نااہل عدالتی نظام سے انصاف کا حصول ناممکن


صفی الدین اعوان

\"Safiسپریم کورٹ کا فیصلہ سنتے ہی وکیل صاحب سر پکڑ کر بیٹھ گئے۔ دستاویزات کی تیاری کے دوران معمولی غلطی کی وجہ سے کروڑوں روپے کا نقصان برداشت کرنا پڑا اور اٹھارہ سال مقدمے میں الگ ضائع ہوئے۔ وکیل صاحب نے آزاد کشمیر کوٹلی میں کچھ زرعی رقبہ خریدا جس کی مالیت 1997 میں پانچ لاکھ روپے فی کنال مقرر ہوئی تھی۔ وکیل صاحب نے دولاکھ روپے بیعانہ ادا کیا اور زمین کے مالک کے ساتھ تحریری معاہدہ کیا جس کے تحت وہ دو مہینے کے اندر زمین کی باقی قیمت ادا کر کے زمین کا قبضہ لینے اور مالک دو ماہ کے اندر قیمت وصول کر کے رجسٹری خریدار کے نام کرنے کا پابند تھا۔

اگر خریدار رقم ادا کرنے میں ناکام رہتا تو بیعانہ ضبط ہوجاتا۔۔۔ اور اگر زمین کا مالک رجسٹری خریدار کے نام نہ کرتا تو اس کو بیعانہ کی رقم دوگنی ادا کرنی پڑتی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پاکستان میں زمین کی خرید و فروخت میں معاہدے کا یہی ڈرافٹ پورے پاکستان میں رائج ہے۔

مقررہ مدت میں وکیل صاحب نے رقم کا انتظام کیا لیکن مالک نے زمین خریدار کے نام ٹرانسفر کرنے اور قبضہ دینے سے انکار کیا۔ وکیل صاحب نے عدالت میں کیس داخل کیا کہ مالک کو پابند کیا جائے کہ زمین کی ملکیت خریدار کے نام اور قبضہ خریدار کے حوالے کیا جائے اور اس کو معاہدے پر عمل کرنے کا پابند کیا جائے۔

وکیل صاحب نے ڈسٹرکٹ کورٹ سے اپنے حق میں ڈگری لی۔۔ مدعا علیہ زمین کے مالک نے آزاد کشمیر ہائیکورٹ میں اس فیصلے کو چیلنج کیا ہائیکورٹ سے سفر کرتا ہوا سولہ سال کے بعد یہ مقدمہ آزاد کشمیر کی سپریم کورٹ میں جا پہنچا۔

سپریم کورٹ کا ڈبل بینچ جو جسٹس محمد اعظم اور راجہ سعید اکرم خان پر مشتمل تھا نے شاید پہلی بار زمین کی فروخت کے اس معاہدے کو پڑھنے کی زحمت گوارہ کی اور وکیل صاحب کی توجہ دلائی کہ آپ کا یہ معاہدہ کہاں مالک کو پابند کرتا ہے کہ وہ زمین آپ کے نام ہرصورت میں منتقل کرے کورٹ کے سامنے جو دستاویز موجود ہے وہ تو زمین کے مالک کو صرف اتنا پابند کررہی ہے کہ وہ اگر معاہدے کو توڑ دیتا ہے معاہدے کی پاسداری نہیں کرتا تو اس کو بیعانے کی رقم دوگنا ادا کرنی ہوگی۔۔۔اس لیے آپ نے اٹھارہ سال پہلے جو کیس داخل کیا تھا اس کا تو قانونی جواز ہی نہیں بنتا تھا۔۔ زمین کا مالک دوگنی رقم ادا کرنے کے لیے تیار ہے اس لیے معاہدہ توڑنے کی صورت میں مزید قانونی کارروائی کا جواز ہی ختم ہوگیا۔۔۔۔اس عدالتی فیصلے سے زمین کا خریدار جو وکیل بھی تھا کو کروڑوں روپے کا نقصان ہوا کیونکہ اس دوران زمین کی قیمت میں بہت اضافہ ہوچکا تھا جبکہ مقدمے بازی میں جو وقت ضائع ہوا اس کا اندازہ ہم نہیں لگا سکتے۔

وکیل صاحب کو چاہیئے تھا کہ وہ معاہدے میں یہ شق شامل کرتے کہ اگر زمین کے مالک نے معاہدے کی پاسداری نہ کی تو خریدار عدالت کے ذریعے کیس داخل کر کے یہ زمین اپنے نام منتقل کروائے گا۔ لیکن بدقسمتی سے اس نے اپنی نااہلی سے اپنا نقصان کیا۔

ایک بنیادی سوال یہ بھی ہے کہ اٹھارہ سال تک مقدمہ عدالتوں میں زیرسماعت رہا، ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کوٹلی نے خریدار کے حق میں فیصلہ دیا۔۔۔ جبکہ 21 جنوری دوہزار تیرہ کو آزاد کشمیر ہایئکورٹ کے چیف جسٹس نے بھی خریدار کے ہی حق میں عدالتی ڈگری کو برقرار رکھا۔۔۔ ان دونوں عدالتی فیصلہ جات اور کورٹ کی ڈگری کو جموں و آزادکشمیر کی سپریم کورٹ کے ڈبل بینچ نے منسوخ کردیا اور مقدمے کا فیصلہ زمین کے مالک کے حق میں کردیا۔ سپریم کورٹ کے ڈبل بینچ نے جن تحفظات اور قانونی نکات کا اظہار کیا ہے وہ تو کوئی بھی معمولی سوجھ بوجھ رکھنے والا انسان بھی کرسکتا ہے۔۔۔۔ کیا ہم یہ کہنے کا حق نہیں رکھتے کہ ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کوٹلی آزاد کشمیر اور آزاد کشمیر ہائیکورٹ کے چیف جسٹس صاحب نااہل تھے جس کی وجہ سے فریقین کے اٹھارہ قیمتی سال مقدمے بازی کی نظر ہوگئے۔ اور سب سے بڑھ کر وہ وکیل بھی نااہل تھا جس نے معاہدے میں قانونی مداخلت کی سیکشن ہی شامل نہیں کی۔ اگر خریدار کے پاس معاہدہ توڑنے کی صورت میں قانونی چارہ جوئی کا حق ہوتا تو اس کو کروڑوں روپے کا نقصان ہی کیوں ہوتا۔۔ ہمیں چاہیئے کہ زمین کی خرید و فروخت کے معاہدے ہمیشہ سوچ سمجھ کر کریں اور معاہدوں کو قانونی تحفظ ضرور دیں۔

سپریم کورٹ کے ڈبل بینچ کو چاہیئے تھا کہ ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کی اہلیت کو چیلنج کرتے اور آزاد کشمیر ہائیکورٹ کے چیف جسٹس کی اہلیت پر سوال ضرور اٹھاتے۔ برٹش دور میں عدالتی افسران کے احتساب کا یہی معیار تھا وہ اپیل کے دوران ہی جج کی اہلیت کو پرکھ لیتے تھے۔۔ اگر یہ اپیل کسی انگریز جج کے پاس برٹش دور میں آتی تو وہ سب سے پہلے دونوں نااہل عدالتی افسران کو نظام سے فارغ کرتا کیونکہ انگریز کے نزدیک عدالتی نااہلی ایک ناقابل معافی اور سنگین ترین جرم ہے۔۔۔۔۔ججز اور وکلاء کی نااہلی کی وجہ سے ہی مقدمے بازی میں اٹھارہ سال ضائع ہوگئے اور مزے کی بات یہ ہے کہ نااہل عدالتی افسران نے فیصلہ بھی غلط دیا۔۔۔۔جس کو سپریم کورٹ نے منسوخ کیا۔۔ برٹش دور میں نااہلی ایک سنگین جرم تھا اور نااہل ججز عدالتی نظام کا حصہ نہیں رہ سکتے تھے۔ جیسا کہ موجودہ عدالتی نظام میں نااہلوں کی ایک ایسی فوج مظفر جمع ہوچکی ہے جس کی وجہ سے عدالتی نظام سے انصاف کا حصول ناممکن ہوچکا ہے۔ توہین عدالت کا قانون یوں محسوس ہوتا ہے کہ نااہل عدالتی افسران کو قانونی تحفظ فراہم کررہا ہے۔

پاکستان میں وکالت اور عدلیہ کا نظام تیزی سے زوال پذیر ہے۔ کرپشن کے ساتھ ساتھ نااہلی نے اس شعبے کو مکمل طور پر کھوکھلا کر کے رکھ دیا ہے۔ بنیادی طور پر وکالت اور عدلیہ دونوں ہی حساس ترین شعبے ہیں۔ دونوں ہی شعبہ جات میں کرپشن کے ساتھ ساتھ نااہلی بھی موجود ہے۔

Reference: 2016 YLR PAGE 612

SUPREME COURT (AJ & JK)

MARCH 2016

 


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔