان کے دل میں دیگر مذاہب کے احترام کا پیدا ہونا عین فطری تھا۔ مذہبی تجربہ نہ صرف انھیں تمام مذہبی نظاموں میں مشترک نظر آتا ہے بلکہ اسے فرد کی باطنی زندگی کے لیے ایک اہم ترین یافت اور قدربھی سمجھتی ہیں۔ اصل یہ ہے کہ وہ مذہب کو ایک روحانی تجربے کے طور پر لیتی ہیں۔ مذہب کے ساتھ سیاست اورطاقت کے جو تصورات وابستہ ہوتے اور ان کا اظہار ایک یا زیادہ سماجوں پر غلبے کی صورت ہوتا ہے، اس کی تاریخ تو بیان کرتی ہیں، (جیسے ”خدا کے لیے جنگ “میں) مگر اسے مذہب کی روح میں شامل نہیں کرتیں۔ انھیں 2008 میںTED انعام دیا گیا۔ 1984 میں قائم ہونے والی Technology, Entertainment, Designنامی یہ کانفرنس ”اشاعت کے لائق“ نظریات کے فروغ میں سرگرم ہے۔ اس غیر سرکاری رفاہی تنظیم کی طرف سے کیرن آرمسٹرانگ کو ایک لاکھ ڈالر کی رقم پیش کرنے کے ساتھ کہا گیا کہ وہ اپنی” واحد خواہش، دنیا کو تبدیل کرنے“ کی بتائیں۔ ان کا جواب تھا: ہمدردی(Compassion)۔ انھوں نے کہا کہ وہ دنیا کے راہنماﺅں کے ساتھ مل کر ”ہمدردی کا میثاق“ پر کام کرنا چاہتی ہیں۔ انٹر نیٹ کے ذریعے سو ملکوں کے ہزاروں لوگوں نے مل کر یہ میثاق لکھاجس کی آٹھ ہزار افراد نے توثیق کی ہے، اور اسے ہر مکتبہ ءفکر لے لوگ پیش کرنے اور عمل کرنے میں کوشاں ہیں۔ 2011 میں کیرن جب پاکستان کے لٹریری فیسٹول میں شرکت کی غرض سے کراچی آئیں تو انھوں نے زیادہ تر باتیں اسی ”چارٹر آف کمپاشن“ کے حوالے سے کیں اور انھیں پھر ”پاکستان کے نام خط“ میں کتابی صورت بھی دی۔ دنیا کے تمام انسانوں اور مخلوقات کے لیے غیر مشروط ہمدردی محض ایک تصور نہیں جو مذہب کے اوامر ونہی کے مطالعے سے اخذ ہوتا ہے، بلکہ یہ مذہبی تجربے کی کوکھ سے پھوٹنے والا سماجی طر ز عمل ہے۔

”اسطور کی تاریخ“ (2005) بڑی حد تک کیرن آرمسٹرانگ کے مذہبی مطالعات ہی کی ایک کڑی ہے۔ سات مختصر ابواب پر مشتمل اس کتاب میں اساطیر اور اسطوری طرزِ فکر کی تاریخ اور انسانی زندگی پر اس کے اثرات کو موضوع بنایا گیا ہے۔ وہ مذہبی اور اساطیری طرز فکر میں کسی قابل ِ لحاظ فرق کی نشان دہی نہیں کرتیں۔ قلبِ ماہیت کو وہ مذہب اور اساطیر میں قدرِ مشترک قرار دیتی ہیں۔ قلبِ ماہیت ایک ہمہ گیر داخلی تجربہ ہے جو آدمی کے احساس، خیال اور فکر کو مستقل طور پر بدل دیتا ہے۔ آغاز حجری دور سے محوری عہد تک دنیا کے مختلف خطوں کے لوگ اس تجربے کو اپنی زندگی کی قیمتی متاع خیال کرتے رہے، تاہم ان کے یہاں اس تجربے کے سلسلے میں خود شعوریت نہیں تھی۔ خود شعوریت تو دوئی کا نتیجہ ہے: تجربے اور تجربے کرنے والے کے درمیان۔ مگر جس عہد کو جرمن فلسفی کارل جیسپرس نے محوری عہد کا نام دیا ہے، جو 800 تا 200 ق م کا زمانہ ہے، بنیادی اور محوری تبدیلیوں کا زمانہ ہے۔ دنیا کے اکثر جدید مذاہب کا آغاز اسی دور میں ہوا اور وہ مذاہب آج بھی دنیا کو سمجھنے، برتنے اور اس کی تشکیل کرنے میں کردار ادا کررہے ہیں۔ اس دور میں حجری اور زرعی عہد کی اساطیر پر سوال قائم کیے جانے

Montreal-06 April 27-In the lobby of the Queen Elizabeth Hotel, on her book tour, author Karen Armstrong. Two of her books are The Great Transformation and The History of God. Gazette Richard Arless Jr -For Story by Pat Donnelly Neg 17918-Slug-- Karen--Books

لگے، تاہم بعض اساطیر کو ترمیم و تبدیلی کے ساتھ شامل بھی رکھا گیا۔ کیرن آرمسٹرانگ کے مطابق اساطیر کے سلسلے میں فیصلہ کن تبدیلی سولھویں صدی عیسوی سے رونما ہونا شروع ہوئی، جب مغرب میں نشاة ثانیہ کا آغاز ہو ا، جس کی مرکزی فکر کو روشن خیال اور جدیدیت نے آگے بڑھایا۔ اس عہد میں اساطیر پر محوری عہد کی طرح سوال قائم نہیں کیے گئے بلکہ انھیں غیر عقلی، جھوٹی کہانیاں، خرافات کہا جا نے لگا۔ یہاں کیرن اپنے نقطہ ءنظر کی وضاحت میں دو اصلاحات کو کثرت سے استعمال کرتی ہیں: میتھوس اور لوگوس۔ ہر چند ان کا ٹھیک ٹھیک اردو ترجمہ محال ہے، تاہم آسان لفظوں میں اول الذکر کو اسطوری فکر اور ثانی الذکر کو منطقی فکر کا نام دیا جا سکتا ہے۔ کیرن آرمسٹرانگ ان دونوں اصطلاحوں کو ایک دوسرے کی ضد سمجھتی ہیں۔ چناں چہ ان کے نزدیک جدیدیت کی منطقی فکر نے اپنے معانی قائم کرنے اور اپنے دائرہ ءعمل کا تعین کرنے کے لیے محوری عہد تک کی اسطوری مذہبی فکر کو بے دخل کرنا ضروری سمجھا۔ سولھویں تا اکیسویں صدی کے زمانے کو وہ کم یا زیادہ منطقی فکرکا حامل سمجھتی ہیں جس میں متھ یا اسطور کا لفظ جھوٹ، باطل، فرضی کہانی کے معنوں میں استعما ل ہونے لگا؛اسطور کے وہ مفاہیم غائب ہوتے چلے گئے جن کے مطابق” اسطور نامعلوم سے متعلق ہے؛یہ اس شے کے بارے میں ہے جسے ہم ابتداً لفظوں میں بیان کرنے سے قاصر ہوتے ہیں؛اسطور کہانی برائے کہانی نہیں ہے، یہ ہمیں زندگی کرنے کا ڈھنگ سکھاتی ہے؛یہ ہمیں ایک دوسرے منطقے کی خبر دیتی ہے جو ہماری دنیا سے ملحق اور ایک طرح سے اسے سہارا دیے ہوئے ہے ؛نیز وہ غیر مرئی مگر انتہائی پر اثر حقیقت جسے بعض اوقات دیوتاﺅں کی دنیا کہا گیا ہے، اساطیر کا موضوع ہے“۔

کیرن آرمسٹرانگ، جدیدیت کی مطقی فکر کے اسطوری مذہبی فکر پر غلبے کوانسانی فکر میں ایک ایسی تبدیلی نہیں سمجھتیں جو گزرانِ وقت کے ساتھ ناگزیر تھی، یا انسانی ثقافتی مساعی کی فطری منزل تھی۔ وہ یہاں ایک مورّخ سے زیادہ اسطوری فکر کی وکیل نظر آتی ہیں۔ ان کی نظر میں اسطوری فکر کی پسپائی سے جدیدیت کی منفی قوتوں کو کھل کھیلنے کا موقع ملا۔ دوسرے لفظوں میں جب تک اسطوری فکر یعنی میتھوس اجتماعی زندگی پر حاوی تھی، انسان پر امن زندگی بسر کر رہا تھا۔ لوگوس کی حاکمیت نے انسان کو جنت بدر کر دیا۔ کتاب کے آخری باب کے بیش تر مباحث وہی ہیں جو ہمیں رینے گینوں، شواںاور مارٹن لنگز کے زیر اثر محمد karen ious-task-for-our-timeعسکری کی ادبی زندگی کے آخری دور میں ملتے ہیں، خصوصاً ان کی کتاب ”جدیدیت، مغربی گم راہیوں کا خاکہ “ میں۔ یہاں کیرن صاف طور پر رینے گینوں کی فکر کے بے حد قریب محسوس ہوتی ہیں۔ وہ رینے گینوں اور ان کے شارح حسن عسکری کی طرح عہد وسطیٰ اور ان سے پہلے زمانوں کو زریں عہد سمجھتی ہیں۔ وہ لوگوس یا منطقی فکر کو جدید عہد کے تمام بڑے المیوں، مثلاً عظیم جنگوں کی تباہیوں سے لے کر گیارہ ستمبر کے واقعے تک کی جڑوںکو لوگوس میں اور اسطوری فکر سے سنگ دلانہ لاتعلقی میں تلاش کرتی ہیں۔ ہماری نظر میں یہاں کیرن آرمسٹرانگ اس مغالطے کی زد پر محسوس ہوتی ہیں، جو اسطوری اور منطقی فکر میں ضد مخالف کا رشتہ قائم کرنے سے عبارت ہے۔ جب آپ دونوں کو ایک دوسرے کی حریف قراد دیں گے توایک کی خوبیاں لازماًدوسری کی خامیاں نظر آئیں گی اور وہ دو ایسی تلواروں کی طرح محسوس ہوں گی جو ایک میان میں نہیں سما سکتیں؛وہ بس ایک دوسرے پر تانی جا سکتی ہیں۔ یعنی جب آپ افکار و اشیا میں ضدِ مخالف کا رشتہ قائم کرتے ہیں، ان میں درجہ بندی بھی قائم کرتے ہیں؛ایک برتر اور دوسرا کم تر ہوتا ہے اور پہلے کی برتری کے معیار ہی سے دوسرا کم تر ہوتا ہے۔ لہٰذایہاں سوال جدید مغربی تاریخ کی اصل حقیقت سے زیادہ اس حقیقت کی تفہیم و تعبیرکا ہے۔ جب قرونِ وسطیٰ کو اسطوریمذہبی فکر کے حامل ہونے کی بنا پر سنہری زمانہ قرار دیا جاتا ہے تو یہ ایک تجربی سچائی کا اظہار نہیں، بلکہ مذہبی فکر کو منطقی فکر سے مختلف اور برتر سمجھنے کی’ ذہنی سچائی ‘کا اظہار ہے۔ یہ ذہنی سچائی، استحصال و مظالم کی ان تمام صورتوں پر پردہ ڈال دیتی ہے جو چرچ کی اجارہ داری کے دنوں میں عروج پر تھیں اور جنھوں نے انسانی آزادی کا گلہ گھونٹ دیا تھا؛آفات و مصائب کو من جانب خدا قرار دے کر اس انسانی ذمہ داری کا تصور بھی پیدا نہیں ہونے دیا تھا جو ان کے اسباب کی تحقیق کرنے اور ان پر قابو پانے کی انسانی بساط کو لازماً بروے کار لانے سے و ابستہ تھا۔

انسانی تاریخ میں جنگیں، قحط، آفات، وباﺅں کے ہول ناک واقعات اوّل روز سے ملتے ہیں، اسی طرح انسانی محنت اور وسائل کے استحصال کی مختلف صورتیں بھی قدیم حجری دور سے آج تک چلی آتی ہیں۔ انسان نے دوسرے انسانوں اور جانوروں کو قتل کرنے کے آلات ا س وقت بھی ایجاد کیے جب اسطوری فکر کا غلبہ تھا اور آج بھی ایجاد کرتا چلا جارہا ہے جب بہ قول کیرن آرسٹرانگ لوگوس کی اجارہ داری ہے۔ تباہ کن ٹیکنالوجی کی ایجاد کو صرف جدیدیت اور اس کی عقلیت پسندی سے منسوب کرنا، اسطوری اور منطقی فکر میں ضد ِ مخالف کا رشتہ قائم کرنے کے مغالطے ہی کا نتیجہ ہے۔ یہ ایک ناقابل انکار حقیقت ہے کہ جدید اور مابعد جدید عہد میں انسانی تباہی اس بڑے پیمانے پر ہوئی ہے جس کی مثال گزشتہ کسی عہد میں تلاش کرنا مشکل ہے، مگر اس کا سبب نہ تو لوگوس ہے اور نہ جدیدیت؛اس کا باعث ٹیکنالوجی کا انسان پر حاوی ہونا ہے۔ جدید عہد میں انسان نے اتنی بڑی اور اتنے بڑے پیمانے پر ٹیکنالوجی ایجاد کی کہ خود اس کا موجد اس کے آگے بے بس ہوگیا۔ اسطوری زمانوںمیں ٹیکنالوجی کا حجم اتنا بڑا نہیں تھا کہ وہ انسان پر حاوی ہو سکتی۔ ایک تیر پر اور اس سے برپا ہونے والی تباہی کے حجم پر ایک فردکا مکمل اختیار ہو سکتا ہے، مگر ایک میزائل پر اختیار کم ہوجاتا اور اس سے برپا ہونے والی تباہی پر تو بالکل اختیار نہیں رہ جاتا ۔ یہ بھی پیش نظر رہے کہ اگر انسانی و حیوانی جان، انسانی آبرواور املاک کی تباہی اوسط درجے کی ہو اور کبھی کبھار ہو تووہ بڑی خبر ہوتی ہے اور انسانی احساسات میں ہلچل مچاتی ہے، لیکن جب تباہی کا حجم بڑھ جائے اور وہ معمول بن جائے تو وہ معمولی خبر ہوتی ہے ؛محض حسابی ہوجاتی ہے اور ایک طرح سے بے حسی کو جنم دیتی ہے۔

Karen ong_67384bجہاں تک جدیدیت کے زیر اثر اسطوری فکر کی پسپائی کا تعلق ہے، اس میں جزوی سچائی ہے۔ ہماری رائے میں صرف مغرب ہی میں نہیں دنیا بھر میں اسطوری اور منطقی فکر ساتھ ساتھ موجود ہیں اور ان میں تعلق ضدِ مخالف کا نہیں۔ البتہ موجودہ انسانی ثقافت کے زیادہ تر ادارے لوگوس کے زیر ِ اثر ہیں، مگر جہاں تک دنیا کو سمجھنے اور برتنے کا سوال ہے، انسانی رشتوں کا نبھانے، سماجی تعلقات کو قائم رکھنے یا شکست کرنے، دوسری مخلوقات سے اپنے ربط پر غور کرنے اور سب سے بڑھ کر زندگی میں معنی تلاش کرنے کا سوال ہے، منطقی فکر کے پہلو بہ پہلو اسطوری فکر آج بھی موجود ہے؛آج دیوی دیوتا اس طرح ایک واقعاتی صداقت کے طور پر ’موجود‘ نہیں، مگر اپنی علامتی حیثیت میں موجود ہیں۔ جب کوئی شے علامتی حیثیت اختیار کر جاتی ہے تو وہ زیادہ زرخیز ہوجاتی ہے؛اس میں طرح طرح کی صورتِ حال کی ترجمانی کے زیادہ امکانات پیدا ہوجاتے ہیں۔ کیرن آرمسٹرانگ کو خود اپنے مغالطے کا غیر شعوری احساس ہے، اسی لیے کتاب کے آخری باب کے آخر میں وہ یہ کہے بنا نہیں رہ سکیں کہ جدید عہد میں شاعری اور فکشن نے اساطیر کو ’زندہ‘رکھا ہے۔ محسوس ہوتا ہے کہ یہاں ان کا انگریزی ادب کا مطالعہ ان کی مدد کو پہنچتا ہے۔ اگر منطقی فکر کا حقیقی داخلی تضاد اسطوری فکر سے ہوتا توبیسویں صدی کے بڑے ادب میں(خواہ وہ ٹی ایس ایلیٹ کی ’ویسٹ لینڈ‘ہو، جیمس جوائس کا ’یولی سس ‘ہو، ٹامس مان کے ’میجک موئنٹین ‘اور ’ہولی سنر‘ ہوں، ہرمن ہیسے کا ’سدھارتھ‘ ہو، اور اردو میں راشد کی نظمیں ’سبا ویراں‘ اور ’حسن کوزہ گر‘ہو، انتظار حسین کے افسانے ’آخری آدمی‘ اور ’نرناری‘ ہوں، وزیر آغا کی طویل نظم ’اک کتھا انوکھی‘ ہو) اساطیرکیوں کر ظاہر ہوتیں۔ یہ کافی غور طلب بات ہے کہ جدید عہد کے تخیل نے اسطوری اور منطقی فکر میں داخلی اور جوہری سطح پر تضاد نہیں دیکھا۔ غورکیجیے : ناول اپنی اصل میں حقیقت نگاری پر مبنی ہے، اور ایک سیکولر ہیئت ہے مگر بیسویں صدی کے ناول ہی میں سب سے زیادہ اساطیری عناصر ظاہر ہوئے ہیں؛نہ صرف پرانی اساطیر کی نئی تعبیر کی گئی ہے، بلکہ نئی اساطیر بھی وضع کی گئی ہیں۔ بایں ہمہ کیرن آرمسٹرانگ کی اس بات سے اتفاق کرنا مشکل ہے کہ ایک ناول کا مطالعہ، ایک اسطورہ کی رسم ادا کرنے کے مترادف ہے کہ دونوں میں آدمی کایا کلپ کے ایک غیر معمولی تجربے سے گزرتا ہے۔ بلاشبہ ایک بڑے ناول کا مطالعہ آدمی کو بدل دیتا ہے؛ اس کے واقعات، کردار، تھیم، موتف آدمی کے شعور میں مستقل جگہ بنا لیتے اور اسے زندگی کا نیا اور بدلا ہو افہم دیتے ہیں، مگر اسطورہ کا تجربہ آدمی کو جس ماورایئت سے وابستہ کرتا ہے، اسے ناول میں تلاش نہیں کیا جاسکتا؛ناول اپنی نہاد میں سیکولر ہے، لہٰذا یہاں جب پرانی اساطیرپیش ہوتیںیا نئی اسطورہ وضع کرنے کی سعی ہوتی ہے، تو مقصدسماجی، نفساتی، ثقافتی صورت حال کی ترجمانی یاتعبیر ہوتا ہے۔ اسطورہ کی ماورائیت، سماجیت میں بدل جاتی ہے ۔ یہ ایک طرح سے اسطوری فکر کوسیکولر بناناہے؛دونوں میں تضاد ختم کرکے ایک دوسرے کا تکملہ بنانا ہے۔ ٹامس مان اور انتظار حسین نر ناری کی قدیم ہندی اسطورہ کے ذریعے جدید عہد کی الم ناک صورتِ حال کی ان پرتوں کا انکشاف کرتے ہیں جن کے معانی قائم کرنے میں اسطور ہی معاون ہو سکتی ہے۔ اسطورہ کے بارے میں کیرن کہتی ہیں کہ وہ ہر جگہ اور ہر زمانے کی کہانی ہے، یعنی وہ ایک ایسی صداقت کی حامل ہے جو مخصوص جگہ اور وقت سے ماورا ہے، جب کہ ناول کی کہانی کسی خاص جگہ اور خاص وقت میں رونما ہوتی ہے۔ لہٰذا جب ناول میں اسطور پیش ہوتی ہے تو زمانیت اور واقعیت کی تفہیم لازمانیت کی مدد سے کی جاتی ہے۔ یہاں بھی منطقی اور اسطوری فکر ایک دوسرے کی معاون ثابت ہوتی ہیں۔

اسطوری اور منطقی فکر کس طور ایک دوسرے کے مد مقابل آنے کی بجائے، ایک دوسرے کی دست و بازو بنتی ہیں، اس کی مثال خود کیرن آرمسٹرانگ کی یہ کتاب ہے۔ پوری کتاب منطقی فکر یا لوگوس کے تحت لکھی گئی ہے۔ لوگوس میں استدلال، تجربیت، دلائل کا منظم و مسلسل ہونا، مفروضہ پیش کرکے اسے ثابت کرنے کے لیے معروضی ثبوت لانا وغیرہ شامل ہیں۔ یہ سب اس کتاب میں ہے۔ دوسرے لفظوں میں لوگوس نے میتھوس کو پوری کامیابی سے واضح کیا ہے۔ اگر لوگوس کی زبان میتھوس کے پیغام کا ابلاغ کر سکتی ہے تو دونوں میں تضاد نہیں ہو سکتا۔ جب کہ کیرن آرمسٹرانگ اس خیال کی حامل ہیں کہ دونوں میں ایک دوسرے کی معاونت کی صلاحیت نہیں۔ اس لیے وہ مذہبی متون کی عقلی تفسیر کی حامی نظر نہیں آتیں۔ یہ نقطہ ءنظر ہمارے سماج کے بعض گروہوں کو شاید زیادہ پسند آئے جو مذہب کو ’خالص ‘ رکھنے کی خاطر اسے معاصر سائنسی و سماجی علوم سے ’محفوظ‘ بنانا چاہتے ہیں۔ مگر ہماری رائے میںسماج ایک طرح سے ماحولیاتی سا لمیت کا حامل ہوتا ہے۔ اس کے ایک منطقے یا مظہر میں تبدیلی پورے ماحول پر اثرانداز ہوتی ہے؛اور ماحول کے دیگر عناصر جب تک اس تبدیلی کے مطابق خود کو نہیں ڈھالتے، وہ پورے ماحول سے اجنبی ہوجاتے ہیں اور رفتہ رفتہ ماحول سے یا تو بیگانہ محض ہو جاتے ہیں یا باہر ہوجاتے ہیں۔ تاہم واضح رہے کہ ’تبدیلی کے مطابق خود کو ڈھالنے کا مطلب‘ اپنے بنیادی تصورات کو ترک کرنا نہیں، ان کی ایسی تعبیرِ نو ہے جو معاصر نظامِ معنی سے ہم آہنگ اگر نہ بھی ہو تواس میں قابلِ فہم ضرور ہو۔

[نوٹ:راقم نے کیرن آرمسٹرانگ کی کتاب A Short History of Mythکا اردوترجمہ اسطور کی مختصر تاریخ کے نام سے کیا ہے۔ یہ تحریر اس کتاب کے دیباچے کے طور پر لکھی گئی ۔]


Comments

FB Login Required - comments