الیکشن 2018ء کا فاتح


13 اگست کو پاکستان کی پندرھویں قومی اسمبلی کے لئے منتخب ہونے والے اراکین نے حلف اُٹھالیا ہے۔ قومی اسمبلی کے سپیکر اور ڈپٹی سپیکر کا انتخاب بھی عمل میں آچکا ہے۔ امید ہے اٹھارہ اگست کو ملک کے نئے وزیر اعظم بھی اپنے عہدے کا حلف اُٹھا لیں گے۔ کم وبیش ایسی ہی صورت حال ملک کے چاروں صوبوں میں بھی ہے۔ صوبائی دارالحکومت ہوں یا اسلام آباد اب آئندہ پانچ سال کے لئے نئی حکومتیں تشکیل پا چکی ہیں۔

وہ ایوان جس میں کبھی بھٹوزندہ ہے، دیکھو دیکھو کون آیا، شیر آیا کے نعرے بلند ہوتے تھے اب ایک تیسرے نعرے عمران خان زندہ باد کا اضافہ دیکھنے اور سننے کو ملا۔ نئے حکمرانوں نے ”نیا پاکستان‘‘ کی نوید سنائی ہے۔ وہ قوم جو ایک بار روٹی کپڑا مکان کے نام پر دھوکہ کھا چکی ہے اب ایک بارپھر نئے سیاسی نعرہ سے اپنی بقاء کے چراغ روشن کرنے جا رہی ہے۔ نیا پاکستان کیسا ہوگا یہ تو آنے والا وقت بتائے گا۔ سرِ دست ملک کی جو تصویر سامنے ہے اس میں نئی حکومت کو معمول کے کاروبار کے لئے چین اور سعودی عرب سے مدد درکار ہے۔

امریکہ اور یورپی یونین کی طرف سے ملنے والی سالانہ امداد کے بعد مزید کسی نئی امداد کا ملنا ممکن نہیں رہا کیونکہ ان ممالک کی سرپرستی میں پاکستان کو گرے لسٹ میں شامل کیا گیا۔ جس کا مطلب ہے کہ امداد اور قرضے کے حصول کے لئے قدم قدم پر رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اس زاویہ نگاہ سے آزادی کے 72 برسوں کو دیکھا جائے تو خوشی کے ساتھ ساتھ سوچ اور فکر کا ایک پریشان کن پہلو مسرتوں کی چاندنی کو دھندلاتا نظرآتا ہے۔ کیا ہمارے نو منتخب اراکین اسمبلی کوبھی اس کا احساس ہے؟ کیا وہ جاننے کی کوشش کریں گے کہ ماضی میں ہم سے کیا کیا کوتاہیاں سرزد ہوئیں۔ اگر وہ اپنی ذات سے نکل کر 72 سالہ تاریخ کا جائزہ لینے کی کوشش کریں تو ہر سنگ میل پر موجود غلطی ان کو احساس ندامت پر آمادہ کرنے کے لئے موجود ہے۔

جن سیاسی اکابرین نے قراردادِ مقاصد منظور کر کے پاکستان کی سیاست کا رُخ موڑا ان کی اولاد در اولاد اسی ایوان میں بیٹھ کر پاکستان کو کمزور کرنے والی پالیسیوں پر انگوٹھے ثبت کرتی رہی ہے۔ اب جب کہ قراردادِ مقاصد کو آئین کو حصہ بنانے والے ضیاء الحق کے بیٹے کو عوام کو ردّ کر دیا ہے تو معزز ایوان میں بھٹو زندہ ہے کے نعرے بلند کرنے والوں کو چین اور سعودی عرب کے آگے دامن پھیلاتے وقت تسلیم کرلینا چاہیے کہ ہر چیز فانی ہے اورہماری پالیسیوں کی وجہ سے ابھی تک صرف کشکول زندہ ہے۔ ملک میں انتہا پسندی اور دہشت گردی کی پنیری لگانے والے ضیاء الحق کی سیاسی اولادہونے کے دعویداراسی پاکستان میں سیاہ وسفید کے مالک رہے لیکن ملک کی معیشت میں اب بھی دوسروں کی محتاجی کے سہارے مصنوعی سانس پر زندگی کی رمق باقی ہے۔

ہمارے ان سیاسی قائدین کی ذہانت نے وسائل سے بھر پورملک کو مسائل کا چڑیا گھر بنادیا۔ دنیانے ہم سے منہ موڑ لیا۔ کسی ملک کی ترقی میں بیرونی سرمایہ کاری ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے لیکن ہماری اندرونی پالیسیوں خصوصاً انتہا پسندانہ روش کی حوصلہ افزائی کی وجہ سے دنیا ہم سے خائف ہے۔ اندرونی و بیرونی محاذوں پر ہمیں چیلنجوں کاسامنا ہے۔ نگراں حکومت کے وزیر خارجہ اور ریٹائرڈ جنرل وزیر دفاع دونوں نے لگی لپٹی رکھے بغیر کھل کر بتا دیا ہے کہ ہم خطرات میں گھرے ہوئے ہیں۔ ہماری بقاء کے دشمنوں کی تعداد اب پہلے سے زیادہ ہو چکی ہے۔ ہمیں محتاط اور ہوش رُبا ہونے کی ضرورت ہے۔ ہوش رُبائی کے لئے قوم نے جن کو منتخب کیا ان کا انتخابی مہم کے دوران طرز عمل کیسا رہا اس کا بھی جائزہ لے لیتے ہیں۔

ہر چند کہ سب جانتے تھے کہ چودھویں قومی اسمبلی کی معیاد ماہِ مئی کے آخر میں جاکر ختم ہوگی اور اس کے بعد ملک میں انتخابات کا عمل شروع ہوگا۔ لیکن اس سال کے آغاز کے ساتھ ہی ملک کی عمومی فضا کو مذہبی تنگ نظری کی طرف موڑنے کا عمل برسرِ اقتدارپارٹی نے شروع کیا۔ لوگوں کے مذہبی جذبات بھڑکانے کے کام کی ابتداء قومی اسمبلی کے فلور سے کی گئی۔ یورپی یونین کی تجاویز پر الیکشن قوانین میں کئی ایک تبدیلیاں کی گئیں لیکن ایک لفظ کی تبدیلی کو یوم الحساب بنادیا گیا۔

ملک بھر میں تحریک چلائی گئی۔ یونیورسٹی میں اداروں کے نام بدل دیے گئے، اسلام آباد ہائی کورٹ کو اپنا ہمنوا بنایا گیا، ملک میں ایک ہیجان برپا کر دیا گیا۔ ملک ایسی صورت حال میں انتخابی ماحول میں داخل ہواکہ فرقہ بندی، فرقہ پرستی اور مذہبی اقلیت جیسے موضوعات پر منہ کھولنا ہر اُمیدوار کی مجبوری بن گیا۔ سوشلزم کی گڑھتی لینے والے، لبرل از م کے دعویدار اور پاکستان کو قائد اعظم کا پاکستان بنانے کے خواہاں ووٹ کی خاطر سب یک زبان ہوکر غیر فطری یقین دہانیوں کے آگے سرِ تسلیم خم کرتے دکھائی دیے۔ ووٹ حاصل کرنے کی خاطر سرگودھا کے ایک پرائیوٹ ہسپتال میں ایک معروف ڈاکٹر شیخ محمود کو نوکری سے برخاست کر دیاگیا۔ گویا معیشت، امن، رواداری، شہریوں کے حقوق، ملکی استحکام، دفاع، پیداوار اور ترقی کا بیانیہ مذہبی نظریہ کے سامنے مات کھاتا دکھائی دیا۔

دشنام طرازی کے اس ماحول میں قائد اعظم کے اصولوں کی ہمنوا واحد آواز جبران ناصر کی تھی جس نے اپنی ساری انتخابی مہم نظریے کی بنیادپرجاری رکھی۔ اس بہادر سیاسی کارکن کو جگہ جگہ کارنر میٹنگز میں انتہا پسندوں، رجعت پسندمذہبی تنگ نظروں سے سامنا رہالیکن اس نڈر مجاہد کے قدم کسی ایک جگہ بھی نہیں لڑکھڑائے۔ وہ اپنے اصولوں پر ڈٹا رہا، کوئی اس کے منہ میں الفاظ نہیں ڈال سکا۔ وہ انسانی حقوق کا علمبردار بن کرمیدان سیاست میں اُترا تھا اور اس پر قائم رہا۔ مساوات محمدی ؐ کا وہ سبق جو اس نے حجتہ الوداع کے خطبہ سے سیکھا تھا اپنی ساری انتخابی مہم میں اُسی کا پرچار کرتا رہا۔

شکست کا خوف کبھی اس کے مقصد میں حائل نہ ہوا۔ اصول اورنظریہ سے محبت نے اس کو طاقت دی وہ قائد اعظم کا سچا نڈر سپاہی ہے وہ اس ایوان میں تو نہ پہنچ سکا جہاں بیٹھنے والے قائداعظم کے نام اور نظریات سے کھیلتے اور قائد اعظم کی تصویر سے ووٹوں کی خرید و فروخت کا کاروبار کرتے ہیں۔ جبران ناصر الیکشن 2018ء کے اصل فاتح تم ہو۔ تم نے اخلاقی فتح حاصل کی ہے۔ تم اسی طرح مستقل مزاجی سے محنت کرتے رہے تو تمہارانظریہ اور اصول ایک دن جیت کر ملک کے سب سے بڑے معزز ایوان میں پہنچنے میں کامیاب ہوجائے گا۔ تم قائداعظم کے اصل ساتھی ہو۔ تم نے اپنے سیاسی قائد کے نام اور نظریہ کی لاج رکھی ہے۔ قائداعظم کا 11 ستمبر 1947ء کو قوم سے خطاب منشور کی حیثیت رکھتا ہے۔ (جس سے ہمارا ایوان تاحال غافل ہے )

اپنے خطاب میں قائد اعظم نے شہری آزادی اور برابری کی بنیاد پر حقوق کی ضمانت دی۔ آپ نے رنگ ونسل اور مذہب کی تفریق کی نفی کرتے ہوئے ریاست کے تمام شہریوں سے یکساں سلوک کا منشور پیش کیا۔ آپ نے کہا کہ تیرہ سوسال قبل ہمارے پیغمبر اسلام نے اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچایا تھاکہ خدا کی نظرمیں تمام انسان برابر ہیں۔ سب کی جان ومال کا تحفظ حکومت کے لئے یکساں اہمیت کا حامل ہے۔ آج میں نے پاکستان میں اپنے قدموں تلے رنگ ونسل کے تمام امتیازات کو کچل دیا ہے۔

اکتوبر 1947ء کولاہور میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے قائد نے کہا اسلام کے اصولوں نے ہر مسلمان کو یہ سکھایا ہے کہ وہ بلحاظ رنگ ونسل اپنے شہریوں کی حفاظت کرے۔ میں ہر اس مسلمان کو جسے پاکستان کی فلاح وبہبود اور ترقی دل وجان سے عزیز ہے یہ بتا دینا چاہتا ہوں کہ انتقام سے گریز کرے اور صبروتحمل سے کام لے۔ یاد رکھیے کہ انتقام اور قانون کی خلاف ورزیاں ہمیں کہیں کا نہ چھوڑیں گی۔ وہ بالآخر اس عمارت کی بنیادکو کمزور کردیں گی جسے تعمیر کرنے کی حسرت برسوں سے آپ کے دل میں مچل رہی تھی۔
نیا پاکستان بنانے کا دعویٰ کرنے والی حکومت کو قائداعظم کے ارشادات پر عمل کرنے کے لئے جبران ناصر جیسی جرأت دکھانا ہوگی۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

عرفان احمد خان، جرمنی کی دیگر تحریریں
عرفان احمد خان، جرمنی کی دیگر تحریریں

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں