بلاول اور آزاد کشمیر کی سیاست


Asjad پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری ان دنوں آزاد کشمیر میں جلسوں سے خطاب کر رہے ہیں۔ ان کی گزشتہ دونوں جلسے حاضری کے اعتبار سے بلا شبہ کامیاب اور بھرپور جلسے تھے۔ یہ جلسے الیکشن سے محض دو ماہ قبل ہو رہے ہیں جن کے یقیناً گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ چئیرمین پیپلز پارٹی نے جو تقاریر کی ہیں وہ آزاد کشمیر کے عوام بالخصوص نوجوانوں کے لیے متاثر کن تھیں یا نہیں۔ تو اس کا جواب شاید اثبات میں نہ مل سکے۔ جلسوں کی ایک اہم بات جو ہمارے جیسے لوگوں کے لیے اہم تھی وہ پیپلز پارٹی کے بنیادی پروگرام سے جڑے مقبول نعرے ’’ مانگ رہا ہے ہر انسان، روٹی کپڑا اورمکان ‘‘ کا لگنا ہے۔ بالخصوص باغ کے جلسے میں تو پی ایس ایف کے نوجوان سوشلسٹ انقلاب کے نعرے لگاتے پائے گئے۔ جو اس بات کی غمازی تھی کہ اب صورتحال بدل رہی ہے اور شاید زیادہ دیر تک یہ مصنوعی پن برقرار نہ رہ سکے۔

چیئرمین پی پی پی کے قریب موجود لوگوں نے مسئلہ کشمیر پر وہی موقف اپنانے کی راہ دکھائی جو آج سے پچاس سال قبل شہید ذوالفقار علی بھٹو نے اپنایا تھا۔ لیکن ان پچاس سالوں میں پلوں کے نیچے سے بہت پانی بہہ چکا ہے۔ اور ایک ایسے وقت میں جب پیپلز پارٹی اپنی تاریخ کے ایک نازک مرحلے سے گزر رہی ہے، پارٹی کو زیادہ تقویت نہ پہنچا سکے۔ کیونکہ آزاد کشمیر کے عوام پڑھے لکھے اور زیادہ سیاسی شعور رکھنے والے ہیں، وہ پاکستان پیپلز پارٹی کے نوجوان چیئرمین سے پچاس سال پرانے گھسے پٹے اسٹیبلشمنٹ کے ایوانوں میں تیار کردہ موقف کی بجائے ایک زیادہ حقیقت پسندانہ اور مروجہ دائروں سے باہر نکل کر اس مسئلے کو کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق حل کرنے کا کوئی پروگرام یا موقف دئیے جانے کی توقع رکھتے تھے۔

بلاشبہ کشمیری عوام آزادی چاہتے ہیں اور پیپلز پارٹی کا ان کی آزادی کی جدوجہد کی حمایت میں ایک کلیدی کردار رہا ہے۔ اس لیے وہ پیپلز پارٹی کے چیئرمین سے توقع رکھتے ہیں کہ وہ کشمیر کی آزادی کے حوالے سے روایتی پاکستانی اداروں کے موقف سے ہٹ کر ایک واضح موقف جو تمام قابل عمل سوشل و اکنامک پروگرام کا احاطہ کرنے والا پروگرام دیں گے۔ بالخصوص پاکستان پیپلز پارٹی میں کام کرنے والے نوجوانوں کے لیے اسٹیبلشمنٹ کے روایتی موقف اپنائے جانے پر شدید مایوسی پھیلی ہے۔ اور وہ سمجھتے ہیں کہ چونکہ چیئرمین بلاول بھٹو ایک نوجوان قائد ہیں اور انھوں نے نوجوانوں کے ساتھ سیاست کرنی ہے۔ اس لیے انھیں اپنے مشیروں کے مشوروں سے ذرا ہٹ کر حالات کا ادراک کرنا ہوگا۔ بالخصوص کشمیر کے حوالے سے اور یہاں کی سیاست کے حوالے سے۔ کیونکہ ان مشیران کو اقتدار کے حصول کی تو جلدی ہے لیکن پارٹی کی تعمیر میں نہیں۔

کشمیر کے نوجوانوں کی اکثریت ترقی پسندانہ رجحانات کی حامل ہے اور وہ پیپلز پارٹی کے ترقی پسند نظریات کو پلیٹ فارم سمجھتے ہیں اور اس کے چیئرمین سے امید رکھتے ہیں کہ اگر وہ پارٹی کو ازسرنو منظم کرنا چاہتے ہیں تو انھیں پارٹی کے بنیادی نظریات کو سامنے رکھتے ہوئے آج کے حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک موثر نظریاتی پروگرام جو نوجوانوں کے مسائل تعلیم، روزگار و صحت کے حوالے سے ایک مربوط سائنسی حل پر مبنی ہو دینا ہوگا۔ محض نعرہ بازی اور بالخصوص ہند دشمنی کے جذباتی نعرے یہاں کے نوجوانوں کو زیادہ متاثر نہ کر سکیں گے۔ اس لیے کہ یہاں کی اکثریت یہ بخوبی سمجھتی ہے کہ کشمیر کی آزادی جنگ و جدل سے ممکن نہیں رہی بلکہ اس کے لیے ہندوستان و پاکستان کے محنت کش عوام کے ساتھ طبقاتی جڑت بنا کر ہی کامیابی حاصل کی جا سکتی ہے۔

چیئرمین پیپلز پارٹی کو چاہیے تھا کہ وہ کشمیر کے حقیقی مسائل جو جدوجہد آزادی کے ساتھ ساتھ ان کے روزمرہ کے شب و روز سے جڑے ہیں، جن میں غربت، بے روزگاری، صحت کی سہولیات کی عدم فراہمی جیسے مسائل کا احاطہ کرتے ہوئے انقلابی الیکشن منشور کے ساتھ یہاں آتے اور اس منشور پر اظہار خیال کرتے اور پھر اس کے ساتھ ساتھ پیپلز پارٹی کی پانچ سالہ حکومت کی کارکردگی عوام کے سامنے رکھتے تو زیادہ مناسب اور پر اثر ہوتا۔ اور وہ اس کے ساتھ ساتھ گزشتہ سالوں میں آزادکشمیر اور پاکستان کی حکومتوں کے درمیان پیدا ہونے والے اختیاراتی مسائل کے حل کا کوئی لائحہ عمل دیتے جو ریاست کے عوام کے موثر حق حکمرانی کا آئینہ دار ہوتا۔ یہ وہ چند نکات ہونے چاہیے تھے جن پہ پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت غور و فکر کے بعد چیئرمین کو عوام میں لاتی تو یہ سمجھنے میں زیادہ آسانی ہوتی کہ کچھ نیا کرنے کی کوشش ہو رہی ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی کی اس ملک میں جمہوریت کے لیے اور اس کی بقا کے لیے بے مثال جدوجہد میں کشمیری عوام نے ہمیشہ بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور قیادت کے شانہ بشانہ چلتے رہے۔ اسی لیے شہید جمہوریت بے نظیر بھٹو نے کہا تھا کہ جہاں کشمیریوں کا پسینہ گرے گا وہاں ہمارا خون گرے گا۔ اور انھوں نے اسٹیبلشمنٹ کے روایتی موقف سے ہٹ کر مسئلہ کشمیر کے پرامن حل کے لیے کوششیں کی تھیں۔ کیونکہ وہ سمجھتی تھی کہ یہ بنیادی طور پر دونوں اطراف کے طاقتور حلقوں کا موقف ہے جو اس کی آڑ میں اسلحہ بارود کے ساتھ ساتھ اپنی ذاتی جائیدادوں میں اضافہ کر رہے ہیں اور بدلے میں دونوں اطراف کے محنت کشوں کو بھوک، ننگ افلاس، بیماری، بے روزگاری اور ناخواندگی کا شکار بنا رہے ہیں۔

آج بھی چیئرمین پیپلز پارٹی کو شہید بی بی کے اس نقطہ نظر کو اپنے لیے مشعل راہ بناتے ہوئے کشمیری عوام اور پارٹی کی جڑت بنانے کی کوشش کرنی چاہیے نہ کہ پاکستان پیپلزپارٹی کے مرکزی اور آزاد کشمیر کی قیادتوں میں ان طاقتور حلقوں کے نمائندوں کی طرف سے رکھے گئے نقطہ نظر پر۔ کیونکہ یہ جذباتی موقف جماعت اسلامی کا بھی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ دیگر دائیں بازو کی جماعتوں کا بھی۔ جو مذہب اور جنگ و جدل کی آڑ میں تمام تر محرومیوں کو جواز مہیا کر رہی ہیں۔ پاکستان پیپلز پارٹی نے اسی نقطہ نظر کے خلاف اپنی جدوجہد کا آغاز کیا تھا۔ اور کشمیر کی آزادی کے ساتھ ساتھ پاکستان کے محنت کش عوام کی زندگیوں میں سے دکھ، درد اور محرومیوں کا مداوا کرنے والا سیاسی انقلابی پروگرام دیا تھا جو ان کی آزادی کے حقیقی مفہوم کو پورا کرتا تھا۔ اس لیے کہ معاشی آزادی کے بغیر سیاسی آزادی کا حصول ممکن نہیں ہے۔ اور آج کے عہد میں معاشی آزادی سرمایہ دارانہ نظام کی موجودگی میں ممکن نہیں ہے۔ اس لیے اگر چیئرمین پیپلز پارٹی، پارٹی کو ازسرنو منظم کرنا چاہتے ہیں تو انھیں پارٹی کے بنیادی نظریات کو آج کے سائنسی عہد کے تقاضوں سے ہم آھنگ بناتے ہوئے انقلابی سائنسی سوشلزم کی بنیاد پر قائم کردہ ایک جامع اور مربوط پروگرام دینا ہوگا۔ اور اس پروگرام کی بنیاد پر عوامی جلسوں میں اظہار خیال کرنا ہوگا۔ اور وہی جدید اظہار خیال ہی پارٹی کو نئی نسل میں مقبول بنا سکتا ہے۔ کیونکہ اس نئی نسل نے نہ تو ذوالفقار علی بھٹو اور نہ ہی بے نظیر بھٹو کو عملی سیاست کرتے دیکھا ہے اور نہ ہی ان کو اور سینکڑوں محنت کشوں کو عوام حقوق کے لیے جدوجہد کرتے اور جانیں قربان کرتے دیکھا۔ بلکہ ان کے سامنے پاکستان پیپلز پارٹی ایک مسخ شدہ شکل میں ہے جس کے دامن پر کرپشن کے بدنما داغ سجانے والے غیر سیاسی و غیر حقیقی چہرے ہی نمایاں ہیں۔ اس لیے چیئرمین پیپلزپارٹی کو نہ صرف پارٹی کی تطہیر کرنی ہوگی بلکہ ان نوجوانوں کو پارٹی کے بنیادی اصولوں پر مبنی ایک جدید اور سائنسی ترقی پسندانہ نظریہ دینا ہوگا۔ تب ہی نوجوان ان کی طرف راغب ہونگے۔ بلاشبہ یہ ایک انتہائی مشکل اور تلخ کام ہے جو چیئرمین پیپلزپارٹی کو ہر صورت کرنا ہوگا۔


Comments

FB Login Required - comments