پنجاب سے اڑتی چنگاریاں….


mujahid aliاہل پاکستان کے لئے یہ بات اطمینان بخش ہونی چاہئے کہ حکومت سمیت ملک کےسارے لیڈر کرپشن کے خلاف کارروائی کرنے پر متفق ہیں۔ بس اک ذرا طریقہ کار پر اختلاف ضرور موجود ہے لیکن اب اپوزیشن اور حکومت نے 12 رکنی کمیٹی قائم کرنے پر اتفاق کرلیا ہے۔ یہ کمیٹی دو ہفتے کے اندر تحقیقات کا طریقہ کار اور اس کے قواعد و ضوابط طے کر ے گی۔ پھر مملکت پاکستان کی عید ہو گی کہ کرپشن اور سرکاری اختیار کے ناجائز استعمال میں ملوث ہر شخص کا کڑا احتساب ہو سکے گا۔ خورشید شاہ کی قیادت میں اپوزیشن نے سوموار کو وزیراعظم کی تقریر کے بعد احتجاج کرتے ہوئے ایوان سے واک آؤٹ کر دیا تھا۔ عرف عام میں اسے اپوزیشن کا ناک آؤٹ کہا جا رہا ہے۔ کہ وزیراعظم اگرچہ کوئی مضبوط دفاع پیش کرنے میں کامیاب نہیں ہوئے لیکن اپوزیشن نے جرح کرنے اور سوال پوچھنے کی بجائے وزیراعظم کو اطمینان سے گھر جانے کی اجازت دے دی۔ آج قومی اسمبلی میں عمران خان خاص طور سے یہ وضاحتیں دیتے رہے کہ یہ اپوزیشن کا مشترکہ فیصلہ تھا۔ لیکن مشترکہ فیصلے والی اپوزیشن یہ بتانے سے قاصر ہے کہ کیا وہ متحد بھی ہے۔

خیر یہ فیصلہ بھی آنے والے دنوں میں ہوتا رہے گا۔ جس طرح پیپلز پارٹی کے اندر خورشید شاہ کے طرزعمل کے حوالے سے آوازیں اٹھ رہی ہیں اور جس طرح پاکستان تحریک انصاف کے ہمدرد اس بات پر حیران ہو رہے ہیں کہ وزیراعظم کی باتوں کا مستک جواب دینے کی تیاری کر کے آنے کے باوجود اور دوران تقریر گرمجوشی سے نوٹ بنانے اور اسپیکر کی دعوت پر مائیک کے سامنے تقریر کے لئے گلا صاف کرنے اور پوز بنانے کے بعد آخر وہ کون سا پیش از وقت مشترکہ فیصلہ تھا جو عمران خان کو اچانک یاد آیا اور وہ اتنی بدحواسی میں واک آؤٹ کا حصہ بنے کہ میڈیا کے سامنے ’شو جمانے‘ میں مصروف خورشید شاہ ، شاہ محمود قریشی اور اعتزاز احسن کے مقابلے میں انہیں دوسری قطار میں سے جھانک کر اس کارروائی کا حصہ بننا پڑا۔ شاہ محمود قریشی نے اسے عمران خان کے قائدانہ عظمت کی علامت قرار دیا ہے کہ وہ خود کو نمایاں کرنے کی بجائے اصولوں کی بات کرتے ہیں۔ شاہ محمود قریشی یہ بیان اس امید پر دے رہے ہوں گے کہ وقت آنے پر عمران خان خود وزیراعظم بننے کی بجائے ذمہ داری کا یہ بوجھ شاہ صاحب کے نازک کندھوں پر رکھ دیں گے۔ بہرحال یہ خوش خیالی یا خوش فہمی جب تک برقرار رہے، بہتر ہے۔ کیونکہ حقیقتیں امیدوں اور توقعات کے برعکس ہوتی ہیں۔

editاپوزیشن نے آج قومی اسمبلی میں دل کی بھڑاس نکالی اور واضح کیا کہ ملک میں کسی بھی کرپٹ آدمی سے کوئی رو رعایت نہ برتی جائے۔ تاہم یہ تقریریں سانپ گزرنے کے بعد لکیر پیٹنے کے مترادف ہیں۔ کل اپوزیشن کے مختلف لیڈر اپنے اپنے طور پر قومی اسمبلی سے واک آؤٹ کی وجوہات بیان کرتے ہوئے یہ بتانے کی کوشش کر رہے تھے کہ اپوزیشن اتحاد میں شامل 9 پارٹیاں مل کر حکمت عملی اختیار کریں گی۔ لیکن اپوزیشن کے پاس ایک ہی راستہ بچا تھا جو اس نے اپنا لیا۔ یعنی سب لوگ قومی اسمبلی میں واپس آ گئے اور وزیراعظم کی اس پیشکش کو قبول کر لیا کہ پاناما پیپرز کی تحقیقات کیلئے ایک مشترکہ کمیٹی بنا لی جائے۔ آج قومی اسمبلی کے اسپیکر ایاز صادق کے چیمبر میں ملاقات کے دوران 12 رکنی کمیٹی بنانے پر اتفاق کر لیا گیا ہے۔ اگرچہ اصل کھینچا تانی کا آغاز اب ہو گا لیکن اب یہ کام اسی طریقے سے کرنے کی کوشش کی جائے گی جس کی دہائی اس ملک کا باشعور طبقہ گزشتہ 6 ہفتوں سے دیتا رہا ہے۔ لیکن ملک کے سیاسی لیڈروں کو یہ بات وزیراعظم کے قوم سے دو خطابات ، قومی اسمبلی میں شریف خاندان کی امارت اور عروج و زوال کی فیری ٹیل FAIRY TALE سننے ، چند دھماکے دار جلسے کرنے اور درجنوں دھمکیوں سے بھرپور انٹرویو دینے کے بعد سمجھ آئی ہے۔ لیکن یہ کیا کم ہے کہ وہ اب اس بات کو سمجھ گئے ہیں اور خورشید شاہ نے تصدیق کر دی ہے کہ اپوزیشن 90 کی دہائی کی الزام تراشی کی سیاست کو واپس لانے پر یقین نہیں رکھتی۔

اگرچہ 90 کی دہائی کا استعارہ اب صرف خود کو معتبر ثابت کرنے کیلئے فریقین یکساں طور سے استعمال کر رہے ہیں۔ وگرنہ 2008 سے لے کر اب تک ۔۔۔۔ پہلے میاں برادران نے آصف علی زرداری اور پیپلز پارٹی کے ساتھ اور 2013 سے پیپلز پارٹی عمران خان اور دیگر کے ساتھ مل کر مسلم لیگ (ن) کے ساتھ جو کچھ کر رہی ہے، وہ فساد پیدا کرنے کے حوالے سے کسی بھی طرح 90 کی دہائی سے کمتر نہیں ہے۔ یہ طرز عمل اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ جب تک ملک میں جمہوری مزاج مضبوط بنیادوں پر استوار نہیں ہوتا اور رائے دہندگان مختلف وابستگیوں اور مجبوریوں کی بجائے صرف میرٹ کی بنیاد پر صاف ستھرے کردار کے تعلیم یافتہ لوگوں کو منتخب کرنے کی روایت پر عمل نہیں کرتے، ایک دوسرے کے ساتھ چور چور کھیلنے کا طریقہ جاری رہے گا۔ ملک کے سیاست دان عوام کو الجھائے رکھنے کیلئے اس سے بہتر کسی دوسرے ہتھکنڈے سے آگاہ نہیں ہیں۔ اسی لئے اس کھیل میں کبھی کوئی سانپ پھنکارتا ہؤا داخل ہوجاتا ہے اور کھلاڑیوں کو خوفزدہ کر کے کھیل چوپٹ کر دیتا ہے اور کبھی کوئی سپاہی سیٹی بجاتے ہوئے باور کرواتا ہے کہ کھیل تو تب ہی مکمل ہو گا جب چور کے ساتھ سپاہی بھی اس سرکس میں شامل ہو۔

اسپیکر قومی اسمبلی کے چیمبر سے جاری ہونے والی اپوزیشن اور حکومت کے نمائندوں کی تصویر سے ماحول کی کشیدگی کا اندازہ کرنا مشکل نہیں ہے۔ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان بداعتمادی کی فضا کا اندازہ آج قومی اسمبلی میں کی جانے والی تقریروں سے بھی کیا جا سکتا ہے۔ لیکن ملک کو درپیش خطرات اور جمہوریت کو بدستور کام کرنے کا موقع دینے کیلئے ضروری ہے کہ اب دونوں صفوں میں شامل سیاستدان حملے کر کے پوائنٹ اسکورنگ کرنے کی بجائے صورتحال کی سنگینی کو سمجھنے اور مسائل کا حل نکالنے کے لئے سنجیدگی سے کاوش کریں۔ تصادم کی موجودہ صورتحال سے صرف سیاستدانوں کا اعتبار مجروح اور صلاحیت بے نقاب ہورہی ہے۔ عوام اب ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالنے اور سو مرتبہ دہرائی گئی باتیں سن سن کر عاجز آ چکے ہیں۔ اگر سیاستدان عام آدمی کی اس تکلیف کو سمجھنے سے قاصر رہتے ہیں تو عوام بھی اس بات سے بے پرواہ ہو سکتے ہیں کہ ملک میں جمہوری نظام کام کر رہا ہے یا فوج کی حکومت ہے۔ جمہوریت میں اعتماد کا دوطرفہ رشتہ استوار ہونا ضروری ہے۔ عوام ووٹ کے ذریعے اپنے نمائندے منتخب کر کے انہیں قومی مسائل حل کرنے کیلئے منتخب کرتے ہیں۔ اب ان نمائندوں کا فرض ہے کہ وہ اپنے منصب کے تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے عام لوگوں کو یقین دلا سکیں کہ انہوں نے ووٹ دیتے وقت غلط فیصلہ نہیں کیا تھا۔

حکمران مسلم لیگ (ن) کو خاص طور سے وقت کی اس ضرورت اور تقاضے کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ سرکاری ٹیلی ویژن اور قومی اسمبلی کے فلور کو آخر کب تک اپنے خاندان کے محاسن بیان کرنے کیلئے استعمال کیا جاتا رہے گا۔ آج پنجاب کے وزیراعلیٰ نے پنجاب اسمبلی میں وہی باتیں کیں جو اس سے پہلے میاں نواز شریف قوم کو یاد کروا چکے ہیں۔ اب یہ سلسلہ بند کر کے کام کی طرف توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ خواہ یہ کام کرپشن کے خاتمہ کیلئے قابل قبول اقدامات سے متعلق ہو یا امور مملکت کو احسن طریقے سے چلانے اور قومی سطح پر نتائج دکھا کر عام آدمی کو ریلیف دینے کے حوالے سے ہو۔ اگرچہ سیاست کے سینے میں دل نہیں ہوتا لیکن ملک کے 20 کروڑ لوگوں کی ضرورتیں حقیقی اور ان کے مسائل گھمبیر ہیں۔ اگر سیاستدانوں کا دل ان کی شدت سے نہیں پگھلتا تو یہ حدت ان کے نشیمن کو خاکستر کرنے کی تاب رکھتی ہے۔

بیک وقت سیاست کی سنگدلی اور نزاکت کا اندازہ پنجاب کے وزیر قانون رانا ثناء اللہ کے تازہ ترین انٹرویو سے بھی کیا جا سکتا ہے۔ شہباز شریف اپنے وزیراعظم بھائی کی محبت کے جوش میں کچھ بھی کرنے کو تیار نظر آتے ہیں لیکن ان کے وزیر قانون یہ بتا رہے ہیں کہ ملک میں کالعدم تنظیمیں دراصل سرکار کے تعاون سے متحرک رہی ہیں اسی لئے ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جا سکتی۔ بی بی سی کو ایک انٹرویو میں رانا صاحب نے بتایا ہے کہ جیش محمد اور جماعت الدعوۃ پر اب پابندی عائد ہے لیکن ان کے خلاف کوئی قانونی کارروائی نہیں کی جا سکتی، کیونکہ ان معاملات میں ریاست خود شامل رہی ہے۔ رانا ثناء اللہ ایک صوبے کے وزیر ہیں لیکن وہ جس ‘ریاست‘ کی بات کر رہے ہیں، اس کی نگرانی میں پورے ملک کے معاملات طے پاتے رہے ہیں۔ اس بیان کو پڑھنے کے بعد یہ ضرور سوچا جائے گا کہ کیا یہ بیان وزیراعلیٰ پنجاب کی مشاورت سے دیا گیا ہے۔ یا صوبائی وزیر قانون اپنے معاملات میں اتنے خود مختار ہیں کہ وہ کوئی بھی بیان جاری کر سکتے ہیں۔ میاں نواز شریف کو اس وقت دشمنوں کی نہیں دوستوں کی ضرورت ہے۔ تب ہی وہ اپنے مخالفین سے معاملات طے کرنے کیلئے سیاسی قوت حاصل کر سکتے ہیں۔

ایسی صورت میں پنجاب کے وزیر قانون کی طرف سے اسٹیبلشمنٹ کے خلاف یہ بیان نہ تو بے مقصد ہو سکتا ہے اور نہ اس کے اثرات سے انکار ممکن ہے۔ مشکلات میں گھرے نواز شریف کو دیکھنا ہو گا کہ ان کے نشیمن میں چنگاریاں پھینکنے والے کہیں ان کے اپنے ہی تو نہیں ہیں۔


Comments

FB Login Required - comments

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 418 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali