’پنجاب کے وزیرِ اعٰلی سے تو وزیرِاعظم بھی خوف محسوس کرتا ہے‘

عمر دراز ننگیانہ - بی بی سی اردو لاہور


پاکستان

صوبہ پنجاب پاکستان میں سب سے زیادہ آبادی اور اس کی صوبائی اسمبلی سب سے زیادہ نشستوں کی مالک ہے۔ اصولاً دس جبکہ عملاً 30 برس تک پنجاب اسمبلی میں پاکستان مسلم لیگ کی حکومت رہی ہے اور اس میں ماسوائے چند برسوں کے، بقیہ وقت اس کی سربراہی شریف خاندان کے پاس رہی۔ لیکن اب یہ بدلنے جا رہا ہے۔

حالیہ انتخابات کے بعد پاکستان تحریکِ انصاف کو پنجاب میں آزاد امیدواروں کی شمولیت کے بعد عددی برتری حاصل ہو گئی ہے۔ 179 نشستوں کے ساتھ اتحادی جماعت پاکستان مسلم لیگ ق کی 10 نشستیں ملا کر وہ حکومت بنانے کے لیے درکار 186 کا عندسہ حاصل کر لے گی۔ اس کو ایسا کرنے سے روکنے کے لیے 164 نشستیں رکھنے والی پاکستان مسلم لیگ ن کو پاکستان پیپلز پارٹی کے 8 اور چار آزاد اراکین کے ساتھ ساتھ کم از کم 10 مزید اراکین کی حمایت درکار ہو گی۔

ن لیگ وزیرِاعلٰی پنجاب کے امیدوار کے لیے حمزہ شہباز کو نامزد کر چکی ہے۔ انتخاب میں شکست کی صورت میں وہی قائدِ حزبِ اختلاف ہوں گے۔ تاہم ایسی صورت میں اس کا قلعہ سمجھے جانے والے پنجاب میں پاکستان مسلم لیگ ن مسلسل 10 برس تک حکومت کرنے کے بعد حزبِ اختلاف کی جماعت بن جائے گی۔ عددی اعتبار سے تو مضبوط تاہم کیا حزبِ اختلاف کے طور پر وہ عملاً پاکستان تحریکِ انصاف کی حکومت کے خلاف مؤثر کردار ادا کر پائے گی؟

حزبِ اختلاف میں ان کے ماضی کے پیشِ نظر ان اس ممکنہ کردار کے حوالے سے سوال اٹھ رہے ہیں۔ خصوصاً جب پنجاب میں کارکردگی دکھانے کا دعوٰی کرنے والے سابق وزیرِ اعلٰی شہباز شریف خود پنجاب اسمبلی میں موجود نہیں ہوں گے۔ قائدِ حزبِ اختلاف بننے کا تجربہ ن لیگ کے پنجاب کے نئے سربراہ حمزہ شہباز کے لیے نیا ہو گا اور سوال اٹھتا ہے کہ وہ کتنے مضبوط قائدِ حزبِ اختلاف ثابت ہوں گے؟

دوسری جانب ن لیگ پر پاکستان تحریکِ انصاف کی عددی فوقیت محض چند نشستوں کی ہے۔ ایسے میں ان کی حکومت کتنی پائیدار اور مؤثر ہو گی؟ ن لیگ اسے کیسے مشکل میں ڈال سکتی ہے؟ ایسے تمام سوال ابھی سے گردش میں ہیں۔

حمزہ شہباز کیسے اوپر آئے؟

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ن لیگ کی رہنما صبا صادق اور بشریٰ انجم بٹ نے بتایا کہ ‘ان کی پارٹی نے اتفاقِ رائے سے حمزہ شہباز کا انتخاب کیا۔’ اس کی وجہ بشریٰ انجم بٹ کے مطابق یہ تھی کہ ‘حمزہ شہباز کی مکمل تربیت ہو چکی ہے اور وہ یہ کردار ادا کرنے کے لیے بالکل تیار ہیں’ جبکہ صبا صادق سمجھتی ہیں کہ ‘حمزہ کا انتہائی قریبی رابطہ رہا ہے جماعت کے کارکنان کے ساتھ۔’

صحافی اور تجزیہ کار مجیب الرحمٰن شامی جو ن لیگ اور اس کی سیاست پر گہری نظر رکھتے ہیں، صبا صادق کی بات سے اتفاق کرتے ہیں اور اس کی سیاسی منطق بھی پیش کرتے ہیں۔ ‘جو دوسرا نام آیا تھا وہ خواجہ سعد رفیق کا تھا۔ لیکن لوگوں کا یہ کہنا تھا کہ حمزہ کیونکہ سارا معاملہ پہلے ہی چلا رہے تھے، وہ زیادہ بہتر طریقے سے یہاں اپوزیشن کر سکیں گے۔’ ‘اور کوئی متبادل نہیں تھا ن لیگ کے پاس۔ خواجہ سعد رفیق بھی ہاک (یعنی جارحانہ مؤقف رکھنے والے) ہیں۔’

‘مخالف طاقتوں کو بے اثر کرنا آسان نہ ہو گا’

حمزہ شہباز اور خواجہ سعد رفیق دونوں بدھ کے روز حلف اٹھانے کے لیے پنجاب اسمبلی الگ الگ پہنچے اور واپسی پر خواجہ سعد رفیق حمزہ سے پہلے چلے گئے۔ دونوں نے ذرائع ابلاغ کو دیے اپنے بیانات میں پاکستان تحریکِ انصاف کی حکومت سازی کے طریقہ کار کو تنقید کا نشانہ بنایا۔

حمزہ کا کہنا تھا کہ وہ ‘مردانہ وار اپوزیشن کا کردار ادا کریں گے۔’

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے خواجہ سعد رفیق کا کہنا تھا کہ ‘اگر اپوزیشن کرنی پڑ گئی تو یہ کوئی پہلی بار نہیں ہو گا۔ ہمیں اپوزیشن کرنی آتی ہے، ہم ایک ذمہ دارانہ اپوزیشن کا کردار بخوبی ادا کر سکتے ہیں۔’

صحافی اور تجزیہ نگار افتخار احمد کہتے ہیں کہ اسمبلی کے اندر انھیں مشکلات کا سامنا ہو سکتا ہے کیونکہ ‘چند ممبران ان سے گذشتہ دور میں ملاقاتوں کے مواقع نہ دیے جانے پر ناخوش ہوں گے۔’

تاہم مجیب الرحمٰن شامی سمجھتے ہیں کہ حمزہ کے لیے مسائل اس سے کہیں بڑے ہوں گے۔

‘جو طاقتیں ان کے خلاف کام کر رہی ہوں گی ان کو بے اثر کرنا آسان نہیں ہو گا۔’

ان کا کہنا تھا کہ ماضی میں جو سرکاری اور انتظامی حمایت انہیں حاصل رہی وہ اب نہیں ہو گی۔

‘دس سال میں پہلی دفعہ سب کام خود کرنا پڑے گا۔ انہیں اپنی جماعت کو منظم کرنا پڑے گا، اس پر خرچہ کرنا پڑے گا اور دیگر معاملات دیکھنے ہوں گے۔’

انھوں نے مزید کہا کہ مسلم لیگ ن ‘ایک ایسی جماعت ہے جس کا ڈھانچہ بہت کمزور ہے۔ اس نے دس سال جو سیاست کی ہے وہ اپنے ڈھانچے پر نہیں کی۔’

پاکستان

‘ن لیگ اپوزیشن کی نہیں’

پاکستان تحریکِ انصاف کے پنجاب اسمبلی کے رکن اور اہم رہنما علیم خان کچھ اسی قسم کے امکانات کا اظہار کرتے ہیں۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ن لیگ حکمران طبقے سے تعلق رکھتی ہیں۔ ‘انہوں نے حکمرانی دیکھی ہے، اپوزیشن نہیں۔ اب اپوزیشن کا جس دن مزہ چکھیں گے اس دن ان کو سمجھ آئے گی کہ یہ بڑا مشکل کام ہے۔’

ان کے ساتھی اور پنجاب اسمبلی کے سابق قائدِ حزبِ اختلاف اور حالیہ رکن میاں محمود الرشید اتفاق کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ‘ن لیگ اس وقت خود منتشر ہے۔ ان کا بیانیہ بھی واضح نہیں۔ وہ ہمارے لیے کوئی مشکلات کھڑی نہیں کر پائے گی۔’ تجزیہ کار مجیب الرحمٰن شامی کے مطابق ن لیگ ایسا کرنا بھی چاہے تو اس کے راستے میں دیگر بیشمار رکاوٹیں ہوں گی۔ ‘جنہوں نے ن لیگ کو الیکشن میں کامیابی نہیں لینے دی، وہ تمام عوامل تو کام کر رہے ہوں گے۔’ پنجاب اسمبلی میں پی ٹی آئی کی حکومت کی صورت میں سپیکر پرویز الٰہی ہوں گے اور باہر گورنر پنجاب چوہدری سرور ہوں گے۔ مجیب الرحمٰن شامی کے مطابق ‘ان دونوں کی کوشش ہو گی کہ وہ ن لیگ کے اندر سے کچھ لوگوں کو غیر فعال کر دیں۔’ اس طرح پاکستان تحریکِ انصاف کو ان کے جامد ہونے سے جو سپورٹ چاہیے وہ ملتی رہے گی۔

تو کیا پی ٹی آئی مزے میں رہے گی؟

تجزیہ کار افتخار احمد اس بات سے اتفاق نہیں کرتے کہ مسلم لیگ ن کے اندر زیادہ جوڑ توڑ ہو پائے گا۔ ‘تیس سال سے وہ ایک جماعت ہے۔ ان کے نمائندوں نے اتنے فائدے اٹھائے ہیں۔ وہ جو کچھ بھی آج ہیں وہ میاں نواز شریف کی وجہ سے ہیں۔ میرا نہیں خیال کہ وہ جماعت چھوڑیں گے۔’

پاکستان

اس کے علاوہ ان کا کہنا تھا کہ شہباز شریف کا پنجاب کی بیوروکریسی کے ساتھ بہت گہرا تعلق ہے۔ ‘وہ پیداوار ہی ان کی ہے اور ان کی وفا دار رہی ہے، اس کو ختم کرنا آسان نہیں ہو گا۔’ انہیں یقین ہے کہ پاکستان تحریکِ انصاف کی حکومت تبدیلیاں ضرور کرے گی، ‘مگر جیسے ہی وہ یہ کرے گی اس پر یہ الزام لگے گا کہ انتقامی کارروائی کر رہے ہیں۔’ تجزیہ کار مجیب الرحمٰن شامی کا کہنا تھا کہ اگر ن لیگ اپنی قوت بنائے رکھنے میں کامیاب ہو جائے تو وہ پاکستان تحریکِ انصاف کے لیے مسائل کھڑے کر سکتی ہے۔

‘اسمبلی کے باہر ن لیگ آج بھی ایک بڑی قوت ہے۔ مرکزی پنجاب اور خصوصاً لاہور میں وہ بہت مضبوط ہیں۔ اسمبلی میں بھی آپ کے پاس ہر وقت تعداد ایک جیسی نہیں رہتی، خصوصاً جب نشستوں کا فرق اتنا کم ہو تو کہیں نہ کہیں پی ٹی آئی کو شکست بھی ہو سکتی ہے۔’

اگر پی ٹی آئی جارحانہ انداز اپنائے تو؟

تجزیہ نگار افتخار احمد کہتے ہیں کہ چند معاملات ایسے ہیں جن پر پاکستان تحریکِ انصاف کی حکومت آتے ساتھ ہی اگر کام کرے تو ن لیگ کو مشکل میں ڈال سکتی ہے۔ ‘اگر میں ان کی جگہ ہوں تو میں جنوبی پنجاب کا بل متعارف کروا دوں اور اس پر ووٹنگ کروا دوں۔ اس طرح ن لیگ اور پاکستان پیپلز پارٹی بے نقاب ہو جائیں گے۔’ اگر وہ نہیں مانتے تو اگلے انتخابات میں ان کو نقصان ہو گا۔ تاہم مجیب الرحمٰن شامی کے خیال میں یہ چال ان پر الٹ بھی سکتی ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ ‘اگر جنوبی پنجاب صوبہ بنتا ہے تو مرکزی پنجاب میں پی ٹی آئی کی حکومت ختم ہو جاتی ہے۔’ افتخار احمد کا ماننا ہے کہ بلدیاتی نظام کے قانون میں تحریکِ انصاف کو آتے ساتھ ہی ایسی ترامیم کرنی چاہئیں جو عوام کو سہولت پہنچانے کے لیے ہوں۔ ‘اس پر ن لیگ اور پاکستان پیپلز پارٹی اس کی مخالفت کریں گے۔’

تاہم مجیب الرحمٰن شامی کا کہنا تھا کہ ‘بلدیاتی نظام میں تبدیلی اور اس کو طاقتور بنانے سے بھی ن لیگ کو فائدہ ہو گا کیونکہ اس کا بنیادی ڈھانچہ موجود ہے۔’

پاکستان

شہباز شریف اِدھر ٹھیک یا اُدھر؟

پاکستان تحریکِ انصاف میں بعض حلقوں کا ماننا ہے کہ انہیں پنجاب اسمبلی میں شہباز شریف کے نہ ہونے سے بھی فائدہ پہنچے گا اور ان کی جگہ حمزہ شہباز زیادہ آسان ہوں گے۔ تاہم مجیب الرحمٰن شامی کے مطابق ن لیگ کے شہباز شریف کو اسلام آباد بھیجنے کے پیچھے ن لیگ میں جو سوچ کار فرما تھی وہ درست تھی۔ ‘وہ وہاں بیٹھ کر زیادہ مؤثر ہوں گے۔ ویسے بھی پنجاب حکومت بھی مرکز سے ہی چلے گی، فیصلے لاہور سے کم اور اسلام آباد سے زیادہ ہوں گے۔’ ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان کی بھی یہی کوشش ہو گی کہ پنجاب کا وزیرِ اعلٰی زیادہ مضبوط شخص نہ ہو۔ ‘اسی لیے جہانگیر ترین صاحب جیسے جو لوگ باہر بیٹھے ہوں گے، زیادہ تر معاملات ان کے ہاتھ میں ہوں گے۔ پنجاب کے وزیرِ اعٰلی سے وزیرِاعظم بھی خوف محسوس کرتا ہے۔’

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 5389 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp