دیوتاؤں کے پجاری


adnan-khan-kakar-mukalima-3

بھولا راجہ اپنے گاؤں سے پہلی بار لہور شہر آیا۔ شری رام جی کے سپوت شری لوہ جی کے نام پر بسائے گئے شہر میں بہت سے مہان دیوی دیوتاؤں کے ان گنت مندر تھے۔ وہ سب سے پہلے نظر آنے والے مندر پہنچا۔ سدا سے کچے گھروندے میں رہنے والا بھولا راجہ حیران حیران سا ہو کر دیکھ ہی رہا تھا کہ یہ عالیشان محل کس کا ہے کہ پجاری جی نے اسے مخاطب کیا۔

پجاری جی بولے یہ سوریا دیوتا کا مندر ہے۔ سوریا جی سب سے مہان ہیں۔ دیوتا میں کوئی کھوٹ نہیں ہے۔ تو اپنا چڑھاوا یہاں چڑھا اور پرشاد لے کر نچنت ہو جا۔ شاباش، دیوتا تیری بھینٹ سوئیکار کرے۔ تیرے کرموں سے لہور کی نگری خوب پھلے پھولے گی۔ اب تو کہاں چلا؟

بھولا راجہ: پجاری جی اب اگلے مندر میں متھا ٹیکوں گا اور وہاں چڑھاوا چڑھاؤں گا۔

پجاری جی بولے: مورکھ، بس یہی سچے دیوتا ہیں۔ باقی سب بیکار ہیں۔ بلکہ وہ پاکھنڈی دیش دہلی کے دیوتا ہیں۔ پچھلے سال لہور میں سوکھا وشنو دیوتا کے کرودھ سے پڑا تھا اور سب کو بھوکا مار گیا تھا۔ تو اپنے کرتوتوں سے اپنے دیش کو برباد کر دے گا۔

بھولا چڑھاوا چڑھا کر اگلے مندر کی طرف گیا۔

performing-prayer

پجاری جی بولے یہ ویشنو دیوتا کا مندر ہے۔ ویشنو جی سب سے مہان ہیں۔ دیوتا میں کوئی کھوٹ نہیں ہے۔ تو اپنا چڑھاوا یہاں چڑھا اور پرشاد لے کر نچنت ہو جا۔ شاباش، دیوتا تیری بھینٹ سوئیکار کرے۔ تیرے کرموں سے لہور کی نگری خوب پھلے پھولے گی۔ اب تو کہاں چلا؟

بھولا راجہ: پجاری جی اب اگلے مندر میں متھا ٹیکوں گا اور وہاں چڑھاوا چڑھاؤں گا۔

پجاری جی بولے: مورکھ، بس یہی سچے دیوتا ہیں۔ باقی سب بیکار ہیں۔ بلکہ وہ پاکھنڈی دیش دہلی کے دیوتا ہیں۔ اس برسات میں باڑھ شیو دیوتا کے کرودھ سے آئی تھی اور سب کو بہا کر لے گئی تھی۔ تو اپنے کرتوتوں سے اپنے دیش کو برباد کر دے گا۔

بھولا راجہ چڑھاوا چڑھا کر اگلے مندر کی طرف گیا۔

پجاری جی بولے یہ شیو دیوتا کا مندر ہے۔ شیو جی سب سے مہان ہیں۔ دیوتا میں کوئی کھوٹ نہیں ہے۔ تو اپنا چڑھاوا یہاں چڑھا اور پرشاد لے کر نچنت ہو جا۔ شاباش، دیوتا تیری بھینٹ سوئیکار کرے۔ تیرے کرموں سے لہور کی نگری خوب پھلے پھولے گی۔ اب تو کہاں چلا؟

بھولا راجہ: پجاری جی اب اگلے مندر میں متھا ٹیکوں گا اور وہاں چڑھاوا چڑھاؤں گا۔

پجاری جی بولے: مورکھ، بس یہی سچے دیوتا ہیں۔ باقی سب بیکار ہیں۔ بلکہ وہ پاکھنڈی دیش دہلی کے دیوتا ہیں۔ پچھلے جاڑے میں اتنی ٹھنڈ اسی ودیشی دیوتا کے کرودھ سے پڑی تھی جس نے سب ڈھور ڈنگر مار ڈالے تھے۔ تو اپنے کرتوتوں سے اپنے دیش کو برباد کر دے گا۔

پھر ایک ہزار سال گزر گئے۔ لہور دیش قائم دائم رہا۔ بھولا بادشاہ پہلی بار لہور شہر کے الیکشن میں ووٹ ڈالنے نکلا۔

VoteCasting

الیکشن کے نام پر بسائے گئے انتخابی شہر میں بہت سے مہان لیڈروں کے ان گنت پولنگ سٹیشن تھے۔ وہ سب سے پہلے نظر آنے والے پولنگ سٹیشن پہنچا۔ سدا سے الیکشن سے دور رہنے والا بھولا بادشاہ حیران حیران سا ہو کر دیکھ ہی رہا تھا کہ یہ پولنگ سٹیشن کس کا ہے کہ پولنگ ایجنٹ نے اسے مخاطب کیا۔

پولنگ ایجنٹ جی بولے یہ عمران خان کا پولنگ سٹیشن ہے۔ عمران خان جی سب سے مہان ہیں۔ عمران خان میں کوئی کھوٹ نہیں ہے۔ تو اپنا ٹھپا بلے پر لگا اور حق ادا کر کے نچنت ہو جا۔ شاباش، خدا کامیاب کرے۔ تیرے کرموں سے لہور کی نگری خوب پھلے پھولے گی۔ ٹھہر تو، تو اب تو کہاں چلا؟

بھولا بادشاہ: ایجنٹ جی اب اگلے پولنگ سٹیشن کو دیکھوں گا اور وہاں ووٹ ڈالوں گا۔

ایجنٹ جی بولے: مورکھ، بس یہی سچے لیڈر ہیں۔ باقی سب بیکار ہیں۔ بلکہ وہ دشمن ملک کے ایجنٹ ہیں۔ تونے سنا نہیں کہ زرداری ٹین پرسنٹ ہے۔ اور بے نظیر نے خالصتانی سکھوں کی فہرست بھارت کو دی تھی۔ تو اپنے کرتوتوں سے اپنے وطن کو برباد کر دے گا۔

بھولا بادشاہ اپنا شناختی کارڈ لے کر اگلے پولنگ ایجنٹ کی طرف گیا۔

پولنگ ایجنٹ جی بولے یہ آصف زرداری کا پولنگ سٹیشن ہے۔ زرداری جی سب سے مہان ہیں۔ زرداری جی میں کوئی کھوٹ نہیں ہے۔ تو اپنا ٹھپا تیر پر لگا اور حق ادا کر کے نچنت ہو جا۔ شاباش، خدا کامیاب کرے۔ تیرے کرموں سے لہور کی نگری خوب پھلے پھولے گی۔ ٹھہر تو، تو اب تو کہاں چلا؟

بھولا بادشاہ: ایجنٹ جی اب اگلے پولنگ سٹیشن کو دیکھوں گا اور وہاں ووٹ ڈالوں گا۔

ایجنٹ جی بولے: مورکھ، بس یہی سچے لیڈر ہیں۔ باقی سب بیکار ہیں۔ بلکہ وہ دشمن ملک کے ایجنٹ ہیں۔ تونے سنا نہیں کہ نواز شریف غنڈہ اور قبضہ گروپ ہے۔ اور اس نے ہمیشہ محب وطن فوج اور عدلیہ کے خلاف کام کیا ہے۔ تو اپنے کرتوتوں سے اپنے وطن کو برباد کر دے گا۔

بھولا بادشاہ اپنا شناختی کارڈ لے کر اگلے پولنگ ایجنٹ کی طرف گیا۔

پولنگ ایجنٹ جی بولے یہ نواز شریف کا پولنگ سٹیشن ہے۔ نواز شریف جی سب سے مہان ہیں۔ نواز شریف جی میں کوئی کھوٹ نہیں ہے۔ تو اپنا ٹھپا شیر پر لگا اور حق ادا کر کے نچنت ہو جا۔ شاباش، خدا کامیاب کرے۔ تیرے کرموں سے لہور کی نگری خوب پھلے پھولے گی۔ ٹھہر تو، تو اب تو کہاں چلا؟

بھولا بادشاہ: ایجنٹ جی اب اگلے پولنگ سٹیشن کو دیکھوں گا اور وہاں ووٹ ڈالوں گا۔

ایجنٹ جی بولے: مورکھ، بس یہی سچے لیڈر ہیں۔ باقی سب بیکار ہیں۔ بلکہ وہ دشمن ملک کے ایجنٹ ہیں۔ تونے سنا نہیں کہ مولانا کہلانے والا فضل الرحمان ڈیزل کے پرمٹ سے کرپشن کر کر کے پیسے کماتا ہے اور ملک میں دیوبندی دہشت گردی کراتے ہیں۔ تو اپنے کرتوتوں سے اپنے وطن کو برباد کر دے گا۔

ہزار سال گزر گئے ہیں۔ لاہور شہر وہی ہے جو ہزار سال پہلے تھا۔ بس شہر کے دیوتا بدل گئے ہیں۔ ہم جسے اپنا دیوتا قرار دیتے ہیں، اس میں کوئی کھوٹ نہیں ہوتا ہے۔ ساری برائیاں دوسرے کے دیوتا میں ہی ہوتی ہیں۔ ہمارے مذہبی عقیدے کے مطابق ہمارے انبیا معصوم من الخطا ہوتے ہیں اور ہمارے سیاسی عقیدے کے مطابق ہمارے سیاسی لیڈر معصوم من الخطا ہوتے ہیں۔

بس لاہور شہر کے بھولے لوگ ہی اپنے کرتوتوں سے اپنے وطن کو برباد کر دیتے ہیں۔


Comments

FB Login Required - comments

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 332 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar

One thought on “دیوتاؤں کے پجاری

Comments are closed.