مذھب، سائنس اور فکری آزادی


farhan khalid(1)مسئلہ فکر کے مذہبی یا سائنسی ہونے کا نہیں۔ مسئلہ فکر کی آزادی کا ہے۔

ایک چیز خوش آئند ہے، اب ‘ہم سب’ کی توجہ کا رخ بڑے پیمانے کی بحثوں اور مغالطوں کی بجاۓ بنیادی نقاط کی گتھی سلجھانے کی طرف بڑھ رہا ہے۔ مثلا علم کے مواخذ کیا ہیں یا ہمارا تعلیمی نظام ہم پر کیسے اثر انداز ہورہا ہے۔

ہمارا نصاب ہی نہیں عموما ہر رویہ کسی تضاد کا نمونہ ہے۔ شاید یہ انسانی فطری المیہ ہے۔ سوچتے کچھ ہیں، بولتے کچھ ہیں۔ مانتے کچھ ہیں، کرتے کچھ ہیں۔ کنفیوژن کا شکار رہتے ہیں۔ جہاں ہماری سائنس کی کتابیں مذہبی تاویلات سے شروع ہوتی ہیں — جن کا ذکر پرویز ہودبھائی نے اپنے کالم Is it science or theology میں کیا، وہیں انگریزی کے مضمون کی درسی کتب سیکولر مضامین سے بھری پڑی ہیں۔ بارہویں جماعت کی کتاب کے پہلے دو ابواب بغور مطالعہ فرمائیں۔ مگر، ہمارے پلے کچھ پڑتا ہی نہیں۔ ہم متن کو رٹنے اور دوڑ میں اول آنے کے جنون میں ان تضادات سے صرف نظر کر جاتے ہیں۔ ویسے ہی جیسے ہم ہر معاشرتی تضاد سے مکرتے ہیں۔ ہم غیر عورتوں پر تو رال ٹپکاتے ہیں مگر اپنے گھر کی عورتوں کو گھروں میں چھپاتے ہیں۔ مگر اس عمل سے ہم نہ تو خود کی اصلاح کے قابل ہوتے ہیں، نہ عورتوں کی۔ کیوں کہ ہماری اصلاح کے پیمانے ہی غیر معقول ہیں اور اخلاقیات خود غرضانہ۔ ہم چیزوں کو دباتے ہیں، وہ اندر ہی اندر ہمیں زیادہ متوحش اور کج رو کرتی ہیں۔ پڑوس میں کوئی ایڑیاں رگڑکر مر رہا ہو یا کوئی لڑکی کنواری بیٹھی ہو۔ مگر ہم اپنی ذاتی بخشش اور بزرگی کے لئے مقدس مقامات کی یاترا کو جا رہے ہوتے ہوں۔

ہم سوچتے کیوں نہیں ہیں۔ ہم خود کو سمجھنے کے لئے بھی آزاد نہیں ہیں۔ کیوں کہ ہماری سوچ آزاد نہیں ہے۔ ہم خود کو یہ جائز حق دینے کے لئے تیار نہیں کہ ہمیں اپنے مسائل اپنی سوجھ بوجھ سے خود حل کرنے ہیں اور اس استعداد میں اضافہ کرنا ہے۔ دیدہ و نادیدہ طاقتوں کی امداد کے لئے راہ تکنے اور سازشی نظریے گھڑنے کی خو چھوڑ کر اپنی دماغی صلاحیت اور زور بازو سے کچھ کرنا ہے۔

پروفیسر صاحب نے یہی بنیادی نقطہ پیشہ کیا ہے کہ بھائی سوچو۔ اپنی عقل سے سوچو۔ سوال اٹھاؤ۔ خود کو چیلنج کرو۔ تمہیں مذھب اور سائنس میں آزاد ہونا چاہیے۔ کوئی تم پر اس بات پر جبر نہ کرے کہ بس یہی مذھب سچا ہے۔ کوئی تم پر زبردستی اپنی سائنس مسلط نہ کرے۔ تم خود سوچو۔ انسانی سوچ کے اسی فطری عمل نے سائنسی نقطہ نظر کو جنم دیا ہے۔ وہ کسی وقوعے کی توہماتی تاویل کی بجاۓ عقلی توجیہ پیش کرتا ہے۔ اور اس میں سب زمانے اور تہذیبیں اپنا حصہ ملاتی ہیں۔ یوں علم سب کی میراث بن جاتا ہے۔

غالبا اسی نقطے کو عاصم بخشی صاحب نے زیادہ عالمانہ انداز سے پیش کیا ہے۔ چیزوں کو خلط ملط کرنے کی بجائے ان کے واضح تعین کے بعد انہیں افادیت کے پیش نظر استعمال میں لایا جاۓ۔ کنفیوژن سے نکلا جائے۔

ہم کسی چیز کو اسی وقت زیادہ بہتر انداز میں سمجھ سکتے ہیں، جب اس کو مختلف زاویوں سے پرکھتے ہیں۔ ہم خود کو اس زمین پر سب سے زیادہ عمودی سمجھتے ہیں۔ باقی سب ہمارے خیال میں قدرے ترچھے ہیں۔ یوں ہر کوئی اپنی ڈیڑھ اینٹ کی مسجد بنا کر بیٹھا ہے۔ حقیقتا، زمین تو گول ہے، سو ہر کوئی اپنی اپنی جگہ ٹھیک ہے۔ اس حقیقت کو وہی سمجھتا ہے جو اپنی جگہ سے اٹھ کر زمین کو مختلف زاویوں سے دیکھتا ہے۔ وہ سوچتا ہے۔ وہ سوال کرتا ہے۔ اور تحقیق کرتا ہے۔ وہ مفروضوں کے بوجھ میں دب کر بال کی کھال اتارنے کی بجاۓ، کھلے ذہن سے سوچتا ہے اور آزادانہ مفروضے قائم کرتا ہے۔ دوسرے بھی اس میں حصہ ملاتے ہیں۔

سائنس اور مذھب حقیقت تک رسائی کے دو ذرائع ہیں، جو اپنے مزاج میں ایک دوسرے سے بہت مختلف ہیں۔ پہلا کہتا ہے، شک کرو۔ پہلے سے قائم شدہ مفروضات کو جھٹلا کر آپ زیادہ بہتر مفروضات پیش کر سکتے ہیں۔ یوں آپ دنیا کو اندر سے باہر کی طرف جانتے ہیں۔ شک ایک مقام پر جا کر یقین میں بدلنا شروع ہو جاتا ہے، اور پھر ایک خاص مرحلے میں غیر یقینی ہو جاتا ہے۔ جیسے ایک حد سے زیادہ قریب جانے پر آئینے میں عکس دھندلا جاتا ہے۔ دوسرا کہتا ہے، یقین کر لو۔ آپ باہر سے اندر کی طرف پیش رفت کرتے ہیں۔ یقین سے سوال کی طرف۔ پھر سوال سے جواب کی تلاش میں نکلتے ہیں۔ سو نہ تو آپ اندھے شک میں رہتے ہیں، نہ گونگے، بہرے یقین میں۔ آپ کا شک بھی متحرک ہوتا ہے اور یقین بھی منور۔ اگر خدا ارض و سماوات کا نور ہے اور دنیا کی ہر شے اسی سے منور ہے تو پھر انسان کی مفادات پر مبنی گروہی تقسیم شیطانی منشا نہیں تو اور کیا ہے۔ اور ابلیس نفسی مکر ہی کی تمثیل ہے۔

ہم مذھب اور سائنس کو موسموں سے تشبیہ دے سکتے ہیں۔ فرض کیجیے، شدید گرمی کا موسم مذھب ہے؛ شدید سردی کا موسم سائنس ہے۔ انسان کے لئے دونوں ہی شدید حالتوں میں موثر نہیں۔ ہاں بہار کا موسم دونوں سے بہتر ہے کہ اس میں اعتدال ہے، انتہا پسندی نہیں۔ موسموں میں معقولیت کا سبق بھی ہے۔ بارش کبھی ابر رحمت تو کبھی عذاب الہی بن جاتی ہے۔ یہ آپ پر ہے کہ آپ نے کب اس سے فصلوں کو سینچنا ہے اور کب اس کے آگے بند باندھنا ہے۔ یہی مثال معاشروں پر اترتی ہے۔ آپ کو سائنسی یا مذہبی طور پر متشدد نہیں ہونا چاہیئے۔ آپ کو ایک اعتدال قائم کرنا پڑتا ہے۔ یہ اعتدال اسی وقت قائم ہو سکتا ہے جب آپ فکری طور پر آزاد ہوں۔

سائنس میں نظریاتی نوعیت کی کوئی خواہش گھسیڑنا اتنا ہی مضر ہے جتنا دانائی کی کسی بھی بات کو مذہبی تشخص دینے کی کوشش۔ نہ خدا کو سمجھنے کے لئے دو جمع دو چار کی ضرورت ہے، نہ ہر سائنسی ایجاد پر ‘گویا یہ بھی میرے مذھب میں ہے’ کی رٹ لگانا۔ ہم کسی سائنس دان کے ہر قول و فعل کو سائنسی قانون کا درجہ نہیں دیتے۔ ہماری نظر میں نیوٹن اور اس کے قوانین دو مختلف چیزیں ہیں۔ آئین سٹاین اپنی علمی استعداد کے بل بوتے پر ان پر شک کرنے کا حق رکھتا ہے۔ اور ہم آئن سٹائن کی تھیوری پر اعتبار کر لیتے ہیں۔ اور بات شروڈنگر کے اصول لا یقینی تک چلی جاتی ہے۔ ہماری نظر میں سائنس کائنات کے ظاہر و پوشیدہ معموں کو سمجھنے کی انسانی مشترکہ منطقی و فکری کاوش ہے۔ دوسری طرف ہماری نظر میں محدث اور حدیث بھی دو مختلف چیزیں ہیں۔ ہم سوال کرنے کا حق رکھتے ہیں۔ یوں جوابوں کی تلاش جاری رہتی ہے اور مختلف سچائیوں میں ایک توازن قائم رہتا ہے۔ کیوں کہ ایک سچ دوسرے سچ کو جھٹلا نہیں سکتا۔

سائنس کا علم کئی تہذیبوں کی علمی کوششوں کے تسلسل کا نتیجہ ہے۔ ہم سائنس پر کسی قوم یا تہذیب کی ٹھیکیداری قبول نہیں کر سکتے۔ ہر متجسس ذہن اس تک رسائی کا حق رکھتا ہے۔ مذھب بھی دنیا کے گوشے گوشے میں پھیلا ہوا ہے۔ ہمیں اس پر بھی کسی کی اجاراداری یا اسٹیبلشمنٹ قبول نہیں۔ ہر معتقد دل خدا سے ہمکلام ہونے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ کوئی آ کر ہمیں ہماری صورت نہ دکھاۓ۔ ہمیں کرچیاں قبول نہیں، ہم سلامت آئنے کی تلاش میں ہیں۔

کیا ہم یہ سب سوچنے کی آزادی رکھتے ہیں؟ یہ آزادی کسی بیرونی قوت سے نہیں مل سکتی۔ یہ آزادی ہمیں خود سے حاصل کرنی ہے۔


Comments

FB Login Required - comments