انصاف پسند ایم پی اے سے سرکاری افسر کی بدمعاشی


سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہوئی ہوئی ہے جس میں غالباً کیمرہ ٹرک کے ذریعے تحریک انصاف کے ایک نہایت ہی زیادہ انصاف پسند ایم پی اے ڈاکٹر عمران علی شاہ کو ایک بزرگ کو تھپڑ مارتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ اس کے بعد ان کے ساتھ موجود دو نہایت ہی مسلح گارڈ ان بزرگ کو ان کی اوقات میں لاتے دکھائی دیے ہیں۔ یقین مانیں ایک مرتبہ تو ہم بھی اس بات پر یقین لے آئے تھے کہ یہ انصاف پسند ڈاکٹر صاحب غنڈہ گردی کر رہے ہیں، مگر شکر ہے کہ ہم نے جلد ہی ان کی وضاحتی ویڈیو دیکھ لی اور ہمیں یہ پتہ چلا کہ غنڈہ گردی تو ان انصاف پسند ایم پی اے صاحب کے ساتھ ہوئی تھی۔

سب سے پہلے ڈاکٹر عمران علی شاہ کی وضاحت پڑھ لیتے ہیں تاکہ ہر انصاف پسند شخص مطمئن ہو جائے۔
”آج شام کے وقت میں انڈی پینڈنس ڈے کے فنشکن میں جا رہا تھا کہ تو میں نے دیکھا کہ ایک صاحب مسلسل ایک غریب آدمی کی گاڑی کو پیچھے سے مستقل بمپر کو مارتے چلے جا رہے تھے۔ میں نے گاڑی روکی اور اس غریب آدمی سے پوچھا کہ کیا پرابلم ہے۔ تو ان صاحب نے کافی بدتمیزی کی۔ میں نے کہا کہ بدتمیزی کو چھوڑیں صرف اپالوجائز کر لیں اس آدمی سے جس کی گاڑی کو آپ پیچھے سے بار بار مار رہے ہیں۔ تو بڑی مشکل سے وہ باہر آئے اور بڑی مشکل سے انہوں نے اپالوجائز کی تین چار مرتبہ۔ جب ہم لوگ جانے لگے تو انہوں نے کہا کہ تو ہوتا کون ہے اور مجھے بہت بہت بری اور نازیبا باتیں کیں۔ مجھ سے بھی اور اس غریب آدمی سے بھی۔ بچارے کے کپڑے بھی بہت گندے تھے اور بہت غریب سا لگ رہا تھا شکل میں۔ تو میں نے کہا کہ آپ نے مجھے گالی کیوں دی۔ پھر انہوں نے مجھے پش کیا تو اس چکر میں بھی میں نے ان کو پش کیا۔ غریبوں پر ظلم اور ستم اس طرح چلتا رہے گا تو وہ میں برداشت نہیں کر سکتا کیونکہ غلطی اس آدمی کی تھی میری نہیں تھی۔“

اب ظاہر ہے کہ کراچی کا یہ نستعلیق انصاف پسند عوامی نمائندہ جھوٹ تو نہیں بولے گا۔ اگر ویڈیو میں یہ دکھایا گیا ہے کہ ایک ساٹھ سال کے قریب عمر کا شخص اپنے سے فٹ بھر اونچے ڈشکرے قسم کے ایسے شخص کے تھپڑ پر بار بار اپنا گال مار رہا ہے جو ایک جہازی سائز کی کالی سیاہ گاڑی سے باہر نکلا ہے اور اس کے پیچھے آٹومیٹک بندوقیں اٹھائے گارڈوں کی فوج بھی چل رہی ہے، تو یہ کیمرہ ٹرک ہی ہو گا۔ کون سا بابا بقائمی ہوش ہو حواس ایسے اپنی بے عزتی کروائے گا؟

یا پھر ایک دوسری توجیہ بھی ذہن میں آتی ہے۔ حکمرانوں کے ساتھ ایسے بدمعاشی کرنے اور خود کو مظلوم بنانے کی روایت کوئی نئی نہیں ہے۔ سنہ 2005 میں صدر پاکستان جنرل پرویز مشرف اسی ذہنیت کا پردہ چاک کرتے ہوئے فرما گئے ہیں کہ ”پاکستان میں ریپ ایک منافع بخش کاروبار بن چکا ہے۔ آپ کو پاکستان کے حالات کو سمجھنا چاہیے۔ یہ پیسہ کمانے کا ایک ذریعہ بن گیا ہے۔ بہت سے لوگ کہتے ہیں کہ اگر آپ باہر جانا چاہتے ہیں یا کینیڈا کی شہریت یا ویزا لینا چاہتے ہیں تو خود کو ’ریپ‘ کروا لیں۔“ ممکن ہے کہ یہ بزرگ بھی پیسہ کمانا چاہتے ہوں یا کینیڈا کا ویزا یا شہریت لینا چاہتے ہوں اس لئے ایک انصاف پسند ایم پی اے کو یوں بدنام کر رہے ہوں۔

ان بابا جی کے متعلق پتہ چلا کہ ان کا نام داؤد چوہان ہے اور وہ سول ایوی ایشن میں سینئر ایڈیشینل ڈائریکٹر ہیں اور جلد ہی ریٹائر ہونے والے ہیں۔ آپ ہماری طرح ایک عام سے پاکستانی ہیں تو آپ نے بارہا دیکھا ہو گا کہ بعض سرکاری افسران بلاوجہ عوام کو تنگ کرتے ہیں۔ چوہان صاحب نے بھی غالباً اس جہازی گاڑی کو سڑک پر جاتے دیکھ کر اس پر شہری ہوابازی کی افسری کا رعب جمانا چاہا ہو گا۔

اب ان کو کیا پتہ تھا کہ اس میں ایک انصاف پسند عوامی نمائندے سوار ہیں جو خلیفہ ہارون الرشید کی طرح سڑکوں پر انصاف فراہم کرنے کے مشن پر نکلے ہوئے ہیں۔ اب انہوں نے جب دیکھا کہ ایک نہایت ہی میلے کپڑوں والا ایک نہایت ہی غریب آدمی اپنی گاڑی میں جا رہا ہے اور یہ ڈائریکٹر صاحب اپنی نئی نکور سوزوکی کلٹس سے اسے اس طرح مار رہے ہیں جیسے وہ ٹین کی بنی ہوئی سوزوکی نہیں بلکہ بلڈوزر چلا رہے ہوں، تو وہ غریبوں پر یہ شدید ظلم برداشت نہ کر پائے۔ وہیں اتر کر ڈائریکٹر صاحب کو سمجھانے لگے۔ ڈائریکٹر صاحب نے بھی اپنے تن و توش اور عمر کا خیال نہ کیا اور انصاف پسند ڈاکٹر صاحب کے دو دو فٹ اونچے طمانچے پر اپنا گال مسلسل مارنے لگے۔ یہ افسران بھی بدمعاشی کرنے سے باز نہیں آتے۔

بہرحال ڈاکٹر عمران علی شاہ صاحب ایک نہایت ہی بلند اخلاقی کردار رکھتے ہیں۔ یہ ویڈیو وائرل ہونے پر وہ خود چل کر ان افسر صاحب کے گھر پہنچے اور ان سے معافی طلب کی۔ غالباً ان کی یہ وسعت القلبی دیکھ کر ہی ڈائریکٹر صاحب کو اپنی غلطی کا ایسی شدت سے احساس ہوا کہ اس معافی کی تصویر میں وہ اور ان کے صاحبزادے رقت کے عالم میں دکھائی دے رہے ہیں اور انصاف پسند ڈاکٹر صاحب ان کے کاندھے پر ایسے ہاتھ رکھے کھڑے ہیں جیسے مشہور شکاری جم کاربٹ شیر مارنے کے بعد اس کے کاندھے پر پیر رکھ کر تصویر اتروایا کرتے تھے۔ وہ جو کہتے ہیں کہ ایک تصویر ہزار الفاظ پر بھاری ہوتی ہے، تو وہ یہی تصویر ہے۔

ڈاکٹر صاحب نے بلاوجہ ہی غریبوں پر ظلم کرنے والوں سے معافی مانگ لی ہے۔ اور دیکھیں کہ ان کی اس مہربانی کا کیا بدلہ ملا۔ جیسے ہی وہ معافی مانگ کر گئے تو پریس والوں نے چوہان صاحب کو گھیر لیا اور پوچھنے لگے کہ کیا آپ نے معاف کر دیا ہے، کیا مقدمہ درج کروائیں گے؟

چوہان صاحب نے اس پر جواب دیا ”پاکستان کی کون سی کورٹ ان کو سزا دے پائے گی؟ میرے پاس نہ اتنا پیسہ ہے نہ اتنا حوصلہ ہے۔ آپ بتائیں کیسے قانونی کارروائی کروں؟ کس طرح معاف کروں؟ دو نفل پڑھ لوں؟ کیا کروں؟ وہ جو تھپڑ انہوں نے میرے منہ پر رسید کر دیے، ایک دو نہیں کئی، تو شکر گزار ہوں میں اس لڑکے کا جس نے اپنی باپ کے عمر کو تھپڑ کھاتا دیکھ کر ویڈیو بنا لی۔ میں نے تو اپنی اولاد کو بھی نہیں بتایا۔“

مزید پڑھنے کے لئے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 1023 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar