بھارتی آئین کی شق 35 اے اور کشمیر


مقبوضہ کشمیر کی صورتحال قیام پاکستان سے لے کر آج تک ایک معلق کیفیت میں موجود ہے۔ نریندر مودی کی حکومت ایک خاص نوعیت کا تعصب پھیلا کر اپنے بہت سے سارے مفادات کو حاصل کرنے کی کوشش میں لگی رہتی ہے۔ اس نوعیت کی ایک کوشش آج کل مقبوضہ کشمیر میں جاری و ساری ہے۔ ایک این جی او اور ایک خاتون وکیل چروں کھنہ کی جانب سے متفرق درخواستیں بھارتی سپریم کورٹ میں دلوائی گئی ہیں کہ جس میں مختلف وجوہات کی بناء پر بھارتی آئین سے شق 35 اے کے اخراج کی استدعا کی گئی ہے۔

جب یہ معاملہ بھارتی سپریم کورٹ میں زیر سماعت آیا تو بجا طور پر مقبوضہ کشمیر کی مسلمان آبادی میں ایک خوف کی کیفیت پیدا ہو گئی۔ خوف یہ ہے کہ اگر سپریم کورٹ میں شق 35 اے کو غیر آئینی قرار دے دیا تو ایسی صورت میں بھارت سرکار کے لئے کشمیر میں موجود مسلمان آبادی کو ہندوؤں کی آباد کاری کے لئے اکثریت سے اقلیت میں تبدیل کرنا ممکن ہو جائے گا۔ مقبوضہ کشمیر میں اس وقت گورنر راج نافذ ہے اور امن و امان کی صورتحال اس قدر مخدوش ہے کہ محبوبہ مفتی کی نشست پر ضمنی انتخاب کرانا بھی حکومت کے لئے ممکن نہیں ہو گا۔ حالانکہ یہ صرف ایک نشست کا معاملہ ہے۔

اسی لئے نیشنل کانفرنس کے عمر عبداللہ سابق وزیر اعلیٰ مقبوضہ کشمیر نے کہا ہے کہ حالات اس وقت سے کہیں زیادہ خراب ہیں جب 2014؁ء میں مقبوضہ کشمیر کی ریاستی اسمبلی کے انتخابات کروائے گئے تھے۔ کشمیر کے موجودہ حالات کو ایک وقتی رد عمل جو کہ آئینی معاملات کے حوالے سے ہو سمجھنا درست نہیں ہو گا۔ موجودہ صورتحال 1989؁ء سے جاری تحریک آزادی سے علیحدہ کر کے نہیں دیکھی جا سکتی۔ 1989؁ء میں جب تحریک آزادی نے ایک اور رنگ پکڑا تو اس وقت کے بھارت میں قائد حزب اختلاف راجیو گاندھی نے ایک وفد کی قیادت کرتے ہوئے کشمیر کا دورہ کیا اور تسلیم کیا کہ کشمیر بھارت کے ہاتھوں سے نکل چکا ہے۔

یہ وہی وقت تھا جب بھارت کشمیریوں سے بھوٹان طرز کی حکومت کے قیام تک پر گفتگو کرنے کے لئے تیار نظر آتا تھا۔ نرسمہا راؤ نے مکمل خود مختاری کی بات تک کر ڈالی تھی۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ سمجھنا کہ بھارتی نیتا صرف یہ تصور کرتے ہیں کہ معاملہ صرف 35 اے کی بھارتی آئین سے اخراج کا ہے، درست نہیں ہو گا۔ بھارت کی موجودہ حکمران جماعت بی جے پی نے انتخابات میں بھارتی آئین سے شق 370 کو نکلانے کا وعدہ اپنے منشور میں کر رکھا ہے۔ یہ شق کشمیر کو بھارت کی نظر میں بھی ایک سپیشل سٹیٹس دیتی ہے۔ اور شق 35 اے درحقیقت شق 370 کے تحت بھارتی صدر کو حاصل اختیارات کے ذریعے ہی وجود میں آئی ہے۔

جب مہاراجہ کشمیر نے 26 اکتوبر 1947؁ء کو کشمیر میں بھارتی مداخلت کے معاہدے پر دستخط کیے تو اس میں شامل تھا کہ ابھی شرائط حتمی طور پر طے نہیں ہوئی ہے۔ 1949؁ء میں شیخ عبداللہ نے بھارتی وزیر اعظم پنڈت نہرو سے اپنے تئیں شرائط حتمی طے کرنے کے لئے مذاکرات شروع کیے۔ حالانکہ بھارت سلامتی کونسل میں یہ کہہ چکا تھا کہ اس کا استصواب رائے سے فیصلہ ہو گا کہ کشمیریوں کی مرضی کیا ہے۔ بہرحال شیخ عبداللہ اور جواہر لال نہرو نے مذاکرات کو 1952؁ء میں اپنے انجام تک پہنچایا۔ اور دونوں نے ایک معاہدہ کر لیا کہ جس کی رو سے 1954؁ء سے قبل کشمیر میں موجود افراد کشمیر کے مستقل شہری ہوں گے۔ اور اس کے بعد بسنے والے افراد زمین کی خرید و فروخت، ملازمتوں اور سیاست میں کشمیر میں حقوق نہیں رکھ سکیں گے۔

ان معاہدوں کو بھارتی آئین کا حصہ 1954؁ء میں بھارتی صدر راجندر پرشاد کے ایک آئینی حکم جو شق 1970؁ء کے سبب سے آئینی حیثیت رکھتا تھا۔ بھارتی آئین کا حصہ بنا دیا گیا۔ اور بھارتی سپریم کورٹ میں این جی او نے یہی مؤقف اختیار کیا ہے کہ یہ آئینی شق صدارتی حکم کے ذریعے قائم کی گئی تھی اور کبھی پارلیمنٹ کے سامنے پیش نہیں ہوئی۔ اس لئے کالعدم قرار دی جائے۔ حالانکہ شق 370 میں یہ اختیارات بھارتی صدر کو دیے گئے ہیں۔ جیسے یہ معاملہ کشمیر کی عوام کے سامنے آیا وہ سراپا احتجاج بن گئے۔ حریت کانفرنس کی اپیل پر وہاں مکمل ہڑتال کی گئی۔ اس شق کے اخراج کے ساتھ ہی کشمیری جانتے ہیں کہ غیر کشمیری ہندوؤں کی بڑے پیمانے پر آباد کاری کی جا سکتی ہے۔ اور اس کے نتیجے میں ہندو مسلم فسادات کا ایک سلسلہ چل نکلے گا اور بھارت دنیا کو یہ کہنے لگے گا کہ یہ تحریک آزادی درحقیقت تحریک آزادی نہیں بلکہ ہندو دھرم کے خلاف ایک متشدد تحریک ہے۔

پہلے ہی دہشت گردی کے الزامات نے بہت دھول اڑا دی ہے۔ اگر ایسا کچھ ہو گیا تو ایسی صورت میں صورتحال مزید پریشان کن ہو جائے گی۔ پاکستان کشمیر کے حوالے سے اور وہاں جاری جدوجہد کے حوالے سے ایک اصولی مؤقف رکھتا ہے۔ گزشتہ نوازشریف حکومت سے پہلے ایک عشرے سے زیادہ تک پاکستان کے صدر یا وزیر اعظم جو کوئی بھی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرنے گیا تو اس نے کشمیر کا تذکرہ بالکل ترک کر دیا۔ لیکن جب نوازشریف نے جنرل اسمبلی سے خطاب کیا تو انہوں نے کشمیر کے مسئلے پر پاکستان کا مؤقف دوبارہ پیش کیا۔ اور جس مسئلے پر لب کشائی بہت عرصے سے بند تھی۔ دوبارہ کر دی۔ بلکہ برہان وانی شہید کا تذکرہ کرتے ہوئے واضح کر دیا کہ ہم دہشت گردی اور حریت پسندی میں فرق رکھتے ہیں۔

اب ان حالات میں اگلے ماہ دوبارہ جنرل اسمبلی کا اجلاس برپا ہو گا اور نئی حکومت کے سربراہ اس سے خطاب کریں گے۔ متوقع حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف سے وابستہ لوگ حزب اختلاف کے زمانے میں کلبھوشن یادیو کا بار بار تذکرہ کرتے تھے۔ اس لئے امید رکھنی چاہیے کہ وہ جنرل اسمبلی میں خطاب سے قبل کلبھوشن یادیو کو پھانسی کے پھندے پر لٹکا کر جنرل اسمبلی میں کشمیر پر بات کریں گے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں