جماعت الدعوۃ، رانا ثنا اللہ اور فوج


Hafiz-Saeed-Horseپنجاب کے وزیر قانون رانا ثنا ء اللہ کے اس بیان پر جماعت الدعوۃ نے احتجاج کیا ہے کہ ملک کی دو انتہا پسند گروہوں جماعت الدعوۃ اور جیش محمد کے خلاف کارروائی ممکن نہیں ہے کیوں کہ ریاست خود ان کے ساتھ ملوث رہی ہے۔ تاہم فوج کی طرف سے اس بیان پر کوئی تبصرہ کرنے سے گریز کیا گیا ہے۔ رانا ثناء اللہ نے آج کہا ہے کہ ان کا بیان سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا گیا تھا۔ تاہم انہوں نے یہ بتانے کی زحمت نہیں کی کہ وہ کون سی بات تھی جو بی بی سی کے صحافی نے خود اپنے پاس سے شامل کرلی تھی۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ جماعت الدعوۃ نے وزیر قانون پنجاب کے بیان کو مسترد کیا ہے۔ یہ جماعت درحقیقت لشکر طیبہ کا تسلسل ہے اور بھارت کے خلاف محاذ آرائی کی دعویدار ہے۔ جماعت الدعوۃ کے ترجمان نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ان کی جماعت پر پاکستان میں کوئی پابندی نہیں ہے کیوں کہ ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ اس بارے میں واضح کرچکی ہیں کہ جماعت الدعوۃ پر پابندی عائد نہیں ہے۔ ترجمان کا کہنا ہے کہ رانا ثناء اللہ کسی خفیہ ایجنڈے کے تحت اس قسم کے بیان جاری کررہے ہیں۔ تاہم ترجمان نے بھی یہ وضاحت نہیں کی کہ آخر پنجاب کے وزیر قانون کون سا خفیہ مقصد حاصل کرنا چاہتے ہیں۔

بی بی سی کو دئے گئے انٹرویو میں رانا ثناء اللہ نے متنازع مذہبی گروہوں کے خلاف قانونی کارروائی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ ریاست خود ان کی کارروائیوں کا حصہ رہی تھی، اس لئے ان کے خلاف کوئی اقدام نہیں ہو سکتا۔ اسی انٹرویو میں انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا تھا کہ جنوبی پنجاب میں چھوٹو گینگ کو ختم کرکے علاقہ کلئیر کردیا گیا ہے اور باقی ماندہ ڈاکو دریا کے راستے فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔ وزیر قانون کی یہ بات بھی فوج کو براہ راست چیلنج کرنے کے مترادف ہے۔ کیوں کہ گزشتہ ماہ فوج نے ہی چھوٹو گینگ کو ہتھیار ڈالنے پر مجبور کیا تھا اور غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث لوگوں کو حراست میں لے لیا تھا۔ لیکن اس موقع پر ڈاکوؤں کے فرار کا کوئی ذکر نہیں کیا گیا تھا۔ اب رانا ثناء اللہ بالواسطہ فوج پر یہ الزام عائد کررہے ہیں کہ اس آپریشن کے نتیجہ میں سب قانون شکن عناصر کو گرفتار نہیں کیا جا سکا تھا۔ پنجاب حکومت چھوٹو گینگ کے خلاف فوج کو طلب کرنے کے خلاف تھی لیکن پولیس کی ناکامی اور دو درجن کے لگ بھگ پولیس اہلکاروں کے اغوا کے بعد با امر مجبوری فوج کو آپریشن کے لئے طلب کیا گیا تھا۔

پنجاب کے وزیر اعلیٰ شہباز شریف کے بارے مشہور ہے کہ ان کے فوج کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں۔ اس تناظر میں یہ بات حیران کن ہے کہ ان کے وزیر قانون ایسا بیان کیوں دے رہے ہیں جس میں یہ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ ملک کی فوج غیر قانونی کارروائیوں میں ملوث رہی ہے۔ موجودہ حالات میں جبکہ مسلم لیگ (ن) کی وفاقی حکومت سخت سیاسی بحران کا شکار ہے ، پنجاب میں اسی پارٹی کا ایک ذمہ دار وزیر کیوں ایسا بیان دے رہا ہے جو فوج کی ناراضگی کا سبب بن سکتا ہے۔ اور وہ کون سا خفیہ ایجنڈا ہے جس کی طرف جماعت الدعوۃ کے ترجمان نے اشارہ کیا ہے۔ مفاد عامہ اور ملک کے اداروں پر اعتبار کے حوالے سے اس امر کی وضاحت بے حد ضروری ہے۔

جماعت الدعوۃ کے سربراہ حافظ سعید پر 2008 میں ممبئی حملوں کا الزام عائد ہے۔ امریکی حکام بھی اس دہشت گردی میں اس جماعت کے تعلق کے بارے میں اس حد یقین رکھتے ہیں کہ حافظ سعید کی گرفتاری پر دس ملین ڈالر کا انعام مقرر کیا گیا ہے۔ اس کے باوجود عدالتوں کی اجازت اور حکومت کی صوابدید کے مطابق جماعت الدعوۃ اور اس کے سربراہ کو ملک میں نہ صرف یہ کہ آزادی سے رہنے کا حق حاصل ہے بلکہ وہ مذہبی اور رفاہی سرگرمیوں میں بھی مصروف ہیں۔ یہ کہنا مشکل ہے کہ کیا اب اس جماعت کی سرکردگی میں مسلح جتھے موجود ہیں یا ان کا خاتمہ کر دیا گیا ہے۔ سرکاری نمائیندے اس بارے میں بات کرنے سے گریز کرتے ہیں۔

رانا ثناء اللہ کا حالیہ بیان بھی ماضی میں اس جماعت کی سرکاری سرپرستی کے حوالے سے سامنے آیا ہے لیکن انہوں نے یہ بتانے سے گریز کیا ہے اب ان جماعتوں کے مشتبہ لیڈروں کو کیوں سرکاری حفاظت حاصل ہے۔ اس دوران جیش محمد کے مولانا مسعود اظہر اور ان کے بھائی کے خلاف جنوری میں پٹھان کوٹ سانحہ میں ملوث ہونے کے الزام میں ریڈ وارنٹ جاری کئے گئے ہیں۔ لیکن ملک کی حکومت اس بارے میں مکمل طور سے خاموش ہے۔ نہ ہی یہ خبر ہے کہ مولانا مسعود اظہر اس وقت کہاں ہے اور اگر وہ حراست میں ہے تو اسے دہشت گردی کے الزامات میں عدالت میں کیوں پیش نہیں کیا جاتا۔

رانا ثناء اللہ کا کہنا ہے کہ آپریشن ضرب عضب کے بعد فوج نے انتہا پسند گروہوں کی سرپرستی سے ہاتھ کھینچ لیا ہے۔ پاکستانی عوام یہ بات تو شاید قبول کرلیں کہ پاکستان کی فوج مقبوضہ کشمیر میں حریت پسندوں کی مدد کرنے کے لئے ان جماعتوں کو استعمال کرتی رہی ہے۔ لیکن یہ بات کسی طرح قابل قبول نہیں ہے کہ پاکستانی اسٹیبلشمنٹ نے کسی بھی طرح انتہا پسند گروہوں کو استعمال کرتے ہوئے بھارت میں دہشت گردی کی کارروائیوں میں اعانت فراہم کی ہوگی۔ یہ وہی الزام ہے جو بھارت کی طرف سے عائد ہوتا ہے لیکن پاکستان اسے مسترد کرتا ہے۔ اب پنجاب کے وزیر قانون یہ الزام عائد کر رہے ہیں۔ فوج اور وفاقی حکومت کو اس بیان کا نوٹس لینے اور اس کی مناسب وضاحت کرنے کی ضرورت ہے۔


Comments

FB Login Required - comments

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 411 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali