قصہ دبئی کی ایک لفٹ اور ایک بھلکڑ دوست کا


لوگ مجھ سے پوچھتے ہیں کہ میں لفٹ میں سوار ہونے کیوں خوف کھاتا ہوں۔ میں کھسیانی ہنسی ہنس دیتا ہوں۔ ہر ایک کو کیا کہانی سناؤں۔ لیکن کب تک طعنے سنوں؟ اچھا! آج یہ قصہ سن لیں۔
دبئی میں ہم تینوں روم میٹ تھے۔ ہم یعنی میں، عاطف اعوان اور اسداللہ خالد۔ میں اور عاطف جیونیوز کے پروڈیوسر اور اسداللہ خالد نیوز اینکر تھا۔
دفتر نے اپنے ہوٹل سے ہمیں نکال باہر کیا تھا اور ابھی ہم نے اپنی فیملیز کو پاکستان سے نہیں بلایا تھا۔ درمیان کے تین مہینے ہم تینوں نے ساتھ گزارے۔ کبھی فرصت ملی تو میں ان تین مہینوں پر تین کتابیں لکھ ماروں گا۔

وہ کمرا عاطف اعوان نے ڈھونڈا تھا۔ اس کی خاص بات یہ تھی کہ دبئی کی گھٹیا ترین عمارت کی گھٹیا ترین منزل کا گھٹیا ترین کمرا تھا۔ غسل خانہ اس کمرے سے بھی زیادہ گھٹیا تھا۔
لیکن اس عمارت کی لفٹ دنیا کی گھٹیا ترین لفٹوں میں ممتاز ترین مقام رکھتی تھی۔

یہ لفٹ دن میں چار پانچ بار بند ہوتی تھی اور لفٹ مین اکثر اپنے اوزار اور بتیسی نکالے کسی نہ کسی فلور پر دکھائی دیتا تھا۔ اس نے گراؤنڈ فلور پر لکھ کر لگایا ہوا تھا کہ رات نو بجے کے بعد لفٹ میں اپنی ذمے داری پر سوار ہوں۔

ہمارا کمرا ساتویں منزل پر تھا۔ میں ہمیشہ سیڑھیاں چڑھ کر ساتویں منزل پر پہنچتا تھا۔ عاطف اور اسد روز کہتے کہ ہمارے ساتھ لفٹ میں چلو۔ میں انکار کردیتا تھا۔ وہ سمجھتے تھے کہ مجھے لفٹ سے ڈر لگتا ہے۔ سچ یہ ہے کہ لفٹ میں تین آدمی آ ہی نہیں سکتے تھے۔ لفٹ اتنی چھوٹی تھی کہ دو افراد اندر جانے کے بعد فیصلہ کرتے کہ بیٹھنا ہے تو بیٹھ نہیں سکتے تھے۔
ایک دن عاطف کی شام کی شفٹ تھی اور میں اور اسد گھر پر تھے۔ ہم کھانا کھانے باہر گئے۔ واپس آئے تو اسد نے کہا، شاہ جی! میرے ہوتے ہوئے کیوں ڈرتے ہیں۔ چلیں، میرے ساتھ لفٹ میں چلیں۔ میں اس کے ساتھ اندر داخل ہوگیا۔

مجھے اسد کی لا ابالی طبیعت کا علم تھا اس لیے میں نے لفٹ کے اوپر چڑھتے میں خاموشی اختیار کی۔ اس نے ایک دو سوال کیے لیکن میں منہ ہی منہ میں ایسے بدبدایا جیسے کوئی دعا یا سورت پڑھ رہا ہوں۔ اسد نے اس مختصر سی جگہ پر رقص کرنے کی کوشش کی اور چلتی ہوئی لفٹ کا دروازہ دونوں ہاتھوں سے کھولنا چاہا۔
کیا آپ کسی ایسے شخص کو جانتے ہیں جو چلتی ہوئی لفٹ کا دروازہ بلاوجہ کھولنے کی کوشش کرے؟

لفٹ ویسے ہی نخرے باز تھی۔ وہ کھڑڑکھڑ کرتی ہوئی بند ہوگئی۔ روشنی بھی گل ہوگئی۔ اسد ایسے بے حس و حرکت ہوگیا جیسے وہ بھی بجلی سے چلتا ہو۔ میرا اوپر کا سانس اوپر اور نیچے کا نیچے رہ گیا۔ کچھ سمجھ میں نہ آیا کہ کیا کروں۔

اسد نے پہلے نہایت مناسب اور موزوں الفاظ میں معذرت کی۔ پھر میں نے نہایت مناسب اور موزوں الفاظ میں اس کی شان میں بغیر نقطے کا قصیدہ پڑھا۔ اس کے بعد میں نے غور کیا کہ فون کے سگنل آرہے ہیں۔ چنانچہ عاطف کو فون ملایا۔

عاطف نے ہیلو کیا تو میں نے کہا، دوست! ہم لفٹ میں پھنس گئے ہیں۔ رات کے دس بج رہے ہیں اور لفٹ مین چھٹی پر جاچکا ہے۔ پولیس یا ہنگامی امداد کے ادارے کو فون کرو تاکہ وہ ہمیں باہر نکالیں ورنہ ہم دم گھٹنے سے ہلاک ہوجائیں گے۔ عاطف نے کہا، حوصلہ کرو، میں ابھی فون کرتا ہوں۔

ہم نے کاؤنٹ ڈاؤن شروع کردیا۔ عاطف نے ہنگامی امداد کے ادارے کو فون ملایا ہوگا۔ وہ فون اٹھانے والے کو بات سمجھا رہا ہوگا۔ اب ایڈرس لکھوا رہا ہوگا۔ فون سننے والے نے امداد روانہ کردی ہوگی۔ وہ لوگ ہماری بلڈنگ میں داخل ہوگئے ہوں گے۔ لفٹ کھلنے والی ہے۔

پندرہ منٹ تک لفٹ نہیں کھلی تو میں نے دوبارہ عاطف کو فون کیا۔ دوست! ابھی تک لفٹ میں پھنسے ہوئے ہیں۔ عاطف نے کہا، اوئے! میں بھول گیا تھا۔ ابھی فون کرتا ہوں۔
۔
تو جناب یہ ہیں اسد اللہ خالد جو امریکا تشریف لے آئے ہیں۔ کل واشنگٹن کا ہنگامی دورہ کیا تو ڈونلڈ ٹرمپ، مائیک پومپیو اورجیمز میٹس جیسے اعلیٰ حکام کے علاوہ ہم جیسے غریبوں سے ملنے بھی آئے۔ ماضی کی یادوں کو تازہ کیا۔ مستقبل کے ارادوں پر بات کی۔ اور پھر وہ رخصت ہونے لگے تو میں نے ان کے لفٹ میں داخل ہونے کے بعد باہر ہی سے خداحافظ کہا۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

مبشر علی زیدی

مبشر علی زیدی جدید اردو نثر میں مختصر نویسی کے امام ہیں ۔ کتاب دوستی اور دوست نوازی کے لئے جانے جاتے ہیں۔ تحریر میں سلاست اور لہجے میں شائستگی۔۔۔ مبشر علی زیدی نے نعرے کے عہد میں صحافت کی آبرو بڑھانے کا بیڑا اٹھایا ہے۔

mubashar-zaidi has 150 posts and counting.See all posts by mubashar-zaidi