ڈاکٹر طاہر نے 19 ہزار خواتین مریضوں کی برہنہ تصویریں اور ویڈیوز کیوں بنائیں؟


ڈاکٹر کے پاس سے خواتین مریضوں کی 19 ہزار غیر اخلاقی ویڈیوز اور تصاویر برآمد، یہ کیوں بنائی تھیں؟ جج کے سامنے ایسی بات کہہ دی کہ ہر کسی کا منہ کھلا کا کھلا رہ گیا

بیماری سے پریشان انسان ڈاکٹر کو مسیحا جان کر اس کے پاس جاتا ہے تا کہ دکھ سے نجات پا سکے لیکن بدقسمتی سے ہر ڈاکٹر مسیحا نہیں ہوتا بلکہ کچھ ایسے شیطان بھی ہوتے ہیں جو مزید دُکھوں کا سبب بن جاتے ہیں۔ عراقی نژاد برطانوی ڈاکٹر طاہر الطائی بھی ایک ایسی ہی افسوسناک مثال ہے جس نے اپنے پاس علاج کے لئے آنے والی خواتین کی غیر اخلاقی تصاویر بنانے کا سلسلہ کئی سال سے شروع کر رکھا تھا۔ انسان کے بھیس میں چھپے اس بھیڑیے سے خواتین مریضوں کی 19 ہزار تصاویر اور ویڈیوز برآمد ہوئی ہیں۔

عدالت کو بتایا گیا کہ ڈاکٹر طاہر نے خواتین مریضوں کی 19ہزار تصاویر اور ویڈیوز کی اپنے لیپ ٹاپ میں ایک لائبریری بنا رکھی تھی جس میں مختلف قسم کی تصاویر اور ویڈیوز کو الگ الگ فولڈرز میں خواتین کے نام، عمر، اور دیگر تفصیلات کے ساتھ محفوظ کیا گیا تھا۔پچپن سالہ ڈاکٹر نے خواتین مریضوں کی یہ تصاویر اور ویڈیوز 2008ءسے ریکارڈ کرنے کا سلسلہ شروع کر رکھا تھا۔ عدالت کو بتایا گیا کہ اس نے کلینک میں خفیہ کیمرے لگا رکھے تھے جن کے ذریعے خواتین مریضوں کی تصاویر اور ویڈیوز بناتا تھا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ اس لیپ ٹاپ میں موجود تصاویر اور ویڈیوز میں سے بڑی تعداد خواتین مریضوں کی نیم برہنہ اور برہنہ حالت میں تصاویر اور ویڈیوز ہیں ۔ یہ تمام تصاویر اور ویڈیوز سرجری کے لئے معائنے یا بعد ازاں سرجری کے دوران بنائی گئی تھیں۔

عدالت کے سامنے اس شیطان صفت ڈاکٹر نے مضحکہ خیز مﺅقف اختیار کیا کہ یہ تمام تصاویر اور ویڈیوز مریضوں کے طبی جائزے اور ٹریننگ کے مقصد کیلئے بنائی گئی تھیں، تاہم وہ یہ بتانے میں ناکام رہا کہ اگر ایسی بات تھی تو یہ کام چوری چھپے کیوں کیا اور یہ تمام مواد اپنے ذاتی لیپ ٹاپ میں کیوں رکھا ہوا تھا۔

متعدد متاثرہ خواتین نے بھی عدالت کے سامنے اپنا بیان ریکارڈ کرایا۔ ان سب کا کہنا تھا کہ ڈاکٹر طاہر نے ان کی تصاویر یاویڈیوز بنانے کیلئے ان سے اجازت نہیں لی۔ ایک خاتون کا کہنا تھا کہ ” اگر وہ مجھ سے پوچھتے تو میں کبھی اس بات کی اجازت نہ دیتی۔ انہوں نے بطور مریض میرے حقوق کی خلاف ورزی کی ہے۔ مجھے یہ جان کر بہت صدمہ ہوا ہے کہ اس شخص نے خفیہ طور پر میری تصاویر اور ویڈیوز بنائیں۔ میں کئی سال سے اس کی خدمات حاصل کر رہی تھی اور مجھے معلوم نہیں کہ اس نے میری کتنی تصاویر یا ویڈیوز بنا رکھی ہیں۔ میں یہ سوچ کر بے حد پریشان ہوں کہ میری تصاویر اور ویڈیوز کسی اور کے ساتھ بھی شئیر کی گئی ہوں گی یا یہ بھی ممکن ہے کہ ان میں سے کچھ انٹرنیٹ پر بھی موجود ہوں۔ اگر ایسا ہوا تو یہ میرے لئے تباہ کن ہو گا۔ “

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں