یکساں نظام تعلیم کا مفروضہ


wajahatپاکستان میں تمدنی انحطاط کا ایک ضمنی نتیجہ یہ ہے کہ رائے عامہ کو گمراہ کرنے کے لیے پیچیدہ مسائل کے سادہ مگر غیر حقیقت پسندانہ اور ناقابل عمل حل پیش کرنے کا چلن زور پکڑ گیا ہے۔ آج کل ایک مقبول عام لیکن گمراہ کن نعرہ یہ ہے کہ ملک میں دوہرا نظام تعلیم ختم کیا جائے۔ یکسا ں نظام تعلیم کے اس بظاہرخوش کن نعرے کی بنیاد یہ مفروضہ ہے کہ اشرافیہ کے لیے مہنگے سکولوں اور عوام کے لیے ناقص سرکاری سکولوں کی موجودگی میں امیر اور غریب کی خلیج بڑھ رہی ہے۔ تاہم اس پر جوش نعرے کی گونج میں بہت سے اہم سوالات دب جاتے ہیں۔ یکساں نظام تعلیم کے داعی یہ فراموش کر دیتے ہیں کہ اس وقت پاکستان میں دوہرا نہیں بلکہ تہرا نظام تعلیم رائج ہے۔ اشرافیہ کے لیے اعلیٰ درجے کے مہنگے انگریزی سکول اور ادارے ہیں۔ نچلے متوسط طبقے کے لیے سستے انگریزی میڈیم اور سرکاری سکول ہیں جو اپنی کارکردگی میں کم و بیش ایک ہی معیار کے حامل ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ مذہبی مدارس کی تعداد میں بھی بے تحاشا اضافہ ہوا ہے۔ 1988 ءمیں پاکستان میں رجسٹرڈ مذہبی مدارس کی تعداد 1500 کے لگ بھگ تھی۔ 2005ءمیں ان مدارس کی تعداد بیس ہزار سے تجاوز کر چکی تھی اور ان مدارس کے اپنے دعوﺅں کے مطابق ان میں دس لاکھ سے زائد بچے زیر تعلیم تھے۔ اس کے علاوہ مذہبی جماعتوں نے دنیاوی تعلیم کے مدرسوں کا جال بھی بچھایا ہے جن کی تعداد ہزاروں میں ہے۔ یکساں نظام تعلیم کے حامی یہ بیان نہیں کرتے کہ ان کے موعودہ نظام تعلیم میں کس کو کس کے برابر کیا جائے گا۔ بظاہر امیر اور غریب طبقے میں خلیج دور کرنے کا آسان طریقہ تو عوام کو اسی سطح کی تعلیم دینا ہے جو اشرافیہ کے نونہالوں کو میسر آتی ہے۔ لیکن ایک طرف یہ حضرات اشرافیہ کے ترجیحی نظام تعلیم کی مغربیت سے نالاں ہیں دوسری طرف یہ اپنے مذہبی مدارس کے نصاب ،طریقہ تعلیم میں کسی تبدیلی حتیٰ کہ اپنے تعلیمی اداروں کی رجسٹریشن کے بھی روادار نہیں۔ اسی سوال کا تیسرا پہلو یہ ہے کہ پاکستانی حکومت گزشتہ تیس برس سے بنیادی تعلیم کی فراہمی کے فرض سے بتدریج دست کش ہو رہی ہے۔ کیا ریاست تمام بچوں کو تعلیم دینے کی غرض سے معیاری تعلیمی ادارے قائم کرنے کے لیے درکار وسائل رکھتی ہے۔ پاکستان میں آبادی کی اوسط عمر بائیس برس سے زیادہ نہیں۔سرکاری اعداد و شمار کے مطابق خواندگی کی شرح 56 فیصد کے قریب ہے۔ آبادی کا ایک بڑا حصہ سرے سے اچھے یا برے سکول سے محروم ہے۔ سکول جانے کی عمر کے آٹھ کروڑ بچوں کو تعلیم دینے کے لیے قومی معاشی ترجیحات میں بنیادی نظرثانی کی ضرورت ہے۔ سامنے کی بات ہے کہ ملکی وسائل کا بڑا حصہ دفاع، قرضوں کی واپسی اور انتظامی اخراجات پر صرف ہو رہا ہے۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ یکساں نظام تعلیم کی دہائی دینے والے دفاعی بجٹ میں ایک پائی کی کمی کے روادار نہیں۔ دفاع پر ارتکاز اور عوام کے لیے معیاری تعلیم کی فراہمی دو متضاد ترجیحات ہیں۔ اس بحث کا ایک زاویہ یہ ہے کہ جو گھرانے اپنے بچوں کی تعلیم کے لیے زیادہ وسائل مختص کرنے کی استطاعت رکھتے ہیں انہیں کس قانون کے تحت ایسا کرنے سے روکا جا سکتا ہے۔ نظام تعلیم کا انتخاب دنیا بھر میں بچوں کے والدین یا سرپرستوں کا استحقاق ہے۔ پاکستان میں ایک اچھا خاصا طبقہ ایسا ہے جو اپنے بچوں کو کلی یا جزوی طور پر بیرون ملک تعلیم دلانے کی استطاعت رکھتا ہے۔ انہیں ایسا کرنے سے اور بالآخر اپنی طبقاتی بالادستی برقرار رکھنے سے کیسے روکا جا سکے گا۔

kids-650x418یکساں نظام تعلیم کے حامی عناصر کی اکثریت ذریعہ تعلیم کے طور پر اردو زبان کی حامی ہے۔ اگرچہ اردو میں بھی ہمارے طلبا اور اساتذہ دونوں کی اہلیت ایسی ہے کہ اردو ہی کے محاورے میں یہاں بھی پانی مرتا ہے۔ تاہم منڈی کی قوتوں کو تو ہماری اجتماعی شیفتگی سے غرض نہیں۔ سرکاری شعبے میں ملازمتیں تیزی سے کم ہو رہی ہیں اور نجی شعبہ صرف اہلیت کی بنیاد پر ملازمت دے گا۔ یکساں نظام تعلیم کے حامیوں کے ترجیحی نمونے کی تعلیم پانے والے کثیر قومیتی نجی اداروں میں ملازمت نہیں پا سکیں گے۔ علاوہ ازیں انگریزی اور دوسری زبانوں میں روز افزوں ذخیرہ علوم سے براہ راست استفادے کی صلاحیت کم ہونے کے باعث ملکی سطح پر انسانی سرمائے کے معیار میں ناگزیر طور پر گراوٹ پیدا ہو گی۔

پچاس برس سے ایک گھڑا گھڑایا کلیہ ہمارے دماغوں میں ٹھونسا جا رہا ہے کہ بہترین ذریعہ تعلیم مادری زبان ہے اور یہ کہ چین، جاپان سمیت بہت سے ممالک نے انگریزی زبان اختیار کیے بغیر ترقی کی ہے۔ اس تفصیل میں جانے کا کسی کو یارا نہیں کہ ہمارے ملک میں تو مادری زبان کے تعین ہی پہ فساد کھڑا ہو جائے گا۔ اردو پاکستان میں قومی زبان بھی ہے اور رابطے کی زبان بھی۔ لیکن اردو پاکستان میں کسی خطے کی مقامی زبان نہیں چنانچہ اگر یونیسکو کے کندھوں پر رکھ کے مادری زبان کی بندوق چلانا ہے تواردو مادری زبان نہیں۔ جہاں تک پاکستان کے جملہ خطوں میں بولی جانے والی مادری زبانوں کاتعلق ہے تو وہ زبانیں قوم پرستوں کی نعرے بازی میں تو کام آسکتی ہیں لیکن پنجابی ہو یا سندھی، پشتو ہو یا بلوچی، ان زبانوں کی علمی اور معاشی افادیت صفر سے شاید ہی زیادہ ہو۔ اندرون سندھ میں سندھی زبان کو ذریعہ تعلیم کے طور پر اختیار کیے 40 برس گزر چکے۔ سندھ میں یونیورسٹی کی تعلیم پانے والے اوسط درجے کے طالب علم کی اہلیت پنجاب میں انٹر میڈیٹ پاس کرنے والے طالب علم سے زیادہ نہیں۔ پنجاب کے سینکڑوں کالجوں میں پنجابی زبان پڑھائی جا رہی ہے۔ ہم نے پنجابی زبان و ادب میں کوڑیوں کے حساب سے پی ایچ ڈی پیدا کیے ہیں لیکن ڈاکٹریٹ کے ان مقالوں کے موضوعات صوفیانہ شاعری، لوک Pakistan-School-Childrenداستانوں اور ثقافتی روایات کے دائرے سے باہر نہیں جاتے۔ مقامی زبان کہیے یا مادری، ان زبانوں میں سائنسی اور سماجی علوم کا ذخیرہ ایک ہاتھ کی انگلیوں پر گنا جا سکتا ہے۔ زبان و ادب کی افادیت سے انکار نہیں لیکن قوم کی پیداواری، علمی اور تمدنی ترقی محض زبان و ادب کی مدد سے نہیں کی جا سکتی۔ ان زبانوں میں تعلیم پانے والا طالب علم ریاضی، طبیعات، طب، کیمیا، معیشت، سیاسیات اور فلسفے میں ہر روز سامنے آنے والے افکار اور آفاق کا احاطہ کیسے کرے گا۔ ایسی ٹکسالی تعلیم سے کاریگر تو پیدا ہوں گے، نئے امکانات کی دریافت نہیں ہو سکے گی۔ قوموں کی قوت مانگے تانگے کے ہتھیاروں اور آری بسولے یا خراد پر کام کرنے والے محنت کشوں سے نہیں بلکہ ان دماغوں سے متعین ہوتی ہے جو ٹیکنالوجی اور علوم کے میدان میں نئی راہیں تراشنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اردوسمیت پاکستان کی کسی زبان میں یہ اہلیت نہیں کہ وہ ہمیں غیر ملکی زبانوں سے بے نیاز کر کے ہمارے انسانی سرمائے میں بہتری لا سکے۔ غریب عوام کے بچوں کو مقامی زبانوں تک محدود کرنے سے طبقاتی خلیج میں کمی نہیں آئے گی بلکہ مزید اضافہ ہو گا۔ معاشی عالمگیریت اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے انقلاب کے بعد سے مقامی زبانوں کے ذریعے ترقی کا مفروضہ بھی محل نظر ہو چلا ہے۔ چین اور جاپان سمیت دنیا کے ان گنت ممالک میں بلامبالغہ کروڑوں طالب علم ہنگامی بنیادوں پر انگریزی زبان کی تحصیل میں مصروف ہیں۔ دنیا بھر میں جرمن، فرانسیسی ، ہسپانوی اور عربی جیسی زبانوں کو اپنی بقا کی فکر لاحق ہو رہی ہے ادھر ہم ہیں کہ اردو املا کے مسائل میں سر کھپا رہے ہیں۔ دنیا میں وہی زبان مسابقت کی اس دوڑ میں کامیاب رہے گی جس میں جدید علوم کا ذخیرہ وافر ہو گا، جس زبان کے جاننے والوں کو روزگار کے بہتر مواقع میسر آئیں گے، اور جس زبان کے جاننے سے عالمی سطح پر میل جول اور پیشہ ورانہ کارکردگی میں سہولت پیدا ہو گی۔

Wali Muhammad and other Afghan boys call out the letter their teacher points to during class at the Forward Operating Base Geronimo schoolhouse in Afghanistan, July 8. Most of the kids who attend school are younger than the current war. The children are taught by Marine, Navy and Afghan volunteers.

آئیے فرض کر لیتے ہیں کہ ہم نے یکساں نظام تعلیم کی راہ میں حائل معاشی، علمی اور انتظامی مشکلات جادو کی چھڑی سے دور کر لی ہیں۔ طے یہ پایا کہ امیر ہو یا غریب، سب کو سرکاری سکولوں میں ایک جیسی تعلیم فراہم کی جائے گی۔ اگلا مرحلہ یہ ہے کہ یکساں نظام تعلیم کے لیے ہمیں ایک معیاری نصاب بھی طے کرنا ہو گا تاکہ اس نظام سے فارغ التحصیل ہونے والے طالب علم دنیا بھر میں اپنے ہم عمر طلبا اور طالبات کا مقابلہ کر سکیں۔ سوال یہ ہے کہ عشروں کی نظریاتی تلقین کے زیر اثر ہم نے اپنے نصاب کی جو صورت بگاڑی ہے ،کیا اس پر نظرثانی کی زحمت کی جائے گی۔ بنیادی تعلیم میں جغرافیے کو بڑی اہمیت حاصل ہے۔ ہم نے جغرافیے کی تعلیم کو مطالعہ پاکستان کے ایک یا دو ابواب تک محدود کر رکھا ہے۔ مطالعہ پاکستان میں شامل تاریخ کا تاریخی حقائق سے کوئی واسطہ نہیں۔ شہریت ہے تو ہمارے خصوصی تناظر میں گھڑے ہوئے مفروضات کے تابع۔ مرحوم خورشید کمال عزیز نے ’تاریخ کے قتل‘ کے نام سے ایک عمدہ کتاب لکھی تھی جس میں ہماری نصابی کتابوں کا تجزیہ کر کے بتایا تھا ہم کس طرح تنگ نظری، تفرقہ پروری اور رجعت پسندی کی آبیاری کر رہے ہیں۔ دوسری طرف سائنس کے مضامین میں ہم نے مذہبی لغت کو دخل دے رکھا ہے۔ سائنس کے اساتذہ کی ایک بڑی تعداد سائنسی طریقہ کار کے بنیادی مفروضات ہی سے آگاہ نہیں۔ بیالوجی کے اساتذہ کی اکثریت کا کہنا ہے کہ ارتقا کا نظریہ نصابی طور پر ٹھیک ہے لیکن مذہبی اعتبار سے اس پر یقین رکھنا درست نہیں۔ علم اور عقیدے کی اس ثنویت میں آپ کے فارغ التحصیل طلبا کا کیا بنے گا؟ اس سوال کا جواب فارسی شاعر نے تو بہت پہلے دے دیا تھا، گر ہمیں مکتب است و ایں ملا، کار طفلاں تمام خواہد شد۔

Virtually none of the public schools in and around the capital Islamabad have libraries. The Bright Star Mobile Library is often the only access schoolchildren have to books.

یکساں نظام تعلیم کے نعرے اور مادری یا مقامی زبانوں کو ذریعہ تعلیم بنانے کا مطالبہ امیر طبقے کے خلاف نہیں بلکہ متوسط اور نچلے متوسط طبقے کے خلاف سازش ہے۔ گزشتہ 80 برس میں انتظامیہ، تدریس، طب، عدلیہ، صحافت، علم و ادب اور دوسرے پیشہ ورانہ شعبوں میں اعلیٰ ترین مناصب پر پہنچنے والے ان افراد کی تعداد گن جائیے جن کے والدین نچلے درجے کے سرکاری اہلکار تھے۔ ان میں سے کسی کے والد ریلوے اہلکار تھے تو کسی کا تعلق محکمہ تار اور ڈاک سے تھا۔ کسی کے والدین پرائمری استاد تھے تو کسی کے والد کچہری میں عرائض نویس۔ ظاہر ہے کہ اس ترقی میں اس نسل کی ذاتی محنت کو بھی دخل ہے لیکن اس نسل کی معاشی اور سماجی ترقی میں ایک بڑا حصہ اس نظام تعلیم کا تھا جو آزادی سے پہلے اور کچھ بعد تک قائم تھا اور جسے گزشتہ تیس برس میں سوچ سمجھ کر تباہ کیا گیا ہے۔ کیونکہ ہمیں تعلیم پر قومی وسائل خرچ کرنا پسند نہیں تھا نیز یہ کہ ہم ایسی تعلیم یافتہ رائے عامہ سے خوفزدہ تھے جو اپنی بہتر علمی استعداد اور تجزیے کی اہلیت کی مدد سے اجتماعی سطح پر ہونے والی دھاندلی اور ناانصافی کے خلاف مو ¿ثر آواز اٹھا سکے۔ یکساں نظام تعلیم اور مقامیت کے حامی عناصر کا مقصد یہ ہے کہ آئندہ نسلوں کو بیرونی دنیا سے کاٹ دیا جائے اور داخلی مسائل کے شعور سے بیگانہ کر دیا جائے تاکہ غریب اور مشتعل نوجوانوں کی ایسی کھیپ فراہم ہو سکے جو علم، اہلیت، ہنر اور بنیادی انسانی ہمدردی سے اس حد تک بے نیاز ہو کہ اسے عبادت گاہوں، پرہجوم بازاروں اور قومی سلامتی کے اداروں، غرض کہیں بھی خودکش دھماکے کرنے میں عار نہ ہو۔

معاشی عالمگیریت کا ایک ذیلی مظہر روزگار کی آﺅٹ سورسنگ ہے اور عالمی سطح پر اس مظہر سے سب سے زیادہ فائدہ بھارت نے اٹھایا ہے۔ 5619d27351398وجہ یہ ہے کہ بھارت میں انگریزی زبان میں معتدبہ صلاحیت رکھنے والے نوجوان لڑکے اور لڑکیوں کی تعداد کروڑوں میں ہے۔ پاکستان کی آبادی بیس کروڑ سے زائد ہے اور ہمارے تعلیمی نظام میں انگریزی زبان کا عمل دخل ایک صدی پر محیط ہے۔ اصولی طور پر پاکستان کو بھی بھارت کی سطح پرنہ سہی، کم از کم اس پیمانے پر آﺅٹ سورسنگ سے فائدہ ہونا چاہیے تھا کہ ہمارے تعلیم یافتہ طبقے کے اپنے ملک میں بیٹھ کر کام کرنے سے ہمیں ایسا ہی معاشی فائدہ حاصل ہوتا جو بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی ترسیلات زر سے ہو رہا ہے لیکن ایسا نہیں ہو سکا۔ اس میں محض پاکستان میں امن و امان کی ناگفتہ بہ صورتحال یا پاکستان کی بیرونی دنیا میں ساکھ ہی کو دخل نہیں بلکہ تسلیم کرنا چاہیے کہ انگریزی خواندگی اور بول چال میں ہمارے اوسط درجے کے تعلیم یافتہ افراد کی استعداد بھارت کے ساتھ قابل مسابقت نہیں۔

یہ امر تو طے ہے کہ عمران خان اور سراج الحق کے موعودہ یکساں نظام تعلیم میں اشرافیہ کے مہنگے سکولوں کی کوئی گنجائش نہیں ہو گی لیکن سرکاری سکولوں کے نتائج پر غور کرنے میں بھی ہرج نہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ان معتوب اشرافیہ سکولوں کے طالب علم گزشتہ برسوں میں بین الاقوامی سطح پر پاکستان کے تعلیمی مستقبل کے ضمن میں امید کی واحد کرن بن کر ابھرے ہیں۔ ادارہ تعلیم و آگہی ہر برس ملک بھر کے درجنوں اضلاع میں تین سے سولہ برس تک کی عمر کے تقریباً ہزاروں بچوں میں نہایت سادہ اردو اور انگریزی خواندگی نیز مبادی ریاضی کی مہارتوں پر تحقیق کے نتائج پیش کرتا ہے۔ ان کی تحقیق بتاتی ہے کہ پاکستان میں تین سے سولہ برس کی عمر کے پچاس فیصد سے زائد طالب علم اردو کے سہ حرفی لفظوں پر مشتمل تین سطریں پڑھنے سے قاصر ہیں۔ یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ یکساں Childنظام تعلیم کے علمبرداروں کے اپنے بطون مقدسہ سے صدور پانے والے ماہتاب اور آفتاب کہاں تعلیم پاتے ہیں۔ عمران خان، صاحبزادہ فضل کریم، سید منور حسن، طاہر القادری، قاضی حسین احمد اور ساجد میر سمیت درجنوں مذہبی سیاست دانوں کے بچے دنیا بھر کے اعلیٰ تعلیمی اداروں میں تعلیم پا تے ہیں اور پھر پیشہ ورانہ شعبوں میں اعلیٰ مقامات پر فائز ہو جاتے ہیں۔ غریبوں کے لیے عربی زبان کا نسخہ اور اپنے زائیدگان کے لیے دنیاوی ترقی کے مدارج کی دو رخی پالیسی پر اہل جبہ و عمامہ کا اجارہ نہیں۔ طبقاتی اونچ نیچ کے ہاتھوں بے حال اشتراکیوں کے ہاں بھی صورتحال کچھ مختلف نہیں۔ وہاں بھی ایک کہکشاں ہے جس کی ذریات حصول تعلیم کے لیے دیار مغرب میں سرگرداں نظر آتی ہے۔ لطف یہ ہے کہ ان میں سے بیشتر امیر حیدر، ڈاکٹر سید حسین، اقبال شیدائی، ڈاکٹر اشرف یا ڈاکٹر اقبال احمد بھی نہیں تھے کہ سیاسی تبدیلی کے لیے دربدر ہوتے۔ انقلاب کے ان خودساختہ داعیوں کی ’دارالحرب‘ کی طرف ہجرت کی ایک پوچ سی وجہ تھی، ذاتی آسائش، مطالبات مدخولہ کی آسودگی نیز گاہے گاہے وطن واپس آکر پسماندگان کو سرمایہ دار دنیا کے ’ناگزیر انہدام‘ کی خوش خبری دینا۔

اس مسئلے کا حل غیر طبقاتی تعلیم کے نام پر مصنوعی یکسانیت پیدا کرنا نہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ پاکستان کے تمام بچوں کو ایسی تعلیم کا کم از کم معیار کیسے فراہم کیا جائے جس کی مدد سے وہ آج کی دنیا سے بامعنی مکالمہ کر سکیں، معاشرے کے مفید رکن بن سکیں اور اپنا معیار زندگی بہتر بنا سکیں۔ ہمارے دائیں اور بائیں بازو کے سامراج دشمنوں کو یکسانیت بالخصوص نظریاتی یکسانیت سے بہت شغف ہے لیکن انسانی معاشرے میں بنیادی مساوات شہریت کی ہے جس کی بنیاد یکساں قوانین پر رکھی جاتی ہے ۔ جہاں شہریت کی بنا پر یکساں حقوق اور یکساں رتبہ حاصل نہ ہو ، وہاں تعلیم بھی یکساں نہیں ہوتی۔ جہاں معاشرے کے مختلف گروہوں کے لیے مختلف قوانین ہوں، اس معاشرے میں یکساں نظام تعلیم کا خواب خوش کن تو ہو سکتا ہے، شرمندہ تعبیر نہیں ہوا کرتا۔


Comments

FB Login Required - comments