پروتیما بیدی: ایک باغی فن کارہ


پروتیما بیدی انڈیا کی ماڈل اور کلاسیک ڈانسر تھی۔۔۔وہ ایک باغی روح تھی۔ اس نے زندگی میں جو بھی کیا اپنی مرضی سے کیا۔۔کسی ضابطے اور بندھن کو اپنی زندگی میں نہ آنے دیا۔ وہ قدرے خوشحال لیکن کنزرویٹو گھرانے میں پیدا ہوئی۔ اس کے باپ نے خود پسند کی شادی کی تھی۔۔جس پر اسے گھر سے نکال دیا گیا تھا۔۔اس کے والدین کے ہاں پہلی اولاد بچی پیدا ہوئی۔۔پہلی بچی پیدا ہونا ہمارے ہندوستانی معاشرے مین کوئی اچھا شگون نہیں سمجھا جاتا۔ لیکن پہلے بچے کے طور پر اسے قبول کر لیا جاتا ہے،لیکن اگر پھر بچی پیدا ہوجائے۔ تو سب کے تیور بدل جاتے ہیں۔ پروتیما دوسری بچی تھی۔اگرچہ تیسرا لڑکا پیدا ہو گیا۔ تو سب کو سکون آیا۔ آخر میں پھر بیٹی پیدا ہوئی۔۔آخری ہونے کی وجہ سے اسے بھی کچھ پیار مل گیا۔۔۔پروتیما نظر انداز کئے جانے کے احساس سے جوان ہوئی۔۔26 سال کی عمر میں اس کا تعارف کلاسیکل رقص سے ہوا۔۔پھر زندگی اس کے لئے ڈانس ہی بن کر رہ گئی۔

وہ ایک آزاد، باغی روح تھی۔ جو بھی کرنا ہے۔ اپنی من مرضی سے کرنا ہے۔۔راہ میں کوئی رکاوٹ قبول نہ تھی۔ جب باپ نے لڑکوں کو ملنے، پارٹیوں میں جانے یا شام کو دیر سے واپس آنے پر روکا تو اس کا جواب تھا۔”وہ کون سا کام ہے، جو صرف رات کو ہوتا ہے۔ دن کو نہیں ہو سکتا۔۔۔’ اسی دوران اس کی اپنے وقت کے خوبرو سجیلے جوان کبیربیدی سےدوستی ہو گئی۔۔باپ کا بڑا سخت رد عمل ہوا۔ پروتیما گھر سے بھاگ گئی۔

اس کے 10 دن بعد ہی اس کے والد کا کار کے حادثے میں انتقال ہو گیا۔۔ جس کا پروتیما کو گہرا دکھ ہوا۔ کیونکہ وہ گھر والوں کو جان بوجھ کرکوئی تکلیف نہیں دے رہی تھی۔وہ تو صرف اپنی مرضی کی زندگی گزارنا چاہتی تھی۔ کبیر بھی آزاد منش، کھلا ڈھلا آدمی تھا۔ اگرچہ دونوں شادی کے بندھن میں بندھ گے لیکن دونوں میں انڈرسٹینگ رہی کہ ایک دوسرے پر کوئی پابندی نہیں ہے۔

پروتیما بیدی نے زندگی اپنی مرضی سے گزاری۔۔اس کا جو دل کرتا۔۔اس نے کیا۔ اس کی اپنی خوشی ہر چیز پر مقدم تھی۔۔ خوشونت سنگھ اپنے ایک مضمون میں لکھتا ہے۔ اسے جو پسند آیا۔۔یا جس نے اسے پسند کیا۔۔اس نے خود کو روکا نہیں۔ آرٹ اور لٹریچر کی دلدادہ تھی۔ ادب، فلسفہ و فکر، ہندومتھالوجی۔ پروتیما نے کلاسیک ڈانس میں انڈیا میں بڑا نام پیدا کیا۔ اس نے کلاسیک رقص کو فروغ دینے کے لئے کئی پراجیکٹس پر کام کیا۔جس پر اس کو بین اقوامی اور اپنے ملک کے ایوارڈ ملے۔ کبیر سے اس کی ایک بیٹی پوجا بیدی ایکٹرس بنی۔ اس کے بیٹے، سدھارتھ شیزوفرینیا کے مرض میں خودکشی کرلی۔۔جو پروتیما کے لئے بڑے صدمے کا باعث بنا۔۔ اس نے اس کی زندگی بدل کررکھ دی۔۔اس نے اپنا ڈانس اسکول چھوڑ دیا۔۔اور بدھ بھکشووں کا لباس پہن۔۔ہمالیہ کے پہاڑی سلسلے کی طرف روانہ ہو گئی۔۔ اس نے کہا مجھے ہمالیہ بلا رہا ہے۔۔۔پھر ایک دن پتا چلا۔۔انہیں پہاڑوں میں لینڈ سلائڈ کی زد میں آ کر مرگئی۔۔۔

اس کی بیٹی پوجا بیدی نے اس کی زندگی پر ایک کتاب مرتب کی۔۔ ٹائم پاس کے نام سے۔۔۔ وہ پڑھنے کی چیز ہے۔۔ جس نے چند سطریں پڑھ لیں۔۔ پھر کتاب کو ختم کیئے بغیر نہیں رہ سکتا۔۔۔فطرت کیسے کیسے عجیب انسان پیدا کرتی ہے۔۔۔وہ ایک نئی دنیا، نیا خیال، نیا انگ دے کر چلے جاتے ہیں۔۔ جوانی کے دنوں میں پہلی بار اس خاتون کے بارے میں ایک انڈین رسالے میں تفصیلی مضمون پڑھا۔۔۔تو اس کا گرویدہ ہو گیا۔۔۔ حال ہی میں اس کی کتاب ’وقت گزاری‘ (Pass Time ) ہاتھ آئی۔۔۔ تو دل اس باغی، لیکن ذہین، اعلی صلاحیتوں کی حامل روح کو خراج دیئے بغیر نہ رہ سکا۔

آئیے اس کتاب کے کچھ اقتباسات پڑھتے ہیں

٭٭٭       ٭٭٭

۔۔۔ڈیڈی میں ایک پارٹی پر جانا چاہتی ہوں، کرسمس ہے۔تو ہمارا کرسمس سے کیا تعلق ہے؟ یہ ہمارا تہوار نہیں ہے، نہیں تم نہیں جاسکتی۔ وہ بڑبڑکرتے چلے گئے۔ میں نے کبیر کو ساڑھے نو شام کے ملنا تھا۔ چونکہ ڈیڈی کو بتا چکی تھی۔ لہذا اب اگر جاتی ہوں تو پھر واپسی پر ان کا غضب ناقابل برداشت ہوگا۔ میں نے کبیر کو فون کیا۔ کہ اگر میں آتی ہوں، تو پھر میرا خیال ہے، میں گھر واپس کبھی نہ آ سکوں گی۔

تو نہ واپس آنا اس میں مسئلہ کیا ہے، کبیر آگے سے بولا۔ تم پہلے ہی اگلے مہینے کرائے پر کمرہ لے رہی ہو۔ آج رات ہی چھوڑ دو۔ لیکن میں ٹھہرو گی کہاں؟۔ تم میرے گھر میں ٹھہر سکتی ہو، اگر چاہو، یہ تمھارے لئے کچھ آرام دہ نہیں ہوگا۔ ایک ہی کمرہ ہے۔ اور چھوٹا سا بیڈ ہے۔ میں خود پینگ گیسٹ کے طور رہ رہا ہوں۔ لیکن یہ چھوٹے مسائل ہیں۔ پہلے تم اپنا ذہن بنا لو۔ میں نے فیصلہ کرلیا، اوکے۔ میں رات 9:30 تمھارے پاس ہونگی۔

میں نے تھوڑے کپڑے شاپنگ بیگ میں ڈالے۔ اور چپکے سے کچھ تیاری کی۔ زندگی کے ایک نئے موڑ کے لئے۔ میں چپکے سے گھر سے نکلی، کبیر کی کار پر بیٹھی۔ کار میں بیٹھتے ہی مجھے کچھ سکون سا ہوا، سچ تو یہ ہے، وہ میرا خوش ترین لمحہ تھا۔ جب آپ ایک حالت سے دوسری حالت میں منتقل ہوتے ہیں، تب کچھ صفائی سی ہوتی ہے آپ کے اندر۔۔ایسے ہوتا ہے، جیسے آپ ایک جگہ ساکت ہو چکے تھے۔ ایک ہی مردہ جذباتی حالت میں۔ اگر آپ حرکت نہیں کریں گے، تو تعفن زدہ ہوجائیں گے۔ خستہ تر، مردہ۔

تبدیلی ضرور ہونی چاہئے۔ مجھے آزادی حاصل ہونے اور زندگی کے شفٹ ہونے کی اس دن بے حد خوشی ہوئی۔ کچھ دیر بعد جب گھر والوں کو میرے غائب ہونے کا پتا چلا۔ تو انہوں نے ادھر ادھر پتا کیا، حتیٰ کہ پولیس کو بھی اطلاع دی۔ میں نے دو دن کے بعد فون کرکے امی کو بس اتنا بولا، کہ میں خیریت سے ہوں۔ اور میرا واپس آنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ کچھ دن بعد میں میرن روڈ پر چل رہی تھی، کہ ڈیڈی کی کار میرے پاس آ کر رکی، ‘چلو اندر بیٹھو‘۔

میں چپ کر کے بیٹھ گئی۔ مجھے لگا، شائد وہ مجھے ماریں گے۔ لیکن انہوں نے ایسا کچھ نہیں کیا۔ وہ مجھے گھر لے آئے، میں نہیں جاننا چاہتا تم کہاں تھی۔ میں خوش ہوں تم گھر آ گئی ہو۔ میں اس تناو کو برداشت نہیں کرسکتا تھا۔ دو دن ہوگئے، اب میں سوچ رہی تھی، گھر سے کیسے نکلوں۔ میں نے ڈیڈی کے پاس جاکر ان کا احوال پوچھا۔ میں پچھلے ایک ہفتے سے بہت پریشانی میں رہا ہوں۔ اب ٹھیک ہوں، سوچ رہا ہوں آج دفتر جاوں۔

ڈیڈی مجھے خوشی ہے، آپ کی حالت بہتر ہو گئی ہے۔ تو میں جاوں؟ جاوں؟ تم کو ہو کیا گیاہے۔ان کا غصہ اور بلڈ پریشر شوٹ کرنے لگا۔ میری نظریں نیچی رہی۔ میں پریشان ہوکر دل میں سوچ رہی تھی، یہ میرے لئے مشکل کیوں بنا رہے ہیں۔ میں اس لئے نہیں جارہی ، کہ ان کو کوئی تکلیف دوں۔ میرا ان کو درد دینے کا کوئی ارادہ نہیں۔ میں تو فقط اپنی مرضی کی زندگی گزارنا چاہتی ہوں۔ کیا یہ اتنی خوفناک چیز ہے۔ میں نہیں چاہتی یہ مجھے کسی کے ساتھ باندھ دیں۔ میں چالو روائتی زندگی نہیں گزارنا چاہتی میری ماں کی طرح۔

دنیا ایسی عورتوں سے بھری ہوئی ہے۔ جن کی فیملیاں ہیں، خاوند ہیں۔ بچے ہیں۔ گھر ہیں۔ کوئی ضروری نہیں ایک اور بھی ہو۔ ایک مس بھی ہوجائے گا، تو دنیا اور سماج کو کوئی فرق نہیں پڑنے والا۔ مجھے پتا نہیں میری زندگی مجھ کو کہاں لے جائے گی۔ لیکن اتنا پتا ہے، کہ جسے میں صحیح سمجھتی ہوں، وہاں سے مجھے کوئی ہٹا نہیں سکتا۔ میں نے باپ کو کہا، میں نے جانا ہے، آپ سمجھنے کی کوشش کریں۔ اوکے گیٹ آوٹ۔۔۔نکل جاو گھر سے۔ پھر کبھی اس گھر اور اس علاقے میں تم نظر نہ آو۔۔ میرے لئے تم مر گئی۔ وہ کانپ رہے تھے۔

میں چاہتی تھی، جھک کر ان کے پاوں پر سلام کرلوں۔ لیکن ان کے غصے نے مجھے روک لیا، ویسے بھی ایسا میں نے کبھی کیا نہیں تھا۔ میں چاہتی تھی، ان کو کہوں۔ مجھ سے ناراض نہ ہوں۔ مجھے معاف کردیں اور مجھے سمجھنے کی کوشش کریں۔ لیکن وفور جذبات نے میرا گلہ گھٹ دیا۔ میں بھاگ کر کبیر کے گھر چلی گئی۔ اور شام تک روتی رہی۔ کبیر مجھ کو ایک ہفتے کے لئے گوا لے گیا۔ واپس آئے تو دروازے سے باہر میرا بھائی اداس کھڑا تھا۔

تم یہاں کیا کررہے ہو۔۔کبیر اس کو ایک سائڈ پر لے گیا۔ اور واپس میری طرف پریشانی میں آ کر کہنے لگا۔ ڈارلنگ تم کو بہادری سے میری بات سننی ہوگی۔ذرا سکون سے۔ میں نے خوفزدہ ہو کرکہا، کیا ہوا ہے؟ تمھارے ڈیڈی کار کے حادثے میں جان بحق ہوگے ہیں۔ میں حیران احمقوں کی طرح اسے دیکھتی رہ گئی۔ وہ مجھے گھر لے گیا۔۔میں اپنی والدہ کے گلے لگ گئی۔۔ اور میں کیا کہہ سکتی تھی۔ ۔۔۔

image_pdfimage_print

Comments - User is solely responsible for his/her words
ارشد محمود کی دیگر تحریریں
ارشد محمود کی دیگر تحریریں

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں