پروتیما بیدی: ایک باغی فن کارہ


700503-7ارشد محمود

پروتیما بیدی انڈیا کی ماڈل اور کلاسیک ڈانسر تھی۔۔۔وہ ایک باغی روح تھی۔ اس نے زندگی میں جو بھی کیا اپنی مرضی سے کیا۔۔کسی ضابطے اور بندھن کو اپنی زندگی میں نہ آنے دیا۔ وہ قدرے خوشحال لیکن کنزرویٹو گھرانے میں پیدا ہوئی۔ اس کے باپ نے خود پسند کی شادی کی تھی۔۔جس پر اسے گھر سے نکال دیا گیا تھا۔۔اس کے والدین کے ہاں پہلی اولاد بچی پیدا ہوئی۔۔پہلی بچی پیدا ہونا ہمارے ہندوستانی معاشرے مین کوئی اچھا شگون نہیں سمجھا جاتا۔۔لیکن پہلے بچے کے طور پر اسے قبول کر لیا جاتا ہے،لیکن اگر پھر بچی پیدا ہوجائے۔۔تو سب کے تیور بدل جاتے ہیں۔۔ پروتیما دوسری بچی تھی۔اگرچہ تیسرا لڑکا پیدا ہو گیا۔۔تو سب کو سکون آیا۔۔ آخر میں پھر بیٹی پیدا ہوئی۔۔آخری ہونے کی وجہ سے اسے بھی کچھ پیار مل گیا۔۔۔پروتیما نظر انداز کئے جانے کے احساس سے جوان ہوئی۔۔26 سال کی عمر میں اس کا تعارف کلاسیکل رقص سے ہوا۔۔پھر زندگی اس کے لئے ڈانس ہی بن کر رہ گئی۔
وہ ایک آزاد، باغی روح تھی۔ جو بھی کرنا ہے۔ اپنی من مرضی سے کرنا ہے۔۔راہ میں کوئی رکاوٹ قبول نہ تھی۔ جب باپ نے لڑکوں کو ملنے، پارٹیوں میں جانے یا شام کو دیر سے واپس آنے پرروکا۔۔۔ تو اس کا جواب تھا۔۔”وہ کون سا کام ہے، جو صرف رات کو ہوتا ہے۔ دن کو نہین ہو سکتا۔۔۔’ اسی دوران اس کی اپنے وقت کے خوبرو سجیلے جوان کبیربیدی سےدوستی ہو گئی۔۔باپ کا بڑا سخت رد عمل ہوا۔۔پروتیما گھر سے بھاگ گئی۔
اس کے 10 دن بعد ہی اس کے والد کا کار کے حادثے میں انتقال ہو گیا۔۔ جس کا پروتیما کو گہرا دکھ ہوا۔ کیونکہ وہ گھر والوں کو جان بوجھ کرکوئی تکلیف نہیں دے رہی تھی۔وہ تو صرف اپنی مرضی کی زندگی گزارنا چاہتی تھی۔ کبیر بھی آزاد منش، کھلا ڈھلا آدمی تھا۔۔اگرچہ دونوں شادی کے بندھن میں بندھ گے۔۔لیکن دونوں میں انڈرسٹینگ رہی۔۔کہ ایک دوسرے پر کوئی پابندی نہیں ہے۔
3پروتیما بیدی نے زندگی اپنی مرضی سے گزاری۔۔اس کا جو دل کرتا۔۔اس نے کیا۔ اس کی اپنی خوشی ہر چیز پر مقدم تھی۔۔ خوشونت سنگھ اپنے ایک مضمون میں لکھتا ہے۔ اسے جو پسند آیا۔۔یا جس نے اسے پسند کیا۔۔اس نے خود کو روکا نہیں۔ آرٹ اور لٹریچر کی دلدادہ تھی۔ ادب، فلسفہ و فکر، ہندومتھالوجی۔ پروتیما نے کلاسیک ڈانس میں انڈیا میں بڑا نام پیدا کیا۔ اس نے کلاسیک رقص کو فروغ دینے کے لئے کئی پراجیکٹس پر کام کیا۔جس پر اس کو بین اقوامی اور اپنے ملک کے ایوارڈ ملے۔ کبیر سے اس کی ایک بیٹی پوجا بیدی ایکٹرس بنی۔ اس کے بیٹے، سدھارتھ شیزوفرینیا کے مرض میں خودکشی کرلی۔۔جو پروتیما کے لئے بڑے صدمے کا باعث بنا۔۔ اس نے اس کی زندگی بدل کررکھ دی۔۔اس نے اپنا ڈانس اسکول چھوڑ دیا۔۔اور بدھ بھکشووں کا لباس پہن۔۔ہمالیہ کے پہاڑی سلسلے کی طرف روانہ ہو گئی۔۔ اس نے کہا مجھے ہمالیہ بلا رہا ہے۔۔۔پھر ایک دن پتا چلا۔۔انہیں پہاڑوں میں لینڈ سلائڈ کی زد میں آ کر مرگئی۔۔۔
اس کی بیٹی پوجا بیدی نے اس کی زندگی پر ایک کتاب مرتب کی۔۔ ٹائم پاس کے نام سے۔۔۔ وہ پڑھنے کی چیز ہے۔۔ جس نے چند سطریں پڑھ لیں۔۔ پھر کتاب کو ختم کیئے بغیر نہیں رہ سکتا۔۔۔فطرت کیسے کیسے عجیب انسان پیدا کرتی ہے۔۔۔وہ ایک نئی دنیا، نیا خیال، نیا انگ دے کر چلے جاتے ہیں۔۔ جوانی کے دنوں میں پہلی بار اس خاتون کے بارے میں ایک انڈین رسالے میں تفصیلی مضمون پڑھا۔۔۔تو اس کا گرویدہ ہو گیا۔۔۔ حال ہی میں اس کی کتاب ’وقت گزاری‘ (Pass Time ) ہاتھ آئی۔۔۔ تو دل اس باغی، لیکن ذہین، اعلی صلاحیتوں کی حامل روح کو خراج دیئے بغیر نہ رہ سکا۔


Comments

FB Login Required - comments